Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مردہ یا زندہ خاتون

قومی نیوز جمعه 22 فروری 2019
مردہ یا زندہ خاتون

گھوٹکی میں مردہ قرار دی جانے والی خاتون سسی کراچی کے علاقے سائٹ سپر ہائی وے پولیس کے ہاتھوں شوہر سمیت گرفتار ہوگئی ‘ جس کے بعد پولیس کی غفلت اور لاپرواہی کی سزا کاٹنے والے سسی قتل کیس کے جھوٹے مقدمے میں نامزد بے گناہ 6 ملزمان کی رہائی متوقع ہوگئی‘ واقع کے حوالے سے قومی اخبار کو ملنے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے وزیر گوٹھ میں ایک کامیاب چھاپہ مار کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 2 میاں بیوی کو گرفتار کرلیا‘ جس کے حوالے سے ابتدائی طورپر ایس ایس پی عرفان بہادر نے بتایا کہ بازیاب ہونے والی لڑکی سسی گھوٹکی شہر سے 3 سال قبل اغواء کے بعد قتل ہوگئی تھی‘ جس کے قتل کا مقدمہ سسی کے والد نے گھوٹکی میں واقع عادل پور تھانے میں درج کروایاتھا‘ جس میں سسی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ میری بیٹی کو نامعلوم اشخاص نے زبر دستی اغواء کیاہے‘ انہیں تلاش کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے اور ہماری بیٹی کو بازیاب کروایا جائے‘ لیکن مقدمے کے تیسرے دن گائوں میں موجود ایک پانی کی نہر سے ایک خاتون کی نعش برآمد ہوئی‘ جسے شناخت کے لیے جب سسی کے ورثاء کو دکھایا تو شوہر اور بہن نے اسے شناخت کرلیا‘ ایس ایس پی ملیر کے مطابق شناخت کرنے کے بعد نعش کو پولیس کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا‘ جبکہ پولیس نے مقتولہ کے والد کی نشاندہی اور شک کی بنیاد پر 6 ملزمان کو مقدمہ میں نامزد کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی‘ جبکہ تفتیش کے عمل میں شناخت کے بعد نامزد ملزمان کے خلاف کورٹ میں چالان بھی پیش کردیا گیا‘ مسماۃ سسی شیخ 3 بچوں کی ماں ہے ‘ جس نے کراچی میں بازیاب ہونے کے بعد ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر اور بچوں کو چھوڑ کر کراچی آئی تھی‘ اس لیے کسی نے اغواء نہیں کیاتھا‘جس کے بعد ضلع ملیر پولیس نے مزید قانونی کارروائی کے لیے گھوٹکی پولیس کو اطلاع فراہم کردی‘ جس کے بعد گھوٹکی پولیس نے کراچی آکر سسی کو اپنی حراست میںلے لیا‘ واقع کے حوالے سے سائٹ سپر ہائی وے پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں موجود سسی کے گرفتار موجودہ شوہر شعیب نے قومی اخبار کو بتایا کہ میں ملتا ن میں موجود تھاکہ میر ی ایک رانگ کال پر سسی سے ٹاک شاک شروع ہوگئی‘ کچھ ہی عرصہ یہ سلسلہ چلا تھا کہ سسی نے مجھے بتایا کہ میں گھر والوں سے بہت زیادہ پریشان ہوں اور مجھے میرے گھر والے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں‘ میرا شوہر مجھ پر بہت زیادہ تشدد کرتا تھا‘ جس کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا ہے‘ جس سے میرے بچے بھی ہیں‘ اس نے مجھے کہا کہ تم مجھ سے شادی کرو گے‘ جس پر میں رضامند ہوگیااور تمام کام چھوڑ کر ملتان سے کراچی آگیا‘ جہاں میں نے سسی سے شادی کرلی‘ جس سے مجھے 2 بچے بھی ہوئے تھے‘ جوکہ فوت ہوچکے ہیں‘ سسی اپنی مرضی سے رضا مندی سے یہاں آئی تھی‘ اس سے کسی طرح کی کوئی زبردستی نہیں کی ہے‘ شعیب نے قومی اخبار کو بتایا کہ میں نائٹ ڈیوٹی کرکے گھر آیا تھااور سورہا تھا کہ میری بیوی آئی اور کہنے لگی کہ پولیس آئی ہے باہر جاکر دیکھا تو پولیس اہلکار موجود تھے‘ جو کہ ہمیں گرفتارکرکے یہاں لے آئے ہیں‘ میں نے تو سسی سے اس کی بھلائی کی خاطر نکاح کیاتھا‘ مجھے نہیں معلوم کہ پولیس نے ہمیں کیوں گرفتار کیاہے‘ ہمارا کیا قصور ہے‘ وہاں پولیس نے معاملہ کچھ اور ہی بتایاہے‘ اگر میری بیوی کسی کے خلاف مقدمہ کروائے گی‘ جس نے اسے مردہ قرار دیا یا حق کا ساتھ دے گی‘ اس کے قتل اوراغواء میں نامزد ملزمان جوکہ بے گناہ ہیں ‘ اس میں ان کا ساتھ دے گی‘ تو میں بھی اللہ کی رضا کے لیے اپنی بیوی اور بے گناہ لوگوں کا بھرپور ساتھ دوں گا۔واقع کے حوالے سے سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں موجود سسی نے قومی اخبار کو بتایا کہ میں اپنی مرضی سے بناء کسی کے جبر کے کراچی آئی اور شعیب سے نکاح کیا‘مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا‘ میرے مرنے کی جھوٹی خبر پھیلانے والوں کے خلاف اورمیرے مقدمے میں نامزد بے گناہ لوگوں کو ایسے فعل کی سزا دلوانے والوں کے خلاف جوکہ انہوںنے کیا ہی نہیں قانون کے مطابق سزا دینی چاہئے ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دینا چاہیے کہ بناء تصدیق اور بناء پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے کیوں جھوٹا مقدمہ درج کیاتھا‘ پولیس کو بتانا چاہیے کہ وہ عورت کون تھی‘ جس کی نعش ملی تھی‘ اس کو کس نے قتل کیاتھا‘ میرے والد میری شادی کسی اور جگہ میری مرضی کے بغیر کروانا چاہیے‘ جس کی وجہ سے اپنی جان چھڑ وا کر کراچی آگئی تھی‘ مجھے جن لوگو ں نے مردہ قرار دیا تھا پولیس سے اپیل کرتی ہوں کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کریں‘ واقعے کے حوالے سے بے گناہ سسی قتل کیس میں نامزد جکھرو فیملی کے اہل خانہ وسیم احمد جکھرو اور بیگوجکھرو گائوں کی اہم شحضیت ریاض حسین جکھرو نے قومی اخبار کو واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ہماری فیملی کا ایک شحض رضوان جکھرو سسی کے شوہر شعیب کے ساتھ ملتان میں ملازمت کرتا رہا ہے‘ ماضی میں جہاں اس کی دوستی شعیب کے ساتھ ہوگئی تھی‘ یہ لوگ ملتان میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے‘ چونکہ شعیب کے پاس CNIC نہیں تھا‘ جس کی وجہ سے بائیو میٹرک نہ ہونے کی وجہ سے رضوان اپنی موبائل سم استعمال کرنے کے لیے شعیب کو دے دی تھی‘ جوکہ رضوان کے نام پر تھی‘ جسے لے کر شعیب کراچی آگیاتھا‘ جب سسی گائوں سے غائب ہوئی ‘ گھوٹکی سے تو پولیس نے اس کی ایف آئی آر کے حوالے سے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ سسی شعیب کے پاس استعمال ہونے والی سم اور نمبر سے رابطے میں تھی‘ جس کی وجہ سے انہوںنے ڈیٹا نکلوانے کے بعد ہمارے اہل خانہ کو نامزد کردیا‘ بعد ازاں پولیس اورلڑکی کے والدین نے ہمیں مختلف بہانوں سے بلیک میل کرنا شروع کردیا‘ اتفاق سے اس مقدمہ کے ایک دودن بعد ان کے گائوں سے ایک لڑکی کی نعش بھی ملی ‘ جس کوسسی کے سابق شوہر اور بہن نے شناخت بھی کرلیاتھا‘ اس مقدمہ کے حوالے سے گھوٹکی پولیس نے شکار پور پولیس کا تمام تر واقعے کی اطلاع دی‘ جس کے بعد شکار پور پولیس نے واقع کے 2 سال بعد اچانک آکر رضوان کو حراست میں لے لیا‘ اس وقت تک ہمیں تمام تر واقعے کا معلوم بھی نہیں تھا‘ جب پولیس نے رضوان کو اٹھایا تو ہمیں تمام تر کہانی کا علم ہوا ‘ مز ے کی بات یہ ہے کہ پولیس نے ہمارے گھر کے مزید 6افراد کو اس کیس میں کیوںنامزد کیا‘ پولیس نے مقدمہ 29/16 بجرم دفعہ 392/201/148/149 درج کرکے ہمارے دوسرے گھر کے معزز لوگوں کو بھی نامزد کردیا‘ جس کے بعد پولیس نے ہمیں بلیک میل کرکے رضوان کو رہا کرنے کے عوض ہم سے 2 لاکھ روپے وصول کئے‘ جبکہ باقی لوگوں کو مقدمے کے چالان میں مفرور ثابت کردیا‘ یہاں پر پولیس کارروائی کے حوالے سے اور اس واقعے کے حوالے سے بہت سے سوالات نے جنم لیاہے ‘ جس کے جواب کے ہم متلاشی ہیں‘ پولیس نے گھوٹکی سے ملنے والی نعش جس کو سسی کی نعش بنا کر پیش کیاتھا‘ اس کے حوالے سے کیا تحقیقات ہیں اس کو کس نے قتل کیاتھااور وہ کو ن تھی‘ دوسرا سوال اگر سم کارڈ کی وجہ سے رضوان کو حراست میں لیاتو 2 لاکھ رشوت لے کر چھوڑ ا کیوں پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کے لیے ریاست سزا تجویز نہیں کرے گی‘ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی کے مصدقہ زبانی کلامی شناخت کرلینے سے پولیس تفتیش مکمل ہوجاتی ہے یا اس ملنے والی نعش کا پوسٹ مارٹم غلط کیا گیا تھا‘ یایہ وہی رپورٹ تھی‘ جیسے شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والی زیتون کے تیل کی بوتلوں کی رپورٹ تھی‘ چوتھا سوال پولیس نے کیس کو ایمانداری سے حل کیوں نہیں کیا‘ پولیس ہمیں اتنے عرصے تک پریشان اور بلیک میل کرتی رہی اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ہم بے دریغ پیسہ وقت زیاں کرتے رہے‘ عزت الگ خراب ہوئی‘ اس حوالے سے ہتک عزت اور اخراجات کا ذمہ دار کون ہوگا‘ ہمیں گرفتاربھی شکارپور پولیس نے کیا رشوت بھی انہوںنے لی‘ جبکہ ہماری مدد گار پولیس اسٹیشن ہے ‘ کیا ہماری پولیس میں اس قدر اندھیر نگری چوپٹ راج ہے کہ اپنے حقوق اور تحفظ کیلئے ہم اس قدر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔واقعے کے حوالے سے گھوٹکی پولیس جب ہمیں اور سسی کو بیان کے لیے گھوٹکی سیشن جج کے پاس کراچی سے لے کر آئی تو راستے کے تمام تراخراجات بھی ہم نے اپنی جیب سے ادا کیے ‘ جبکہ کیس کا تفتیشی آفیسر مراد ملی سہتو مسلسل ہمیں ڈراتا اور دھمکاتا رہا کہ اگر لڑکی نے بیان تمہارے خلاف دے دیاتو تم سب بند ہوجائو گے‘ پولیس کے اس منفی مجرمانہ فعل سے ہماری بہت دل آزاری ہوئی‘ لیکن لڑکی نے جج کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ میرے گھر والے زبر دستی میری شادی کروانا چاہتے تھے‘ جس کی وجہ سے میں گھر والوں سے تنگ تھی اور میں نے شعیب سے اپنی مرضی اور رضامندی سے شادی کی تھی‘ رضوان میرا بھائی جیسا ہے‘ جس نے میرے سر پر بھائی کی حیثیت سے ہاتھ رکھا تھا‘ جبکہ دیگر نامزد لوگوں کو میں نہیں جانتی نہ میرا ان سے کوئی واسطہ ہے‘ لڑکی کے بیان کے بعد جج نے نامزد تمام ہمارے لوگوں کو باعزت بری کردیااور اللہ پاک نے ہمیں سرخرو کردیا‘ لیکن میرا اس تمام واقعے کے حوالے سے پولیس میں موجود ہ کالی بھیڑیں اور لوگ جو کہ اس کے ذمہ دار ہیں اورسزا کے مرتکب ہیں‘ ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ہے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

(358 بار دیکھا گیا)

تبصرے