Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 25 مئی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستانی کرنسی کی تاریخ

ویب ڈیسک پیر 01 اپریل 2019
پاکستانی کرنسی کی تاریخ

انسانی تاریخ کے ارتقائی مراحل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناصرف انسانی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انسان نے اپنی ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسباب بھی پیدا کئے ہیں۔ انسان نے جب خوراک کے ل ئے شکار کا آغاز کیا تو اس نے ہتھیار بنایا اور سفری مشکلات کو کم کرنے کے لئے پہیہ ایجاد کیا۔ انسانی تاریخ میں خریدو فروخت اور لین دین کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ہر انسان اپنی بساط کے مطابق محدود اشیاء ہی پیدا اور تیار کرسکتا ہے‘ اسے اپنی ضرورت کی ہر شے کے حصول کے لئے دوسروں پر انحصار کرنا ہوگا۔ انہی انسانی ضرورات کی تکمیل کے لئے ہی دنیا میں مختلف پیشے وجود میں آئے لیکن جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل طے کرتا گیا‘ اس کے رویوں اور شعور میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ یہ اسی شعور کا نتیجہ ہے کہ انسان نے لین دین اور خریدو فروخت کے معاملے کو آسان بنانے کا سوچا اور یوں کرنسی کا وجود عمل میں آیا۔

ماضی میں مختلف اشیاء کرنسی کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں جن میں سیپیاں‘ چاول‘ نمک‘ مصالحے‘ خوب صورت پتھر‘ اوزار‘ تمباکو‘ خشک مچھلی‘ چائے‘ چینی ‘ چمڑے کے ٹکڑے اور جانور شامل ہیں۔ افریقہ میں ہاتھی کے دانت کرنسی کا درجہ رکھتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم تک امریکہ اور افریقہ کے بعض حصوں میں نمک اور بندوق کے کارتوس کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد آسٹریلیا میں فلیٹ کا ماہانہ کرایہ سگریٹ کے 2 پیکٹ تھے۔ انگوالا کی خانہ جنگی (1975ء سے 2002ء) کے دوران بیئر کی بوتلیں بطور کرنسی استعمال ہوئیں۔ ایران میں کبھی کبھار ادائیگی زعفران کی شکل میں کی جاتی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سونا بادشاہوں کی کرنسی رہا ہے جبکہ چاندی امراء اور شرفاء کی کرنسی ہوا کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی کرنسی کی تاریخ

پاکستانی کرنسی نوٹ
یکم اپریل 1948ء کو حکومت نے ایک پائی‘ آدھا آنہ‘ دوآنہ‘ پائو روپیہ‘ نصف روپیہ اور ایک روپہ کے سات سکوں کا ایک سیٹ جاری کیا اور اس وقت کے وزیر خزانہ غلام محمد نے ایک خوب صورت تقریب میں یہ سیٹ بابائے قوم محمد علی جناح کی خدمت میں پیش کیا۔ پاکستان میں مالیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز جولائی 1948ء میں کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح سے ہوا۔ اس افتتاح کے بعد پاکستان میں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری اور پاکستان کے اپنے سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے قیام کے لئے کوششیں تیز کردی گئیں‘ ان کوششوں کے نتیجے میں درج ترتیب سے سکوں اور نوٹوں کا اب تک اجراء ہوتا رہا ہے۔ یکم اکتوبر 1948ء کو حکومت پاکستان نے 5 روپے‘ 10 روپے اور 100 روپے کے کرنسی نوٹ جاری کئے۔ یہ نوٹ برطانیہ کی فرم میسرز ڈی لاروا اینڈ کمپنی میں طبع کئے گئے تھے۔ یکم مارچ 1949ء کو حکومت پاکستان نے ایک اور 2 روپے مالیت کے 2 کرنسی نوٹ جاری کئے۔ ایک روپیہ پر وزارت داخلہ کے سیکریٹری وکٹرٹرنر کے دستخط جبکہ 2 روپے پر ’’پہلی مرتبہ‘‘ اسٹیٹ بینک کے گورنر زاہد حسین کے دستخط شائع ہوئے۔

اس سے قبل نوٹوں پر وزیر خزانہ غلام محمد کے دستخط شائع ہوتے تھے۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کی طرف سے یکم ستمبر 1957ء کو 5 روپے اور 10 روپے کے نوٹ جاری کئے گئے۔ اسٹیٹ بینک نے 24 دسمبر 1957ء کو 100 روپے مالیت کا نوٹ جاری کیا جس پر بابائے قوم محمد علی جناح کی تصویر پرنٹ تھی۔ اس کی دوسری طرف بادشاہی مسجد لاہور کی تصویر تھی۔ اس پر گورنر اسٹیٹ بینک عبدالقادر کے دستخط تھے۔ پاکستان میں پہلی بار یکم جنوری 1961ء کو اعشاری سکے جاری کئے گئے جن کی وجہ سے ایک پائی‘ پیسہ‘ اکنی‘ دونی‘ چونی اور اٹھنی کی قانونی حیثیت ختم کرکے رفتہ رفتہ‘ ایک‘ دو‘ پانچ‘ پچیس‘ پچاس پیسے کے سکے اور ایک روپیہ کا سکہ رائج ہوا۔ 12 جون 1964ء کو اسٹیٹ بینک نے 50 روپے مالیت کا کرنسی نوٹ جاری کیا۔ اس نوٹ پر گورنر اسٹیٹ بینک شجاعت علی کے دستخط تھے۔ 7جون 1971ء کو پاکستان کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر ایک سو اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے‘ اس لئے عوام ایک سو اور پانچ سو کے نوٹوں کو بینکوں اور مقرر کردہ اداروں میں جمع کرواکر ان کی رسید لے لیں‘ تاکہ بعد میں ان کے متبادل دوسرے نوٹ حاصل کرسکیں۔ پاکستان کی تاریخ میں غالباً پہلی مرتبہ 25 دسمبر 1966ء کو حکومت نے چاندی اور سونے کے 100 اور 500 روپے کے 2 یادگاری سکے جاری کئے جو کہ وینزیلا میں تیار کئے گئے تھے۔ 20 جنوری 1982ء کو حکومت پاکستان نے ایک روپیہ مالیت کا اور بعدازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ‘ دس‘ پچاس او رایک سو روپے مالیت کے 4 نئے کرنسی نوٹ جاری کئے‘ جن کی ایک خاص بات تو یہ تھی کہ اس پربنگالی زبان کی عبارتیں حذف کردی گئی تھی اور دوسری یہ کہ ان کی پشت پر اردو میں ’’رزق حلال عین عبادت ہے‘‘ کی عبارت طبع تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر بم امریکا کا تباہ کن ہتھیار

یکم اپریل 1986ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 5 سو روپے مالیت کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا۔ 18 جولائی 1987ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ہزار روپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا جو مالیت کے اعتبار سے اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ تھا۔ اقوام متحدہ کو گولڈن جوبلی کے حوالے سے 29 جنوری 1996ء کو حکومت پاکستان نے ایک خصوصی سکہ جاری کیا‘ اس سکے پشت پر اقوام متحدہ کا لوگو اور 50 کا ہندسہ کندہ تھا۔ 22 مارچ 1997ء کو حکومت نے پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے 50 روپے مالیت کا ایک خصوصی سکہ جاری کیا‘ اس سکے پشت پر پاکستان کا پرچم بنا تھا اور 50 سالہ جشن آزادی پاکستان 1947ء تا 1997ء کے حوالے ہی سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 5 روپے کا ایک خصوصی نوٹ جاری کیا جس کی پشت پر ملتان میں واقع شاہ رکن عالم کے مزار کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ 26 مئی 2006ء کو اسٹیٹ ینک آف پاکستان کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے کرنسی نوٹ جو کہ 5 ہزار مالیت کا تھا کے اجراء کا اعلان کیا۔اسی روز 10 روپے کا نیا نوٹ بھی جاری کیا گیا جس کا رنگ سبز جبکہ اس کی پشت پر باب خیبر کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ 26 مئی 2006ء کو اسٹیٹ بینک کی طرف سے 10 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کیا گیا‘ اس کا رنگ سفید اور وزن 8.25 گرام تھا۔ اس کے بعد یکم اکتوبر 2009ء کو عوامی جمہوریہ چین کے 60 ویں جشن آزادی کے موقع پر 10 روپے مالیت کا ایک یادگاری سکہ جاری کیا گیا۔ اس کی پشت پر پاکستان اور چین کے پرچموں کی تصویروں کے ساتھ ’’60 سالہ جشن آزادی عوامی جمہوریہ چین‘‘ اور ’’پاک چین دوستی زندہ باد‘‘ کی عبارت درج تھی۔

(500 بار دیکھا گیا)

تبصرے