Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 23 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

عالمی کرنسی کی تاریخ

ویب ڈیسک پیر 01 اپریل 2019
عالمی کرنسی کی تاریخ

ایک ہزار سال قبل مسیح چین میں کانسی کو سکوں کی شکل میں ڈھال کر دنیا کی پہلی باقاعدہ کرنسی کے طورپر استعمال شروع کیاگیا‘ کرنسی کو قانونی شکل اور اس کی قیمت کویکساں رکھنے کیلئے سونے ‘ چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں سے بنے سکوں کو کئی صدیوں تک پیسوں کے لین دین کیلئے استعمال کیاجاتارہا

1450 ء سے1530 ء تک عالمی تجارت پہ پرتگال کا سکہ چھایارہا‘ 1530 ء سے1640 ء تک عالمی تجارت پہ ہسپانیہ کا سکہ حاوی رہا‘ 1640 ء سے 1720 ء تک عالمی تجارت ولنڈیزی سکے کے زیر اثر رہی‘ 1720 ء سے 1815 ء تک فرانس کے سکے کی حکومت رہی‘ 1815 ء میں فرانس کے بادشاہ نپولین کو شکست ہوئی‘ 1815 ء سے 1920 ء تک برطانوی پائونڈ حکمرانی کرتا رہا‘ 1920 ء سے اب تک امریکی ڈالر نے راج کیا ہے‘سکو ںکے نظام سے دنیا کا روزمرہ کا کاروبا ر نہایت کامیابی سے چل رہاتھا

مگر اس میں یہ خرابی تھی کہ بہت زیادہ مقدار میں سکوں کی نقل وحمل مشکل ہوجاتی تھی‘ وزنی ہونے کی وجہ سے بڑی رقوم چور ڈاکوئوں کی نظروں میں آجاتی تھیںاور سرمایہ داروں کی مشکلات کا سبب بنتی تھیں‘ اس کا قابل قبول حل یہ نکالا گیاکہ سکوں کی شکل میں یہ رقم کسی ایسے قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دی جائے ‘ جو قابل بھروسہ بھی ہو اور اس رقم کی حفاظت بھی کرسکے ‘ ایسا شخص عام طورپر ایک امیر سونار ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر بم امریکا کا تباہ کن ہتھیار

کرنسی کی تاریخ میں کاغذی کرنسی کا رواج جن خطوں میں سب سے پہلے دکھائی دیتا ہے‘ ان میں چین قابل ذکر ہے‘ چین میں کاغذی کرنسی کا آغاز نویں صدی عیسوی میں سن تونگ نامی بادشاہ کے زمانے میں ہوا‘ کاغذی نوٹوں کا تذکرہ مارکو پولو کے سفرناموں میں بھی ملتا ہے‘ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی اپنے چین کے سفر کے دوران کاغذی نوٹوں کا مشاہدہ کیاہے اور اس کے نوٹوں کی شکل وصورت کے بارے میں بھی وضاحت کی ہے

ماضی میں رسید کے طورپر کاغذی کرنسی کا قیام عمل میں آیا‘ جس کے باعث سنار معتبر ادارے کے طورپر بینکوں میں تبدیل ہوگئے ‘ ایسی رسیدیں زر نمائندہ کہلاتی ہیں‘ کیونکہ ان کی پشت پناہی کیلئے بینکوں میں اتنا ہی سونا موجود ہوتا ہے‘ جتنی رسیدیں بینک جاری کرتا ہے‘ جاپان میں مذہبی عبادت گاہوں (پگوڈا) میں اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے بڑے گودام موجود ہوا کرتے تھے‘ جن میں لوگ اپنا اناج جمع کرکے کاغذی رسیدیں حاصل کرلیتے تھے اورپھر منڈی میں لین دین کیلئے ان ہی رسیدوں کا آپس میں تبادلہ کرلیتے تھے‘ پگوڈا میں اناج جمع کرانے والے کو بھی اجرت ادا کرنی پڑتی تھی۔

(294 بار دیکھا گیا)

تبصرے