Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جرائم کی نشاندہی نوجوان کی جان گئی

حسن رضاشاہ جعفری جمعه 22 مارچ 2019
جرائم کی نشاندہی نوجوان کی جان گئی

7فروری کو کراچی کے علاقے منگھو پیر سے ایک لڑکے کی گولی لگی نعش ملی ‘ جسے آتشی اسلحے سے قتل کیاگیا تھا‘ تھانہ منگھوپیر پولیس نے نعش کی شناخت کے بعد پولیس کا رروائی کرکے نعش ورثاء کے حوالے کردی‘ جبکہ واقعے کا مقدمہ مقتول جنید کے والد نثار احمد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 52/19 بجرم دفعہ 302/34 درج کرکے واقعے کی تفتیش کا آغاز کردیا‘ واقعے کے مطابق کراچی میں پرتشدد واقعات اور اسٹریٹ کرائم رک نہ سکے ‘ پہلے کی نسبت اس میں بہتری آئی ہے‘ لیکن ا ب بھی جرائم پیشہ افراد اپنی گھنائونی جرائم کی وارداتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں

گزشتہ دنوں 7 سات فروری کا واقعہ ہے ‘ کراچی کے علاقے منگھوپیر تھانے کی حدود میں ایک لڑکے کو نامعلوم ملزمان نے بناء کسی وجہ کے قتل کردیااور نعش ویرانے میں پھینک کر چلے گئے وقوعہ سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے‘ منگھوپیر تھانے کی پولیس کو بذریعہ فون کال 15 پر اطلاع ملی کہ بمقام پکی سینٹر حب پمپنگ اسٹیشن کے قریب واقع لیبر کالونی کے پاس ایک لڑکے کی نعش پڑی ہوئی ہے‘ جسے گولیاں مار ی گئی ہیں‘ اطلاع ملتے ہی پولیس تصدیق کے لیے فوری طورپر جائے و قوعہ پر پہنچ گئی‘ جہاں اہل محلہ جمع تھے اور طرح طرح شک وشبہات ظاہر کررہے تھے کہ اس شخص کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہوسکتی ہے‘ اسے کس وجہ سے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیاگیاہے‘ پولیس نے جائے وقوعہ سے لوگوں کو منتشر کرکے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیے ‘ جبکہ نعش کو اپنی تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا‘ پولیس کو جائے وقوعہ سے 9MMپستول کی گولیوں کے 2 خو ل بھی ملے‘ جسے پولیس نے تحویل میں لے کر فارنزک کے لیے لیبارٹری بھیج دیاتاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اس واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ پہلے کبھی کسی واردات میں استعمال ہواہے ‘ یانہیں‘ مقتول کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ سے مقتول کی شناخت 21 سالہ جنید ولد نثار احمد کے نام سے ہوئی ‘ جوکہ ذات کا پٹھا ن آفریدی اور پٹھان کالونی کا رہائشی تھا‘ جس کے بعد پولیس نے واقعہ کی اطلاع مقتول کے اہلخانہ کو دے دی‘ جوکہ اطلاع ملتے ہی فوری طورپر اسپتال پہنچ گئے

جہاں پولیس کارروائی کے بعد مقتول کے لواحقین نے نعش وصول کرکے FIRایدھی سرد خانے منتقل کردی‘ جبکہ پولیس نے مقتول فہد کے والد کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا‘ جبکہ مقتول کے اہل خانہ نے مقتول کی میت کو واقعے کے دوسرے روز تدفین کے لیے مقتول کے آبائی علاقے پشاور روانہ کردیا‘ مقتول پاکستان تحریک انصاف کا کارکن اور صوبائی وزیر سعید خان کا رشتہ دار تھا۔واقعے کے تیسرے روز مقتول جنید کے گھر واقع پٹھان کالونی میں ایک دعائیہ تقریب اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا‘ جس میں مقتول کے اہل خانہ سمیت اہل محلہ مقتول کے دوست احباب رشتہ دار اور پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر صوبائی وزراء نے بڑی تعدادمیں شرکت کی‘ اس موقع پر قومی اخبار سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وزیر سعید خان آفریدی نے قومی اخبار کو بتایا کہ مقتول جنید میرا رشتہ دار تھا‘ 4 بہن بھائیوں میں مقتول دوسرے نمبر پر تھااور کسی کمپنی میں جاب کرتا تھا‘ جبکہ مقتول ماضی میں موٹر سائیکل مکینک بھی رہ چکا ہے ‘ جبکہ مقتول کے والد محنت مزدوری کاکام کرتے تھے‘ واقعے والے دن مقتول جنید حسب معمول شام 6 بجے گھر پر ڈیوٹی سے آیا اور اسکے بعد کسی کام سے باہر چلا گیا‘جیسے جیسے ٹائم گزرتا گیا‘ رات ہوگئی‘ لیکن مقتول واپس گھر نہیں آیا‘ جس کے بعد گھر والوں کو تشویش ہوئی کیونکہ وہ اتنی دیر تک کبھی گھر سے باہر نہیں گیا‘ چنانچہ گھر والوں نے مقتول کے موبائل پر کال کی تو معلوم ہوا کہ نمبر بند ہے‘ بار بار کال کرتے رہنے کے بعد بھی اس کا کچھ پتا نہ لگ سکا تو ہم لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس کی تلاش شروع کردی‘ جو بے سود ثابت ہوئی‘ اس کے بعد ہم نے مقتول کی گمشدگی کی درخواست تھانہ منگھوپیر پولیس اسٹیشن میں بھی دی ۔

7 تاریخ کو بذریعہ پولیس میں اطلاع ملی کہ آپ کے بچے کی نعش ملی ہے‘ جس کے بعد ہم اسپتال پہنچے اور نعش کو پولیس کارروائی کے بعد تدفین کے لیے آبائی گائوں روانہ کردیا‘ جبکہ اس کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ منگھوپیر میں درج کروادیا‘ ایک سوال کے جواب میں مقتول جنید کے رشتہ دار نے قومی اخبار کو بتایا کہ مقتول نے کچھ عرصہ پہلے محلہ کے کچھ رہائش اور منشیات کے عادی لوگوں کی پولیس کونشاندہی کی تھی‘ کہ محلے میں موجود ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ‘ جبکہ کچھ عرصہ قبل تقریبا ً4 ماہ پہلے محمد پور چوکی والے بھی جنید کو اٹھا کر کسی شبہے کی بنیاد پر اپنے ہمراہ گرفتار کرکے لے گئے تھے لیکن 2 دن کے بعد انہوںنے جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کردیا تھا‘ ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس واقعے کے حوالے سے چوکی میں موجود ان تمام لوگوں کو اس کیس میں شامل تفتیش کرے جو کہ مقتول کی گرفتاری وغیرہ میں ملوث تھے اور ان لڑکوں کے حوالے سے بھی ہر لحاظ سے ہر پہلو سے واقعے کا جائزہ لے ‘ تاکہ ملزمان کو گرفتار کرکے مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے‘ مقتول نہایت شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا‘ اس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی ‘ نہ ہی کوئی لین دین ‘ واقعے کے حوالے سے تھانہ منگھوپیر کے تفتیش آفیسر جمیل اختر نے قومی اخبار کو بتایا کہ ماضی میں محلہ سے کچھ جرائم پیشہ افراد غیر قانونی اسلحہ رکھنے ‘ منشیات رکھنے اور استعمال کرنے کے حوالے سے گرفتار ہوئے تھے‘ مقتول جنید بھی ان کے ساتھ ہی گرفتار ہوا تھا‘ لیکن مقتول سیاسی اثرو رسوخ رکھنے کی وجہ سے اس کے اہل خانہ تھانے سے چھڑوا کر لے گئے تھے‘ جبکہ دیگر ساتھی غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں بند ہوگئے تھے‘ جائے وقوعہ سے پولیس کو 2 خول ملے تھے‘ جنہیں فارنزک کے لیے بھجوا دیاہے‘ جبکہ اداروں کو جیو فارنزک کے لیے بھی لیٹر لکھا ہے‘ پولیس کے علاوہ بھی دیگر ادارے مقتول کے کیس کی تفتیش کررہے ہیں‘ جبکہ مقتول کا موبائل فون ڈیٹا بھی حاصل کیاگیاہے‘ پولیس ہرپہلو سے واقعے کی تفتیش کررہی ہے‘ پولیس کا فی حد تک قاتلوں کے قریب پہنچ چکی ہے‘ امید ہے کہ جلد انہیں گرفتار کرکے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

(226 بار دیکھا گیا)

تبصرے