Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارتی ٹی وی چینل اول فول بکنے لگے

قومی نیوز هفته 02 مارچ 2019
بھارتی ٹی وی چینل اول فول بکنے لگے

دنیا کے اکثر ممالک میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کے بیانیہ میں وسیع خلیج معمول کی بات ہے مگر یہ صرف بھارت ہی ہے کہ جہاں قومیت اور انتہا پسندی کے فروغ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے بعد ہمسایہ ممالک بالخصوص چین اور پاکستان کو ہدف تنقید بنانے اور عوام کو مشتعل کرنے کے لئے سوشل اور مین سٹریم میڈیا میں دوڑ لگی ہوتی ہے۔

اس حوالے سے بھارتی میڈیا اپنے ملک کو نہ صرف دنیا کی معاشی سپر پاور باور کروانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے بلکہ منظم ڈس انفرمیشن مہم کے ذریعے اپنے عوام کے جذبات کے غبارے میں گھمنڈ ‘تکبر کی ہوا بھر کر بھارتی معاشرے کو تشدد اور انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس طرح بھارتی میڈیا نہ صرف پاکستان اور چین کے خلاف اپے عوام کو اکسا رہا ہے بلکہ بھارتی مسلمانوں کو بھی ملت واحد کے عناصر قرار دے کر ان کے خلاف عوام کو تشدد کے لئے بھی اکسایا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ناخوشگوار واقعہ کے بعد بجائے اس کے کہ بھارتی حکمران مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازوں پر کان دھرتے ‘بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں نے بغیر کسی ثبوت کے ہی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔

بھارتی میڈیا نے پاکستان اور مسلمانوں کے بغض میں انتہا پسندوں ہندوئوں کو اپنے ہی ملک میں جلائو گھیرائو پر اکساتے ہوئے اس حقیقت کو بھی دانستہ طور پر نظر انداز کر دیا کہ پلوامہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والا نوجوان نہ صرف کشمیری تھا بلکہ جس تنظیم نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے یہ 2002ء سے پاکستان میں کالعدم قرار دی جا چکی ہے‘ البتہ اس نام سے بھارتی کشمیر میں تنظیم ضرور موجود ہے‘ جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے بھارت کی طرف سے اس قسم کے ردعمل کی توقع ہی کر رہے تھے۔

مگر اس واقعہ کے بعد دنیا بھر کے میڈیا نے بھی بھارتی میڈیا کی طرف سے دو جوہری ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے کے علاوہ کشمیری نان کشمیری‘ مسلمانوں‘ غیر مسلمان‘ سکھ اور ہندوئوں کے نام پر نفرت کے بیج بونے کی کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے۔

عالمی میڈیا کو چاہیے کہ بھارتی میڈیا کی نفرت آمیز کارروائیوں اور سازشوں کو بھر پور انداز میں بے نقاب کرے۔اب تونوعیت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتی میڈیا کا کوئی بھی ٹاک شو پاکستان پر حملہ کرنے اور جو لوگ بھارتی جارحیت کے حوالے سے دلیل سے بات کرنا چاہیں ان کو ملک دشمن اور غدار کہنے کے بغیر مکمل نہیں ہو تا۔

کیونکہ اس قسم کے مباحثوں میں مدعو ہی ایسے افراد کو کیا جاتا ہے جو چیخ چیخ کر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے شوقین ہوں اور جن کی گفتگومیں خون کی پیاس دکھائی دیتی ہو۔

یہ بھارتی میڈیا کی بھی مہربانیاں ہیں کہ اب ٹی وی شوز میں پاکستان پر حملے کے حوالے سے پروگراموںمیں حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی حمایتی شیو سینا کی قیادت میں ہی مقابلہ ہوتا ہے حیران کن امر تو یہ ہے کہ ٹائمز آف انڈیا عوام میں جنگی جنون پھیلانے کی مہم کا چمپئن بن کر ابھرا ہے۔

18فروری کو ٹائمز آف انڈیا میں امریکہ سے تعلیم یافتہ ہر بیر سنگھ کا مضمون ’’پاکستان کو ضرور تباہ کردینا چاہیے‘‘ شائع ہوا اس مضمون کی سرخی ہی آگ نہیں اگل رہی تھی بلکہ مصنف نے اپنے مضمون میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی ایک طویل فہرست بھی گنوائی ہے۔

مسٹر سنگھ نے پاکستان کے خلاف طبل جنگ بجاتے ہوئے اپنے قارئین کو یہ یقین دھانی بھی کروا دی کہ پاکستان کے خلاف بھارتی حملے کی صورت میں یہاںتک کہ ایٹمی حملے کی صورت میں بھی چین خود کو اس جنگ سے الگ رکھے گا۔

مسٹر سنگھ نے اپنے مضمون کو ختم کرنے سے پہلے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ اگر پاکستان بھارت کی خواہش کے مطابق اقدامات کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر بھارت کو پاکستان کو تباہ کر دینا چاہیے اور یہ کام آج سے ہی شروع کر دینا چاہیے۔

یہاںغور طلب بات یہ ہے کہ یہ تحریر کسی واٹس اپ گروپ میں تحریر نہیں کی گئی بلکہ یہ بھارت کے ایک معروف اور کثیر الاشاعت اخبار میں چھپی ہے اور یہ اختبار پوری دنیا میں ویب کے ذریعے پڑھا جاتا ہے۔

پوری دنیا کے چھوٹے بڑے تمام میڈیا گروپ عمومی طور پر اس قسم کے مضامین جن میں حکومتوں کو جنگ پر اکسایا جائے ان کو شائع کرنے سے گریزکرتے ہیں مگر ٹائمز آف انڈیا جوہری جنگ چھیڑنے کے نظریہ کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی تحریر سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مہم نے عوام کے جذبات کو کس قدر مشتعل کیا ہو گا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا عوام کے جذبات کو ابھارنے کے بجائے سوشل میڈیا اور غیر جانبدار مبصرین کے ‘‘نیا پاکستان‘‘ کے بیانیہ کے مقابلے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کر رہا ہے۔

بھارتی میڈیا پوری دنیا میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جسے پوری دنیا میں بھارت ایسا پْرامن ملک اورکوئی نہیں یہ تو غیر ملکی قوتیں ہیں جو بھارت میں مسائل پیدا کر رہی ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفرمیشن کے ذریعے نفرت اور تشدد کے پرچار کی وجہ سے بھارتی میڈیا کا اپنا ہی چہرہ ہی بے نقاب ہوا ہے اب اگر ضرورت ہے تو اس دوغلے پن کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنے کی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ بھارتی میڈیا اپنے مذموم مقاصد اور پروپیگنڈہ مہم سے تائب ہو کر حقیقت اورسچ کو سامنے لا کر اپنے کیے کی تلافی کرسکتا ہے

(280 بار دیکھا گیا)

تبصرے