Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چوہے مار دوا خاندان مٹ گیا

ویب ڈیسک جمعه 01 مارچ 2019
چوہے مار دوا خاندان مٹ گیا

کوئٹہ کا بزنس مین فیصل زمان اپنی بیوی ندا اور 5 بچوں کے ہمراہ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہا تھا‘ کوئٹہ میں خود کا ذاتی کاروبار ہونے کی وجہ سے گھر میں پیسوں کی کافی ریل پیل تھی‘ بزنس مین فیصل کی بیوی اور پانچ چاند جیسے خوبصورت بچوں میں 9 سالہ سلوی ‘ 6سالہ عالیہ‘ 7سالہ توحید ‘ 4 سالہ عبدالعزیز اور ڈیڑھ سالہ عبدالعلی شامل تھا‘ پورا گھرانہ 7 افراد پر مشتمل تھا‘ جس میں 2 بیٹیاں ‘3 بیٹے اور میاں بیوی شامل تھے‘ موسم سرما کا دور چل رہا تھا‘ جس کی وجہ سے کوئٹہ میں برفباری ہورہی تھی

برفباری ہونے کے باعث بچوں کے اسکول کی چھٹیاں پڑ گئیں تھی‘ سرد موسم کی وجہ سے بچوں نے اسکول کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی میں سیرو سیاحت جانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا‘ جبکہ فیصل نے اس دفعہ گھومنے جانے کے لیے لاہورجانے کا موڈ بنا رکھا تھا‘ فیصل کی بیوی ندا کی ٹانگوں میں تکلیف کے باعث فیصل ندا کو لاہور کے اسپتال میں چیک اپ کرانا چاہتا تھااور ساتھ ہی بچوں کو لاہوربھی گھماناچاہتا تھا‘ لیکن بچے اس دفعہ کی سردیوں کی چھٹیاں کراچی میں منانے کے لیے بضد تھے‘ بچوں کی خوشی کی خاطر فیصل نے لاہور جانے کا فیصلہ ترک کرکے کراچی جانے کی حامی بھرلی اور ساتھ ہی اپنی بیوی کو ہدایت دی ضروری سامان کو بیگ میں پیک کرکے تیار ی مکمل کرلی جائے‘ جمعرات کی صبح کوئٹہ سے کراچی اپنی گاڑی میں روانہ ہونے کے لیے نکل گئے

راستے میں خضدار میں اپنے ایک دوست کے گھرپر کھانے کے لیے فیملی کے ہمراہ رکے‘جس کے بعدحب چوکی کے قریب روک کر اپنے اور بچوں کے لیے چپس اور جوس خریدے ‘ اس کے بعد سفر کو جاری رکھا اور رات کو کراچی کے ریڈ زون میں واقع قصر ناز پہنچے ‘ فیصل زمان بزنس مین ہونے کی وجہ سے کافی اثرو رسوخ رکھتے تھے‘ اسی وجہ سے بلوچستان کی اعلیٰ شخصیت امان اللہ کاکڑ کی ہدایت پر فیصل زمان کی فیملی کے لیے وفاقی گیسٹ ہائوس بک کرایا گیاتھا‘ قصر ناز پہنچ کر راستے کی تھکن دور کرنے کے لیے سب آرام کی غرض سے گیسٹ ہائوس میں چلے گئے‘بچوں کو بھوک لگنے لگی اور ات کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فیصل سے کہا گیا تو اس نے بیوی اور بہن کے مشورے پر کراچی میں واقع نوبہار ریسٹورنٹ سے بریانی لینے چلا گیا‘ریسٹورنٹ سے بریانی لے جا کر اپنی بیوی کو دی اور خودشہر میں گھومنے اور راستے سمجھنے کے لیے قصر ناز سے نکل گیا‘ ندا‘ بینا ‘ سلویٰ ‘ عالیہ ‘ توحید ‘ عزیز اور علی کو شہر گھماناتھا‘ اس کے لیے شہر کی سیروسیاحت کی جگہ سے واقفیت کی غرض سے گیسٹ ہائوس کے ارد گرد گھومتا رہا تاکہ بچوں کو شہرمیں آسانی سے سیرو تفریح کرائی جاسکیں‘ ادھر بیوی ‘ بہن اور بچے بریانی کھانے کے بعد سونے کی تیاری کرنے کے لیے لیٹ گئے‘ ندا فیصل کا انتظار کرنے لگی‘ کچھ دیر میں فیصل بھی گھر آگیااور ندا سے چند رسمی باتیں کرکے سونے کے لیے لیٹ گیا‘ تھکن زیادہ تھی‘ صبح سے رات ہوگئی تھی‘ اس وجہ سے فیصل کو بھی لیٹتے ہی نیند آگئی‘ ندا بھی سوچکی تھی

اچانک رات کے آخری پہر ندا کی طبیعت بگڑی ‘ پیٹ میں شدید درد اور باقاعدگی سے الٹیاں لگی ہوئی تھی‘ ندا نے فیصل کو نیند سے بیدار کیااوراپنی حالت سے آگاہ کرتے ہوئے اسپتال جانے کا کہا‘فیصل کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر قصر ناز سے آغا خان اسپتال لے گیا‘ بہن اور بچوں کی خبر لے لیتا‘ بہن او ر بچوں کی محبت میں گرفتار فیصل نے نیند میں خلل اور پریشان نہ کرنے کی غرض سے بیوی کو لے کر اسپتال نکل گیا‘ فیصل بیوی کے ٹھیک ہونے کی خبر سننے کے انتظار میں اسپتال میں بیٹھا ہوا تھاکہ اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی ‘ دوسری جانب بینا فیصل سے مخاطب تھی اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اچانک بے ہوش ہوگئی‘ فیصل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ صبح بھی ہونے لگی تھی ‘ آسمان پر بھی روشنی پھیلتی جارہی تھی‘ جمعہ کا دن تھا‘ مرتا کیا نہ کرتا بیوی کو اسپتال میں اکیلا چھوڑ کر سرپٹ گھر کی جانب اندھا دھند گاڑی دوڑادی ‘ گیسٹ ہائوس پہنچ کر دیکھا تو سامنے کے منظر نے اس کے پیروں تلے زمین کھسکادی تھی‘ بہن بے ہوش پڑی تھی اور بچے بے سدھ تھے‘ فیصل نے ہمت سے کام لیتے ہوئے بہن اور بچوں کو گاڑی میں ڈالا اور ایک با ر پھر اسپتال کی جانب نکل پڑا ‘ بہن اور بچوں کو داخل کرانے کے بعد فیصل آس لگائے کونے میں بیٹھ گیااور ڈاکٹر کے جوا ب آنے کا انتظار کرنے لگا‘ کچھ لمحوں بعد ڈاکٹر نے فیصل سے جوالفاظ کہے‘ اپنے کانوں پر ذرا بھی یقین نہ آیا ‘ آہ فیصل کے پانچوں بچے اس جہان فانی سے رخصت ہوچکے تھے

سلویٰ ‘ عالیہ ‘ توحید ‘ عزیز اور علی اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے‘ فیصل کا ہنستابستا گھر چند لمحوں میں اجڑ کر رہ گیاتھا‘ اپنی حالت پر زارو قطار رونے والے فیصل کی بیوی ندا اور بہن بینا کی حالت بھی تشویشناک تھی‘ وہ بوجھل قدموں کے ساتھ اسپتال سے نکلااور سوچ میں گم ہوگیا ‘اسے گہرا صدمہ پہنچا تھا‘ آہستہ آہستہ بچوں کی اموات کی خبرشہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی‘ وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کروادی ‘ تحقیق ہونے لگی اور پوچھ گچھ کے لیے فیصل سے بھی سوالات کئے گئے تو پتہ چلا کہ بچوں کے ہمراہ کوئٹہ سے تفریح کے لیے کراچی آیا تھا‘ اس نے فیملی کے ہمراہ نوبہار ہوٹل سے بریانی منگوار کر کھائی تھی‘ پولیس چھوٹے سے پہلو کوبھی نظر انداز کرنے سے قاصر تھی‘ انہوںنے فیصل سے براستہ خضدار آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ فیملی کو دوست کے گھر لے گیا‘ جہاں سب نے دوپہر کا کھانا کھایا‘ لیکن گاڑی میں کچھ خرابی کی وجہ سے فیصل گاڑی ٹھیک کرانے چلا گیاتھا اور اس نے کھانا نہیں کھایا

پولیس کی تفتیش کا رخ بلوچستان کی جانب سے گھوم گیا‘ پولیس ہر زاویے سے تحقیق میں لگی ہوئی تھی‘ ادھر ندا اور بینا اسپتال میں داخل تشویشناک حالت میں مبتلا تھی‘ایک جانب نوبہار ہوٹل سیل کرکے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ‘ دوسری جانب فوڈ اتھارٹیز بھی حرکت میں آئی ہوئی تھی‘ بچوں کے کھانے کے برتن اور بریانی کے خالی ڈبوں کی تحقیق کی جانے لگی‘ کراچی شہر میں اتنا بڑا سانحہ ہونے کی وجہ کو ہر جانب سے ٹٹولا جانے لگا‘ لیکن کوئی موثر سراغ ہاتھ نہ لگنے کی بناء پر کیس جو ں کا توں رہا‘ اس کے علاوہ فیصل زمان بچوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے حق میں بالکل نہ تھا‘ لیکن سندھ کے عہدیداران کے سمجھانے پر راضی ہوگیا‘ اب پولیس کیس میں جان آنے والی تھی اور سب کو انتظار پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کا انتظار تھا‘ کراچی پولیس پھر بھی تگ ودو میں لگی ہوئی تھی‘ اس کے علاوہ فوڈ اتھارٹیز‘ فوڈ انسپیکٹرز ‘ پولیس سرجن معاملے کی تہہ تک پہنچے میں لگے ہوئے تھے ‘ نوبہار ریسٹورنٹ کا مالک بھی کہیں روپوش ہوچکا تھا

پولیس نوبہار ریسٹورنٹ کے مالک جمشید کے بھائی کو اٹھا لائی تھی‘ پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد بچوں کے میتوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے کوئٹہ روانہ کیا گیا‘ فیصل بچوں کی میتوں سے پہلے پشین پہنچ چکا تھا‘ بچوںکی تدفین کے بعد فیصل کوا طلاع ملی کہ اس کی بہن بینا بھی زندگی کی بازی ہار گئی‘ فیصل کی چھوٹی بہن بینا نے بھی اس دنیا سے منہ موڑ لیاتھا‘ ایک کے بعد ایک صدمے سے فیصل بالکل نڈھا ل ہوتا چلا جارہا تھا‘ پولیس بھی اب تک کسی کا پتہ نہ لگا سکی تھی کہ اچانک پولیس نے قصر ناز کا دورہ کیااور تحقیقات شروع کردی‘ تفتیش میں کچھ ہلچل ہوتی نظر آنے لگی‘ قصر ناز کا بغور جائزہ لیاگیا تو یہ انکشاف ہونے لگا کہ ہلاکتیں کھانے سے نہیں ‘ بلکہ قصر ناز کے کمروں میں کھٹمل مار دوا ڈالی گئی تھی اور اس سے نکلنے والی فاسفیٹ گیس مضر صحت ہے‘ جامعہ کراچی کی ٹیم نے اس پہلو پر غور وفکر کرنا شروع کردیا‘ جامعہ کراچی کے مرکز برائے کیمیائی وحیاتیاتی علوم نے تحقیقات شروع کردی اوررپورٹ بنا کر کمشنر کے حوالے کردی‘ ادھر 5 بچوس سمیت 6 افراد کی ہلاکتوں کا واقعہ سول لائن پولیس تھانے نے بچوںکے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا‘ سب کا انکشاف یہی تھا کہ مضر صحت کھانا کھانے کی وجہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہوا‘ بچوں کے چچانے بھی مقدمہ ہوٹل نوبہار کے مالک پر ہی کیا

لیکن پولیس کونیا سراغ مل چکا تھا‘ جس کی رپورٹ کمشنر تک پہنچائی جاچکی تھی‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی آچکی تھی‘ لیکن اس میں معاملہ مضر صحت کھانا کھانے کی وجہ سے ہلاکتوں کا نہ تھا‘ بلکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کا رخ بدل کر رکھ دیا تھا‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ کمروں میں گیس کے بھر جانے سے ہوئی‘ پولیس جب اصل حقائق سامنے لائی تو سب ششد رہ گئے‘ اموات کھانا کھانے سے نہیں ‘ بلکہ کمروں میں موجود فاسفیٹ کی گولیوں سے زہریلی گیس خارج ہونے کی وجہ سے ہوئی

جامعہ کراچی کے سربراہ اقبال چوہدری نے بتایا کہ 5 بچے اورایک خاتون کی موت زہریلی کھٹمل مار دوا ‘ایلومینیم فاسفیٹ گیس کے اخراج سے ہوئی ہے‘ جامعہ کراچی ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے کہا کہ قصر ناز کے متاثرہ کمرے سے ایلومینیم فاسفیٹ دوا استعمال کی گئی‘ کمرے سے کھٹمل مار دوا کی کافی مقدار ملی ‘ معمہ حل کرنے میں پولیس نے کافی بھاگ ڈور کی ‘ رپورٹ کے مطابق فیصل کے بچوں اور بہن کی موت کا پتہ لگا لیاگیاہے ‘ اب بس بچوں کی اموات کی فائنل رپورٹ تیار ہونا باقی ہے ۔ اس سلسلے میں قصر ناز کی انتظامیہ نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے‘ بچوں کی موت کی وجوہات کے شواہد ضائع کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پرآگئی ہے۔

(255 بار دیکھا گیا)

تبصرے