Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ماڈل قتل

قومی نیوز جمعه 15 مارچ 2019
ماڈل قتل

22 فروری 2019ء آج جمعہ کا دن تھا‘ اور وسیع رقبے پر پھیلے کراچی کا ساحل سمندر یوں تو کراچی کا ساحل پورے پاکستان میں مشہور ہے جس کی وجہ سے ملک کے کونے کونے سے آنے والے لوگ کم از کم ایک بار کراچی کے ساحل کا رخ کرتے ہیں لیکن آج جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے ساحل پر تقریباً ہر طرف سناٹا ہی چھایا ہوا تھا‘ اور مقامی لوگوں کے علاوہ عام لوگوں کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی‘ ساحل سمندر سے کچھ پہلے یہاں مختلف قسم کے خالی پلاٹ اور چار دیواری کے اندر مختلف کمیونٹی کے قبرستان بھی ہیں ‘ اسی علاقے سے عام لوگوں کا گزر شازو نادر ہی ہوتا ہے لیکن شارٹ کٹ کے لئے ساحل سمندر پر پکنک منانے کے لئے جانے والے عموماً اسی راستے کو استعمال کیا کرتے ہیں۔ حب ریور روڈ کایہ علاقہ موچکو تھانے کی حدود میں آتا ہے‘ دن کا وقت تھا اور اس سنسان راستے میں اکا دکا گاڑیاں اور کبھی علاقے کا کوئی مقامی شخص اس راستے سے گزرتا ہوا دکھائی دیتا تھا

اسی طرح ایک راہ گیر بھی ایدھی قبرستان سے ہوتا ہوا فاطمہ خیل قبرستان کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اُسے دور سے ایک کالی چادر نظر آئی جس کو غور سے دیکھنے سے پتہ چل رہا تھا کہ اس کالی چادر کے اندر کوئی انسانی جسم بھی موجود ہے‘ مقامی راہگیر نے پہلے تو اُس کالی چادر میں موجود انسانی جسم کو اپنا وہم قرار دیا اور اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگا لیکن تجسس نے جیسے اُس کے قدم روک لئے اور اُس کو مزید ایک قدم آگے بڑھانے سے روک دیا اور پھر اُس شخص کے قدم خود بخود آگے بڑھنے کے بجائے اُس جانب بڑھنے لگے جہاں اُسے اُس وقت وہ کالی چادر نظر آرہی تھی تاہم اس شخص کے قریب پہنچنے پر اسے جو منظر نظر آیا وہ دل دہلادینے والا تھا‘ کیونکہ اس شخص کو کالی چادر نظر آنے والا دراصل عبایا تھا جو عموماً خواتین گھر سے نکلتے ہوئے اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لئے استعمال کیا کرتی ہیں اور اس عبایا میں ایک خاتون کی نعش موجود تھی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ شخص دوڑتا ہوا مرکزی سڑک پر آیا تاکہ یہ صورت حال اور اپنی مدد کے لئے کسی اور کو بلاسکے‘ یہاں پہنچتے ہی وہ شخص ہاتھ دے کر آتی جاتی گاڑیوں کو روک رہا تھا تاکہ اُس کو تمام صورت حال سے آگاہ کرے‘ تھوڑی سی کوشش کے بعد اُس نے کچھ لوگوں کو جمع کرلیا جنہوں نے قریب جاکر دیکھا تو انہیں اس شخص کی سچائی کا اندازہ ہوا‘ یہ صورت حال دیکھ کر انہی لوگوں میں سے ایک شخص نے پولیس کو اطلاع دی۔

اس اطلاع پر موچکو پولیس فوری کارروائی کرتی ہوئی جائے وقوعہ پر پہنچی اور کالی عبایا میں لپٹی نعش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لئے سول اسپتال منتقل کیا اور جائے وقوعہ کی مزید تفتیش کرکے شہادتیں اکٹھی کیں۔اس ضمن میں ایس ایچ او موچکو تصور امیر نے بتایا کہ موچکو کے علاقے ہاکس بے فاطمہ خیل قبرستان سے ملنے والی نعش کی عمر تقریباً 30 سالہ خاتون کی ہے اور مقتولہ کے جسم پر ٹیٹو کے نشان اور ہاتھ اور بازو پر انجکشن لگانے کے نشانات موجود ہیں۔ایس ایچ او کے مطابق مقتولہ کے پاس سے شناخت کی کوئی چیز نہیں ملی اور مقتولہ شکل سے کچھی برادری کی لگ رہی ہے۔ پولیس کا خیال تھا کہ مقتولہ رات کو کسی پارٹی میں گئی تھی اور ہوسکتا ہے کہ وہاں نشہ کرنے کی وجہ سے مقتولہ کی موت واقع ہوگئی ہو اور گرفتاری کے خوف سے مقتولہ کے ساتھی مقتولہ کی نعش کو مذکورہ مقام پر پھینک کر فرار ہوگئے ہوں‘ تاہم قانونی کارروائی کے بعد پولیس نے نعش کی شناخت کے لئے سرد خانے منتقل کردیا۔ پولیس کی جانب سے نعش کو سرد خانے میں رکھوانے کے تقریباً 10 گھنٹے بعد کچھ لوگوں نے موچکو پولیس سے رابطہ کیا جس میں جاوید نامی شخص بھی شامل تھا اور وہ اپنے آپ کو مقتولہ کا بھائی بتا رہا تھا۔ پولیس کے مزید استفسار پر جاوید نے بتایا کہ مقتولہ کا نام رباب شفیق دختر شفیق الدین ہے جبکہ مقتولہ عائشہ منزل کی رہائشی اور واقعہ سے قبل گھر سے دوست کی شادی اور اس سے پہلے بیوٹی پارلر جانے کا کہہ کر نکلی تھی جس کے بعد مقتولہ کا رات گئے تک پتہ نہیں چل سکا اور اب میڈیا پر چلنے والی خبر کو دیکھ کر ہم لوگ سردخانے بعدازاں نعش کی وصولی کے لئے موچکو پولیس سے رابطہ کیا جس پر پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے مقتولہ کی نعش برائے تدفین مقتولہ رباب کے ورثاء کے حوالے کردی۔

واقعہ کے 5 روز بعد مقتولہ کے بھائی جاوید نے موچکو پولیس سے رابطہ کیا اور واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کا کہا جس میں مقتولہ رباب کے بھائی جاوید نے پولیس کو بتایا کہ میری چھوٹی بہن رباب شفیق میٹرو ہائٹس عزیز آباد میں والدین کے ساتھ رہائش پذیر اور ماڈلنگ کیا کرتی تھی۔ 20 فروری 2019ء بروز بدھ کو تقریباً 5 بجے شام گھر سے سہیلی کی شادی میں شرکت کا کہہ کر نکلی جس کے بعد وہ لاپتا ہوگئی‘ ہم اس کی تلاش و معلومات کرتے رہے کہ مورخہ 22 فروری کی شام ہمیں اطلاع ملی کہ میری بہن کی نعش اسپتال میں موجود ہے ‘ اس اطلاع پر ہم مردہ خانے پہنچے‘ دیکھا تو میری بہن رباب شفیق کی نعش موجود تھی۔ پولیس نے نعش قانونی کارروائی کے بعد تدفین کے لئے ہمارے سپرد کی‘ اب میں مقتولہ کی تدفین کے بعد اور صلاح و مشورہ کرکے رپورٹ درج کروانے آیا ہوں کہ مجھے قوی شبہ ہے کہ میری بہن رباب کو عمر نامی شخص نے اپنے دیگر نامعلوم ساتھیوں کی مدد سے نامعلوم وجوہات و رنجش یا دشمنی کی بناء پر کسی اور مقام پر قتل کیا اور شہادتوں کو چھپانے کی غرض سے نعش فاطمہ خیل قبرستان نزد ایدھی قبرستان کے مقام پر پھینک گئے۔

مقتولہ کے بھائی جاوید کے اس بیان کے بعد موچکو پولیس نے ماڈل رباب شفیق کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 22/2019 مقتولہ کے بھائی جاوید کی مدعیت میں درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا۔ اس موقع پر مقتولہ رباب کی والدہ نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ رباب عرف ہنی زیدی 5 بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھی اور وہ ماڈلنگ کی شوقین تھی اور وہ ماڈلنگ میں نام پیدا کرنا چاہتی تھی اور مقتولہ بہت سارے ٹی وی چینلز میں بھی اپنی پرفارمنس دے چکی تھی اور اس کے اعتراف میں اس کے کلب والوں نے واقعہ سے 2 ماہ قبل اس کی تاج پوشی بھی کی تھی۔ 9 سال قبل ہم نے مقتولہ کی شادی کی تھی لیکن شادی کے ڈھائی مہینے بعد اس کا شوہر اُسے یہ کہہ کر امریکہ چلا گیا کہ وہ بہت جلد مقتولہ کو بھی اپنے پاس بلالے گا لیکن اس کے شوہر نے امریکہ جانے کے 9 سال گزرجانے کے باوجود اس نے مقتولہ کو اپنے پاس نہیں بلوایا۔ شروع شروع میں تو ہم لوگوں نے بھی مقتولہ کے شوہرپر دبائو ڈالا کہ وہ اپنی بیوی رباب کو بھی اپنے پاس امریکہ بلوائے لیکن وہ ہر بات پر کوئی نہ کوئی بہانہ نکال لیتا۔

وقت یونہی گزرتا رہا‘ نہ ہی تو مقتولہ کا شوہر امریکہ سے واپس آیا اور نہ ہی اُس نے رباب کو اپنے پاس امریکہ بلوایا اور پھر ایک دن رباب کو ایک لفافہ موصول ہوا جس میں اس کا طلاق نامہ تھا‘ یہ دیکھ کر ہم لوگوں نے رباب کے سسرال سے رابطہ کیا جس پر وہ لوگ بھی انتہائی شرمندہ ہوئے تاہم پھر مجبوراً ہمیں وہ فیصلہ ماننا ہی پڑا لیکن طلاق کے بعد بھی رباب نے اسی فلیٹ میں رہنے کو ترجیح دی جس فلیٹ میں وہ پہلی بار دلہن بن کر گئی تھی۔ رباب کا فلیٹ بھی اسی میٹروہائٹس میں واقع ہے جہاں ہماری رہائش ہے‘ بس رباب کا فلیٹ ہمارے فلیٹ سے ایک منزل اوپر واقع ہے تو رباب رہتی اپنے ہی فلیٹ میں تھی لیکن اس کا کھانا پینا ہمارے ساتھ ہی تھا‘ چونکہ فلیٹ کرائے کا تھا اس لئے رباب نے زندگی گزارنے کے لئے ماڈلنگ کا ہی شعبہ چنا اور اُس میں اس کا ایک نام تھا اور رباب کا بڑے بڑے اسٹارز سے رابطہ تھا جو اس کے کام کی تعریفیں بھی کیا کرتے تھے۔ اسی دوران رباب کی دوستی عمر نامی شخص سے ہوئی ‘رباب کہیں آنے جانے کے لئے اُسی کی گاڑی میں آتی جاتی تھی‘ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن رباب کے فلیٹ کے مالک نے اُس سے کہا کہ میں نے یہ فلیٹ کسی اور کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے لہٰذا آپ اپنا انتظام کہیں اور کرلو۔ ہمیں یہ بات پتہ چلی تو میں نے رباب سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ہی ہمارے فلیٹ میں آجائو جس پر رباب نے کہا کہ میرے گھر فرنیچر اور دیگر سامان بہت زیادہ ہے جو اس فلیٹ میں نہیں آپائے گا لہٰذا میں نے اپنی سہیلی ثناء جس کی رہائش گلستان جوہر میں ہے‘ اس کے قریب ایک فلیٹ دیکھ لیا ہے اور میں بہت جلد وہاں سامان فٹ کردوں گی۔ مقتولہ کی والدہ کے مطابق رباب بہت ہنس مکھ اور دوسروں کے کام آنے والی لڑکی تھی اور ہم لوگوں نے اس میں ایک تبدیلی بھی دیکھی کہ وہ آج کل زیارتوں کے لئے بہت زیادہ جانے لگی تھی‘ اس کو جب بھی اپنے کام سے وقت ملتا وہ 15 دن یا مہینے کے لئے زیارت پر چلی جاتی تھی اور واقعہ سے قبل بھی مقتولہ کام کے سلسلے میں اومان گئی تھی جہاں سے وہ 2 ماہ بعد لوٹی تھی لیکن اس کے اومان سے آنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ آج کل کچھ خاموش اور کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی‘ میں نے اُس بات کو محسوس کرتے ہوئے اُس سے اس خاموشی کی وجہ پوچھی لیکن وہ کوئی بات بتانے پر راضی نہیں ہوئی تھی۔

مورخہ 20 فروری کو بھی مقتولہ رباب اپنی سہیلی کی شادی میں شرکت کرنے کا کہہ کر نکلی تھی اور شادی میں شرکت سے قبل اپنی دوست کی بیوٹی پارلر پر سے تیار ہونے کا کہہ کر شام 5 بجے ہی گھر سے نکل گئی تھی‘ ا س کے جاتے وقت میں نے اتفاقاً اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو نیچے عمر کی گاڑی کھڑی تھی جس پر سوار ہوکر وہ سہیلی کی شادی میں شرکت کے لئے چلی گئی جبکہ اس موقع پرموجود مقتولہ رباب کے بھائی اور مقدمہ کے مدعی جاوید نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ 20 فروری کی شام مقتولہ شادی میں شرکت کا کہہ کر نکلی لیکن رات زیادہ ہونے پر جب اس کی واپسی نہیں ہوئی تو ہم نے رابطہ کرنا چاہا لیکن پھر سوچ کر ہم نے رباب سے رابطہ نہیں کیا کہ وہ اس وقت شادی میں شریک ہوگی اور کئی بار ایسا بھی ہوا تھا کہ وہ اگر کسی تقریب میں گئی ہو اور رات زیادہ ہوگئی ہو تو وہ اپنی سہیلی ثناء کے گھر رک جایا کرتی تھی جہاں سے وہ صبح یا کسی وقت آجاتی تھی‘ اس دن بھی ہم لوگوں نے یہ ہی سمجھا کہ وہ رات زیادہ ہوجانے پر اپنی سہیلی کے یہاں ہی رک جائے گی لیکن جب دوسرے دن رباب کی واپسی نہیں ہوئی تو ہمیں اس کی فکر ہوئی اور ہم نے رباب سے رابطہ کرنے کے لئے اس کے موبائل فون پر کالیں کرنا شروع کیں لیکن اُس سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا جس کے بعد ہم نے مقتولہ کی سہیلی سے رابطہ کیا لیکن وہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا جس کے بعد ہم لوگوں نے اُسے ہرممکن جگہ تلاش کیا تو پھر ہمیں معلوم ہوا کہ مقتولہ رباب کی نعش سرد خانے میں رکھی ہے جہاں سے ہم لوگوں نے موچکو پولیس سے رابطہ کیا اور نعش کو وصول کیا۔

تدفین کے بعد اب ہمیں عمر کی تلاش تھی کیونکہ واقعہ سے قبل وہ گھر سے عمر کی ہی گاڑی میں گئی تھی‘ ہم لوگ عمر کو تلاش کرنے لگے تو پتہ چلا کہ عمر کی رہائش گلستان جوہر میں ہے اور پھر ہم لوگوں نے اس فلیٹ کو بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی جس میں مقتولہ رباب شفٹ ہورہی تھی جب ہم لوگوں نے فلیٹ کا پتہ معلوم کرنا چاہا تو ہمیں مقتولہ کے فلیٹ کا تو پتہ نہیں چلا بلکہ یہ پتہ چلا کہ مقتولہ کا فرنیچر گلستان جوہر کباڑی مارکیٹ میں فروخت کے لئے رکھا ہے جس پر ہم نے اس دکاندار سے ملاقات کی تو اُس نے بھی جو حلیہ بتایا وہ عمر سے مشابہت رکھتا تھا جو وہ سارا فرنیچر اس دکان میں فروخت کے لئے دے گیا تھا‘ اس کا مطلب صاف ظاہر تھا کہ عمر رباب کو قتل کرنے کی پلاننگ کافی عرصے سے کررہا تھا اور ساتھ مقتولہ کا تمام سامان بیچ کر پیسے بھی اینٹھنا چاہ رہا تھا‘ تاہم جب ہم نے مقتولہ کی سہیلی ثناء سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ واقعہ والے روز رباب کے نمبر سے میرے موبائل فون پر میسیج آیا تھا جو عمر نے کیا تھا کہ رباب کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور میں علاج کے لئے اُسے گلزار ہجری کے علاقے میں واقع کسی اسپتال میں لے کر آیا ہوں‘ اس میسیج پر میں اورمیرے شوہر فوری طور پر اس گلزار ہجری میں واقع اسپتال پہنچے تو وہاں پتہ چلا کہ وہ لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں جس کے بعد ہم لوگوں نے مقتولہ کے موبائل پر کالیں کیں یہ پوچھنے کے لئے کہ وہ اس وقت کس اسپتال میں ہیں لیکن اُس کا موبائل سوئچ آف آرہا تھا۔ ہم لوگوں نے جب رباب کے موبائل پر مسلسل کالیں کیں اور رابطہ نہیں ہوسکا تو پھر ہم لوگ واپس گھر آگئے اور اس واقعہ کی اطلاع رباب کے گھر والوں کو دی۔ اس سے قبل ہم نے عمر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

مقتولہ رباب کے بھائی جاوید نے عمر کو ایف آئی آر میں نامزد کروانے سے متعلق بتایا کہ 20 فروری کو مقتولہ ر باب گھر سے ملزم عمر کی گاڑی میں بیوٹی پارلر جانے کا کہہ کر گئی تھی‘جس کے بعد 2 دنوں تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا‘ پھر ہمیں اطلاع ملی کہ مقتولہ کی نعش اسپتال میں رکھی ہے‘ ہم اسپتال پہنچے ‘ جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا کہ مقتولہ غلط علاج کی وجہ سے جاں بحق ہوئی ‘ رباب کے ایک ہاتھ میں 7 ‘ جبکہ دوسرے ہاتھ میں 9 انجکشن کے نشانات موجود تھے ‘ جبکہ ہمیں اب تک مقتولہ کا موبائل فون اور ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی‘ چونکہ مقتولہ آخری وقت تک ملزم عمر کے ساتھ تھی جس کی وجہ سے ہم نے ایف آئی آر میں عمر اوراس کے 3 ساتھیوں کو نامزد کیا‘ جبکہ مقدمہ کے تفتیشی افسر راشد نے نمائندہ قومی اخبار کو ٹیلیفونک رابطہ پر بتایا کہ یہ ایک اندھا قتل تھا‘ جس میں مقتولہ کی شناخت بھی نہیں ہوئی تھی‘ قتل کی وجہ اور ملزم کے بارے میں بھی پولیس کو کوئی معلومات نہیں تھی‘ تاہم مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر تفتیش کاآغاز کیااور جب مقتولہ کے موبائل فون کا سی ڈی آر نکلوایا تو اس میں دو‘تین موبائل نمبر ایسے تھے‘ جب مقتولہ کا قتل ہواتھا‘ جس پر پولیس نے ان نمبروں پر کام کرنا شروع کیا اور ان نمبروں کا ڈیٹا نکلوایا تو اس میں ایک نمبر عاطف شاہ نامی شخص کا تھا‘ جس پر پولیس نے کارروائی شروع کی اور عاطف شاہ کو اس کے گھر سے گرفتارکیا‘ جس سے تفتیش شروع کی گئی اور تھوڑی سی محنت کے بعد عاطف شاہ نے ایک خاتون روبینہ اختر کا نام بتادیا‘ جو گلز ار ہجری میں فیملی کیئر سینٹر کے نام سے کلینک چلاتی ہے‘ جس پر پولیس نے ملزم عاطف شاہ کے بیان پر گلزار ہجری سے فیملی کیئر سینٹر سے روبینہ اختر کو حراست میں لیا اور تفتیش شروع کی

جس نے دوران تفتیش اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ سے2 روز قبل عمر نامی شخص مقتولہ رباب کو ساتھ لے کر آیا جو رباب کا اسقاط حمل کروانا چاہ رہا تھا‘ لیکن میںنے اسے منع کیا‘ لیکن پھر اس نے زیادہ پیسوں کی آفر کی تو میںمان گئی‘ واقعہ والے روز عمر رباب کو میرے پاس لے کر آیااور پھر میں نے اسقاط حمل کے لیے کام شروع کیالیکن اسقاط حمل کیلئے انجکشن لگانے کے دوران مقتولہ رباب کی حالت بگڑنے لگی‘ جس پر میں نے عمر سے کہا کہ آپ فوری طورپر مریضہ کو لے کر جناح یا سول اسپتال لے کر جائو‘ میرے کہنے پر عمر نے رباب کو اسی حالت میں اپنی گاڑی میں بٹھایااور اس نے اس کے ساتھ اسپتال ایڈ منسٹریٹر عاطف شاہ کو کردیا‘ تاکہ وہ مجھے آگے کی صورتحال بتاتا رہے‘ لیکن عمر رباب کو گاڑی میں بٹھانے کے بعد جناح یا سول اسپتال لے جانے کے بجائے اسے شہر گھماتا رہا‘ جس سے اس کی حالت مزید بگڑ گئی اور پھر رباب دم توڑ گئی‘ رباب کے دم توڑ نے کی اطلاع مجھے عاطف شاہ نے دی‘ جس پر میں نے انہیں کہا کہ اب جو کچھ بھی کرنا ہے مل کر کرنا ہے‘ لہٰذا تم لوگ میرے پاس آئو اور مجھے بھی ساتھ لے لو ‘ جس کے بعد عمر اور دیگر لوگ میرے پاس آئے اور میں عمر کی گاڑی میں سوار ہوگئی‘ ہم لوگ گاڑی میں یہ سوچ رہے تھے کہ اب کیا کرنا ہے‘ جس کے بعد ہم لوگ موچکو کے علاقے فاطمہ خیل قبرستان پہنچے اور سنسان علاقے کو دیکھ کر رباب کی نعش مذکورہ مقام پر پھینک کر فرار ہوگئے

جس کے بعد پولیس نے موبائل لوکیشن کے ذریعے ہمیں گرفتار کرلیا‘ جبکہ مقتولہ رباب عرف ہنی زیدی کی والدہ نے گرفتار ملزمان کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اصل ملزم کو بچانے کیلئے گرفتار ملزمان کو قربانی کا بکرا بنایا ہے‘ کیونکہ ہمیں اب تک مقتولہ رباب کا موبائل فون نہیں ملا‘ جبکہ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران بیان دیا کہ مقتولہ کی نعش موچکو کے سنسان علاقے سے ملی ‘ جبکہ مقتولہ کا موبائل فون انہوںنے نالے میں پھینک دیاہے‘ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی ملزم عمر کے پاس آخری وقت تک مقتولہ رباب کا موبائل فون تھا‘ جس سے وہ مقتولہ کی سہیلی ثناء اور اس کے شوہر کو میسج کررہا تھا کہ مقتولہ رباب کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور میں علاج کیلئے اسے گلزار ہجری میں واقع میڈیکل سینٹر لے کر آیا ہوں‘ جس کے بعد مقتولہ کا موبائل فون بند ہوگیا‘ مقتولہ رباب کی والدہ نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ مرکزی ملزم عمر کو فور ی گرفتار کیاجائے‘ تاکہ مقتولہ رباب کو قتل کرنے کے اصل حقائق منظر عام پر آسکیں ‘ جبکہ مقدمے کے تفتیشی افسر راشد نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایاکہ پولیس نے ملزمان کو پوری تفتیش کے بعد گرفتار کیا‘ کیونکہ ان سب کی موبائل لوکیشن عین اسی وقت کی ہے‘ جب مقتولہ گلزار ہجری میڈیکل سینٹرمیں موجود تھی اور پھر یہ لوگ مذکورہ مقام پر لے کر گئے‘ جہاں سے مقتولہ رباب کی نعش ملی‘ جبکہ واقعہ کا تیسرے ملزم عمر کا اس وقت سے موبائل سوئچ آف جارہا ہے‘پولیس تیسرے ملزم کی مسلسل تلاش میں ہے اور واقعہ کے بعد ملزم عمرکا موبائل صرف ایک بار آن ہوا جس کی لوکیشن سے پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد کے کسی علاقے میں ہے اور اس کی گرفتاری کیلئے پولیس کی ایک ٹیم کو اسلام آباد کی روانگی کیلئے اعلیٰ افسران سے اجازت لی جارہی ہے اورہمیں یقین ہے کہ پولیس بہت جلد ماڈل رباب کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے معزز عدالت کے روبرو پیش کرے گی‘ تاکہ مقتولہ کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(565 بار دیکھا گیا)

تبصرے