Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 17 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

اہلکار بنے شکار

قومی نیوز جمعه 08 مارچ 2019
اہلکار بنے شکار

کراچی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہر طرف دہشت گردی کا راج تھا‘جہاں انسانی زندگیوں کی قدر ختم ہوگئی تھی‘ اس وقت دہشت گردوں کے ہاتھوں نہ جانے کتنی مائوں کے لال‘ سہاگنوں کے سہاگ اور بہنوں کا بھائی بھینٹ چڑھ گئے‘ اس وقت صورت حال کچھ ایسی تھی کہ گھروں سے روزگار کے لئے نکلنے والے شہریوں کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہ تھا کہ کسی وقت دہشت گردوں کے آتشیں اسلحہ سے چلنے والی گولیاں کس کے جسم کو چیرتی ہوئی نکل جائیں

اور اُس کی زندگی کا چراغ گُل کردیں‘ پھر اس تمام صورت حال کو یکسر ختم کرنے کے لئے پولیس و رینجرزاور دیگر لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں میدان عمل میں آئیں اور جان کی پروا کئے بغیر اپنے تدبر سے دہشت گردوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور دہشت گردی کو تقریباً ختم کردیا تھا‘ اس کے لئے پولیس و رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اپنی جان کی قربانیاں بھی پیش کرنا پڑیں، لیکن کراچی کے امن کی خاطر ہمارے جوانوں نے اس کی پروا نہیں کی اور ان کی اس کاوش سے بہت جلد شہر کراچی کے امن کی خاطر ہمارے جوانوں نے اس کی پروا نہیں کی اور اُن کی اس کاوش سے بہت جلد شہر کراچی میں سوگوار ماحول ختم ہوگیا‘ جو اس وقت کراچی شہر کا ایک خاصا بن چکا تھا

شہر میں اب بھی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے اکا دکاواقعات ہورہے ہیں۔ لیکن پولیس‘ رینجرز اور دیگر لاء انفورسمنٹ ایجنسی کی کاوشوں سے بہرحال کراچی شہر کی صورت حال کچھ بہتر ہوگئی ہے اور ان کوششوں میں پولیس و رینجرز کا کئی جگہ دہشت گردوں سے مقابلہ بھی ہوا جس میں کئی دہشت گرد مارے گئے اور جو مقابلہ نہیں کرپائے وہ روپوش ہوگئے جبکہ اس میں پولیس و رینجرز کے کچھ جوان شہید بھی ہوئے‘ اب چونکہ شہر میں مجموعی طور پر امن کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے

لیکن ابھی گزشتہ کچھ عرصے سے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات دوبارہ شروع ہوگئے جس میں عام لوگوں کے ساتھ سیاسی رہنما و کارکنان اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں‘ ان دنوں کراچی میں صرف 2 دنوں میں 4 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ اور ٹریفک حادثے میں شہید ہوئے جن 2 پولیس اہلکاروں نے پولیس کی وردی پہنی ہوئی تھی اور شہید ہونے والے یہ چاروں پولیس اہلکار واقعہ کے وقت آن ڈیوٹی تھے‘ عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دہشت گردی میں ملوث وہی عناصر ہیں جو گزشتہ کارروائیوں میں روپوش یا فرار ہوگئے تھے۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اس وقت اقبال مارکیٹ تھانہ کے تفتیشی شعبہ کے افسر اے ایس آئی رضوان امجد مغل ولد عبدالکریم مغل کو دہشت گردوں نے اورنگی ٹائون 13 نمبر پر پاک کالونی تھانہ انٹیلی جنس ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار محمد فاروق کو اولڈ گولیمار‘ سول لائن تھانہ انٹیلی جنس ڈیوٹی پر مامور جہانگیر خان کو ہجرت کالونی گلستان جوہر تھانہ کے اہلکار اعظم علی کو شاہراہ فیصل اور مزار قائد ٹریفک سیکشن کا اہلکار احتشام جو ٹریفک کنٹرول کرنے کی ڈیوٹی پر مامور تھا، کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی‘ یہ تمام شہید ہونے والے سندھ پولیس کے اہلکاریاتو واقعات کے وقت ڈیوٹی پر مامور تھے، یا اپنی ڈیوٹی ختم کرکے واپس گھروں کو جارہے تھے۔

مورخہ 4 مارچ 2019ء کو اورنگی ٹائون نمبر 13 سبحانی مسجد کے قریب بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں دہشت گردوں نے اورنگی ٹائون تھانہ اقبال مارکیٹ تفتیشی شعبہ کے اے ایس آئی رضوان امجد کی ٹارگٹ کلنگ کی اور موقع سے بآسانی فرار ہوگئے۔ واقعہ کے مطابق اورنگی ٹائون تھانے کے علاقے اورنگی نمبر 13 سبحانی مسجد کے قریب موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم مسلح ملزمان نے گوشت کی دکان پر کھڑے پولیس اہلکار اے ایس آئی 48 سالہ رضوان امجد ولد عبدالکریم مغل پر فائرنگ کردی جس کے باعث پولیس اہلکار موقع پر جاں بحق ہوگیا‘ جبکہ مسلح ملزمان موقع پر سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اہلکار کو فوری طور پر اورنگی ٹائون میں واقع قطر اسپتال منتقل کردیا گیا

جبکہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس رینجر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 2 خول اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سمیت دیگر شواہد اکٹھا کرکے واقعہ کی تفتیش شروع کردی۔اس موقع پر ایس ایس پی ویسٹ شوکت علی کھٹیان نے بتایا کہ شہید اے ایس آئی رضوان اقبال مارکیٹ تھانہ میں تعینات اور واقعہ سے قبل شہید پولیس اہلکار اقبال مارکیٹ تھانے سے روانگی کرواکر کسی کام کے سلسلے میں اورنگی ٹائون تھانے جارہا تھا کہ راستے میں گوشت کی دکان پر رُک گیا تھا جہاں موٹر سائیکل پر 2 مسلح ملزمان آئے اور انہوں نے اے ایس آئی رضوان پر فائرنگ کی اور موقع سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ پولیس جائے وقوع سے اہم شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں اور شواہد کی روشنی میں ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش شروع کردی ہے جبکہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے اورنگی میں فائرنگ کے واقعہ میں پولیس اہلکار جاں بحق ہونے کے حوالے سے ایس ایس پی ویسٹ سے رپورٹ فی الفور طلب کرلی جبکہ عباسی اسپتال میں پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد شہید پولیس افسر کی نعش برائے تدفین ان کے ورثاء کے حوالے کردی تاہم اورنگی ٹائون سیکٹر 13 میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے شہید اے ایس آئی رضوان امجد ولد عبدالکریم کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن سائوتھ میں ادا کی گئی۔ شہید اے ایس آئی تھانہ اقبال مارکیٹ ضلع غربی میں تعینات جس کی تدفین بلدیہ ٹائون سیکٹر 7 کے قبرستان میں کی گئی۔ پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 51/2019 مقتول رضوان کے بڑے بھائی تنویر مغل کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس موقع پر مدعی تنویر مغل نے بتایا کہ میں محکمہ پولیس میں بحیثیت پولیس انسپکٹر نیپئر تھانے میں تعینات ہوں‘ میرا چھوٹا بھائی شہید رضوان احمد ولد عبدالکریم مغل عمر 48 سال اپنے اہل و عیال کے ساتھ سعید آباد بلدیہ ٹائون میں رہائش پذیر تھا‘ واقعہ والے روز جب میں کورٹ میں تھا‘ مجھے موبائل فون پر اطلاع ملی کہ میرے بھائی اے ایس آئی رضوان احمد کو گولیاں لگی ہیں جس کو اورنگی ٹائون میں واقع سندھ گورنمنٹ لے جایا گیا ہے‘ اس اطلاع پر میں اسپتال پہنچا تو میرے بھائی اے ایس آئی رضوان احمد کی نعش مردہ خانے میں موجود پائی گئی جس کے چہرے اور گردن پر 2 گولیاں لگی جو چہرے سے آر پار ہوگئی تھیں‘ مقتول نے سرکاری پولیس وردی پہنی ہوئی تھی‘ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ میرا بھائی مقتول رضوان احمد پولیس وردی میں سرکاری کام کے سلسلے میں جانچ کرنے اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر سیکٹر نمبر 13 نزد سبحانی مسجد بالمقابل فہیم بک ڈپو اورنگی ٹائون پہنچ کر معلومات کررہا تھا کہ بوقت تقریباً11 بجے دن نامعلوم موٹر سائیکل سوار عقب سے آئے اور میرے بھائی رضوان احمد کو سرکاری پولیس وردی میں دیکھ کر دہشت گردی کی غرض سے ٹارگٹ کرکے آتشیں اسلحہ سے فائر کرکے قتل کردیا اور اس کا سرکاری پستول 9MM بھی چھین کر اوراپنی موٹر سائیکل میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔

میرا دعویٰ ہے کہ پولیس وردی میں پولیس والا جانتے ہوئے دہشت گردی کی غرض سے قتل کرکے اُس کا سرکاری پستول بھی لے جانے کا ہے۔ اورنگی ٹائون میں اے ایس آئی رضوان کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی گارڈن سائوتھ زون میں درج کیا گیا جبکہ انسداد دہشت گردی میں قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ تفتیش کے دوران ایک پولیس افسر کے مطابق پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ مقتول اقبال مارکیٹ تھانے میں تعینات تھا اور ڈیوٹی پر آنے کے بعد مقتول اس مقام پر کیوں گیا جبکہ وہ حدود اورنگی ٹائون تھانے کی ہے اور اقبال مارکیٹ تھانے سے کافی فاصلے پر ہے‘ کیا ڈیوٹی پر آنے کے بعد اچانک اس مقام پر پہنچنے کے لئے کسی کی کال آئی تھی یا مقتول اپنے ذاتی کام سے یہاں پہنچا تھا۔

اس ضمن میں پولیس باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ویسٹ زون پولیس نے گوشت کی دکان کے مالک حامد عرف کاکو کو حراست میں لے کر بیانات قلمبند کرلئے۔ مقتول رضوان‘ حامد عرف کاکو قریبی دوست ہیں۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹارگٹ کلر مقتول رضوان پستول اور موبائل فون ہمراہ لے گئے ہیں جبکہ حامد عرف کاکو کی مدد سے ملزمان کا خاکہ تیار کرلیا گیا ہے جبکہ رضوان کے موبائل فون کے ڈیٹا کی مدد سے ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے۔

پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول رضوان کو واقعہ سے قبل کسی نے کال کرکے گوشت کی دکان پر بلایا تھا۔ حامد عرف کاکو کا کہنا ہے کہ رضوان میرا پرانا دوست ہے‘ عرصہ دراز سے رضوان میری دکان پربیٹھتا تھا اور واقعہ والے روز بھی حسب معمول رضوان آیا تھا اور اس کی ٹارگٹ کلنگ ہوگئی۔ مزید یہ کہ رضوان کے قریبی دوست شہزاد سے بھی معلومات لی جارہی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد ایک ہفتے سے دبئی گیا ہوا ہے اور اس کی واپسی پر اس کا بیان بھی لیا جائے گا۔ جبکہ شہید پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ میں تحقیقاتی اداروں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کردیا۔ انٹیلی جنس اداروں‘ پولیس‘ متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اور شہید پولیس افسر اے ایس آئی رضوان مغل کے ماضی کے حوالے سے جائزہ لیا اور اب تک کی تفتیش کی روشنی میں تحقیقاتی اداروں کو شبہ ہے کہ رضوان کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کارندے عرفان اور انعام ملوث ہوسکتے ہیں اس لئے کہ 23 فروری 2014ء کو پیرآباد میں پولیس مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ایک کارندہ ایاز خان ہلاک اور اس کے 2 ساتھی اسحاق اور شاہد زخمی ہوگئے تھے جس کا مقدمہ 821/14 درج تھا‘ 3 ملزمان فرار ہوگئے تھے جبکہ واحد فضل کو اورنگی ٹائون پولیس نے گرفتار کرلیا تھا جس کا مقدمہ 45/14 اور 46/14 اورنگی ٹائون تھانے میں درج ہے جس کا تفتیشی افسر رضوان مغل تھا

جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 دسمبر 2012ء کو بنارس پل پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے اے ایس آئی محسن شہید اور رضوان مغل زخمی ہوگیا تھا اور اس مقدمے کا مدعی بھی تھا۔ مقتول رضوان کے بھائی تنویر کے مطابق شہید پولیس افسر رضوان 4 بچوں کا باپ اور بلدیہ 24 کی مارکیٹ میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھا اور ہمیں اپنے پولیس پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے کہ وہ بہت جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لاکر شہید کے لواحقین کو انصاف دلوائیں گے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کا دوسرا واقعہ سول لائن تھانے کی حدود ہجرت کالونی میں کومبنگ آپریشن کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار جہانگیر خان ولد سلیم خان شہید ہوگیا اس ضمن میں پولیس نے بتایا کہ جرائم پیشہ ملزمان کی فائرنگ سے شہید پولیس اہلکار سول لائن تھانے میں انٹیلی جنس شعبے سے تعلق رکھتا تھا تاہم شہید پولیس اہلکار جہانگیر خان کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن میں ادا کی گئی شہید پولیس اہلکار کو بعد نماز جنازہ گذری قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سول لائن تھانے کی حدود ہجرت کالونی میں کومبنگ آپریشن کے دوران فائرنگ سے شہید پولیس اہلکار جہانگیر خان ولد سلیم خان کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 27/2019 بجرم دفعات قتل‘ اقدام قتل‘ پولیس مقابلے اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔مقدمہ2 صورت شناس ملزمان کے خلاف درج کیا گیا جبکہ شہید پولیس اہلکار کے والد سلیم نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ ان کے 9 بچے ہیں اور شہید ہونے والا بیٹا سب سے بڑا اور گھر کا واحد کفیل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز کے بعد ان کی بیٹی دبئی سے کراچی آنے والی ہے اور ہم نے سوچا تھا کہ بیٹی کے آنے کے بعد بیٹے جہانگیر کی شادی کی بات آگے بڑھانی تھی‘ جہانگیر کے والد نے کہا کہ پولیس بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے اور شہید بیٹے کی جگہ دوسرے بیٹے کو محکمہ پولیس میں ملازمت دی جائے۔

سولجر بازار تھانے کی حدود گارڈن ایسٹ نشتر روڈ ابو عبیدہ مسجد کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے‘ پولیس اہلکار 22 سالہ محمد احتشام ولد محمد عرفان ہلاک ہوگیا‘ مقتول مزار قائد ٹریفک سیکشن میں تعینات اور آبائی تعلق کھپرو سے تھا‘ سول اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ مقتول کو 30 بور پستول سے 4 گولیاں ماری گئیں‘ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس جاوید مہرکا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت احتشام یونیفارم میں اپنی موٹر سائیکل پر مزار قائد پولیس چوکی ڈیوٹی پر جارہا تھا‘ مسلح ملزمان نے اس پر عقب سے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے‘ جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 2 خول ملے ہیں‘ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ لگتا ہے‘ شہید کانسٹیبل احتشام احمد کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن میں ادا کی گئی

جس میں آئی جی سندھ سید کلیم امام کے علاوہ ڈی آئی جی ایسٹ ‘ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی ‘ تمام زونل ایس ایس پیز ٹریفک ‘ پولیس افسران ‘ جوانوں سمیت شہید کے اہل خانہ ‘ دوست احباب اور اہلیان علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی‘ بعد ازاں شہید اہلکار کو حیدرآباد میں سپردخاک کردیا گیا‘ ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ سولجر بازار پولیس نے بجرم دفعہ 34/302 درج کرلیا‘ پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 2 خول ملے تھے‘ جو پولیس نے تجزیے کے لیے فارنسک لیبارٹری بھجوادیے تھے‘ گزشتہ روز پولیس حکام کو فارنسک رپورٹ موصول ہوئی

جس میں بتایا گیاہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل میں استعما ل کیاجانے والا ہتھیار اس سے قبل 7 جولائی 2018 ء کو کورنگی کے علاقے کورنگی ڈیڑھ سیکٹر 32 اے ظفر ہارڈویئر کی دکان میں ڈکیتی کی واردات میں استعمال ہوچکا ہے اور واردات کے دوران موٹر سائیکل سوار 3 ملزمان نے مزاحمت کرنے پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی‘ جس کے نتیجے میں 3 افراد 30 سالہ نصر اللہ اس کا چھوٹا بھائی 25 سالہ ظفر اللہ زخمی ‘ جبکہ 26 سالہ مبین جاںبحق ہوگیاتھا‘ فارنسک رپورٹ کے بعد تفتیشی ٹیموں نے کورنگی کا رخ کرلیا ہے‘ کورنگی فائرنگ کیس سے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کردی

اس دوران سولجر بازار پولیس نے ٹریفک پولیس اہلکار احتشام کے قتل میں ملوث خاتون سمیت ملزمان کو گرفتارکرلیا‘ پولیس ذرائع گرفتار ملزمہ مقتول کی رشتے دار ہے ‘واقعہ کسی لڑکی کاتنازع ہے ‘سولجر بازار تھانے جانے پر ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ خاتون سمیت چاروں ملزمان کو ایس ایچ او خود تھانے لے کر آئے تھے اور ہدایات دی تھیں کہ ملزمان سے کسی کو ملنے نہ دیاجائے‘ اسی طرح شارع فیصل تھانے کی حدود راشد منہاس روڈ پر الہٰ دین پارک کے قریب گاڑی کی ٹکر سے کانسٹیبل ا عظم جاں بحق ہوا متوفی پولیس کانسٹیبل گلستان جوہر تھانے میں تعینات تھا‘ متوفی کی ایک سائیڈ کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں‘ جبکہ سریا جسم کے کسی اور حصے پر چوٹ وغیر ہ کے نشانات نہیں ہیں‘ متوفی کا آبائی تعلق اندرو ن سندھ نوشہرو فیروز سے تھا‘ متوفی کی نعش پولیس کارروائی کے بعد آبائی علاقے روانہ کردی گئی

جبکہ پاک کالونی پرانا گولیمار میں منشیات فروشوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے دوران علاج دم توڑ دیا‘ پاک کالونی کے علاقے پرانا گولیمار میں فائرنگ سے پولیس اہلکار فاروق ہلاک ہوگیا ‘ ایس ایس پی ویسٹ شوکت کھٹیان نے بتایا کہ پولیس اہلکار فاروق انٹیلی جنس ڈیوٹی پر مامور تھااور منشیات فروشوںسے متعلق ملنے خفیہ اطلاع پر پاک کالونی گھاس والی گلی میں جیسے ہی ساتھی اہلکار معشوق کے ہمراہ موٹر سائیکل پر پہنچا تو منشیات فروشوں نے فائرنگ کردی ‘جس کے نتیجے میں ایک گولی گردن کے قریب لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا‘ زخمی اہلکار فاروق کو اسپتال پہنچایا گیا‘ جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘ شہید کانسٹیبل محمد فاروق کی نماز جنازہ گزشتہ روز پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن سائوتھ میں ادا کردی گئی

بعد ازاں مقتول پولیس اہلکار کو لیاقت آباد سی ون ایریا میں واقع قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے بعد سپرد خاک کردیا‘ ادھر پاک کالونی پولیس نے اہلکار کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 27/2019 بجرم دفعہ 353,302 اور 324 اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت 10 نامزد ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیاہے‘ ایس ایچ او پاک کالونی حق نواز پھلپوٹو نے بتایا کہ مقتول پولیس اہلکار کے سوگواران میں 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیںاو رمقتول کے قتل کا مقدمہ لیاری گینگ اور منشیات فروش معراج ‘ شیراز اور ان کے کارندوں کے خلاف کیا گیاہے۔

(370 بار دیکھا گیا)

تبصرے