Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مودی کلین بولڈ

قومی نیوز اتوار 03 مارچ 2019
مودی کلین بولڈ

لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے باوجود پاکستان کی جانب سے امن اور مذاکرات کے راستے کا چنائو بھارت پر ایک بڑی اخلاقی فتح ہے۔ وزیر اعظم عمران خان مسلسل اس موقف اور سوچ پرقائم ہیں کہ موجودہ عسکری صلاحیتوں کے ساتھ جنگ سوائے وسیع پیمانے کی تباہی کے کچھ نہیں دے سکتی۔ یہ حقیقت پسندانہ نظریہ پاکستان میں صرف اہل سیاست کا نہیں دفاعی اداروں کا بھی موقف ہے جیسا کہ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اگلے روز ایک میڈیا بریفنگ میں کہاکہ جنگ میں صرف انسانیت ہارتی ہے۔
مگرا من کی یہ تمنا ہر گز کمزوری نہیں پاک فضائیہ کی حالیہ کارروائیوں نے عملی طور پر یہ ثابت بھی کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی ہر موقع پر ہم بھارت پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ باوجود تمام تر دفاعی صلاحیتوں کے جارحیت پاکستان کا انتخاب نہیں لیکن دفاع پر سمجھوتے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ پچھلے دو ہفتوں کے واقعات پر غور کریں تو ظاہری اور درپردہ طور پر پاکستان کی جانب سے بھارت کو امن کے پے در پے پیغام ارسال کیے گئے مگر ذہنی طور پرشکست خوردہ نریندر مودی امن کی زبان سمجھنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے اور مسلسل چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرچکا ہے اور جو ضروری ہے کیا جا رہا ہے جیسا کہ اگلے روز مار گرائے گئے بھارتی جنگی طیارے کے زیر حراست پائلٹ کے تاثرات سے دنیا واقف اور آگاہ ہو چکی ہے۔
پاکستان کے خلاف جنگی مشن میں شامل دشمن ملک کے اس فوجی افسر کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے حراست میں لیے جانے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے یہ اقدامات جذبہ خیر سگالی کے زیر اثر ہیں اور پاکستان کی اس سوچ کے گواہ کہ ہم کشیدگی کو طول دینا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے اقدامات یک طرفہ طور پر اور لامحدود مدت کے لیے جاری نہیں رکھے جا سکتے۔ یہ موقع ہے کہ عالمی برادری موثر طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھے کیونکہ پاکستان تحمل کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔
ان حالات میں بھارتی افواج کی جانب سے چھوٹی سی حماقت بھی خطرناک صورتحال پید اکرسکتی ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان حوصلہ افزا ہے جس میں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ مگر اصل حوصلہ افزا بات تو امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے مابین ہنوئی میں ہونے والی ملاقات ہے نریندر مودی جیسے پٹے ہوئے متعصب ذہنوں کے لیے جس میں بڑی نشانیاں ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں مگر بات چیت اور افہام و تفہیم۔ بھارتی عوام کی یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ صرف انتخابی مقبولیت کے حصول کی خاطر ان کا وزیر اعظم ایک جنگ لڑنے کا خواہش مند ہے اور جنگ بھی ایک جوہری قوت کے ساتھ۔ ایسی جنگ کے تباہ کن ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسی کوتاہ بین قیادت نہ ملے گی جو انتخابی شکست سے گھبرا کر ملک ہی کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے پر تل جائے۔
وزیر اعظم عمران خان بجا کہتے ہیں کہ کیلکولیشن کی غلطی ہے۔ نریندر مودی کا حساب کمزور ہے اور کوئی انہیں سمجھانے والا بھی نہیں کہ وہ جس راستے کا انتخاب کر رہے ہیں اس کی منزل ایک عظیم تباہی کے سوا کچھ نہیں۔بھارت کو اپنی چھیڑی ہوئی اس جنگ میں اب تک منہ کی کھانا پڑی ہے۔ وہ ہار چکا ہے اور سوائے اس کے بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں کہ امن کی طرف آئے اور بات چیت کے دروازہ کھولے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکمت عملی کی کن الفاظ میں تعریف کی جائے کہ اس بحرانی دو ہفتوں میں انہوں نے دو ملکوں کو نہیں دنیا کے اس پورے خطے کو ناقابل تصور انجام سے بچا نے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس صورتحال میں جبکہ دشمن جنگی طیاروں نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بھارت کی جانب سے بے بنیاد افواہوں کے ذریعے پاکستان کی ہتک کا ارتکاب کیا گیا وزیر اعظم پاکستان نے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا اور نپے تلے الفاظ اور انداز میں بھارتی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جنگ کا راستہ دونوں کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے بھارتی قیادت سے مخاطب ہوکر اگلے روز کہا تھا کہ دانش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مگر یوں لگتا ہے کہ جنگی خبط کا شکار بھارتی قیادت نے ابھی تک حالات سے کچھ نہیں سیکھا گزشتہ شام تینوں بھارتی افواج کے اعلی عہدیداروں کی پریس بریفنگ کے بعد کشیدگی کے طول پکڑنے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک بار پھر بے پر کی اڑائی ہیں اور وہ کوئی ٹھوس ثبوت بھی میڈیا میں پیش نہیں کر سکے۔ ان حالات میں جب پاکستان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کی ہر ممکنہ صورت پیش کی جا چکی ہے اور خطے کے ممالک اور عالمی قوتوں کی جانب سے بھی ضبط و تحمل کی تاکید کی جا رہی ہے۔ فطری طور پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارتی قیادت ہوش سے کام لیتے ہوئے کشیدگی سے پیچھے ہٹ جائے گی لیکن بھارتی افواج کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس امن کے امکانات کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ قیام امن کی خاطر پاکستان جو کچھ پیش کر چکا ہے اس سے بڑھ کر کچھ بھی ممکن نہیں مگر بھارت کا جواب صرف پاکستان کے لیے نہیں دنیا کی تمام مہذب اقوام کے لیے مایوسی اور خطرے کا موجب ہے۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کی جانب سے بھارت پر کڑا دباو ہی جنوبی ایشیا کو ایک خوفناک جنگ کے کنارے سے ہٹا سکتا ہے۔
بہرحال حکومتِ پاکستان اور پاک فوج نے اب تک اس سارے معاملے کو بڑی احتیاط کے ساتھ نہایت کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی قیادت بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بار بار امن کی بات کی دو ہفتوں میں دو بار بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی یہ کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت پر صرف رد عمل ظاہر کیا ہے کوئی جارحانہ پیش رفت نہیں کی اور سب سے بڑھ کر گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا جو عندیہ دیا ہے اس نے عالمی برادری کو یہ گہرا تاثر دیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے امن اور جذبہ خیر سگالی کے تحت گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے اعلان کی بھارت سمیت دنیا بھر میں پذیرائی کی جارہی ہے۔ اس اقدام پر دشمن بھی پاکستانی وزیر اعظم کی تعریف کررہے ہیں اور ان کا کہنا کہ عمران خان کی اننگز کپتان کی اننگز ہے اور پاکستان نے اخلاقی جنگ جیت لی ہے، بھارتی پائلٹ کو اآج واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا،اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی صحافی برکھا دت نے کہا کہ میرے خیال میںعمران خان کی طرف سے ابھی نندن کی رہائی کے خیرسگالی اقدام کی پزیرائی ہونی چاہیے،، کشیدگی کو کم کرنے کے دروازے کھل چکے ہیں، یہ وقت ان گونگے اور غیر ضروری خوشیوں کو غارت کرنے والے اینکرز کیلئے نہیں، صحافی نی دی ورما نے کہا کہ یہ عمران خان کی جانب سے فل ٹاس نو بال پر چھکا لگاکر میچ جیتنا ہوا ،وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ جمائمہ نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کو سراہتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تالیاں بجاتی ایموجی شیئر کی۔
بھارت کے سابق کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو نے وزیر اعظم عمران خان کے اعلان پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہر بہترین عمل لوگوں کے دلوں میں اپنا راستہ خود بناتا ہے،عمران خان کا خیرسگالی کا اقدام ایک ارب لوگوں کی خوشی کا سبب بنا، میں (پائلٹ کے) والدین اور چاہنے والوںکی خوشی محسوس کرسکتا ہوں۔ بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی کے مطابق عمران خان کے اعلان کے بعد بھارت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ملک بھر جشن منایا جارہا ہے ، پائلٹ کے والد نے اعلان کے بعد لوگوں کی حمایت اور نیک خواہشات پر انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خدا کی نعمتوں کا شکر ہے کہ ابھی زندہ ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر کرنے کا موقع ہے،ونگ کمانڈر کو واپس سپرد کرنے کا فیصلہ عظیم خیر سگالی کا اقدام ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آ یا جب پاکستان اس کشیدہ صورت حال کومزید کشیدہ بناسکتا تھا، میری نظر میں اقدام مفاہمت کی علامت ہے ہماری قیادت کو مثبت جواب دینا چاہیے، عمران خان نے حقیقی سیاستدان کا کردار ادا کیا ہے۔۔ کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے گرفتار پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جنگ کے باد ل چھٹ جائیں گے اور مسئلہ کشمیر پر امن حل کی جانب بڑھے گا۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی پر انہیں خوشی ہے ،میں نے پہلے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا یہ قدم خیر سگالی کی طرف جائے اور مجھے امید ہے کہ یہ خیر سگالی بعد میں بھی قائم رہے گی میں خود ابھے نندن کو لینے جاؤں گا۔ ۔جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کگلمین نے کہا گرفتار بھارتی پائلٹ کی جلد رہائی کا اعلان کرکے عمران خان نے کشیدگی کم کرنے کی طرف راہ ہموار بنادی۔
برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن جارج گیلووے کاکہنا ہے کہ عمران خان نے مثالی طریقے سے بھارت کے ساتھ موجودہ بحران کو ہنڈل کیا ، یہ کپتان کی اننگز ہے۔بھارتی ٹی وی اینکر راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ بھارت میں چاہے ہمیں پسند آ ئے یا نہیں لیکن اخلاقی اعتبار سے اس وقت جیت عمران خان کی ہے۔ بھارتی صحافی ادتیہ مینن نے کہا کہ پاکستانی اقدام کا سہرا بھارت میں کسی کے بھی سر نہیں جاتا ۔معروف صحافی رفعت جاوید نے ٹویٹ کیا عمران خان نے بین الاقوامی سفارت کاری میں مودی کو مات دے دی، مودی ووٹ لینے میں مصروف ہیں لہٰذا وہ دہشت گردی کے متعلق اپنا کیس مضبوط نہیں بنا سکتے۔ دریں اثنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، ایسا وقت جب بیرونی خطرات کا سامنا ہے پوری قوم متحدہ ہے، وزیراعظم بننے کے بعد بھارت کو امن کا پیغام بھیجا لیکن اچھا جواب نہیں آیا، یا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت میں الیکشن کی وجہ سے جنگی ماحول پیدا کر رکھا ہے، ہمیں خدشہ تھا کہ بھارت میں انتخابات سے پہلے کوئی نہ کوئی واقعہ ہوگا جسے الیکشن میں استعمال کیا جائے گا ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی ملک اجازت نہیں دیتا کہ اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا جائے، میں نے کل شام کوشش کی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فون کروں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشیدگی نہ بھارت کے فائدے میں ہے نہ پاکستان کے، ہم دنیا سے بات کر رہے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے کردار ادا کرے تاہم ہماری ان کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس ملک کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے، نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کسی کو انتہا تک نہ لیکر جائیں، کل رات کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملے کا خطرہ تھا تاہم وہ خطرہ بھی ٹل گیا لہذا ہندوستان کو کہہ رہا ہوں کہ اس کشیدگی کو آگے نہ لے کر جائیں ورنہ پھر پاکستان جواب دینے پر مجبور ہوگا، ہمیں یقین ہے کہ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے گی۔ وزیراعظم نے گرفتار کئے گئے بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ کو جذبہ امن کے تحت رہا کر رہے ہیں۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاربھارتی پائلٹ ابھے نندن کو واہگہ بارڈرپر بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا ۔ اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں تعینات بھارتی ایئر اتاشی بھی اپنے پائلٹ کے ہمراہ بھارت جائیں گے۔
پچھلے کچھ دنوں سے یوں لگ رہا ہے جیسے بھارتی میڈیا میڈیا نہیں،بھارتی ایجنسی راکا کوئی پروپیگنڈا سینٹرہے،جہاں صرف جھوٹ کا راگ الاپا جاسکتا ہے جہاں صرف حقائق توڑ موڑ کر پیش کئے جا سکتے ہیں،اسے شاید کسی پرانے انگریز کا یہ جملہ بہت پسند آگیا ہے جھوٹ اس قدر بولو کہ سچ بن جائے مگر ذرائع ابلاغ کی ہمہ گیری میں جھوٹ کا یہ فلسفہ آج کے زمانے میں نہیں چل سکتا۔کیونکہ کان ارد گرد کی آوازیں بھی سنتے ہیں،اب توبھارتی عوام بھی اپنے میڈیا پراعتبار نہیں کررہے،وہ دنیا بھر کے میڈیا کو سنتے ہیں اور سچائی تلاش کرلیتے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے ایک پائلٹ کی گرفتاری کے باوجود بھارتی میڈیا اپنے طیاروں کی تباہی تسلیم نہیں کر رہا۔مجھے بھارتی میڈیا میں کام کرنے والوں پر ترس آرہا ہے،بیچاروں کو جھوٹ بولتے ہوئے کتنی تکلیف ہوتی ہو گی،کیا کریں بیچارے اپنی اسٹیبلشمنٹ کے غلام ہیں، انہیں سکھایا گیا ہے کہ غلاموں کی گفتگو آقائوں کے حکم کے مطابق ہوا کرتی ہے۔
بھارتی میڈیاکے مقابلے میں پاکستانی میڈیا آزاد ہے۔ یہاں ہر بات کی جارہی ہے،ہر نقطہ نظر سامنے آرہا ہے اور بڑے شائستہ اندازمیں،حقائق کو کوئی جھٹلا نہیں رہا،کوئی ہیجان نہیں پیدا کررہا، ہاں پاکستانی میڈیا جھوٹ سے پردہ ضرور اٹھارہا ہے کہ یہی اس کا فرض ہے۔چند دن پہلے بھارت نے 300پاکستانیوں کو شہید کرنے کا دعوی کیاتھا۔دنیا نے دعوی کی دلیل مانگی تھی مگر کوئی تصویر، کوئی ویڈیو، کوئی ثبوت،کچھ بھی بھارت فراہم نہ کر سکا پاکستانی میڈیا سچائی کو جاننے کیلئے موقع پر پہنچا، وہاں حامد میر کو صرف ایک لاش دکھائی دی،یہ وہ واحد پاکستانی مقتول تھا جو انڈین ایئر فورس کے ہاتھوں لقمہ اجل بنا تھا،یہ بیچارہ ایک کوا تھا،کالا کوا،انڈین میڈیا کے جھوٹ کی طرح سفید ہوتا تو بھی کوئی بات تھی۔ پاکستان نے دو بھارتی طیارے گرائے، ثبوت پیش کر دئیے، گرفتار پائلٹ میڈیا پر بھی دکھا دیا اس کے انٹرویو بھی چلا دئیے،مگر حیرت انگیز طور پر یہ مناظرکسی بھارتی جرنلسٹ کو دکھائی نہیں دیا۔اتفاق سے اس وقت تمام بھارتی میڈیا نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ بھارتی میڈیا نے بار بار جنگ کی دھمکی دی، ہم نے بار بار سمجھایا کہ جنگ اچھی چیز نہیں،اور ہم مسلمان جنگ کے قائل ہی نہیں،جنگ نہیں ہم جہاد کے قائل ہیں۔جہاد کوئی اورچیز ہے،جنگ کچھ اور۔جنگ توپاگل پن کا نام ہے،انتقام کو کہتے ہیں، جس میں ہر بات جائز سمجھی جاتی ہے،اس کے برعکس جہاد ایثار اور ظلم کے خاتمے کیلئے کیا جاتا ہے،اس میں عام انسان تو کجا کسی درخت کوبھی زخمی کرنے کی اجازت نہیں، اقبال نے جہاد کے متعلق کہا تھا ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اسی نظم میں یہ شعر بھی ہے
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
یہی وہ لذتِ آشنائی ہے جس نے پاکستانیوں کو جنگ سے خوف زدہ نہیں ہونے دیا،دشمن کے سارے وار ناکام ہوئے،بھارت شاید محدود جنگ سیمتعلق سوچتا ہے، جنگ تو جنگ ہوتی ہے۔جب شروع ہوجائے تو کسی کے اختیار میں نہیں رہتی، بڑھتی چلی جاتی ہے۔بھارت کا خیال ہے کہ اگر بڑھ بھی گئی تو یہ ایک روایتی جنگ ہو گی،مگر ضروری تو نہیں کہ جنگ،روایتی جنگ اور محدود رہے خدانخواستہ اگر ایٹمی جنگ میں بدل گئی تو پھر کیا ہوگا،یہ بھارت کے سوچنے کی بات ہے،کیونکہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے ایٹمی جنگ میں اگر (خدانخواستہ) ختم بھی ہوگیا تو دنیا میں بے شمار مسلمان ملک موجود ہیں،لیکن ہندو مملکت دنیا میں صرف ایک بھارت ہے اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو پھردنیا میں کوئی ہندو باقی نہیں رہے گا، یہ کتنی خوفناک باتیں ہیں،تصور سے بھی خوف آرہا ہے مگرنریندر مودی ہیں کہ چیختے چلاتے جارہے ہیں،ان کے اندر وہی حیوان کروٹیں لینے لگا ہے جس نے گجرات کو مسلمانوں کیلئے شمشان گھاٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔اصل غلطی ہم پاکستانیوں کی ہے کہ اس کے وزیر اعظم بنتے ہی ہم نے اس کے سابقہ جرائم کو معاف کر دیا تھا، ہمیں چاہئے تھا کہ ہم اسی وقت ہندوستان سے ہر طرح کے مراسم ختم کردیتے جب مسلمانوں کا ایک اجتماعی قاتل ہندوستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا تھا اور دنیا بھر میں بھارت کے اِس قاتل وزیر اعظم کے خلاف ایک سفارتی مہم شروع کرتے تاکہ بھارت کو پتہ چلتا کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
مسلمان چونکہ ایک اللہ کو مانتا ہے اس کا بھروسہ صرف اسباب و علل کے خالق پر ہوتا ہے،دنیا کے سہارے اس کے لئے بے معنی ہوتے ہیں،اس لئے جب وہ دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے تواصل میں مالک کے سامنے عجز سے جھکا ہوتا ہے۔عمران خان سے لے کر کشمیر کے محاذ پر تن کر کھڑے ایک سپاہی تک اس وقت اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔وہ نہ کسی ہیجان میں ہیں،نہ بزدلی ان کے وجود میں سرایت کر سکتی ہے، وہ، بہادروں کی طرح ایک توازن کے ساتھ کھڑے ہیں۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور جس کا بھروسہ اللہ رب العالمین پر ہوتا ہے وہ نہ تو خوف زدہ ہوتے ہیں اور نہ مایوس۔پاکستانی قوم اس وقت بازو لہرا لہرا کر نعرہ تکبیر بلند کررہی ہے۔
ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کے ٹیلے تو نہیں
شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو
کسی زمانے میں دنیا پاکستان کے ایٹمی پروگرام پرتشویش کا اظہار کرتی تھی کہ کہیں ایٹم بم انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں،مگر جلد دنیا کو معلوم ہو گیا ایسا ہرگز ممکن نہیں،پاکستانی قوم دنیا کی ایک مہذب قوم ہے،دنیا میں عزت کے ساتھ جینے کا ہنر جانتی ہے، اس وقت سوال یہ پیدا ہوگیا ہیکہ بھارتی ایٹمی پروگرام جنونیوں کے ہاتھ آ چکا ہے۔مودی اور اس کے سفاک ہندو انتہا پسند ساتھی پاگل ہو چکے ہیں،کسی وقت بھی ایٹمی جنگ چھیڑ سکتے ہیں، سو دنیا کو فوری طور پر بھارتی ایٹمی پروگرام کی حفاطت کا بندوبست کرنا چاہئے۔

(279 بار دیکھا گیا)

تبصرے