Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستانی فلمی صنعت زوال و عرج

قومی نیوز اتوار 10 مارچ 2019
پاکستانی فلمی صنعت زوال و عرج

پاکستانی فلمی صنعت گزشتہ تین دہائیوں سے جس زوال کا شکار رہی ہے، اس کے خاتمے کا آغاز 2013 میں شعیب منصور کی فلم ’بول‘ سے ہوا تھا۔ یہ حوصلہ افزا بحالی آج تک جاری ہے اور فلم انڈسٹری کے حالات میں مزید بہتری کی اْمید ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری میں عروج و زوال مجموعی طور پر کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن خوش کن پہلو یہ ہے کہ اس صنعت میں مسلسل تین عشروں تک اتار کے بعد چڑھاؤ کا تسلسل 2018 میں بھی خوش آئند طریقے سے جاری رہا۔ پچھلے چند برسوں میں کئی انتہائی کامیاب فلمیں ریلیز کی گئیں، جو باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئیں۔ ان میں سے سب سے مشہور اور زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں ‘وار‘، ’میں ہوں شاہد آفریدی‘، فرجاد نبی کی ‘زندہ بھاگ‘، 2014 میں نبیل قریشی کی کامیڈی تھرلر فلم ‘نامعلوم افراد‘، 2015 میں یاسر جسوال کی ‘جلیبی‘، شرمین عبید چنوئے کی ‘تین بہادر‘، مومنہ دورید کی ‘بن روئے‘، ندیم بیگ کی ‘جوانی پھر نہیں آنی‘، جامی کی ‘مور‘ اور سرمد گھوسٹ کی ‘منٹو‘ شامل ہیں۔

2016 میں عاصم رضا کی ‘ہو من جہاں‘، اظہر جعفری کی ‘جاناں‘، نبیل قریشی کی ‘ایکٹر ان لا‘، عاشر عظیم کی ‘مالک‘، 2017 میں ندیم بیگ کی ‘پنجاب نہیں جاؤں گی‘، شعیب منصور کی ‘ورنہ‘ اور فرحان اسلم کی ‘ساون‘ بھی خاص طور پر قابل ذکر رہیں۔ 2018 بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک اچھا سال رہا، جس دوران کئی فلمیں نہایت کامیاب رہیں اور ان پروڈکشنز نے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے علاوہ متاثر کن کاروبار بھی کیا۔ دوہزار اٹھارہ کا آغاز اظہر جعفری کی کامیڈی کرائم فلم ‘پرچی‘ سے ہوا تھا، جو جنوری میں ریلیز ہوئی اور جس میں حریم فاروق، علی رحمان اور شفقت چیمہ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم کا بجٹ پانچ کروڑ روپے تھا اور اس نے باکس آفس پر سترہ کروڑ روپے کمائے۔ اس کے بعد عزیر ظہیر خان کی کارٹون فلم ‘اللہ یار اور مارخور کی کہانی‘ جو فروری میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ ایک شرارتی بچے اللہ یار کی کہانی ہے جو مشکل حالات میں جانوروں کے غیرقانونی شکار کے خلاف مارخور ‘مہرو‘ اور برفانی چیتا ‘چکو‘ کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس فلم نے باکس آفس پر قریب پانچ کروڑ کمائے اور یہ خاص طور پر بچوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس فلم کا فروری میں ہی مقابلہ ایک رومینٹک کامیڈی فلم ‘مان جاؤ نا‘ سے تھا، جس نے باکس آفس پر سوا تین کروڑ روپے کا بزنس کیا اور بہت کامیاب نہیں مانی گئی تھی۔

مارچ میں اس سال کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ‘کیک‘ ریلیز ہوئی، جس کے ڈائریکٹر عاصم عباس تھے اور جو ایک کامیڈی ڈرامہ فلم تھی۔ یہ فلم اردو اور سندھی زبانوں کا ملاپ بھی تھی اور اس نے باکس آفس پر کروڑوں روپے کمائے۔ ‘کیک‘ کی کہانی چند بہن بھائیوں میں مقابلے کے گرد گھومتی ہے، جن میں سے ایک بہن بیرون ملک آباد ہو جاتی ہے جبکہ دوسری ملک میں اپنے گھر پر ہی رہ جاتی ہے۔ یہ فلم ان بہنوں کے باہمی تعلقات اور والدین سے رشتوں کی کہانی ہے، جن میں کئی بار اونچ نیچ آتی ہے۔ اس فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کے شعبے میں بھی نامزد کیا گیا تھا اور اسی فلم کے لیے عاصم عباس کو برطانیہ کے ‘UK ایشین فلم فیسٹیول‘ کا بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔اپریل میں ایک فلم ‘موٹر سائیکل گرل‘ ریلیز ہوئی، جو ایک ایکشن ڈرامہ فلم تھی اور جس میں سوہا علی ابرو اور زینتھ عرفان مرکزی کردار تھے۔ مشہور اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کے علاوہ سرمد گھوسٹ، علی کاظمی اور شمیم ہلالی اس فلم کے سپورٹنگ کریکٹر تھے۔ اس فلم میں زینتھ عرفان نے اپنی ہی زندگی کی کہانی کا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے دور دراز شمالی علاقہ جات میں موٹر سائیکل پر اکیلے سفر کی کہانی بیان کی۔ زینتھ عرفان نے یہ سفر اپنے والد کی اس خواہش پر کیا تھا کہ ان کی بیٹی خود مختار اور دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔ اس فلم نے باکس آفس پر دو کروڑ سے زائد کا بزنس کیا اور ایک cult فلم کے طور پر سامنے آئی۔ اس فلم میں مرکزی خاتون کردار کا موٹر سائیکل پر یہ سفر لاہور سے ہنزہ تک جاتا ہے۔

جون میں عیدالفطر کے موقع پر چار فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک فلم ‘سات دن، محبت اِن‘ تھی، جس میں ماہرہ خان اور شہریار منور نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ ایک رومینٹک کامیڈی فلم تھی، جس میں اداکاروں کی کارکردگی بھی بہت مضبوط تھی اور مناظر کی عکس بندی نے بھی ناظرین کی اکثریت کے دل موہ لیے تھے۔ یہ دو افراد کی محبت کی شادی کے سفر میں پیش آنے والے مصائب اور ان پر قابو پائے جانے کی کہانی تھی، جس نے باکس آفس پر تیرہ کروڑ روپے کمائے تھے۔

اس فلم کا مقابلہ اس کے ساتھ ہی ریلیز ہونے والی ایک اور بڑی فلم ‘طیفہ اِن ٹربل‘ سے تھا، جس کے ہدایتکار احسن رحیم تھے۔ یہ ڈھائی گھنٹے کی ایک ایسی رومینٹک ایکشن فلم ہے، جس کی کہانی میں لاہور کا ایک چالاک مڈل کلاس لڑکا طیفہ جرائم کی دنیا سے ہوتے ہوئے پولینڈ پہنچ کر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ وارسا میں ایکشن اور رومانس کے گرد گھومتی اس فلم نے بیالیس کروڑ روپے سے زائد کما کر پاکستانی سینما کی تاریخ میں چوتھی سب سے زیادہ رقم کمانے والی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔

فضائیہ، جنگ اور رومانس
ایک اور بڑی فلم اگست میں عید قربان کے موقع پر ریلیز ہوئی، جس کا نام ‘پرواز ہے جنوں‘ تھا۔ اس کے ہدایت کار حسیب حسن تھے اور اہم کردار حمزہ علی عباسی، مرینہ خان، ہانیہ عامر اور کبریٰ خان نے ادا کیے تھے۔ یہ فلم بنیادی طور پر فضائی جنگ اور رومانس پر مبنی ہے، جس کا ایک مقصد پاکستان ائیر فورس کی طاقت اور عظمت کی عکاسی بھی تھا۔ اس فلم نے چالیس کروڑ روپے کمائے۔
دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بھی ریلیز ہوئی، جس کا نام تھا، ‘جوانی پھر نہیں آنی، پارٹ ٹو‘۔ یہ اسی نام کی 2015 کی ایک فلم کا تسلسل تھا، جس کے ہدایتکار مشہور پاکستانی اداکار ندیم تھے اور اس کے کئی مرکزی کردار تھے، جو مشہور اداکاروں ہمایوں سعید، فہد مصطفیٰ، احمد علی بٹ اور واسع چوہدری نے ادا کیے۔ یہ فلم باکس آفس پر اب تک تقریباً 67 کروڑ روپے کما چکی ہیں ۔پاکستان میں سال 2018 کی آخری بڑی فلم، جس نے بے پناہ مقبولیت پائی اور جو ملکی سیاسی حالات سے متعلق ممکنہ استعاروں کے باعث بھی بہت مشہور ہوئی، وہ فلم ‘ڈونکی کنگ‘ تھی۔ اس فلم کا ایک گیت ‘ڈونکی راجہ‘ تو عوام میں غیر معمولی حد تک مقبول ہو گیا۔ یہ ایک کارٹون کامیڈی فلم ہے، جس میں جانوروں کے ایک دیس کی کہانی میں مرکزی کرداروں کی آوازوں کے لیے مشہور فنکاروں جان ریمبو، اسماعیل تارہ، جاوید شیخ، غلام محی الدین اور حنا دلپذیر نے اپنی خدمات مہیا کیں۔

اس فلم کی شہرت کی وجہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے کی نسبت سے اس کے جاری کیے جانے کا وقت بھی تھا۔ پاکستان میں جولائی کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کا وزیر اعظم بننا ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا واقعہ اور کامیابی تھے۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے گدھے کی داستاں ہے، جو اپنی چالاکیوں اور مکاریوں سے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ ‘ڈونکی راجہ‘ کہلانے لگتا ہے۔ یہ فلم بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہوئی اور اسے بہت سے پاکستانی سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں نے بھی خاص طور پر دیکھا۔ اکتوبر میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے مصنف اور ہدایتکار عزیز جندانی ہیں اور اب تک یہ فلم تئیس کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کر چکی ہے۔ عشق و محبت کی روایتی داستانوں سے لے کر تحفظ ماحول، فضائی دفاع، حقیقی زندگی کی اصل کہانیوں اور تفریح کو استعاراتی سطح پر سیاست سے جوڑ دینے والی فلمیں اور ان کی بے تحاشا کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فلمی صنعت ماضی کے زوال کی گرد سے باہر نکل آئی ہے اور اسے دوبارہ اپنے عروج کا سورج چڑھتا نظر آ رہا ہے۔

دوسری جانب فلم کو جملہ فنون لطیفہ آرٹ ، ٹیکنالوجی اور تجارتی تقاضوں کا مجموعہ قراردیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے تفریح ،تعلیم ،معاشرتی ،سیاسی اور نظریاتی پہلوؤں اور مسائل کی موثر انداز سے عکاسی کی جاسکتی ہے۔
دنیا بھر میں فلمسازی میں ارتقاء کا سفر جاری ہے۔ فلم میکنگ کے حوالے سے جدید تصورات ،جدت اور نئی ٹیکنالوجی نے فلم کی تاریخ گویا بدل کر رکھ دی ہے۔کہاں ایک زمانے میں خطیر بجٹ کے ساتھ بڑے بڑے سیٹ لگائے جاتے تھے ،اور اب تھری ڈی اینیمیشن کی بدولت گویا سارا منظر نامہ ہی بدل گیا۔ہالی وڈ کی فلم avatar اس کی زندہ مثال ہے۔

لیکن ہم یہاں پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ اور کئی دہائیوں پر پھیلے اس کے سفر کا جائزہ لیں گے۔یہ سفر کامیابیوں ناکامیوں اور عروج و زوال کا ایک مجموعہ رہا ہے۔تقسیم ہند سے قبل برصغیر میں لاہور اور بمبئی فلمسازی کے بڑے مراکز کے ساتھ مکمل آب و تاب سے دمکتے رہے۔کئی ہندوستانی فنکاروں نے لاہور سے ہی فلم سفر کا آغاز کیا جن میں نامور بھارتی ولن پران اور کامیڈین اوم پرکاش شامل ہیں۔
اس دور میں کپور خاندان پشاور سے ابھر کر اپنا لوہا منوا رہا تھا۔پشاور کا ہی یوسف خان دلیپ کمار بن کر فلمی دنیا کا سب سے قد آدم اداکار بن کر ابھرا۔لاہور کے ہی گورنمنٹ کالج کا طالب علم دیو آنند اپنے دور کا مشہور رومانوی ہیرو کہلایا۔گویا برصغیر کی مشترکہ فلمی صنعت پاکستان اور بھارت کے قیام سے قبل ہی اپنی ساکھ بنا چکی تھی۔

کئی مسلم فنکار ،بمبئی میں اپنا مقام بنانے کیلئے اپنے نام کی قربانی بھی دے رہے تھے۔جن میں پاکستانی فنکار کمال بھی شامل ہیں جنہوں نے بمبئی میں اپنا نام بدل کر کمل کمار رکھ لیا تھا۔تقسیم سے قبل لاہور میں چھ سٹوڈیوز تھے۔جہاں ہندو فلسازوں کی اجارہ داری تھی۔جبکہ لاہور میں ڈسٹری بیوشن اداروں کی تعداد سولہ تھی جن میں مسلمانوں کے پاس صرف تین ادارے تھے۔
تقسیم کے ہنگاموں میں ایک سٹوڈیو نذرآتش بھی ہوگیا۔اور ہندو فلمساز اپنے سامان سمیت مجبوراًبھارت چلے گئے۔یوں پاکستان فلم انڈسٹری کی ابتدائی بنیادیں نہایت کمزور رہی۔اگرچہ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد 1948 میں رہلیز ہوئی مگر یہ اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہی۔
1947 سے 1951 تک فلمی صنعت بحران کا شکار رہی۔اس ابتدائی دور میں بھارتی فلمیں نمائش کیلئے پاکستانی سینما گھروں کی زینت بنی رہیں مگر یہ سہولت پاکستان فلموں کو بھارت میں میسر نہیں ہوسکی۔البتہ 1951 کے بعد ساٹھ کی دہائی پاکستانی فلمی صنعت کیلئے نہایت کامیاب ثابت ہوئی۔

ملکہ ترنم نور جہاں کی انڈسٹری میں موجودگی اور پرجوش شخصیت نے فلمی صنعت کو ایک پہچان دی۔فلم چن وے اور پھیرے کی کامیابیوں نے فلم بینوں کو سنیما کی جانب آنے پر مجبور کیا۔اس دہائی میں مکھڑا ،انتظار ،کوئل ،دو آنسو، سات لاکھ ،کرتار سنگھ ،وعدہ پھنے خان نے ہر جگہ میدان مار لیا اور یوں فلمی صنعت کے پاؤں جمنے لگے۔جبکہ عوام سنتوش کمار ،درپن ،کے رومانوی انداز جبکہ مظہر شاہ کی بڑھکوں اور اکمل کے پنجابی گھبرو کے روپ میں زوردار اداکاری کے گرویدہ ہوگئے۔ جبکہ صبیحہ خانم اور نیر سلطانہ کی اداکاری اور حسن نے بھی ہر طرف دھوم مچا دی۔
1965 کی جنگ کے بعد بھارتی فلموں پر بندش لگ گئی۔ یوں اس فیصلے کے بعد پاکستانی فلموں کو گویا خالی میدان مل گیا اور روز بروز پاکستانی فلموں کی نمائش ہونے لگی۔ بلاشبہ یہ فلمی صنعت کا سنہرا دور تھا۔
ساٹھ کی دہائی میں فلم ہیر رانجھا کو بھی ایک کلاسک کی حیثیت حاصل ہے۔ نور جہاں کی آواز ، اعجاز اور فردوس کی لازوال اداکاری نے وارث شاہ کی ہیر رانجھا کو امر کردیا۔ اسی طرح زرقا ،یہ امن ،سوسائٹی گرل ،تہذیب ،یکے والی اور دوستی نے بھی اپنے نقوش چھوڑے۔
1979 تک یہ وہ دور تھا جب ایک سال میں سو سے زائد فلمیں رہلیز ہونے لگیں۔سٹوڈیوز کے اندر شوٹنگز زوروشور سے کی جاتی اور سٹوڈیوز کے باہر عوام کا جم غفیرپنے محبوب فنکاروں کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے برقرار رہتا۔کراچی میں اردو فلمیں جبکہ لاہور اردو اور پنجابی فلموں کا مسکن بن گیا۔جبکہ محمد علی کی گرجدار آواز اورندیم اور چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی آمد نے فلمی صنعت میں دو عظیم رومانوی ہیروز سے روشناس کرایا۔

ہیرا اور پتھر سے فلمی کیئرئر کا آغاز کرنے والے وحید مراد اپنی مردانہ وجاہت ،اور گانوں کو پکچرائز کرانے کی مہارت کے حوالے سے ایک عالم کو اپنے سحر میں مبتلا کر گئے۔جبکہ فلم چکوری سے ندیم نے اپنا لوہا منوا لیا۔دوسری جانب اداکار شاہد ،غلام محی الدین جاوید شیخ،اقبال حسن اور اسلم پرویز بھی خود کو کامیاب اداکار کے طور پر جما نے میں کامیاب رہے تھے جبکہ فلمی اداکاراؤں میں شبنم ، بابرا شریف ،رانی ،عالیہ ،سنگیتا ،شمیم آر اور زیبانے بھی فلم بینوں سے اپنی اداکاری کی خوب داد وصول کی۔اس دور میں خاندانی موضوعات اور معاشرتی مسائل پر بہترین فلمیں سامنے آئیں۔لیکن جب 1979 میں ہدایتکار ناصر ادیب کی فلم مولا جٹ منظر عام پر آئی تو اس فلم نے پاکستانی فلم انڈسٹری کا دھارا ہی بدل دیا۔

مولا جٹ کے کردار میں سلطان راہی اور ولن نوری نت کے روپ میں مصطفیٰ قریشی نے گنڈاسہ کلچر لئے ایک ہیجان برپا کردیا۔یہ پنجابی فلموں کے عروج اور اردو سنیما کی تباہی کا آغاز تھا۔اگلے پندرہ سال ہماری فلم گنڈاسہ اور انجمن کے پنجاب کے کھیتوں میں ناچ گانے کے گرد گھومتی رہی۔فلم مولا جٹ سے نکلنے والے اثرات اتنے گہرے رہے کہ اس کردار سے متاثر ہوکر کئی سو فلمیں تخلیق کی گئیں۔ان میں یملا جٹ ،پتر جگے دا،وحشی جٹ ،وحشی گجر،رستم تے خان ،کالے چور وغیر شامل ہیں۔
مولا جٹ مجموعی طور پر ملک بھر میں 310 ہفتے چلی۔لیکن اس گنڈاسے اور برادری کلچر نے اردو فلموں کو شدید نقصان پہنچایا۔یوں سنجیدہ اور جدت پسند فلم بینوں کیلئے اس مار دھاڑ کیلئے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔

پنجابی فلموں کا یہ دور سلطان راہی کی موت کے ساتھ ہی 1996 میں اپنے اختتام کو پہنچا۔لیکن بلاشبہ اب فلم انڈسڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔اگرچہ شمیم آراء اور سید نور نے اس مشکل دور میں جیوا ،سنگم ،گھونگھٹ ،ہاتھی میرے ساتھی اور منڈا بگڑا جائے بنا کر بابر علی ،سعود ،ریمبو ،ریشم ،میرا اور ریما جیسے نئے چہروں سے انڈسٹری کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی کوشش کی۔لیکن جلد ہی چربہ سازی کی لعنت اور بھیڑ چال کی وجہ سے فلمیں ناکام ہونے لگی۔مجبوراً شان جیسے خوبرو ہیرو کو بھی سلطان راہی کے بدمعاش امیج کو کاپی کرنا پڑا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1996 کے بعد ملک بھر میں 1200 سنیما گھروں میں محض150 سنیما ہی حوادث زمانہ سے بچ سکے۔کئی پرانے سنیما پلازوں اور پارکنگ ایریا ز میں بدل گئے۔یہاں 1989 میں ایک تبدیلی آئی جب پاکستان فلمی صنعت کو لولی ووڈ کے نام سے پکارا جانے لگا۔یہ نام کراچی کے ایک صحافی سلیم ناصر نے تخلیق کیا۔اگرچہ 1998 سے 2000 تک نکاح ،چوڑیاں اور مجھے چاند چاہیے جیسی فلموں نے بھی سنیما کلچر کو ازسر نو بحال کرنے کی کوشش کی۔لیکن جلد ہی لولی ووڈ کے احیاء کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

ایک زمانے میں جس انڈسڑی میں سنتوش ،حبیب ،وحید مراد ،ندیم ،جیسے ہیروز کا طوطی بولتا رہا ،جہاں الیاس کاشمیری ،ہمایوں قریشی اور شفقت چیمہ جیسے ولن موجود تھے۔جہاں منور ظریف ،ننھا،علی اعجاز ،رنگیلا اور لہری جیسے معروف کامیڈین نے ایک جگ کوبہلائے رکھا۔جہاں آغا طالش ،علاؤ الدین جیسے کیریکٹر ایکٹر اپنی دم دار پرفارمنس سے سماں باندھ دیا کرتے۔ وہاں اب ویرانیوں کا راج تھا۔
ایور نیو سٹوڈیو، باری سٹوڈیو ،شاہ نور سٹوڈیو اجاڑ بیابان میں تبدیل ہوگئے۔ بوسیدہ مشینری ، فرسودہ فلمی تکنیکی سامان اور پوسٹ پروڈکشن کی سہولیات کے فقدان نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ اور یوں نگار خانے ویران ہوگئے۔اگرچہ اب 2007 سے شعیب منصور کی خدا کے لئے اور اس کے بعد بول نے ایک نئی امید پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔
پچھلے چھ سات بر سوں سے سالانہ بیس سے بائیس فلمیں ہی نمائش کیلئے پیش کی جارہی ہیں جن میں یقینی طور پر اضافہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔آج اب کمرشل فلموں کا دور ہے اور یقیناًپچھلے پانچ چھ سال سے فلم میکنگ میں جدت پسندی دکھائی دیتی ہے اورپروڈکشن میں بھی جدید اپروچ استعمال کی جارہی ہے۔لیکن تاحال ہمارے سامنے ایسے کہنہ مشق ڈاریکٹر نہیں جو ایس سلیمان ،شوکت رضوی ،نذر الاسلام،جاوید فاضل شباب کیرانونی اور ریاض شاہد جیسی گہرائی کے حامل ہوں۔

یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے فلم میکنگ کی باریکیوں کو سمجھنے میں مہارت حاصل کی تھی۔اس وقت ہمیں مو ضوعات کی کمی کا سامنا ہے۔فلمیں محض لوسٹوری یا دہشتگردی کے ایشو پر ہی بن رہی ہیں۔جبکہ فلم سازوں کو سسپنس ،تھرلر اور آرٹ فلموں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے ماضی میں جاگو ہوا سویرا ،نیلا پربت اور مٹی کے پتلے جیسی آرٹ فلمیں فلم نقادوں میں خاصی پذیرائی کا سبب بن چکی ہیں۔اس کے علاوہ علاقائی سنیما جیسے سندھی ،سرائیکی اور معیاری پشتو فلموں کے احیاء پر بھی کام ہونا چاہیے۔بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں آخری سندھی فلم ہمت تھی جو کہ 1997 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی۔ جبکہ ہمارے نئے فلم ڈائریکٹر حضرات جن کی غالب اکثریت ٹی وی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کو بھی فلم کو محض بارہ مصالحے کی چاٹ بنانے کے بجائے سکرپٹ اور سکرین پلے کی پیچیدہ نزاکتوں کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ فلم دیکھتے ہوئے ڈرامے یا ڈاکومنٹری کا گمان نہ ہو۔

ایک اور اہم مسئلہ خالصتاًفلمی اداکاروں کے فقدان کا بھی ہے۔ایسا دیکھا گیا ہے کہ اب پرانے فلمی اداکار ڈرا مہ آرٹسٹ جبکہ ڈرامہ آرٹسٹ ،فلمسٹار بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔نئے فلمی چہروں کا فقدان ہماری دوبارہ ابھرتی ہوئی نوزائیدہ فلمی صنعت کیلئے ہرگز اچھا شگون نہیں ہے۔
اداکارہ ریما کا کہنا بالکل بجا ہے کہ یہ المیہ ہے کہ 2000 کے بعد معمر رانا کی آمد کے بعد سے ہم کوئی نیا سپر سٹار تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ملک میں فلم اکیڈ یمیز کا قیام اور لولی ووڈ میں کارپوریٹ سرمایہ کاری کی جانب بھی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہیں۔تاہم یہ امر باعث طمانیت ہے کہ کراچی ،لاہور اور دیگر شہروں میں ملٹی پلیکسز کی تعمیر زورو شور سے جاری ہے۔اور پچھلے آٹھ نو سال سے ایک نیا سنیما کلچرکا احیاء ہوا ہے جو کہ ایک صحت مند رجحا ن کا عکاس ہے۔لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملٹی پلیکسز ناظرین کیلئے پاکستانی فلموں کے مقابلے میں انڈین اور انگلش فلمیں زیادہ کشش کا سبب بنتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ساٹھ ستر کی سنہری دہائیوں کی طرح اردو فلم ایک بار پھر اپنے فلم بینوں کی امیدوں پر کھرا اترے اور ان کو تفریح فراہم کرنے کی ہمالیائی ذ مہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل بنے۔

(652 بار دیکھا گیا)

تبصرے