Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چڑیا کا انتقام

ویب ڈیسک بدھ 03 اپریل 2019
چڑیا کا انتقام

بعض اوقات انسان جانے انجانے میں ایسے افعال کرگزرتا ہے جن کے نتائج بہت بھیانک اورہولناک ہوتے ہیں۔ جب نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان کوعقل آتی ہے چڑیا ایک چھوٹا سا پرندہ ہے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کسی سے اپنا انتقام لے گی لیکن یہ لگ بھگ 65- 1960 کی بات ہے۔ اس زمانہ میں پاکستان کے اکثر علاقے بجلی کی سہولت سے محروم تھے۔بالخصوص دیہی اورنواحی علاقے بہت زیادہ پس ماندہ تھے اس لئے رات ہوتے ہی تاریکی کا راج ہوتایعنی راتیں روشن تونہ تھیں لیکن لوگوں کے دل محبت وہمدردی کے نور سے منور تھے لوگ بہت ملنسار تھے ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے میں دلی اطمینان وسکون محسوس کرتے تھے ایک شخص کراچی کے نواحی علاقے میمن گوٹھ میں امامت کے فرائض ادا کرتا تھا وہ اس علاقے میں بہت خوش تھاوہاں کے لوگ بہت ملنسار،غم گسار، ہنس مکھ تھے وہاں آب وہوا بہت تازہ تھی ارد گرد سبزہ ہی سبزہ تھااس پرمستزاد وہاں خالص دودھ دہی مکھن دیسی انڈے دیسی گھی تازہ سبزیاں اورگوشت الغرض خوش خوراکی کے لئے بہت ہی ارزاں قیمت پر بہترین غذا ہروقت میسرتھی وہاں کی ایک اورخاص بات پرندوں کا گوشت تھا جو ذرا سی محنت سے بالکل مفت حاصل ہوجاتاان صاحب کو بھی چڑوں کی یخنی محبوب تھی کبھی کبھی وہ چڑے پکڑتے اوران کی یخنی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

چڑے پکڑنے کے لئے اسے کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی کیونکہ اس شخص کا کمرہ چڑیاں پکڑنے کے لئے نہایت موزوں تھاوہ اپنی دہلیز پر بہت سے دانے گرادیتاجب چڑیاں دانے چگنے میں مصروف ہوتیں تو یہ اچانک دروازہ بند کردیتا اور اندر جاکر انہیں پکڑلیتاایک دن اس نے اسی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے بہت ساری چڑیوں کو کمرے کے اندردھکیل کر کمرا بند کردیا ارادہ تھا کہ تھوڑی دیر بعد انہیں ذبح کرکے شام کا بہترین سالن پکایاجائے گاوہ دن اس شخص کا کچھ اتنا مصروف گزرا کہ دن بھر اسے چڑیوں کا خیال تک نہ آیادوپہر کو قیلولہ کرنے کے بعد جب وہ اٹھا تو عصر کا وقت ہوچکا تھاعصر کی نماز پڑھاکر فارغ ہی ہوئے تھے کہ اس علاقے کا ایک بااثر آدمی ملنے کے لئے آگیا اس سے گفتگو کے دوران مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا مغرب کے بعد کسی اور شخص سے ملاقات کرنا پڑی جس نے کھانے کی دعوت بھی دی وہاں کھانا کھانے کے بعد جب آئے تو عشاء کا وقت ہوچکا تھا اس زمانے میں لائٹ تو تھی نہیں اس لئے لوگ عشاکے فوراً بعد سوجاتے تھے یہ شخص بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہی مسجد کے باہر کھاٹ لگا کر سوگیااب آتے ہیں انتقام کی جانب جس کے لئے یہ ساری تمہید باندھی گئی ہے۔عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد وہ شخص سوگیاآدھی رات کواٹھا انتہائی گھبراہٹ ووحشت کا عالم ہر سو سناٹا چاند کی کوئی روشنی نہیں اندھیرا ہی اندھیرا وہ شخص بار بار تھوک رہاتھا ایسا محسوس ہورہاتھا کہ وہ خون تھوک رہا ہے جب خوف اور وحشت پر قابو نہ پاسکا تو اس نے دفع ایک فیصلہ کیااور وہی سے اونچی اونچی آوازیں دے کر بستی کے لوگوں کو بلانے لگا بستی کے چند افراد آئے وہ حیران و پریشان تھے آخر معاملہ کیا ہے آدھی رات کو ہمیں کیوں بلایا گیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں : رحم دل بادشاہ اور حاسدی ٹولہ

امام صاحب نے ان سے کہا میری طبیعت بہت خراب ہورہی ہے مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے میرے منہ سے خون نکل رہا ہے میں اس امامت کو جاری نہ رکھ سکوں گا انہوں نے چراغ کی روشنی میں دیکھ کر بتایا کہ وہاں تو خون کا ایک دھبہ بھی نہیں ہے لیکن اس شخص کا مسلسل اصرار تھا کہ یہ خون ہے اور چراغ کی روشنی میں بھی اسے لگا کہ وہ خون تھوک رہا ہے بستی کے لوگ ایسا قطعا نہ چاہتے تھے کہ وہ اس شخص سے بہت مطمئن تھے وہ ایک متقی اورپرہیز گار شخص تھا دن کے اوقات میں بستی والوں کے بچوں کو ناظرہ اور دوسری تعلیم دیتا تھا جب گاؤں والے کسی طرح نہ مانیں تو اس نے کہا مجھے لگتا ہے کہ مجھ پر ٹی بی کا حملہ ہوا ہے اور پھر اسی وقت گاؤں والوں سے کچھ اورانتظام کرنے کا کہا گاؤں والوں کے بار بار اصرار کے باوجود اس نے وہاں امامت جاری رکھنے سے منع کردیا

آخر گاؤں والوں کو اس کی بات ماننی پڑی۔اس شخص کو کچھ سمجھ نہ آرہاتھا کہ معاملہ کیا ہے وہ جب سونے لگا تھا اس وقت تو بالکل ٹھیک تھااس کی طبی معلومات کے مطابق اسے لگا کہ وہ ٹی بی کا شکار ہوچکا ہے اس وقت ٹی بی ایک خوفناک اور لاعلاج مرض تھا اگر کسی کو علم ہوجائے کہ اسے ٹی بی ہے تو گویا اسے موت کا پروانہ مل گیا خاص کر کمزور مالی حالت والوں کے لئے یہ واقعی موت کا پروانہ ہی تھااس شخص کی آواز قبر سے آتی معلوم ہوتی تھی بہرحال جیسے تیسے کرکے صبح ہوئی اسی بے چینی میں صبح ہوتے ہی اس نے اپنا کمرہ کھولا اپنا سامان لیا تو وہاں پورے دن کی بھوکی پیاسی بے چین چڑیاں باہر نکلیںلیکن گردو وپیش سے مکمل بے خبر یہ بے چین شخص سب سے پہلے اسپتال گیا اپنا چیک اپ کروایاڈاکٹر نے رپورٹ کے لئے اگلے دن آنے کا کہا لیکن اس شخص کی بے چینی دور نہ ہوتی تھی

اس نے ملتان واپس جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں اپنے ایک دوست کو ذمہ داری سونپ کر ملتان چلا گیا وہ شخص اتنا بے چین تھا کہ کراچی سے رپورٹ کا انتظار بھی نہ کرسکااس نے ملتان پہنچتے ہی سب سے پہلے نشتر اسپتال سے اپنا دوبارہ چیک اپ کروایایہاں بھی رپورٹ کے لئے تین دن کا انتظار کرنا پڑاتین دن بعد رپورٹ ملی اسے ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ سو فیصد صحیح ہے ٹی بی کے کوئی آثار نہ تھے ایک دو دن بعد کراچی سے بھی رپورٹ آگئی کہ وہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن یہ پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ گھبراہٹ پریشانی آخر ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ چڑیوں کا انتقام۔وہ خیال ذہن میں چپک گیا کہ تم نے شدید گرمی میں چڑیوں کو پورا دن بھوکا پیاسا رکھا جس کی بناپر تمہارے حواس پر بھی ٹی بی کا بھوت سوار کردیاگیا یہ بات ذہن میں آتے ہی اس شخص نے توبہ کی اور اس واقعہ کے بعد وہ حتی المقدور پرندوں اور دیگر حشرات الارض کے دانہ پانی کا انتظام کرنے والا بن گیا۔یوں کافی عرصہ گزرنے کے بعداس کے دل کو ٹھنڈک ملی اوراسے سکون قلب میسر آیا۔

(214 بار دیکھا گیا)

تبصرے