Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دنیا کی سب سے بڑی نمکین جھیل

قومی نیوز هفته 23 فروری 2019
دنیا کی سب سے بڑی نمکین جھیل

بحیرہ مردار (Dead Sea) دنیا کی سب سے بڑی نمکین جھیل ہے‘ جس کے مغرب میں مغربی کنارہ اور اسرائیل اور مشرق میں اردن واقع ہے ‘ یہ زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے‘ جو 420 میٹر (1378 فٹ ) نیچے واقع ہے ‘ علاوہ ازیں یہ دنیا کی سب سے گہری نمکین پانی کی جھیل بھی ہے‘ جس کی گہرائی 330 میٹر (1083 فٹ ) ہے م یہ جیوتی کی جھیل دنیا کا نمکین ترین ذخیرہ آب ہے ‘ اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحیرئہ روم سے 9 گنا زیادہ نمکین ہے ‘ جس کی شوریدگی3 اعشاریہ 5 فیصد ہے ‘ جبکہ مذکورہ ماہرین بحیرہ مردار کی شوریدگی کو31 اعشاریہ 5 فیصد قرار دیتے ہیں‘ بحیرہ مردار 67 کلو میٹر (42 میل ) طویل اور زیادہ سے زیادہ 18 کلو میٹر (11 میل ) عریض ہے ‘ بحیرہ مردار ہزاروں سالوں سے بحیرہ مردار کے گرد گھومنے والے سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش مقام ہے‘ بہت زیادہ شوریدگی کے باعث اس میں کوئی آبی حیوانات اور پودے نہیں پائے جاتے ‘ جبکہ اس میں کوئی انسان ڈوب بھی نہیں سکتا‘ اسے بحیرہ نمک بھی کہا جاتاہے ‘ کیونکہ اس کا پانی نمکین ہے‘ عرب اسے بحر میت کہتے ہیں‘ یہ قدیم زمانے میں بحر لوط بھی کہلاتا تھا‘ یہ دنیا کا پست ترین مقام ہے ‘ یہ دنیا کا واحد سمندر ہے‘ جس میں کسی قسم کی حیات نہیں پائی جاتی ‘ اس میں مچھلی ہے او رنہ کوئی پوداحتیٰ کہ اس میں کائی تک نہیں اگتی‘ آپ کو اس میں موج بھی دکھائی نہیں دیتی ‘ اس پر کشتی ‘موٹر بوٹ اور بحری جہاز بھی نہیں چل سکتے کیوں؟ کیونکہ ڈیڈ سی میں نمکیات کی مقدار 23 سے 25 فیصد عام ہے‘ عام سمندرمیں یہ مقدار 4 سے 6 فیصد ہوتی ہے‘ چنانچہ بھاری نمکیات کی وجہ سے ڈیڈ سی میں زندگی ممکن ہے اور نہ ہی کشتی رانی ‘ آپ جو ں ہی سمندر میں کشتی ڈالتے ہیں‘ یہ فوراً الٹ جاتی ہے‘ یہ دنیا کا واحد سمندر ہے‘ جس میں کوئی زندہ شحص اور جانور ڈوب نہیں سکتا‘ سمندر کا بھاری پانی ہر جسم کو فورا ً سطح پر لے آتا ہے‘ لوگ اس میں چھلانگ بھی نہیں لگاتے‘ یہ بس پانی میں بیٹھ جاتے ہیںاور پانی میں انہیں سطح پر لے آتا ہے‘ جس کے بعد لوگ دیر تک سطح آب پر بیٹھے رہتے ہیں‘ بحر میت کا کسی دوسرے سمندر سے کوئی رابطہ نہیں ‘ قریب ترین سمندر بحریہ روم ہے ‘ خلیج عقبہ اردن کوٹچ کرتی ہے‘ اسرائیل نے 1967 ء میں اس کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا تھا‘ یوں اس کا جنوب مشرقی علاقہ اردن اور مغربی علاقہ اسرائیل کے پاس ہے‘ بیت المقدس اس سے صرف 15 میل کے فاصلے پر ہے‘ آپ ڈیڈ سی کھڑے ہوکر بڑی آسانی سے فلسطینی علاقے کو دیکھ سکتے ہیں‘ رات کے وقت بیت المقدس کی روشنیاں بھی دکھائی دیتی ہیں‘ سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے‘ چنانچہ فضا میں ایک خواب ناک دھند چھائی رہتی ہے‘ ہوامیں نمکیات بھی ہیں اور گرمی بھی‘ آپ جو ں ہی ڈیڈ سی کے قریب پہنچتے ہیں‘ درجہ حرارت بڑھتا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ آپ کنارے پہنچ کر کوٹ اور جیکٹس اتارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں‘ پوری دنیا سے لوگ قدرت کے اس عجوے کو دیکھنے آتے ہیں‘ بحر میت کی پانی کوجلد کے لیے شافی سمجھا جاتا ہے‘ لوگ سمندر کا کیچڑ جمع کرکے کنارے پر لاتے ہیں‘ لوگ یہ کیچڑ جسم پر ملتے ہیںاور سمندر کے پانی میں بیٹھ جاتے ہیں‘ پانی اور کیچر جسم کے مساموں میں داخل ہوکر جلد کو جوان کردیتا ہے‘ تاہم جسم یہ کیچر دھونا بہت مشکل ہوتاہے‘ نمکیات دیر تک جسم سے چپکے رہتے ہیں‘ لوگ سمندر سے نکل کر 3 ‘ 3 بار بیٹھے پانی سے غسل کرتے ہیںاور پھر کہیں جا کرنارمل ہوتے ہیں‘ اردن کی بے شمار کمپنیاں ڈیڈ سی کے نمکیات سے جلد کی مصنوعات بناتی ہیں‘ ان میں’’ڈیڈ سی مڈ ماسک‘‘ زیادہ مشہورہے‘ یہ پراڈکٹس پوری دنیا میں جاتی ہیں‘ یہ سمندردراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نتیجہ ہے‘ حضرت لوطؑ کی پانچ بستیاں جن میں سدوم ‘ عمورہ اور زعرزیادہ مشہور تھیں‘ یہ ڈیڈ سی کی جگہ آباد تھیں‘ حضرت لوطؑ ‘ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے‘ یہ جدالانبیاء کے ساتھ عراق کے شہر ’’ار‘‘ سے نکلے ‘ یہ پہلے موجودہ ترکی کے شہر شانلی عرفہ پہنچے‘ عرفہ کے بادشاہ نمرود نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں جلانے کی کوشش کی‘ یہ اس کے بعد سفرکرتے ہوئے سدوم کے قریب پہنچے‘ حضرت ابراہیمؑ فلسطین تشریف لے گئے ‘ لیکن حضرت لوطؑ اپنی اہلیہ کے ساتھ سدوم میں رک گئے‘ سدوم کے لوگ دو علتوں کے شکار تھے‘ یہ رہزنی کرتے تھے‘ سدوم شام کے راستے میں تھا‘ یہ لوگ سڑک سے گزرتے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے‘ دوسرا یہ ’’ہم جنسیت‘‘کا شکار تھے‘ حضرت لوطؑ انہیں تبلیغ فرماتے رہے‘ لیکن یہ لوگ باز نہ آء ے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرانے کا فیصلہ کرلیا‘ حضرت جبرائیل ؑ فرشتوں کے ساتھ تشریف لائے ‘ یہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس گئے‘ انہیں بڑھاپے میں اولاد نرینہ کی خوش خبر ی سنائی ‘ صاحبزادے کا نام حضرت اسحاق ؑ تجویز کیا اور پھر یہ سدوم آگئے‘ یہ مہمان بن کر حضرت لوطؑ کے گھر میں ٹھہرے ‘ سدوم کے ہوس کے پجاریوں نے حضرت لوط ؑ کے گھر کا محاصرہ کرلیا‘ یہ مہمانوں کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے تھے‘ فرشتوںنے اپنے آپ کو حضرت لوط ؑ پر ظاہر کردیا‘ انہیں اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچایااور درخواست کی آپ ؑ اپنے اہل وعیال کے ساتھ بستی چھوڑ کر پہاڑ پر تشریف لے جائیں‘ آپؑ سے درخواست کی گئی آپ لوگ جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے‘ حضرت لوطؑ کو اپنی اہلیہ اور 2 صاحبزادیوں کے ساتھ پہاڑ کی طرف روانہ ہوگئے‘ فرشتوںنے اس کے بعد پوری آبادی ہتھیلی کی طرح پلٹ دی‘ انجیل کے مطابق گڑگڑاہٹ کی آواز آئی تو حضرت لوطؑ کی اہلیہ نے مڑ کر دیکھ لیا‘ اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی پر اسے پتھر کی چٹان بنادیا‘ یہ چٹان آج بھی بحر میت کے کنارے پر موجود ہے اور یہ دور سے ایک حیران وپریشان خاتون دکھائی دیتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط ؑ کایہ واقعہ مقدس میں بھی بیان فرمایا اور قرآن مجید میں سورۃ ہود ‘ العنکبوت ‘ الشعرایٔ اور الجر میں بھی یہ علاقہ دنیا کا پست ترین مقام ہے‘ بحر میت اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نشانی ہے‘ یہ سمندر اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا‘ یہ قوم لوط ؑپر عذاب کے نتیجے میں ظاہر ہوا‘ اس میں حیات بھی اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی‘ یہاں اسی لئے باقی علاقوں کے مقابلے میں گرمائش بھی زیادہ ہوتی ہے‘ یہ جگہ مقام تفریح نہیں یہ مقام عبرت ہے‘ یہ جگہ اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سدوم کی مناسبت سے ہم جنسیت کو سوڈی اور لواطت کانام دے دیا‘ مشہور یہودی مورخ جوز یفس جو حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں گزرا ہے‘ اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ حضرت لوط ؑ کی بستیاں سدوم اور عمودہ جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہواتھا’’سجر مردار‘‘کے کنارے واقع تھیں‘ اسی بنیاد پر 1924 ء میں مستشرقین کی جماعت نے پورے علاقے کی تحقیق کرکے بتایا کہ یہ بستیاں ’’بحر مردار ‘‘ کے جنوب مشرقی حصہ پر واقع تھیں‘ اسی بنیاد پر مصری تحقیق عبدلوہاب النجار نے اپنی رائے ظاہر کی‘ یہ سمندر پیدا ہی اس طرح ہوا کہ حضرت لوطؑ کی قوم پر عذاب آیا‘ ان کی بستیاں الٹ دی گئیں‘ تویہاں سمندر کا پانی نکل آیا‘ ورنہ حضرت لوطؑ سے پہلے یہاں کوئی سمندر موجود نہیں تھا‘ بحر مردار یا نمک کے سمندر کی رومیوں کی نظر میں اتنی زیادہ اہمیت تھی کہ انہوںنے اس سمندر پر پہرے لگا رکھے تھے کہ کوئی یہاں سے نمک نہ لے جائے اور وہ کام کرنے والوں کو اجرت بھی نمک کی صورت میں دیا کرتے تھے‘ یہ بھی کہا جاتاہے کہ انگریزی کا لفظ سیلری یعنی تنخواہ بھی ’’سال ‘‘ سے ہی نکلا ہے۔

(407 بار دیکھا گیا)

تبصرے