Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کھرے کھوٹے کی پہچان ختم

قومی نیوز جمعرات 21 مارچ 2019
کھرے کھوٹے کی پہچان ختم

پاکستان انٹر نیٹ رسائی کے حوالے سے دنیا کے 86 ممالک کے ساتھ فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے‘ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز کی قریب آدھی آبادی کسی نہ کسی انداز میں روزانہ انٹر نیٹ سے مستفید ہوتی ہے‘ جبکہ انٹر نیٹ کو باقاعدہ استعمال کرنے والوں کی تعداد کچھ 8 کروڑ ہے‘ جن میں سے ایک بڑی تعداد موبائل فون پر انٹر نیٹ استعمال کرتی ہے اور ساڑھے تین کروڑ افراد سوشل میڈیا (فیس بک ‘ ٹوئٹر ) پر متحرک ہیں‘ ان اعداد وشمار سے ملک میں ا نٹر نیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ کے نفوذ سے پیدا ہونے والے امکانات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے‘ مگر وطن عزیز میں جہاں انٹر نیٹ سے تحقیق ‘ کاروبار اور باہمی رابطوں کا انقلاب آیا ہے ‘ وہیںگونا گوں وجوہات کی بناء معلومات کے لیے بھی اب گنجائش کہیں زیادہ ہے‘ آج کے اس دور میں جب دنیا حیرت انگیز رفتار سے ترقی کررہی ہے‘ کھرے کھوٹے اور جھوٹ سچ کی پہچان اور تمیز ختم ہوچکی ہے‘ چکرا دینے والی اس رفتار میں ہمیں روز مختلف ‘ بلکہ بسا اوقات متضاد اطلاعات ملتی ہیں

جن کی درستی اور سند کو پر کھے بغیر ان کے متعلق فیصلہ نہیں کیا جاسکتا‘ مگر تیز رفتار کمیونی کیشن کے آلات‘ معلومات کی زیادہ مقدار وقت کی کمی کی وجہ سے ہم اس معلومات کو رکھ نہیں پاتے‘ کچھ اس میں من حیث القوم تحقیقی رحجان میں عدم دلچسپی اور تعلیم کی کمی بھی آڑے آتی ہے‘ روزانہ ہمیں واٹس ایپ ‘ فیس بک ‘ ٹوئٹر یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے جو بھی کچی پکی معلومات ملتی ہیں‘ ہم اس کو آگے فارورڈ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں‘ اور کچھ صاحبان تو پیغام میں آگے فارورڈ کرنے کا فرمائش شامل کرکے بھیجتے ہیں‘ ان پیغامات میں مذہبی ‘ سیاسی ‘ سماجی معلومات شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی حملے بھی کئے جاتے ہیں‘ مختلف افراد ‘ حکومتی عہدیدار یا سیاستدانوں کے بارے میں غیر مستند معلومات بلکہ الزامات بھی بلا جھجک بھیجے جاتے ہیں اور بغیر تجزیہ کئے ہم دن ‘ رات اس قبیح حرکت سے مرتکب ہوتے ہیں‘ اگر یہ الزامات سچ ہوں تو بھی گناہ اور اگر غلط ہیںتوتہمت کے زمرے میں آتے ہیں‘ جو گناہ کبیرہ ہے اور اس میں مزید ظلم یہ بھی کہ ایسی غلط معلومات کے ساتھ بطور تصدیق یا سند کوئی مذہبی حوالہ بھی ہوتاہے

ظاہر ہے کہ یہ مذہبی حوالہ بھی غلط ہوتاہے اور صرف اپنی تعفن طبع کیلئے اس طرح کے پیغامات ارسال کئے جاتے ہیں‘ اگر چہ مختلف دیگر ذرائع جیسا کہ یوٹیوب وغیرہ اب ایک اہم ذریعہ آمدن بھی ہیں اور بہت سے افراد مواد کی یوٹیوب پر فراہمی سے پیسہ کما رہے ہیں‘ مگر واٹس ایپ جیسے ذرائع ابلاغ جن سے بظاہر کوئی مالی مواد بھی نہیں جڑا ہوا ہوکے ذریعے غلط معلومات کا پھیلائو پروپیگنڈا اور بدنیتی پر مبنی منظو کوشش ہے‘ سو شل میڈیا کے ذریعے سے معلومات کے پھیلا ئو کی یہ جادو گری اب صر ف افراد پر ہی موقوف نہیں ‘ بلکہ حکومتیں اور ملک بھی اسی ساحرہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر نظر آتے ہیں‘ ماضی قریب میں جہاں امریکی الیکشن میں سوشل میڈیا کے ذریعے سے ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہیں‘ وہیں حال ہی میں بھارت کی طرف سے پلوامہ حملہ کے مبینہ حملہ آور وں کی تصاویر میں ایک ایسی تصویر بھی تھی جو کہ درحقیقت ایک برازیلین پولیس افسر کی تھی‘ جس کو مسخ کرتے ہوئے اس حملہ آور سے منسوب کردیا گیا‘ یہ بھانڈا جلد ہی پھوٹ گیااورپھر پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی اور باوجود اس کے کہ حملہ ہوا انسانی جانوں کا زیاں ہوا

مگر پھر بھی سوشل میڈیا پر اس تصویر کے حوالے سے بھارت پر تنقید ہی کی جاتی رہی‘سوشل میڈیا سستے‘ موبائل فونز اور آسانی سے قابل رسائی انٹر نیٹ جیسے اجزاء سے وہ دھماکہ خیز مواد تیار ہوتا ہے جو کسی بھی ادارہ یا فرد کا تشخص چند گھنٹوں میں اس حد تک تباہ کردیتا ہے کہ بعد میں صورتحال ’’مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے‘‘ والی ہوجاتی ہے‘ آپ کا چاہے اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یانہیں یا آپ نے اپنی صفائی میں کیا کچھ کہا کسی کو یاد نہیں رہے گا‘ آپ کا حوالہ وہی وائرل ویڈیو یاتصویر رہے گی‘ اداروں کے لیے صورت حال اور بھی مشکل ہوتی ہے ‘ خصوصاًلا ء اینڈ آرڈر انفوسنگ ایجنسیز جیسا کہ پولیس کیلئے یہ ’’نہ جانے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ کی عملی تصویر بن جاتی ہے‘ جب انٹر نیٹ سے مہینوں ‘ برسوں پرانی یا بسااوقات کسی دوسرے ملک کی تصویر اٹھا کر نئی پیکنگ کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے شیئر کردی جاتی ہے اورپھر بس آگے چل سوچل ‘ بنا کوئی تحقیق کئے ہر بندہ اس کو آگے شیئر کرتاجاتاہے‘ ماضی قریب میں ہم نے بہت سی ویڈیو ز دیکھیں جن سے اگر چہ تمام تر نقصان پولیس کے تشخص کو پہنچا ‘ مگر ا ن ویڈیو ز یا تصاویر کا کوئی تعلق پنجاب پولیس سے نہیں تھا‘ مگر پھر بھی نہ صرف ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کیاجاتارہا‘ بلکہ ٹی وی چینلز نے بھی ان کو کوریج دی

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری پولیس ہے‘ یہ ہمارے ادارے ہیں‘ پھر کیوںہم ان پر تنقید کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں‘ کہ یہی وہ لوگ ہیں‘ جو اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ہر قسم کے موسم میں ہماری حفاظت اورسہولت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں‘ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آپ نے پولیس اہلکاروں ‘ٹریفک واڈنز کو دھوپ چھائوں ‘ دن رات کی تمیز سے بے نیاز ‘ تہواروں کی گہما گہمی سے الگ عید اور جمعہ کی نماز اور چرچ کے باہر سیکورٹی ڈیوٹی کرتے ہوئے اور مختلف ناکوں پر کھڑے دیکھا ہوگا‘ مگر ایسا کیوںہمیشہ ان کے بارے میں منفی ویڈیوز آتی ہیں‘ مثبت کیوں نہیں ؟ کیوںنہ آپ بارش کا پہلا قطرہ بنیں کیوں نہ ان کے ساتھ ایک سیلفی لیں‘آپ کے جان ومال کے تحفظ کے لیے جان لٹانے والے یہ جوان یقینا آپ کی اس محبت اور عقیدت کے حقد ار ہیں‘ سوشل میڈیا نے پہلی دفعہ ایک عام آدمی کو یہ آزادی دی کہ وہ بیک وقت معلومات اور مواد کا پیش کار بھی ہے اور صارف بھی اس تبدیلی سے جہاں عام آدمی کو آزادی کا اظہار رائے کا بھرپور حق استعمال کرنے کی آزادی ملی ہے‘ وہیں اس حق کے ساتھ اس پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں

مہذب معاشروں کی تقسیم یہی ہے‘ ہر حق کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیںاور حقوق وفرائض کا یہی توازن بقائے باہمی اور مبنی پرانصاف معاشرے کی ضمانت بنتا ہے‘ سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ استعمال کرتے ہوئے اس حوالے سے محتاط رہنے کی انفرادی ذمہ داری اس لئے بھی زیادہ ہے ‘ کیونکہ نیومیڈیا بھی گیٹ کیپرکا روایتی شعبہ موجود نہیں‘ اس اہم کردار کے نہ ہونے سے اب یہ ہرصارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات دوسرے فرد تک شیئرکرنے سے پہلے اس مواد کے مستفید ہونے کا یقین کرلے‘ بطور ذمہ دارشہری یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ایسی کسی بھی معلومات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تحقیق ضرو ر کریں

جو آپ کے ساتھ یہ ویڈیو یا تصویر شیئر کررہا ہے‘ اس سے اس کے مستند ہونے کا ثبوت بھی مانگیں ‘ ایسی کسی بھی غلط معلومات کو شیئر کرتے ہوئے نہ صرف ہم ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں‘ بلکہ ملک اور سماج دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا آلہ کار بھی بنتے ہیں‘ یقین جانیے دنیا بہت خوبصو رت ہے‘ یہ ملک ہمارا ہے‘ یہ لوگ ہمارے ہیں‘ جہاں ان پر تنقید آپ کا حق ہے‘ وہیں ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں سراہنا آپ کا فرض ہے ‘ آپ کی ذراسی توجہ اور مثبت زوایہ نظریہ سے بڑی تبدیلی آئے گی۔

(244 بار دیکھا گیا)

تبصرے