Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 20  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کتاب دوست ترقی

ویب ڈیسک هفته 23 فروری 2019
کتاب دوست ترقی

کسی بھی معاشرہ، قوم، ملک کی ترقی کا دارومدار علم پر ہوتا ہے جس معاشرہ میں کتاب پڑھنے والے بکثرت ہوتے ہیں وہ معاشرہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اگر نظر دوڑائیں کہ مغربی دنیا میں کتاب دوستی بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کا معاشرتی نظام کتاب سے منسلک ہے۔ آج جو مغرب ترقی یافتہ کہلاتا ہے اُس کی وجہ صرف اور صرف کتاب سے دوستی ہے۔ کتاب نے انسانی عقل اور شعور کو نئی زندگی دی اور کتاب ہی انسان کی شعور کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرہ کے اندر تدریس و تحقیق کا عمل کتاب کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ جب تک کوئی معاشرہ کتاب سے منسلک رہتا ہے، اس معاشرہ کے افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ علم و ادب سے معاشرے کے افراد کی ادبی، ذہنی اور تہذیبی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں اور وہ معاشرہ کے افراد کے لئے اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
کتاب سے دوستی کسی بھی قوم کی معاشی، سماجی، سائنسی، تہذیب و ترقی کی ضامن ہوتی ہے ۔ کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوسکتا جس نے کتابوں سے دوستی کی اس کو معاشرے میں کامیاب اور شاندار مستقبل حاصل ہوا۔ سکندر اعظم جس کا استاد ارسطو تھا اس کے بارے میں کہتا ہے کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا لیکن میرا استاد کتاب کی طاقت سے مجھے آسمان کی بلندیوں پر لے گیا۔ کتاب انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کتاب پڑھنے والا ہر طرح کے شک سے محفوظ اور یقین کی قوت سے مالا مال بھی ہوجاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے کتاب سے رشتہ استوار کیا انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی منازل کو عبور کیا او راپنے ملک اور قوم کا نام روشن کیا۔ آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے جب بغداد سائنسی علوم اور سائنسی ایجادات کا مرکز تھا تو اس کی وجہ سے وہاں قائم لائبریوں کا بہت بڑا کلیدی کردار رہا اور لوگ دور دراز سے علم کے حصول کے لئے بغداد آتے اور اپنی علم کی پیاس بجھاتے تھے، لہٰذا اس میں کوئی دورائے نہیں کہ لائبریری علم کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔اس سے بڑھ کر اور کتاب دوستی کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود وحی کے ذریعے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو کہا اقراء۔ تو کتاب تو اُسی دن سے ہی معرض وجود میں آگئی تھی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے اور اس کتاب سے ہی خلفاء راشدین، اولیاء کرام نے دنیا کی جاہلیت اور تاریکی کو اس کتاب قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کرکے امت مسلمہ کو علم کے نور سے روشناس کرایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب سے دوری کی ایک وجہ آج کا جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا کا معاشرہ ہے جہاں ایک قاری کے ہاتھ میں ایک خوب صورت کتاب ہونی چاہئیے تھی اس کی جگہ اسمارٹ موبائل نے لے لی اور ایک دفعہ پھر ہم کتاب سے دور ہوگئے۔ ہم نے وقت کی قدر نہ کی اور گھنٹوں اپنا وقت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر گزار دیا۔ کتاب اب انٹرنیٹ پر آگئی اور پبلشرز نے کتاب کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا تاکہ قاری کسی نہ کسی طرح کتاب سے استفادہ کرتا رہے اور اپنی علمی پیاس کو بجھاتا رہے اور کتاب سے اس کا تعلق قائم رہے لیکن جو مہذب قومیں اور معاشرے کے لوگ ہوتے ہیں وہ ہردور میں اپنی کلچر اور تہذیب کے پہرے دار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اپنا نظام ہے کہ دنیا تبدیل ہوتی جارہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیت بھی عطا کی کہ وہ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرتی تبدیلیوں کو زمانے سے روشناس کراتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔
پاکستان کے اندر بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ای لائبریریز کا قیام 2 اپریل 2018ء میں ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ای لائبریریز کا جال صوبہ پنجاب کے 20 ڈسٹرکٹ میں پھیل گیا۔ ان جدید ٹیکنالوجی سے لیس ای لائبریریز پنجاب کے پروجیکٹ میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا کردار نہایت ہی اہم ہے جہاں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے آٹی کی دنیا میں پنجاب میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ وہاں ڈائریکٹر جنرل ساجد لطیف اور ڈائریکٹر کاشف فاروق اور ای لائبریز پنجاب کی پروگرام آفیسر اقصیٰ غازی کی زیر نگرانی میں ای لائبریریز پنجاب کے پراجیکٹ نے کامیابی کی تاریخ رقم کی اور ای لائبریریز نے پنجاب کے اندر اپنی سروسز کے ذریعے اپنا لوہا منوایا اور ٹریڈیشنل لائبریز سے ہٹ کر اپنی سروسز پبلک کو مہیا کرتے ہوئے مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے۔ پاکستان کے اندر جہاں سوشل میڈیا کی بھرمار ہے اور ہمارے بچے، بوڑھے اور جوان ایک طرف اپنا وقت ضائع کرنے میں مصروف عمل ہیں تو دوسری طرف ای لائبریریز نے اپنا کردار بڑی ذمہ داری سے نبھاتے ہوئے کتاب کو قاری کے قریب سے قریب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہے جہاں ایک طرف کہا جاتا تھا کہ قاری کتاب سے دور ہورہا ہے لیکن ای لائبریز نے ایک دفعہ پھر کتاب کا رشتہ قاری کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
پاکستان میں بھی محدود پیمانے پر چند ایسے منصوبے موجود ہیں جن کے ذریعے الیکٹرانک کتابوں تک لوگوں کو رسائی دی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل لائبریری میں فراہم کردہ سہولیات میں 11سو رسائل اور میگزین کے علاوہ ڈیجیٹل ویڈیو کانفرینسنگ کی خدمات اور لیکچرز شامل ہیں۔ پاکستان اب تک صرف610ایم بی پیز بینڈوڈتھ (MBPS Bendoth) سے بیرونی دنیا سے رابطے میں ہے۔ سب سے اہم لنک 155ایم بی پیز کنکشن ہے جو کہ ساتھ ایسٹ ایشیا، مڈل ایسٹ اور ویسٹرن یورپ سے آپٹیکل فائبر لنک ہے۔آج پاکستان کی تقریباً سبھی لائبریریوں میں ڈیٹا ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو تعلیمی اور غیر تعلیمی نصاب بآسانی دستیاب ہو سکے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ادارہ اپنے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کے تحت طالب علموں کی علمی جرائد کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک کتابوں تک رسائی ممکن بنا رہا ہے۔ اس لائبریری میں 75ہزار سے زائد کتابیں، جرائد اور مضامین موجود ہیں۔اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت سائبر لائبریری منصوبے پہ کام کر رہی ہے جس کا مقصد قومی اور دیگر مقامی زبانوں میں انٹرنیٹ پہ مواد کی فراہمی ہے۔ اس لائبریری میں مذہب، ادب، تاریخ اور سائنسی موضوعات پہ کتب موجود ہیں۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا پاکستان میں تعلیم کے لئے مختص بجٹ ناکافی ہے اور خاص طور پر جب ہم اعلی تعلیم کے شعبے کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں رکھی جانیوالی رقم اور بھی کم ہے جبکہ پاکستان میں لائیبریری ترجیحات میں شامل ہی نہیں صرف چند تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن میں نسٹ (NUST) لمز (LUMS) آئی بی اے (IBA) فاسٹ (FAST) اور این یو (NU) شامل ہیں جو آن لائن معلومات کے حصول کے لئے معقول رقم خرچ کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات سرانجام دینے والے دیگر تعلیمی ادارے اس شعبے میں رقم خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کرتے۔
ڈیجیٹل کتب خانے روایتی کتب خانوں کی نسبت زیادہ فائد مند ہیں کیونکہ روایتی کتب خانوں میں ذخیرہ مواد کی گنجائش کم ہوتی ہے جبکہ ڈیجیٹل کتب خانے میں یہ گنجائش کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل کتب خانے پر وقت اور خرچ بھی کم ہوتا ہے، یہاں سے معلومات کی منظم رسائی مہیا ہوتی ہے اور یہ ہر وقت اپنے قارئین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جہاں ڈیجیٹل لائبریری کے فائدے ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں جیسے کہ کاپی رائٹ کا مسئلہ اکثر درپیش رہتا ہے۔ ایک مصنف کے کام کو دوسرا مصنف بلا اجازت اپنے نام کے ساتھ منسلک کر لیتا ہے جس سے ڈیجیٹائزیشن جملہ حقوق کو پامال کردیتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم قارئین کو روایتی کتب خانوں کی مانند مطالعہ کا ماحول فراہم نہیں کرسکتے۔انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں قارئین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سب وجوہات کے باوجود لائبریوں کو ڈیجیٹائز کرنا آنے والی نسل کے لئے خوش آئند ہے کیونکہ انہیں ہر قسم کی معلومات گھر میں بیٹھے محض ایک کلک سے میسر ہو جائے گی۔ قائد اعظم لائبریری میں بھی ڈیجیٹل لائبریری کی سہولت موجود ہے جہاں پر80کمپیوٹرز موجود ہیں جن میں لائبریری کی 16ہزار کمپیوٹرائزڈکتب موجود ہیں جنہیں آن لائن بآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔
تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اسکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کیلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ، محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(321 بار دیکھا گیا)

تبصرے