Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 20  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ارب پتیوں کی فہرست میں عربوں کی کمی

ویب ڈیسک جمعرات 21 مارچ 2019
ارب پتیوں کی فہرست میں عربوں کی کمی

دنیا میں سب سے امیر کون ؟کتنی دولت ہے اس کے پاس ؟وہ کیا کرتا ہے؟ کہاں رہتا؟ ان سب سوالات میں سب کی دلچسپی ہوتی ہے۔ ہر سال امریکی بزنس میگزین فوربس دنیا بھر کے بلین نائیر یعنی ارب پتی افراد کی دولت کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ اس سال کی سب سے اہم بات اس فہرست میں سے سعودی عرب کے ارب پتی افراد کی غیر حاضری تھی جس کی وجہ سعودی عرب کے سیاسی حالات تھے۔ پچھلے سال سعودی شہزادے الولید بن طلال سمیت 10 سعودی ارب پتی اس فہرست میں شامل تھے اور صرف شہزادے الولید کے پاس 18 ارب ڈالرز یعنی 20 کھرب پاکستانی روپے کی دولت تھی۔ اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے کم سے کم 1 ارب ڈالرز یعنی 110 ارب پاکستانی روپے کی دولت ضروری ہوتی ہے۔ ہندسوں میں اگر اس دولت کو سمیٹا جائے تو وہ کم سے کم 110000000000 بنتی ہے۔

اس فہرست میں کوئی پاکستانی ارب پتی شامل نہیں البتہ پاکستانی نژاد امریکی تاجر شاہد خان اس فہرست میں شامل ہیں جن کے پاس تقریباً8 کھرب پاکستانی روپے کی دولت ہے۔

امریکا کے مشہور جریدے’’فوربز‘‘نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2019 کی عالمی دولت مندوں کی فہرست میں عرب ممالک کے چار صاحب ثروت شخصیات کے نام شامل نہیں کئے گئے۔ اس فہرست میں پچھلے عرب ممالک کے 29 ارب پتی شامل تھے جب کہ رواں سال چار ارب پتیوں کو اس فہرست سے نکال دیاگیا جس کے بعد ان کی تعداد 25 رہ گئی ہے۔

جریدے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت رواں سال عرب ممالک کے ارب پتی تاجروں کی دولت میں 22 فی صد کمی آئی ہے۔ گزشتہ برس ارب پتیوں کی دولت میں 76 اعشاریہ 7 ارب میں کمی آئی جب عرب ممالک کی دولت میں 59 ارب 80 کروڑ ڈالر کی کمی آئی۔ عالمی سطح کے 10 ارب پتیوں میں 7 اماراتی شامل ہیں۔ دوسرے نمبر پر مصرکے6 تاجر شامل ہیں۔

اس فہرست سے نکلنے والے تاجروں میں کویتی ارب پتی فوزی الخرافی شامل ہیں۔ ان کی دولت ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کے قریب ہے۔ عالمی ارب پتیوں کی فہرست سے نکلنے والوں میں بسام الغانم کا نام سامنے آیا ہے۔ وہ خلیج اول بنک کے سب سے بڑے سرمایہ کار سمجھے جاتے ہیں۔ان کی دولت کا اندازہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ہے۔

لبنانی وزیراعظم سعد حریری بھی اس عرب پتیوں کی عالمی فہرست میں نہیں رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مصری ارب پتی ناصف ساویرس عرب ممالک کے امرا میں دولت کے اعتبار سے سر فہرست ہیں۔ان کی اضافی دولت 6 ارب 40 کروڑ ہے جب کہ 2018 میں ان کی دولت میں 20 کروڑ ڈالر کی کمی آئی۔

اماراتی ارب پتی ماجد الفطیم دولت و ثروت کے اعتبار سے دوسرے ارب پتی ہیں۔ان کی دولت کا اندازہ 5 ارب 10 کروڑ ڈالر ہے۔ گذشتہ برس ان کی دولت 4 ارب 60 کروڑ ڈالر ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ارب پتی عبداللہ الغریر کی دولت 4 ارب 60 کروڑ ڈالر ہے۔ ان می دولت میںبھی کمی آئی۔ ایک سال قبل تک ان کی دولت 5 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔

الجزائری ارب پتی یسعد ربراب چوتھے دولت مند ہیں۔ان کی دولت 3 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ ان کی دولت میں اضافہ ہوا ہے جو 2ارب 80 کروڑ سے بڑھ کر تین ارب 70 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اومان میں سھیل بہوان 3 ارب 20 کروڑ ڈالرہے۔ ان کی دولت میں کمی آئی۔ پہلے ان کی دولت میں 3 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔

مصری ارب پتی نجیب ساویرس دولت کے اعتبار سے عرب ممالک کی چھٹی امیر ترین شخصیت ہیں۔ ان کی دولت 4 ارب ڈالر کم ہونے کے بعد 2 ارب 90 کروڑ ڈالر پرآگئی۔

اماراتی ارب پتی عبداللہ الفطیم کی دولت 3 ارب 3 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 2 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے۔ لبنان کے ارب پتی نجیب میقاتی کی دولت 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 80کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حسین سجوانی کی دولت میں اضافہ ہوا۔ گذشتہ برس 2 ارب 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 4 ارب 10 کروڑ ڈالرتک جا پہنچی ہے۔ مصری ارب پتی محمود منصور کی دولت 2 ارب 30 کروڑ سے بڑھ کر 2 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔

زیادہ دولت کے حساب سے دنیا کے 100 ارب پتی افراد میں32 کا تعلق امریکا، 10کا تعلق چین، 4کا تعلق بھارت اورتین کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ اتنی دولت بھی کتنی کم کیسے پڑسکتی ہے اس کا اندازہ بھی فوربز کی ایک تحقیق سے لگایا جاسکتا ہے ۔فروری میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق امریکی تاجر جیف بیزوس کی دولت سے ان کا پورا ملک صرف پانچ سے چھ دن چل سکتا ہے۔اسی طرح بھارتی تاجر مکیش امبانی کی دولت سے ان کے اپنی ملک کی حکومت صرف 20 دن چلائی جاسکتی ہے۔

دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی نئی فہرست
دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی نئی فہرست جاری کردی گئی ہے جس میں امیزون کے مالک جیف بیزوز بدستور سرفہرست ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس براجمان ہیں۔ فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی رینکنگ میں فیس بک کے بانی مارک زکر برگ تین پوائنٹس نیچے گر گئے ہیں جبکہ نیویارک کے سابق میئر مشعل بلومبرگ نے دو پوائنٹس ترقی کی ہے۔ یاد رہے کہ بلومبرگ میڈیا گروپ مشعل کی ملکیت ہے۔ دس امیر ترین افراد میں سب سے کم عمر مارک زکر برگ ہے جس کی عمر 34 برس جبکہ سب سے زیادہ عمر وارن بفٹ کی ہے جو اس وقت 88 برس کے ہوچکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امیر ترین افراد کی فہرست میں 51 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب فوربز نے ایک اور رپورٹ میں کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو کچھ جھٹکے محسوس ہوئے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دہائی کے بعد مسلسل دوسرے سال دنیا بھر میں ارب پتی افراد اور ان کی دولت میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ 2019 ء تک دنیا میں ارب پتی افراد کی تعداد 2153 ہوگئی ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال ارب پتی افراد کی تعداد میں 55 افراد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ موجودہ ارب پتی افراد میں سے 994 افراد کی دولت میں کمی آئی ہے۔
ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ٹاپ ٹین میں دس افراد کے پاس مجموعی طور پر 744 ارب ڈالرز یعنی 800 کھرب روپے کی دولت ہے، ان 10 میں سے 7 کا تعلق امریکا سے ہے۔فوربز کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 1867 ارب پتی افراد موجود ہیں۔اس فہرست میں سب سے کم عمر ارب پتی ناروے کی خاتون بزنس ویمن ہیں جن کا نام الیگژینڈرا اینڈرسن ہے جن کی عمر صرف 21 برس ہے۔ سب سے زیادہ عمر سنگاپور کے 99 سالہ ارب پتی چانگ یون چنگ کی ہے۔جب کہ فہرست میں 50 کھرب روپے کی دولت کے ساتھ سب سے امیر خاتون امریکی ہیں جن کا نام الیس والٹن ہے۔ چین کے سب سے امیر کاروباری شخص ما ہیوٹانگ کی عمر 46 برس اور دولت 45 ارب ڈالرز ہے۔ بھارت کی سب سے امیر کاروباری شخصیت مکیش امبانی ہیں جن کا اس فہرست میں نمبر 19 اور دولت 40 ارب ڈالرز ہے۔

26 دولت مندوں کے پاس دنیا
کی آدھی آبادی سے زیادہ دولت
امیری اور غریبی کے درمیان بڑھتی کھائی گزشتہ برسوں میں اور گہری ہوگئی ہے جب محض 26 ارب پتیوں کی دولت دنیا کی تقریباً آدھی آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ برطانوی ادارہ آکس فیم کی آج جاری رپورٹ کے مطابق دولت کی تقسیم دن بہ دن بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف امیروں کی دولت میں 12 فیصد کا اضافہ ہوا وہیں دوسری طرف غریبوں کی دولت میں 11 فیصد کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ برس امیر اور زیادہ امیر ہوئے اور غریب اور زیادہ غریب ہوئے۔ سال 2018ء میں دنیا بھر کے 2200 سے زیادہ ارب پتیوں کی دولت میں ہر روز ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

مالی بحران کے بعد دس برسوں کے دوران پوری دنیا میں ارب پتیوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے اور اگر سال 2017ء سے سال 2018 ء کے درمیان کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو ہردو دن میں ایک نیا ارب پتی فہرست میں شامل ہوا۔
دنیا کے سب سے امیر شخص امیزون کے مالک جیف بجوس کی دولت اس مدت میں بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہوگئی۔ ان کی دولت کا محض ایک فیصد ساڑھے دس کروڑ کی آبادی والے ملک ایتھوپیا کے صحت بجٹ کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق دولت کی اجارہ داری بڑی تیزی سے چند ہاتھوں میں جارہی ہے۔ سال 2016ء میں 61 دولت مندوں کے پاس آدھی آبادی جتنی دولت تھی تو سال 2017ء میں یہ تعداد کم ہوکر 43 اور سال 2018ء میں 26 ہوگئی۔

آکس فیم کے مطابق دولت مندوں اور غریبوں کی درمیان بڑھتی کھائی کو پاٹنے کے لئے ارب پتیوں پر ایک فیصد دولت ٹیکس لگائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہر سال تقریباً 418 ارب ڈالر حاصل ہوں گے، جس سے صحت خدمات مہیا کرا کے 30 لاکھ اموات روکی جاسکتی ہیں اور اسکول نہیں جانے والے بچوں کو تعلیم دی جاسکتی ہے۔

آکس فیم کا کہنا ہے کہ ان رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری معیشت جس طرح کی ہے اس میں دولت میں اضافہ تو ہورہا ہے لیکن اس پر چند لوگوں کا قبضہ ہے اور زیادہ تر لوگ بہت کم میں گذر بسر کررہے ہیں۔ دولت کی تقسیم اس طرح نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا میں اتنی دولت ہے کہ سبھی کو بہتر زندگی جینے کا موقع مل سکتا ہے، اچھی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خواتین بچوں کی پیدائش کے وقت فوت ہو رہی ہیں اوربچوں کو تعلیم نہیں مل پا رہی ہے، جو غریبی ختم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی حکومتیں پبلک سیکٹر شعبوں میں کم سرمایہ کاری کرکے نابرابری میں اضافہ کررہی ہیں۔ آکس فیم کے مطابق زیادہ تر غربت میں زندگی گذارنے والوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران چین کی تیز رفتار ترقی کی شرح کی وجہ سے زیادہ غربت کی زندگی گزارنے والوں میں کمی آئی ہے۔

(195 بار دیکھا گیا)

تبصرے