Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تجاوزات کے خلاف آپریشن جعفر طیار سوسائٹی لرز کر رہ گئی

سید بلال علی شاہ جمعه 01 مارچ 2019
تجاوزات کے خلاف آپریشن جعفر طیار سوسائٹی لرز کر رہ گئی

جعفر طیار سوسائٹی میں گزشتہ ماہ ہونیوالے تجاوزات کے خلاف ہونے والے آپریشن نے علاقہ مکینوں کی نیندیں اڑا دیں‘ شہر میں مارکیٹوں ‘ بازاروں او ر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تو آپریشن ہوا‘ لیکن جعفر طیار سوسائٹی پہلی آبادی تھی‘ جس کی گلی محلوں میں بلڈوزر چلایا گیا‘ گیلریاں ‘ سیڑھیاں ‘ پلرز بھی گرا دیئے گئے‘ آپریشن سے علاقے کی عمارتیں لرز اٹھیں تھیں‘ اس آپریشن کا شاخسانہ یہ نکلا کہ جعفر طیار سوسائٹی میں انکم ٹیکس افسر حسن عباس کی 4 منزلہ عمارت زمین بو س ہوئی۔

25فروری پیر کی اعلی الصبح7 بجکر 36 منٹ پر ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں جامعہ مسجد جعفر طیار کے عقب میں واقع پلاٹ نمبر اے 51 سروے نمبر 12 5 پر قائم گراؤنڈ پلس 3 منزلہ عمارت زمیں بوس ہو گئی‘ جس کے ملبے تلے دب کر مکان مالک حسن عباس جمی‘بیوی زہرہ اور دو جواں بیٹے جاں بحق ہو گئے‘ جبکہ ایک بیٹے کو زخمی حالت میں زمین بوس ہونے والی عمارت کے ملبے تلے سے نکال لیا گیا‘ زمین بوس ہونے والی 3 منزلہ عمارت پر ریسکیو آپریشن میں علاقہ مکینوں‘ فلاحی اداروں‘کے ایم سی اور پاک فوج کے دستے نے حصہ لیا ‘ اس دوران پولیس‘رینجرزکی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی اور ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے جائے حادثہ پرامدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا۔

تا ہم تنگ گلیوں اور لوگوں کی بڑی تعداد جائے حادثے پر موجود ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا‘ حادثے کے تقریبا3 گھنٹوں کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران مکان کے ملبے تلے دبے مکان مالک کے 12 سالہ بیٹے شاہ زمین ولد حسن عباس کو اسکول یونیفارم میں زخمی حالت میں زندہ نکال لیا گیا‘علاقہ مکینوں نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مکان مالک حسن عباس انکم ٹیکس کے ملازم اور ان کی اہلیہ سرکاری اسکول ٹیچر تھیں۔ زمین بوس ہونے والی عمارت کی پہلی منزل پر مکان مالک اپنے 3 بیٹوں اور اہلیہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھے‘ جبکہ دوسری منزل پر سید محمد علی کی فیملی اور تیسری منزل پر دو خاندان رہائش پزیر تھے‘ تاہم 2 روز قبل دوسری منزل پر مقیم سید محمد علی کسی دوسرے مکان میں منتقل ہو گئے تھے ‘علاقہ مکینوں نے بتایا کہ رہائشی عمارت 6 سے 7 سال پرانی تھی، 96 گز پرمشتمل پلاٹ کا گراؤنڈ فلور امام بارگاہ کے لیے مختص تھا۔ ابتدا میں گراؤنڈ پلس ون بنایا گیا تھا بعد میں مزید2 منزلیں بنائی گئی۔

دوسری منزل کو 2 سال قبل اور تیسری منزل کا ایک حصہ 3 سال اور دوسرا حصہ 6 ماہ قبل کرائے پر دیا گیا تھا، عمارت کی بنیادیں زیادہ منزلوں کے اعتبار سے کمزور تھیں ایک ہفتہ قبل زیر زمین پانی کے ٹینک میں دراڑ پڑگئی تھی‘ بنیادیں کمزور ہونے کا احساس ہوتے ہی انہیں مضبوط کرنے کے لیے اقدام کیا گیا، کرایہ داروں کو نوٹس دے کر بنیادیں مضبوط کرنے کا کام شروع کر دیا گیا تھا‘آج کل کام بھی جاری تھا کہ یہ افسوسناک حادثہ پیش آگیا۔ اہل محلہ نے مزیدبتایا کہ عمارت گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے حسن عباس عرف جمی کا سب سے بڑا بیٹا حیدر اقرا ء یونیورسٹی کا طالب علم‘ جبکہ چھوٹا بیٹا جری حیدر اسکول طالب علم تھا‘جبکہ عمارت زمین بوس ہونے کے بعد امدادی کارروائیوں میں زخمی حالت میں نکالے جانے والا شاہ زین حیدر کراچی پیک اسکول کا طالب علم ہے جبکہ حسن عباس اپنی 2 بیٹیوں کی شادی کر چکے تھے ‘ مکینوںنے مزید بتایا کہ عمارت کے پلرز مضبوط بنانے کے لیے کھدائی کی گئی تھی‘ گراؤنڈ فلور پر عزا خانہ کی توسیع کی جارہی تھی‘ جبکہ حسن عباسی کا ڈرائیور معمول کے مطابق صبح آیا تھا اور حسن عباس نے اوپر کی منزل سے گاڑی کی چابی اسے پھینکی تھی‘اس دوران ڈرائیور کار کی جانب جانے لگا تو اس نے دیکھا کہ دیواروں سے پلاستر جھرنے لگا اور اس نے آوازیں لگانا شروع کر دیں جسے سن کر حسن عباس نے واپس آکر دیکھا اور آوازیں لگاتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب بھاگے لیکن اس دوران عمارت زمین بوس ہو گئی اور وہ ملے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئے ‘جعفر طیار سوسائٹی میں 3 منزلہ عمارت زمین بوس ہونے کی اطلاع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی مو قع پر پہنچے اورواقعے پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور ملبے تلے دبے افراد کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں‘ پاک فوج کی انجینئر نگ کور کی بھی خدمات نمایاں رہیں‘ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ،‘ملیر جعفر طیار میں زمین بوس ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکال کے کر ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کے آرمی کور آف انجینئرز کے دستے نے بھی حصہ لیا۔

آرمی کور آف انجینئرز کا دستہ ہیوی مشینری کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔جبکہ ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں زمین بوس ہونے والی عمارت کے پہلے سے زندہ نکالے جانے والے مالک مکان حسن عباس زیدی کے بیٹے شاہ زین عباس زیدی نے بتایا کہ اس کی عمر 13 سال ہے اور وہ پانچویں کلاس کا طالب علم ہے‘شاہ زمین نے بتایا کہ میں ساڑھے 7 بچے اسکول کے لیے نکلا تھا کہ عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا‘بہت شور تھا کہ اچانک بلڈنگ گر گئی ‘ میرے والدین ‘ 2 بھائی اور ایک بہن گھر میں موجود تھے‘ بلڈنگ میں کرائے دار بھی ہیں ‘ میرے علاوہ 6 سے 7لوگ مزید ہیں میں نے آوازیں دی تھی‘ جس کے بعد مجھے ذرائع کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ جعفر طیارسوسائٹی میں تجاوزات کے خلاف کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں متاثر ہونے والی بیشتر عمارتیں کمزور ہوگئی ہیں‘جس کے زمین بوس ہونے کے بھی خدشات بڑھ گئے جس سے کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم سے جاری آپریشن کے دوران سوسائٹی میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا‘ تاہم آپریشن کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ،ڈی ایم سی کورنگی وملیر سمیت دیگر اداروں کے افسران نے سروے نہیں کیا۔ سروے نہ کرائے جانے کے باعث آپریشن کے دوران متاثر ہونے والی مز ید بیشتر عمارتیں اور 150 گھربھی کر سکتے ہیں۔

پیر کو گرنے والی عمارت بھی آپریشن کے نتیجے میں متاثر ہوئی تھی، تاہم سروے نہ ہونے کی وجہ سے المناک واقعہ پیش آیا۔ ذرائع نے بتایا کہ زمین بوس ہونے والی عمارت کا مالک جو گریڈ 18 کے عہدے پر تعینات تھے نے انسداد تجاوزات عملے کے خلاف متعلقہ اداروں کو درخواستیں بھی دیں تھیں‘ جب کہ مالک مکان کی اہلیہ جولانڈھی کے ایک سرکاری اسکول نے بھی مذکورہ کارروائی کے خلاف دیگر افراد کو شکایت درج کروارکھی تھی‘ تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی‘ کچھ ماہ پہلے یہاں کے ایم سی ڈی ایم کی سمیت دیگر اداروں کے افسران نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا۔ انسداد تجاوزات عملے نے غازی چوک‘ اون حیدری چوک اور مرکزی امام بارگاہ سمیت دیگر گلیوں میں عمارتوں کے خلاف آپریشن کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز زمین بوس ہونے والی عمارت بھی انسداد تجاوزات عملے نے آپریشن کے دوران متاثر کر دی تھی۔ عملے نے جعفر طیار کے 150 سے زائد گھروں کو شدید نقصان پہنچایا‘ جبکہ بیشتر عمارتوں کے پلرز بھیی مسمار کر دیئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے مزیدعمارتیں زمین بوس ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد مکینوں نے متعلقہ اداروں کو متعدد در خواتیں لکھیں لیکن کوئی یہاں سروے کے لیے نہیں آیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(185 بار دیکھا گیا)

تبصرے