Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ادھورا خواب

ویب ڈیسک جمعه 01 مارچ 2019
ادھورا خواب

22 فروری 2019ء سرسید ٹائون تھانے کی حدود نارتھ کراچی انڈا موڑ کے قریب پولیس مقابلہ ہوا جس میں شاہراہ نورجہاں پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث موٹر سائیکل سوار ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی‘ لیکن ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور پھر پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک ملزم مار اگیا جبکہ دوسرے ملزم کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا‘ مقابلے کے بعد جب شاہراہ نور جہاں پولیس ہلاک و زخمی ملزمان کو قانونی اور طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کررہی تھی تو اُس دوران معلوم ہوا کہ جب پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا تو اس دوران جائے وقوعہ سے گزرنے والے رکشے میں سوار ایک 22 سالہ لڑکی بھی زخمی ہوئی ہے جسے ابتدائی طور پر طبی امداد کے لئے نارتھ کراچی ایوان صنعت و تجارت اسپتال بعدازاں عباسی شہید اسپتال اور پھر جناح اسپتال لے جایا گیا‘ جہاں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مضروبہ دم توڑ گئی‘ تاہم اسپتال میں مقتولہ کی شناخت 22 سالہ نمرہ بیگ دختر اعجاز بیگ کے نام سے ہوئی‘ مقتولہ نمرہ میڈیکل کی طلبہ تھی لیکن ابھی یہ ثابت ہونا باقی تھا کہ 22 سالہ نمرہ کی موت ملزمان کی گولی لگنے سے ہوئی یا پولیس کی طرف سے چلنے والی گولی نے میڈیکل کی ہونہار طلبہ نمرہ کی زندگی گُل کردی۔ میڈیکل طلبہ نمرہ بیگ کی ہلاکت نے ماضی میں ہونے والے پولیس مقابلوں کی یادیں تازہ کریں۔ تحقیقاتی ادارے تاحال ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام ہیں‘ نمرہ کی موت کیسے ہوئی؟ کس کی گولی نے اس ہونہار میڈیکل طالبہ کی زندگی کا چراغ گُل کیا؟ اس کیس میں بھی تحقیقاتی اداروں کی حسب سابق تفتیش جاری ہے۔
گزشتہ برس بھی کراچی میں مبینہ پولیس مقابلوں نے کئی گھر اُجاڑ دیئے تھے‘ کبھی ننھی امل تو کبھی نوجوان مقصود کو ڈاکو کہہ کر مار دیا گیا مگر ملزمان کے تعین میں پولیس ناکام رہی۔ شہری سوال کرتے ہیں کہ حکومت اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے کیا کررہی ہے۔ واقعہ کے مطابق 22 فروری کو شارع نورجہاں پولیس موبائل گشت پر تھی کہ شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف 2 مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی‘ پولیس نے جوابی کارروائی کی‘ اس دوران پولیس اور ڈاکو مقابلہ کرتے ہوئے سرسید تھانے کی حدود انڈا موڑ پہنچ گئے جہاں پولیس کی فائرنگ سے ملزمان شدید زخمی ہوگئے جبکہ ایک لڑکی بھی سر پر گولی لگنے سے زخمی ہوئی۔ پولیس نے طبی امداد کے لئے تینوں کو عباسی شہید اسپتال پہنچایا جہاں 25 سالہ ملزم ریاض ولد عبدالمالک اور 22 سالہ نمرہ دختر اعجاز بیگ دم توڑ گئی جبکہ زخمی ڈاکو کو طبی امداد دی جارہی ہے۔ پولیس نے ہلاک و زخمی ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کرلی جبکہ ایس ایچ او سرسید ٹائون الیاس شاہ کے مطابق جس مقام پر پولیس مقابلہ ہوا ‘ وہ ان کے علاقے میں آتا ہے جبکہ مقابلہ شارع نور جہاں پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان ہوا تھا‘ جس میں ایک ڈاکو ریاض ہلاک ہوگیا جبکہ زخمی ہونے والے ڈاکو کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے‘ مقابلے کے دوران راہگیر لڑکی 22 سالہ نمرہ بیگ سر پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئی جسے انتہائی تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا‘ بعدازاں اُسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی۔

نمرہ کو سر پر گولی لگنے سے متعلق ابتدائی طور پر بات سامنے آئی تھی کہ وہ پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئی، تاہم ترجمان سندھ پولیس نے ایک عینی شاہد کا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں عینی شاہد نے بتایا کہ واقعہ کے وقت اُس نے دیکھا کہ موٹر سائیکل پر سوار 2 لڑکے لوٹ مار کررہے تھے کہ لڑکی چیخی تو ملزمان نے اُس پر فائر کردیا‘ اس دوران شارع نور جہاں تھانے کے 2 جوان موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ملزمان پر فائرنگ کی جس کے باعث وہ زخمی ہوکر گرگئے‘ بعدازاں پولیس موبائل بھی موقع پر پہنچ گئی اور اہلکار دونوں ڈاکوئوں کو پولیس موبائل میں ڈال کر اسپتا ل لے گئے جبکہ انہوں نے زخمی لڑکی کو بذریعہ رکشہ نارتھ کراچی میں واقع ایوان صنعت و تجارت اسپتال پہنچوایا۔ ایس ایچ او سرسید ٹائون الیاس شاہ نے مزید بتایا کہ نمرہ بیگ نارتھ کراچی سیکٹر سیون ڈی ٹو کی رہائشی اور ڈائو میڈیکل کالج کی طالبہ تھی جبکہ اُس کے قبضے سے ملنے والے شناختی کارڈ پر پتہ پاپوش نگر اورنگ آباد درج ہے تاہم ابھی اس بات کا تعین باقی ہے کہ مقتولہ نمرہ کو گولی پولیس کی لگی یا ملزمان کی۔ نمرہ کو پہلے عباسی شہید اسپتال پہنچایا وہاں نیورو وارڈ نہ ہونے کی وجہ سے جناح اسپتال شفٹ کیا جہاں نمرہ نے دم توڑ دیا۔ نمرہ کی ہلاکت کے بعد جناح اسپتال کی لیڈی ایم ایل او نے پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کردیا۔ 8 گھنٹے نعش جناح اسپتال میں پڑی رہی‘ اہل خانہ کے احتجاج پر ڈاکٹر ذکیہ نے اسپتال پہنچ کر پوسٹ مارٹم کیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی سینٹرل رائو عارف اسلم بھی موجود تھے۔پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے نمرہ کے جاں بحق ہونے کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد ایس ایس پی سینٹرل رائو عارف اسلم اور دیگر اعلیٰ افسران فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور واقعہ کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کردیں‘ اس ضمن میں پولیس افسران کا کہنا تھا کہ نمرہ کو گولی چھوٹے ہتھیار سے لگی ہے جو ملزمان کے پاس تھی جبکہ پولیس اہلکاروں کے پاس تو بڑے ہتھیار تھے جبکہ ایس ایس پی سینٹرل رائو عارف اسلم کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور ڈاکوئوں کے قبضے سے ملنے والا اسلحہ اور پولیس اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ فارنزک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مقتولہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی تھی یا بڑے ہتھیار کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس ایس ایم جی تھی‘ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ نمرہ کو کتنے فاصلے سے گولی سر میں لگی۔ واقعہ میں پولیس اہلکار ملوث پائے گئے تو انہیں بھی قانون کے مطابق سزا دلوائیں گے۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ جناح اسپتال کی لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے بتایا کہ مقتولہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی ہے اور چھوٹا ہتھیار ملزمان کے پاس تھا۔

واقعے کے 3 مقدمات شارع نور جہاں اور سرسید ٹائون تھانے میں درج کئے جائیں گے تاہم واقعہ کے دوسرے دن پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی میڈیکل کی طالبہ نمرہ کی نماز جنازہ اُن کی رہائش گاہ نارتھ کراچی سیکٹر سیون ڈی ٹو میں واقع جامع مسجد صدیق اکبر میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی جس میں ایس ایس پی سینٹرل رائو عارف اسلم‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ایمان ہاشمی‘ مقتولہ کے اہل خانہ‘ ڈائو میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ‘ عزیز و اقاب اور علاقہ مکینوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔جنازہ اُٹھانے پر علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشک بار تھی‘ مقتولہ کو گھر کے قریب شاہ محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا‘ اس موقع پر مقتولہ نمرہ کے ماموں محمد ذکی نے بتایا کہ مقتولہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اور میڈیکل فائنل ایئر کی طالبہ تھی اور اس کے والد مرزا اعجاز بیگ پولیس میں تھے جن کا 2010ء مین انتقال ہوگیا تھا جبکہ مقتولہ کی سہیلیوں نے بتایا کہ نمرہ خوش اخلاق‘ ملنسار اور دوسرے کے دکھ دردمیں کام آنے والی لڑکی تھی‘ اُسے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا‘ اور وہ میڈیکل کے فائنل ایئر کی طالبہ تھی۔ بھائی ااحسن بیگ کے مطابق اُن کی بڑی بہن نمرہ بہت خیال رکھتی تھی اور ہماری آنکھوں کا تارا تھی۔ ااحسن بیگ نے مزید بتایا کہ اُس کی بہن ڈاکٹر بن کر غریبوں کا مفت علاج کرنا چاہتی تھی۔ جبکہ نمرہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے کا وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت ہیں کہ یہ واقعہ کس کی غفلت سے پیش آیا ہے۔علاوہ ازیں کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سی آئی اے ممبران ایس ایس پی نعمان صدیقی اور ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ویسٹ ڈاکٹر امین یوسف زئی بھی موجود تھے۔ ترجمان کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے عینی شاہدین سے بیانات لیے جبکہ پولیس افسران نمرہ کے گھر بھی گئے۔ انہوں نے اہل خانہ سے واقعہ پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انصاف کی یقین دہانی کروائی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے مقتولہ نمرہ کے ماموں اور دیگر فیملی ارکان کے بیانات ریکارڈ کئے جبکہ جناح اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ نمرہ بیگ کے سر کا سٹی اسکین اور جسم کے مختلف ایکسرے کروائے گئے لیکن گولی کا سکہ نہیں ملا۔ مقتولہ کو سر میں دائیں جانب سے گولی لگی اور 2 اعشاریہ 5 سینٹی میٹر کا زخمی آیا۔ذرائع نے بتایاکہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگنی‘ دوسری جانب مقتولہ کے چھوٹے بھائی اور ماموں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ نمرہ ڈائو میڈیکل یونیورسٹی میں فائنل ایئر کی طالبہ اور 2 بہن بھائیوں میں بڑی تھی‘ مقتولہ کے ماموں نے بتایا کہ انہیں ٹی وی چینلز پر خبر نشر ہونے پر واقعہ کا علم ہوا‘ انہیں ابھی تک یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ نمرہ کو پولیس کی گولی لگی ہے یا ڈاکوئوں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پوسٹ مارٹم کے لئے جب ڈاکٹرز کو فون کال کی گئی تو انہوں نے آنے سے منع کردیا اور پھر کئی گھنٹوں تک ہم ادھر اُدھر گھومتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی‘ مقتولہ کے ماموں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ کے بعد موقع پر موجود لوگوں نے پولیس موبائل میں بیٹھے ہوئے اہلکاروں کو باتیں کرتے سُنا تھا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے لیکن پولیس یہ بات ماننے پر کسی طور تیار نہیں ہے کہ گولی اہلکاروں کی ہی لگی ہے تاہم فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی طالبہ کے قتل و مبینہ پولیس مقابلے کا مقدمہ شارع نور جہاں پولیس کی جانب سے سرسید تھانے میں شارع نور جہاں تھانے کے اہلکار عدنان کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 85/2019 بجرم دفعات 302/353/324/34 انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا۔

پولیس نے مقدمہ مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکو ریاض اور اس کے گرفتار ساتھی کے خلاف درج کیا جبکہ لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرہ کو لگنے والی گولی ’’رائفل فائر آدم‘‘ کی تھی‘ گولی قریب سے لگنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی ہے۔ایس ایس پی سینٹرل رائوعارف اسلم نے بتایا کہ اہل خانہ کے احتجاج کے بعد پولیس نے مقابلے کی چھان بین کے لئے 2 ڈی آئی جیز اور 3 ایس ایس پیز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے جو واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کررہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی نے عینی شاہدین سے مل کر اُن کے بیانات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی میں شامل ایک پولیس افسر کے مطابق پولیس کو نمرہ کی مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ مل گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 22 سالہ نمرہ کو 10 بج کر 21 منٹ پر جناح اسپتال لایا گیا‘ نمرہ کے سر کے سیدھے حصے پر گولی لگی تھی‘ سر پر لگنے والے زخم کی لمبائی ڈھائی سینٹی میٹر تھی‘ نمرہ کو لگنے والی گولی ’’رائفل فائر آدم‘‘ کی تھی‘ گولی قریب سے لگنے کے شواہد نہیں ملے‘ نمرہ کے سر کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی ۔ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے مقتولہ نمرہ کے متعدد ایکسرے اور سی ٹی اسکین بھی کروائے۔ ڈاکٹر ذکیہ نے رپورٹ میں بتایا کہ مقتولہ کے جسم میں لگنے والی گولی کا سکہ نہیں ملا‘ نمرہ کی سر کی ہڈی ٹوٹنے سے مقتولہ کے دماغ کو نقصان پہنچا‘ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی ہے تاہم واقعہ کے 4 روز گزرنے کے بعد نارتھ کراچی انڈا موڑ کے قریب نمرہ قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی اور کیس کا عینی شاہد رکشہ ڈرائیور سرسید ٹائون تھانے پہنچ گیا۔رکشہ ڈرائیور اپنے رکشہ کے ہمراہ تھانے آیا‘ رکشے پر گولی کا نشان بھی تھا۔پولیس کے مطابق میڈیکل کی طالبہ نمرہ رکشے میں جائے وقوعہ سے گزر رہی تھی کہ اُس دوران رکشے میں گولی لگی‘ رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ رکشے پر پیچھے سے گولی لگی ہے‘ واقعہ کے بعد وہ خوفزدہ ہوکر فرار ہوگیا‘ تاہم اُس کے ضمیر نے اسے ملامت کیا تو وہ پولیس کی تفتیش میں مدد کے لئے آگیا۔پولیس کے مطابق رکشے پر موجود نشان بھی موجود ہے اور وہ چھوٹے ہتھیار کی گولی کا ہے‘ تاہم رکشے پر گولی کے نشان کو فارنزک کروایا جائے گا۔پولیس کے مطابق مقابلے میں مارے جانے والے اسٹریٹ کرمنلز کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور علاقے میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے‘ جبکہ کراچی میں فائرنگ کے واقعہ کے دوران گولی کا نشانہ بن کر اپنی زندگی کی بازی ہار جانے والی میڈیکل کی طالبہ سے متعلق پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی ہیر سوہو اور ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی وسیم قریشی کی ایک جیسی قرار داد سندھ اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی۔ ایوان کی کارروائی کے دوران میڈیکل کی طالبہ نمرہ کا معاملہ بھی قرار داد کی شکل میں زیر بحث آیا جس پر ایوان میں خاصی گرما گرم بحث بھی ہوئی۔ ایم کیو ایم کے وسیم قریشی نے کہا کہ نمرہ ڈاکٹر بن کر اپنے گھر والوں کا مستقبل بنانا چاہتی تھی‘ وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی‘ نمرہ اب دنیا میں نہیں‘ اُس کی والدہ کو ایک تقریب میں نمرہ کو ڈاکٹر بننے کی اعزازی ڈگری دی جائے۔ قرار داد پر تقریر کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پولیس عوام کے لئے خوف کی علامت بن گئی ہے۔

نمرہ بیگ کے نام پر پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے۔ ایم کیو ایم کی رعنا انصار مقتولہ نمرہ کا ذکر کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئیں اور کہا کہ میری بھابھی کو بھی بس میں بیٹھے اندھی گولی لگی تھی‘ میں یہ درد سمجھ سکتی ہوں کہ اچانک موت کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے مثبت بات کی ہے‘ انہوں نے جو تجاویز دی ہیں وہ قابل عمل ہیں‘ نمرہ کی والدہ اور ماموں سے ملاقات ہوئی‘ نمرہ نے میرٹ پر میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تھا‘ نمرہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ڈگری کے حوالے سے ڈائو میڈیکل یونیورسٹی سے میں خود بات کروں گا۔ خواجہ اظہار الاحسن نے کہا کہ کراچی میں امل عمر کے بعد نمرہ بیگ کی ہلاکت دوسرا واقعہ ہے ‘ یہ پولیس کی غفلت کا واقعہ ہے‘ نمرہ کے بھائی کو پولیس چیف نے اے ایس آئی کی نوکری کی پیشکش کی ہے جو قابل ستائش ہے۔ پی ٹی آئی کے خرم شیرزمان نے کہا کہ پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی نمرہ کے قتل کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پولیس والوں کو ٹریننگ کس نے دی کہ وہ اندھا دھند فائرنگ کرکے معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ صوبائی وزیر سماجی و بہبود شہلا رضا نے کہا کہ نمرہ کا واقعہ اہم ہے اور وہ اس قرار داد کی حمایت کرتی ہیں۔ بعدازاں دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نارتھ کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی طالبہ نمرہ بیگ کے گھر پہنچ گئے۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ نے مرحومہ کے اہل خانہ سے ملاقات میں دلی افسوس‘ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر آئی جی سندھ نے کہا کہ محکمہ سندھ پولیس آپ کے ساتھ ہے‘ واقعہ کی انتہائی غیرجانبدارانہ اور شفاف انکوائری کرکے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے نارتھ کراچی کے قریب پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی میڈیکل کی طالبہ کی ہلاکت کے سلسلے میں ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کی سربراہی میں 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جس میں ڈی آئی جی ویسٹ امین یوسف زئی‘ ایس آئی یو کے انچارج ایس ایس پی نعمان صدیقی اور ایس پی ٹریفک سمیع اللہ سومرو شامل تھے جنہیں تحقیقات مکمل کرکے 3 دن میں رپورٹ جمع کرانی تھی‘ جنہوں نے واقعہ کے 6 روز بعد واقعہ کی تفتیش کرنے والی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تفتیشی رپورٹ تیار کرلی ہے جو تحقیقاتی ٹیم ایڈیشنل آئی جی کراچی کو پیش کریں گے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نمرہ بیگ کو لگنے والی گولی پولیس کی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس اہلکار 4 کلومیٹر سے ملزمان کا پیچھا کرتے ہوئے آئے اور جائے وقوعہ پرمقابلہ ہوگیا‘ ملزمان کا تھانہ حدود شارع نورجہاں کی حدود سے تعاقب کیاجارہا تھا اور اُسی دوران ایک سنسان مقام پر پولیس اور ملزمان کے درمیان ہونے والی دوطرفہ فائرنگ میں نمرہ کو گولی لگی‘ مقابلے میں شریک اہلکاروں کو معلوم نہیں تھا کہ نمرہ کو گولی لگی ہے‘ نمرہ بیگ جب اسپتال پہنچی تو وہاں سے ملنے والی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ اس واقعہ میں کوئی لڑکی بھی زخمی ہوئی ہے جبکہ ایک اور اطلاع کے مطابق سرسید ٹائون تھانے کی حدود نارتھ کراچی انڈا موڑ پر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق 22 سالہ نمرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو پیش کریں گے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جناح اسپتال کی لیڈی ایم ایل او‘ ڈاکٹر ذکیہ نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ نمرہ کے سر کے دائیں جانب ڈھائی سینٹی میٹر کا زخم آیا تھا‘ نمرہ کو گولی فاصلے سے ماری گئی تھی جس سے سر کی ہڈی متاثر ہوئی‘ گولی چھوٹے ہتھیار کی تھی تاہم گولی کا سکہ نہیں ملا تھا۔ قوی شبہ ہے کہ گولی ڈاکوئوں کی لگی ہو۔ واقعہ کے عینی شاہد رکشہ ڈرائیور نے بھی پولیس کو بیان دیا ہے کہ مقابلے میں جو اسٹریٹ کرمنل مارا گیا ہے‘ وہ عادی جرائم پیشہ تھا۔ اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ کے اہلکار 4 کلومیٹر سے تعاقب کررہے تھے‘ انہوں نے سنسان علاقہ دیکھ کر مقابلہ شروع کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر نمرہ کو پولیس والوں کی بھی گولی لگی ہے تو اتفاقیہ ہے‘ پولیس والوں کا ٹارگٹ ڈاکو تھے جن کو پولیس نے مارا۔ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نمرہ کو مقابلے میں ڈاکوئوں کی گولی لگی ہے جبکہ شاہراہ نور جہاں تھانے کے ایس ایچ او رائو ظہیر نے نمائندہ قومی اخبار سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے واقعہ سے متعلق بتایا کہ اینٹی اسٹریٹ کرائمز اسکواڈ کے اہلکار ملزمان کا 4 کلومیٹر تک اسی لئے پیچھا کیا کہ ملزمان سے کسی سنسان جگہ پر گھیرا جائے اور وہ اسی لئے اہلکار شارع نور جہاں سے قلندریہ چوک پر سخی احسن اور پھر اس انڈا موڑ کالج کی طرف ڈاکوئوں سے مقابلہ کیا کہ یہ علاقہ دوسرے علاقے سے قدرے سنسان ہوتا ہے اور پھر پولیس اور ڈاکوئوں کی دوطرفہ فائرنگ کے دوران اتفاقیہ طور پر نمرہ کو کراس فائر لگی اور گولی نمرہ کے سر کے دائیں طرف سے چیرتی ہوئی نکل گئی۔ کراس گولی زیادہ خطرناک ہوتی ہے جبکہ لیڈی ایم ایل او نے پوری توجہ سے مقتولہ کا سر اور جسم کا سٹی اسکین بھی کیا کہ گولی مل جائے لیکن مقتولہ کے جسم یا سر سے کوئی گولی برآمد نہیں ہوئی جبکہ لیڈی ایم ایل او نے اپنی رپورٹ میں یہ واقع لکھا ہے کہ نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی ہے جبکہ ہمارے اینٹی اسٹریٹ کرائمز اسکواڈ کے اہلکاروں کے پاس بڑے ہتھیار تھے۔ ایس ایچ او نے مزید کہا کہ میڈیا میں تواتر کے ساتھ یہ بتایا جارہا ہے کہ جناح اسپتال کی لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے اپنی رپورٹ میں ’’رائفل فائر آدم‘‘ کا ذکر کیا‘ جبکہ ایم ایل او نے رپورٹ میں رائفل نہیں بلکہ ’’ریفر‘‘ کا ذکر کیا ہے جبکہ اسلحہ کی فارنزک رپورٹ تاحال پولیس کونہیں ملی۔ ممکن ہے فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئے۔ تاہم عام شہریوں کا کہنا ہے کہ 22 سالہ نمرہ بیگ کو ڈاکو کی گولی لگی ہو یا پولیس اہلکاروں کی‘ تحقیقاتی کمیٹی شفاف تحقیقات کرکے نمرہ کے قتل میں ملوث ملزمان کو معزز عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائے تاکہ نمرہ کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(349 بار دیکھا گیا)

تبصرے