Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 20  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موبائل فون زندگی کا حصہ بن گئے

ویب ڈیسک پیر 11 مارچ 2019
موبائل فون زندگی کا حصہ بن گئے

ا سمارٹ فون اب ہماری شخصیت کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم میں سے کئی ایک دن میں پانچ سے زیادہ گھنٹے اس پر مصروف رہتے ہیں۔لیکن یہ اسمارٹ فونز ہمارے بارے میں کیا بتاتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟

لینکاسٹر اور لنکن یونیورسٹیز نے تقریباً 500 اینڈروئڈ اور آئی فونز استعمال کرنے والوں کی شخصیت کا مطالعہ کیا اور جاننے کی کوشش کی کہ ان کا اپنے فون کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔کیا آپ اپنے موبائل فون سے دوری برداشت کر سکتے ہیں؟

ٹیکنالوجی کی لت کیسے ہمارے دماغ کو آلودہ کر رہی ہے؟بلو ٹوتھ آن رکھا تو معلومات چوری ہو سکتی ہیںانہیں معلوم ہوا کہ ہمارے اسمارٹ فونز ہماری شخصیت کے کچھ پہلوؤں کا انکشاف کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ریسرچرز کو معلوم ہوا کہ اینڈروئڈ فون استعمال کرنے والے آئی فون استعمال کرنے والوں سے زیادہ ’ایماندار‘ ہوتے ہیں۔تاہم آئی فون استعمال کرنے والے اینڈروئڈ فون استعمال کرنے والوں کے نسبت کم عمر ہوتے ہیں اور زیادہ کھلے مزاج کے ہوتے ہیں۔اس تحقیقی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت آئی فون زیادہ پسند کرتی ہیں لیکن ان کی اس پسند کی وجہ نہیں جانی جاسکی۔دوسری جانب اینڈروئڈ فون استعمال کرنے والے عموماً زیادہ عمر کے مرد ہیں۔اینڈروئڈ فون اور آئی فون دنیا بھر میں کل فروخت ہونے والے فونز کا نوے فیصد ہیں۔سنہ 2018 ء میں دنیا میں تمام اسمارٹ فونز میں گوگل اینڈروئڈ فون کا آپریٹنگ سسٹم سب سے زیادہ مقبول رہا ہے۔اینڈروئڈ فونز کی 88 فیصد مارکیٹ میں یہ آپریٹنگ سسٹم استعمال ہو رہا ہے۔ایپل آئی او ایس کا سسٹم دوسرے نمبر پر آتا ہے لیکن اس کا مارکیٹ میں حصہ صرف بارہ فیصد ہے۔لیکن اسمارٹ فون کے انتخاب سے آپ کی شخصیت کے بارے میں معلومات کیسے ملتی ہیں؟

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ان اسمارٹ فونز کے انتخاب سے ہر فرد اپنی سوچ پیش کر رہا ہوتا ہے۔اس ریسرچ ٹیم کی شریک سربراہ ہائیدر شا کہتی ہیں کہ ’اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے کی شخصیت کا ایک منی ڈیجیٹل ورڑن بنتا جا رہا ہے۔’ہم میں سے کئی لوگ اپنا فون کسی دوسرے کو استعمال نہیں کرنے دیتے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہوتا ہے کہ ہمارے راز افشا نہ ہوجائیں۔اس ریسرچ کے مطابق، آئی فون استعمال کرنے والے اینڈروئڈ فون استعمال کرنے والوں سے زیادہ آسودہ نہیں ہوتے ہیں، لیکن آئی فون استعمال کرنے والے اس بارے میں فکر مند رہتے ہیں کہ اسے سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنی جذباتی کیفیت کو ظاہر کرنے کی جانب زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ان ریسرچرز نے اپنی معلومات کی مدد سے ریسرچ کے اگلے مرحلے میں ایک کمپیوٹر پروگرام بھی بنایا دیا جس کے ذریعے وہ کسی شخص کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ اسے کون سا اسمارٹ فون پسند آئے گا۔ ایک ریسرچر ڈیوڈ ایلیس نے کہا کہ ’ہم اعداد و شمار کی بنیاد پر ایک ایسا ماڈل بنانے کے قابل ہو گئے ہیں جس کی بدولت ہم کسی سے چند سوالات کر کے یہ پیشن گوئی کرسکتے ہیں کہ اس کی جیب میں کون سا فون ہے۔‘ایسے ماحول میں جب ڈیٹا پرائیویسی پر بحث سنجیدہ ہوتی جا رہی ہے، ایلیس اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے بارے میں اس کی نجی معلومات اس کے سمارٹ فون کے آپریٹنگ سسٹم کے انتخاب جیسی عام بات سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔

امریکا میں ہونے والی ایک تازہ ترین طبی تحقیق کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ بچے جو وقت کسی نہ کسی اسکرین (موبائل فون، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ، ٹی وی، کمپیوٹر گیم وغیرہ کی شکل میں) کے سامنے گزارتے ہیں، اگر اس میں کمی کردی جائے تو دماغی کارکردگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لئے صرف اسکرین ٹائم میں کمی کافی نہیں بلکہ مناسب مقدار میں جسمانی سرگرمی اور نیند پوری کرنا بھی ضروری ہوگا۔ یہ بات موقر امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں دی آبزرویشنل اسٹڈی کے نتائج کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ اس اسٹڈی میں ایک اور تحقیقی جائزے کے لئے مرتب شدہ وسیع تر ڈیٹا سے مدد لی گئی ہے، جس کے لئے فنڈز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے فراہم کئے تھے اور اس میں8 سے 11برس تک کی عمر کے 4500بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس مطالعاتی جائزے میں شریک محققین نے اس بات کا بغور جائزہ لیا کہ بچے کتنی دیر اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ کتنی دیر سوتے ہیں اور کتنی دیر جسمانی سرگرمی یا فزیکل ایکٹیویٹی میں گزارتے ہیں اور پھر انہوں نے ان اوقات کا موازنہ کینیڈا کی 24 گھنٹے کی نقل و حرکت سے متعلق گائیڈ لائنز سے کیا۔ یہ گائیڈ لائنز یا سفارشات کینیڈین سوسائٹی فار ایکسرسائز فزیالوجی نے مرتب کی ہیں اور ان میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو اپنا وقت کیسے گزارنا چاہئے۔

رپورٹ کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ جن بچوں نے مذکورہ سفارشات کے مطابق اپنا وقت گزارا، جس میں 9سے11 گھنٹے کی نیند لینا، کم سے کم ایک گھنٹے کی جسمانی سرگرمی اور اسکرین کے سامنے دو گھنٹے سے کم وقت گزارنا شامل تھا۔ ان کی دماغی کارکردگی میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ محققین کو یہ بھی پتا چلا کہ محض اسکرین ٹائم گھٹا دینے یا نیند پوری کرلینے کے بھی دماغی کارکردگی پر نہایت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلا کہ امریکا میں محض5 فیصد بچے ایسے ہیں، جو مذکورہ بالا تینوں سفارشات پر عمل پیرا ہیں جبکہ ایک تہائی بچے ایسے ہیں کہ جو ان تین میں سے کسی ایک سفارش پر بھی عمل پیرا نہیں۔ رپورٹ مرتب کرنے والے سینئر محقق جیریمی والش کہتے ہیں کہ تحقیق کے نتائج سے پتا چلا کہ اچھی نیند اور جسمانی سرگرمی کا امتحانات میں اچھی کارکردگی سے قریبی تعلق ہے جبکہ جسمانی سرگرمی سے ری ایکشن ٹائم کو بہتر بنانے، توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے بچوں کی دماغی کارکردگی میں کمی دیکھی گئی ہے، جو روزانہ دو گھنٹے سے زائد وقت کسی نہ کسی اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں جبکہ اسمارٹ فون زیادہ استعمال کرنے والے طلبہ کو توجہ مرکوز کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے لیکن اس بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ مختلف اسکرینز کے سامنے گزارے جانے والے وقت کے نتائج کتنے مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جو بچے آن اسکرین مختلف گیمز کھیلتے ہیں اور جو بچے آن اسکرین مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں وقت گزارتے ہیں، ان کی دماغی کارکردگی پر مرتب ہونے والے اثرات میں کتنا فرق ہوتا ہے؟ واضح رہے کہ اس رپورٹ کے نتائج گزشتہ دنوں ایک موقر طبی جریدے The Lancetمیں شائع کئے گئے تھے۔

(227 بار دیکھا گیا)

تبصرے