Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آخری الفاظ

قومی نیوز اتوار 10 مارچ 2019
آخری الفاظ

سزائے موت کے کسی مجرم کو جب موت کی کوٹھڑی سے نکال کر پھانسی گھاٹ تک پہنچایا جاتا ہے اور جلاد اس کی گردن میں موت کا پھندا فٹ کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے‘ تب سزائے موت کے مجرم کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا اندازہ کیا جاسکتاہے کہ دنیا میں یوں تو کئی سیاسی لیڈرو اور حکمرانوں کو بھی سزائے موت دی گئی‘ مگر ہم اس وقت دنیا کے کچھ رسوائے زمانہ پیشہ ور مجرموں اور قاتلوں کا ذکر کریں گے‘ جن میں مرد وخواتین دونوں طرح کے مجرم شامل ہیں‘ سزائے موت کے قیدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پھانسی دینے سے پہلے اس سے اس کی آخری خواہش ضرور پوچھی جاتی ہے اور اگر ممکن ہوتو اسے ضرور پورا کیا جاتاہے کہ پھانسی دینے سے پہلے اس سے اس کی آخری خواہش ضرورپوچھی جاتی ہے اور اگر ممکن ہوتو اسے ضرورپورا کیا جاتا ہے

اس سے بھی زیادہ قابل ذکر اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ مجرم نے آخری الفاظ کیا کہے تھے‘ اس سلسلے میں ذیل میں ہم دنیا کے کچھ اہم مجرموں کا ذکر نے جارہے ہیں ‘ جن کے آخری الفاظ بڑے عجیب وغریب حیرت انگیز اور چونکا دینے والے تھے اور بعض کے الفاظ تو بعد خاص حوالہ بھی بن گئے‘ مثلاً گیری گلیمر ایک امریکی شہری تھا‘ جس نے 2 افراد کو قتل کیا‘ قتل کا کوئی ارادہ نہ تھا‘ صرف وہ ڈاکہ ڈالنے گیااور مزاحمت پر اس نے 2افراد کو قتل کردیا‘ عدالت نے تین دن میں اس مقدمہ کا فیصلہ سنادیا‘ گیری نے رحم کی اپیل بھی کوئی نہیں کی‘ اس کو 17 جنوری 1977 ء میں کرسی پر بٹھا کر سیدھی گولیاں ماردی گئیں

مگر فائرنگ کرنے والوں سے اس نے جو آخری الفاظ کہے وہ یہ تھے “JUST DO IT” آپ یہ جان کر حیران ہوں گے‘ ایک اسپورٹس ڈریس تیار کرنے والی کمپنی نے گیری کے ان الفاظ کو اسپورٹس برانڈ بنالیا‘ جو آج بھی دنیا میں مشہور ہے‘ اسی طرح کارپیٹر انامی رسوائے زمانہ مجرم کو 1928 ء میں 22 افراد کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی‘ جو خود یہ سزا پانے کیلئے بے چین دکھائی دیتا تھا‘ پھانسی کے وقت کارپیٹرا نے جلاد کو گندی گالی دیتے ہوئے کہا ’’جلدی کرو اتنی دیر میں اگر وہ جلادہوتا تو 10 افراد کو سولی پر چڑھا دیتا۔‘‘ اسی طرح پیٹر نامی مجرم جس نے 60 آدمیوں کو قتل کیا تھا‘

جس کے بارے میں کہا جاتاتھا کہ وہ اپنے شکار کو قتل کرکے اس کا خون پیا کرتا تھا‘ اس کا سر قلم کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار ا جانا تھا‘ اس سے جب اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو پیٹر نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ جب اس کا سر قلم کیا جاہا ہو تو وہ اپنے جسم سے خون نکلنے کی آواز سن سکے ‘ پیٹر کو 2 جولائی 1951 ء کو سزائے موت دی گئی‘یہ تو سزائے موت پانے والے بڑے مشہور اور رسوائے زمانہ قاتل تھے‘ جن کے آخری الفاظ کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا‘ اب کچھ اور سزائے موت پانے والے مجرموں کا ذکر ہم کرتے ہیں‘ امریکی کے شہری (AILLEN WUORNON) کو جب پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیاتو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جس طرح آزادی کا دن ہر سال آتا ہے ‘ اسی طرح میں بھی ایک دن موت کی قید سے آزاد ہوکر زندہ لوگوں میں ضرور آئوں گا۔جرمنی کی ایک قاتل خاتون BARBARA GRAHEN کو جب قتل کرنے کے جرم میں پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیاتو ا س کے چہرے پر کوئی ندامت یا شرمندگی نہیں تھی‘ بلکہ وہ پھانسی گھاٹ کی طرف یوں جارہی تھیں‘

جیسے وہ کوئی ایوارڈ وصول کرنے جارہی ہو‘ اس قاتل خاتون کے آخری الفاظ تھے’’اچھے لوگوں کی آخری سانس تک یقین ہوتا ہے کہ وہ حق پر تھے‘‘ ۔ فرانس کے ایک قاتل FRSKIEN CHILDER کو ایک شخص کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی جانے لگی تو اس نے بڑی ادا سے کہا ’’جلدی کریں جناب آپ کو موت دینابھی مشکل ہورہا ہے۔‘‘امریکہ کے شہری FRANESIS کو گلے میں جب پھانسی کا پھندا ڈالا گیاتو اس نے پھانسی دینے والے افراد سے کہا کہ ’’تم سب کتیا کے بچے ہو ‘ مگر میراپیار میری ماں تک پہنچا دینا۔ ‘‘ تھامس نامی مجرم کو 87 سالہ بوڑھی عورت کو قتل کرنے کے الزام میں 1995 ء میں سزائے موت سنائی گئی‘ جب اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئیتو اس نے کھانوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست جیل حکام کو تھما دی اور کہا ’’میں میڈیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ رو کر پھانسی چڑھنے سے بہتر ہے ‘ آدمی کھاپی کر ہنستا ہنستا پھانسی کا پھندا خود اپنے گلے میں ڈالے۔‘‘ جارج ایجنل نامی امریکی کو 1920 ء میں پولیس آفیسر کوقتل کرنے کے الزام میں الیکٹرک چیئرپر بٹھا کر سزائے موت دی گئی‘ پھانسی پر چڑھنے سے پہلے اس کے آخری الفاظ بڑے عجیب وغریب تھے‘’’میں نے پولیس اصلاحات کی طرف پہلا قدم اٹھایاتھا

مگر حکومت یہ چاہتی ہی نہیں کہ ہماری پولیس سیدھے راستے پر آئے ۔‘‘ ایک اور امریکی شہری جارج ایپل کو جب سزائے موت دی جانے لگی تو پھانسی دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا ’’جینٹل مین تم اپنے سامنے ابھی تھوڑی دیر بعد ایک بیکڈ ایپل(BAKED APPLE) دیکھ سکو گے‘ جارج ایجنل کو ایک گھنائونی سازش کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی‘ اس موقع پر جارج نے جو آخری الفاظ کہے ‘ اس نے سب کو حیران کردیا‘ جارج نے کہا کہ میری زندگی کے خوش کن لمحات ہیں‘ ‘ ۔ فرانسیسی شہری جیمز فونیچ کو ایک شخص کے قتل میں سزائے موت دی گئی‘ اس نے جو آخری الفاظ کہ وہ بڑی معنی خیز تھے‘ جیمز نے کہا کل کے اخبارات میں میری موت کے بار ے میں ‘ یہ ہیڈ لائن کیسی رہے گی۔ ’’فرینچ فرائز‘ امریکی شہری جان کو کرم کو جب قتل کے الزام میں تختہ دار پر لے جایا گیاتو اس نے آخری الفاظ جو ادا کئے وہ یہ تھے‘ ۔ ’’ان سب کا شکریہ جنہوں نے مجھے اس جرم کیلئے استعمال کیا۔ ‘‘ اطالوی شہری کار لائے‘ برائون کی گردن میں جب پھانسی کا پھندا ڈال جانے لگا تو اس نے جلاد اور پاس کھڑے دوسرے عملے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔’’مجھے پھانسی دینے والوں میں تمہارا انتظار کروں گا

کہ جب تم میرے پاس آئو گے۔‘‘یہ آخری الفاظ تو پیشہ ور رسوائے زمانہ قاتلوں کے تھے پھر کسی وقت ہم دنیا کے مشہور حکمرانوں اور سیاستدانوں کے آخری الفاظ بھی آپ کی خدمات میں پیش کریں گے ‘ جنہیں کسی قتل یا کسی ریاستی جرم ‘ سازش اور عوام پر ظلم کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی‘ ایک وقت ایسا تھا‘ جب مغربی دنیا سزائے موت کے خلاف تھی‘ مغربی ممالک اس سزا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہا کرتے تھے‘ مگر اب جس طرح سے دنیا میں جرم وسزا کے واقعات بڑھتے جارہے ہیںاور ایک انسان دوسرے انسان کا ایک طرح سے خون پی رہا ہے ایسے مغربی ممالک بھی سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ انسانی قاتلوںکو جب تک سزائے موت نہ دی جائے گی ‘ جرائم نہیں تھم سکیں گے‘ خود مشرف دور میں جب ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیاگیا تھااور امریکہ نے ایمل کانسی کو زہر کا ٹیکہ لگا کر موت کی نیند سلا دیاتھاکہنے کا مقصد یہ ہے کہ سزائے موت کے مخاطب بھی اب ا س کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں مگر اس وقت ہمارا موضوع سزائے موت کے قانونی اور اخلاقی تقاضوں کو دیکھنا نہیں بلکہ دنیا کے رسوائے زمانہ ان قاتل عورتوں اور مردوں کے وہ الفاظ آپ کو بتانے ہیں‘ جو انہوںنے پھانسی کے تختے پر ھتے وقت کہے تھے‘ ان الفاظ سے یہ ثابت ہوا کہ پھانسی کی سزاپانے والوں کو آخری الفاظ تک بھی موت کا کوئی خوف نہیں تھا۔

(398 بار دیکھا گیا)

تبصرے