Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پولیس کے مبینہ مقابلے

عارف اقبال جمعه 22 فروری 2019
پولیس کے مبینہ مقابلے

شہر میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکت اور پولیس کے چائنا ٰآپریشن کے بعد چائنا مقابلے میں شروع کردیئے ہیں‘ جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پولیس کی روایتی بے حسی کی وجہ سے مزدور لیڈر ‘ قوم پرست رہنما سمیت 4 شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں‘ ان پراسرار مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکت پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے‘ لیکن پیٹی بند بھائیوں کو گرفتار کون کرے ‘ سب مقابلوں کے بعد تحقیقات کا حکم ہوا‘ ٹیمیں پہنچیں لیکن گرفتاری کوئی نہیں ہوئی‘ ان پراسرار مقابلوں اور اختیارات کی جنگ میں سندھ حکومت اور پولیس افسران میں بھی ٹھن گئی‘ لیکن نتیجہ صفر نکلا‘ ایک کے بعد دوسرا واقعہ رونما ہوتا رہا‘ نئے سال کا آغازہوتے ہی پہلا واقعہ ڈیفنس تھانے کی حدودمیں پیش آیا‘ جہاں خیابان بادبان پر واقع بنگلے پر پولیس پارٹی نے طارق مصطفی اس کے ڈرائیور قائم علی اور ایک لڑکی کو حراست میں لے کر تھانے لایاگیا‘ ڈیل ہوئی 5 لاکھ روپے اور لڑکی کو پولیس والے اپنے ہمراہ لے گئے‘ پولیس نے قائم علی کو رہا نہیں کیا‘ مبینہ طورپر اس پر تشدد بھی کیا‘ جس سے اس کی حالت خراب ہوگئی اور وہ لاک اپ میں جاں بحق ہوگیا‘ پولیس موبائل اس کی نعش قومی ادارہ امراض قلب میں چھوڑ کر چلی گئی تھی‘ اطلاع ملنے پر مقتول کا بھانجا اقبال پہنچا ‘ اس نے اپنے ماموں کی ہلاکت پر احتجاج کیا‘ اقبال کے مطابق ان کا ماموں 3 ماہ سے بنگلے پر ڈرائیور تھا‘ اقبال نے تحریک انصاف کے رہنمائوں سے رابطہ کرکے تمام صورتحال سے آگاہ کیا‘ جس پر تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ، راجہ اظہر ڈیفنس تھانے گئے‘ کارکنوں نے احتجاج بھی کیا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیفنس پولیس نے 45 سالہ شہری قائم علی کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 2019/5 مقتول کے بھانجے محمد اقبال کی مدعیت میں درج کرلیا، 34/302 کے تحت درج کئے جانے والے مقدمے میں ڈیفنس تھانے کے ڈیوٹی افسر ایک سب انسپکٹر، موبائل افسر اے ایس آئی اور 4 اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے اور مقدمے میں نامزد 2 اہلکاروں کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔
31 جنوری کو تیموریہ پولیس نے کے بی آر سوسائٹی سے چائنا مقابلے کے بعد ایک ملزم 21 سالہ بلال ولد ہمایوں کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاتھا‘ پولیس زخمی کو عباسی شہید اسپتال لائی اور ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹرنے بلال کی حالت تسلی بخش قرار دی‘ جس پر پولیس اس کو اپنے ہمراہ لے گئی‘ تھانے کے لاک اپ میں مبینہ تشدد کیاگیا اور اس کو اذیت دینے کے لیے پائوں کے زخم کو چھیڑا بلال کی چیخیں تھانے کے باہر بھی آرہی تھیں‘ بلال درد سے تڑپنے لگا‘ پولیس اس کی اس حالت کو ڈرامہ قرار دینے لگی ‘ لیکن جب وہ نیم مردہ ہوکر لاک اپ میں گرگیا‘ تو پولیس والے پریشانی کی حالت میں بلال کو عباسی شہید اسپتال لائے‘ جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی ‘ تھانیدار چوہدری طفیل نے اس واقعہ کے بارے میں ابتدائی طورپر بتایا کہ بلال نشے کا عادی تھا‘ نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے‘ کوئی تھانیدار صاحب سے اور پوچھنے والا نہیں تھاکہ بلال 24 گھنٹے سے آپ کی تحویل میں تھا‘ تھانے کے لاک اپ میں اس نے اتنا نشہ کیسے کرلیا‘ ایم ایل او عباسی شہید اسپتال شاہد نظامی کے مطابق ملزم کی ٹانگ پر گولی لگی تھی‘ جس کے باعث اس کی شریانیں شدید متاثر ہوئیں‘ ملزم کا خون زیادہ بہہ گیا تھا‘ ملزم کا پوسٹ مارٹم فارنزک ماہرین کی موجودگی میں ہوگا‘ پولیس نے نعش کو لاوارث قرار دے کر چھیپا ایمبولینس کے حوالے کرکے نعش چھیپا کے سردخانے میں رکھوا دیا‘ بلال گجر کے گھروالوں کو پولیس نے اس واقعہ کی اطلاع نہیں دی ‘ بلال کاتعلق اوگی مانسہرہ کے علاقے سے تھا‘ وہ لاسی گوٹھ سہراب گوٹھ کا رہائشی تھا‘ اس کا چچا فریدن خان اور اہل خانہ پی ٹی آئی کے ووٹر تھے‘ مقتول کے اہل خانہ نے بتایا کہ بلال اپنے بھائی بلاول کے ہمراہ میٹروول شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے رکشے میں جارہے تھے‘ حیدری کے قریب پان کے کیبن سے سگریٹ خریدی جہاں تیموریہ تھانے کے اہلکاروں نے تلاشی کے بہانے روک کر رشوت طلب کی‘ جس پر بلال کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوگئی‘ مزید پولیس اہلکار جمع ہوگئے اور دونوں بھائیوں کو تیموریہ تھانے منتقل کردیا گیا‘ جہاں دونوں بھائیوں کو علیحد علیحدہ کمرو ں میں رکھا۔
22سالہ بلال ولد ہمایوں پر رات گئے پولیس اہلکاروں کے تشدد کے بعد پولیس نے تھانے کے اندر فائرنگ کرکے قتل کردیا،۔چھوٹے بھائی بلاول ولد ہمایوں کو پولیس اہلکاروں نے رات 2بجے جمالی گوٹھ پل کے قریب چھوڑ دیا اور اسے کہا کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو گولی ماردینگے، بلاول ولد ہمایوں صبح 8بجے اپنی بوڑھی والدہ کو لیکر تیموریہ تھانے بھائی کا معلوم کرنے گیا تو ڈیوٹی افسر نے کہا کہ 10بجے آجاؤجب 10بجے بلاول اور والدہ تیموریہ تھانے گئے تو پولیس اہلکاروں نے مرکزی دروازے سے ہی دونوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر واپس کردیا،شام 5بجے پولیس اہلکاروں نے والدہ اور چھوٹے بھائی کو بتایا کہ ہم نے بلال کو رہا کردیا ہے مقتول کے چچا فریدون خاکسارکے مطابق۔دوسرے دن شام 7 بجے عوامی نیشنل پارٹی سینٹرل کے صدر نیاز محمد نے مجھے فون کرکے بتایا کہ آپ کے بھتیجے کو تیموریہ تھانے میں قتل کردیا گیاہے،طلاع ملتے ہی میں فوری طورپر تیموریہ تھانے پہنچا اور تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ،راجہ اظہر خان، ڈاکٹر عمران،ریاض حیدر، ایم این اے سیف الرحمن بھی تھانے آگئے،کراچی۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ پولیس نے میرے بھتیجے کو ماورائے عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس پر ہم نے احتجاج کیا اعلیٰ افسران کے نوٹس پر ایس ایچ او سمیت چار اہلکاروں پر قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی۔پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کیلئے مجھ پر راضی نامے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے تاحال میرے بھتیجے کے ماورائے قتل میں ملوث ایک بھی ملزم گرفتار نہیں ہوا، اگر سندھ پولیس نے ماورائے عدالت قتل میں ملوث سابقہ ایس ایچ اوتیموریہ سمیت دیگر اہلکاروں کیخلاف کارروائی نہ کی تو اپنے اہلخانہ سمیت آئی جی آفس کے سامنے خودسوزی کرونگا کہ سٹی کورٹ سے ان اہلکاروں کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے کے بعد بھی پولیس نے پیٹی بند بھائیوں کو گرفتار نہیں کیا تو سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت کروانے کا موقع دیا‘ ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ایس ایچ او اہل خانہ پر صلح کے لیے دبائو ڈالا کہ ملزمان کی ضمانت کی منظوری کے خلاف مقتول بلال کی والدہ نے درخواست جمع کروائی کیس کی سماعت میں جسٹس نذیر اکبر پر مشتمل بنچ کے روبرو تیموریہ تھانے کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے میں شہری کی ہلاکت کے مقدمے میں ملزم ایس ایچ او تیموریہ طفیل چوہدری او ر دیگر اہلکاروں کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی‘ مقتول نوجوان بلال کی والدہ نے کمرہ عدالت میں آہ وزاری شروع کردی‘ والدہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے یکم فروری کی رات شادی پر جانے والے 2 بیٹوں کو حراست میں لیا‘ تیموریہ پولیس نے جعلی پولیس مقابلے میں ایک بیٹے بلال کو قتل کردیا‘ والدہ نے آہ وزاری کی کہ پولیس بیٹے کے قتل میں ملوث تھانیدار سمیت دیگر پیٹی بند بھائیوں کو بچانے میں لگی ہے‘ جس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔عدالت نے پولیس سے 13 مارچ کو کیس ریکارڈ طلب کرلیا۔
جعلی پولیس مقابلوں کا پول کھولنے میں سوشل میڈیا کا اہم کردار 6 فروری کو شاہ لطیف ٹائون کے علاقے بھینس کالونی موڑ سے متصل بابر کانٹا کے قریب بھینس کالونی کی یونین کونسل 5 کے ناظم رحیم شاہ جس کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے‘ نرسری کے قریب واقع بینک سے 10 لاکھ روپے نکال کر اپنے گھر آرہا تھا‘ بھینس کالونی موڑ بابر کانٹا کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ڈاکوئوںنے رحیم شاہ کی گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے اس سے رقم طلب کی ‘ رحیم شاہ کے گاڑی کے اندر سے ہی اپنے پستول سے ڈاکو پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا‘ جو بعد ازاں ہلاک ہوگیا‘ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس نے سارے مقابلے کا پول کھول دیا‘ ویڈیو میںمبینہ ڈاکو سڑک پر پڑا تڑپ رہا تھا‘ رحیم شاہ نے ڈاکو کو مزید گولیاں ماریں‘ ڈاکو کے قریب سڑک پر ایک 9 ایم ایم کا پستول پڑا دکھائی دیا‘ جس کو رحیم شاہ کے ساتھی پائو ں سے دور کررہے تھے‘ موقع پر موجود ایک شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بھائی ا س کو اسپتال پہنچائو ‘ پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی‘ لیکن پولیس نے بھی اس کو اسپتال نہیں پہنچایا‘ ایمبولینس میں خون میں لت پت ڈاکو مدد کے لیے پکار رہا تھا‘ پولیس اہلکار اس کی تلاشی لے رہاتھا اس کا چہرہ اور پورا جسم خون میں لت پت تھا‘ بعد میں اس کی شناخت ارشاد علی رانجھانی کے نام سے ہوئی‘ جس کے بارے میں بتایا گیا کہ ارشاد رانجھانی جئے سندھ تحریک کراچی ڈویژن کا صدر تھا‘ ان کا تعلق ضلع دادو سے ہے ‘ اس کو یو سی چیئر مین رحیم شاہ نے ڈرامائی انداز میں قتل کیاہے‘ پولیس نے رحیم شاہ کو ہیرو قرار دے کر اس نوجوان کو سڑک پر تڑپنے دیا‘ رحیم شاہ نے گاڑی کے اندر سے جب ایک گولی اس کو ماردی تھی تو پھر سڑک پر تڑپتے ہوئے اس کو مزید گولیاں ماری گئیں‘ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قوم پرست تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا۔
جبکہ قوم پرست جماعت اور سیاسی رہنمائوں نے دادو میں ارشاد رانجھانی کے بھائی منور رانجھانی، نور علی اکرم رانجھانی اور دیگر ورثاء سے تعزیت کی۔ارشاد کے بھائی نے بتایا کہ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے ووٹر ہیں۔ والدہ نے بتایا کہ میرا بیٹا بے قصور تھا، 2 گھنٹے تڑپتا رہا، کوئی مدد کے لئے نہیں آیا۔ ارشاد کی بیوہ نے کہا کہ شوہر کو یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے 10 گولیاں ماریں، وزیراعظم، چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ سندھ ہمیں انصاف دلائیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ارشاد رانجھانی کے قتل کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کیس کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کو ہدایت کی کہ وہ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو ایک خط لکھیں جس میں ارشاد رانجھانی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی درخواست کی جائے۔ مراد علی شاہ نے آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ وہ ایک سینئر پولیس افسر کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔دوسری جانب ہلاک ہونے والا کرمنل ریکارڈ کا حامل نکلا۔ ارشاد رانجھانی کے خلاف 6 مقدمات درج ہیں جن میں وہ گرفتار بھی ہوچکا ہے۔ارشاد رانجھانی کے خلاف نارتھ ناظم آباد تھانے میں 25 نومبر 2003ء کو مقدمہ الزام نمبر 409/2003 بجرم دفعہ 392 درج ہے۔ اسی طرح ڈیفنس تھانے میں 20 جون 2008ء کو مقدمہ الزام نمبر 262/2008 بجرم دفعہ 411 اور مقدمہ الزام نمبر 263/2008 بجرم دفعہ 13 ڈی درج ہیں۔ جبکہ 2 مقدمات حیدرآباد کے تھانہ بلدیہ میں بھی 27/2014 اور 73/2014 درج ہیں اور دونوں مقدمات سال 2014ء میں اقدام قتل، پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی دفعات کے تحت درج ہوئے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی نے ایس ایس پی ملیر آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد پہنچنے والے ریسکیو ادارے کے ڈرائیور اور عینی شاہدین سے بیانات لئے گئے جس سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یوسی چیئرمین رحیم شاہ نے زخمی مبینہ ملزم ارشاد رانجھانی کو اُٹھانے میں رکاوٹ ڈالی ہے جس پر رحیم شاہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ پولیس کو کوئی شواہد نہیں ملے کہ رحیم شاہ نے مبینہ ملزم ارشاد رانجھانی کو زخمی کرنے کے بعد اس پر مزید فائرنگ کی۔ یہ بات واضح ہے کہ واقعہ ڈکیتی کا تھا، یوسی چیئرمین 6 فروری کو واقعہ سے قبل نرسری کے قریب واقع بینک سے رقم لے کر نکلے تھے اور وہ جیسے ہی شاہ لطیف کے علاقے میں داخل ہوئے تو اُن کو ہلاک ہونے والے مبینہ ملزم نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر روکا اور لوٹ مار کی کوشش کی، سب انسپکٹر ریاض حسین کو معطل کردیا ہے کیونکہ سب انسپکٹر ریاض حسین بھی جائے وقوعہ پر دیر سے پہنچا۔ ارشاد رانجھانی کو 5 گولیاں لگی ہیں،ارشاد رانجھانی کے دیگر ساتھی بھی موقع پر موجود تھے۔ واقعہ ڈکیتی کا ہی تھا یہ تحقیقات میں واضح ہوگیا ہے، تمام شاہدین کے بیانات عدالت میں پیش کردیں گے، مبینہ ملزم کے اہل خانہ کے کہنے پر دوسرا مقدمہ درج کردیں گے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، یوسی چیئرمین رحیم شاہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جارہی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے پاس یوسی چیئرمین رحیم شاہ اور ارشاد رانجھانی دونوں کا کریمنل ریکارڈ موجود ہے۔ رحیم شاہ پر3 اور ارشاد رانجھانی پر 6 مقدمات درج ہیں، واقعہ کا مقدمہ رحیم شاہ کی مدعیت میں پہلے درج کیا جاچکا ہے اور پولیس ارشاد رانجھانی کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک جو بھی تحقیقات ہوئی ہیں اور شواہد سامنے آئے ہیں انہیں عدالت کے سامنے رکھا جائے گا۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ ارشاد علی رانجھانی کے جسم پر 5 گولیاں ماری گئی ہیں جس کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹ 10 بنتے ہیں، ارشاد رانجھانی کومزید گولیاں مارے جانے کے حوالے سے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی کوئی گواہ سامنے آیا۔
پولیس افسران کی جانب سے بھینس کالونی میں ارشاد رانجھانی قتل معاملے کی تفتیش پر حکام سے بھی سیاسی حکومت ناراض ہے ۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے گزشتہ روز آئی جی سندھ کو لکھا گیا خط بھی اسی حکمت عملی کی کڑی ہے ۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئی جی سندھ کو پولیس افسران کے تقرر و تبادلوں سمیت روزمرہ کے انتظامی امور میں با اختیار بنائے جانے سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سخت پریشان ہے اور اس کی پسند نا پسند کا معاملہ بڑی حد تک متاثر ہوا ہے۔ارشاد رانجھانی معاملے پر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایسے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔اعلیٰ پولیس افسران ڈاکوؤں کو پکڑ کر مارنے والے شہریوں کو شاباشی دیتے رہے ہیں ۔ایسے واقعات میں بعض اوقات حکومت سندھ آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ اپنا رد عمل بھی دیتی رہی لیکن ارشاد رانجھانی کی ہلاکت پر جس طرح کا شدید رد عمل آیا ہے، اس سے پہلے کسی واقعہ پر نہیں آیا۔سندھ پولیس کے اعلیٰ سطح کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ جب نقیب اللہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا تو راؤ انوار کو بہادر بچہ تک کہا گیا تھا جس سے ماورائے عدالت قتل کرنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔پولیس افسرنے کہا کہ ارشاد رانجھانی کو پولیس کی جانب سے اسپتال کے بجائے تھانے لے جانے کے حوالے سے ایک افسر اور متعلقہ اہلکاروں کا بیان سامنے آ چکا ہے جس کے مطابق رانجھانی کو اسپتال لے جانے کے معاملے پر لوگ اتنے مشتعل تھے کہ وہ زخمی کو بھی چھیننا چاہتے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ڈاکو ان کے حوالے کیا جائے ۔پولیس اہلکاروں نے رانجھانی کو مشتعل افراد سے بچانے اور پہلے محفوظ مقام تک لانے کے لئے تھانے لے کر گئے۔ ان بیانات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے میں کسی بھی دباؤسیاسی میں آئے بغیر حقائق پر مشتمل تحقیقات کر رہی ہے۔
ارشاد رانجھانی قتل کے 2 مقدمات کے اندراج سے قانونی طور پر یہ کیس کمزور ہوگیا، پولیس نے پہلے رحیم شاہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں پیش کیا جہاں احتجاج بھی ہوا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بھی رحیم شاہ اور سب انسپکٹر ریاض کو 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق ارشاد رانجھانی قتل کیس میں گرفتار یونین کمیٹی چیئرمین رحیم شاہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 6 فروری کو بینک سے نکلتے ہوئے 4 ڈاکوئوں نے لوٹنے کی کوشش کی، ڈاکوئوں نے لوٹنے کے لئے گاڑی پر فائرنگ کی، دفاع کے لئے جوابی فائرنگ سے ملزم ارشاد رانجھانی زخمی ہوگیا، خود مددگار 15 اور ایمبولینس کو موبائل فون سے کال کی، ارشاد رانجھانی ایک عادی جرائم پیشہ تھا، پولیس نے دبائو کے نتیجے پر الٹا میرے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مجسٹریٹ نے غیرقانونی طور پر مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ دبائو کے نتیجے میں مجھے ملزم بناکر پیش کیا جارہا ہے، اور واقعہ 16 اور 17 فروری کی درمیان میٹروول میں پیش آیا جہاں اقبال مارکیٹ انویسٹی گیشن پولیس نے گھر پر چھاپے کے دوران عارضہ قلب میں مبتلا مزدور رہنما 65 سالہ عبدالکریم جان ولد عبدالشریف کوبدسلوکی کا نشانہ بنایا اور گرفتار کرکے پولیس موبائل میں بٹھالیا۔ اسی دوران انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اہلکاروں نے بزرگ شہری کو فوری طور پر پولیس موبائل سے نیچے اُتار کر مردہ حالت میں سڑک پر رکھ دیا جس پر مشتعل علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور موبائل کا گھیرائو کرلیا، صورت حال بگڑتی دیکھ کر اہلکار فرار ہوگئے۔ اقبال مارکیٹ انویسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ گڈانی شپ بریکنگ لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری اور ان کے بیٹے امین الحق کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج ہے،امین الحق نے بتایا کہ میرے والد کو نہ صرف پورا علاقہ بلکہ دور دور تک لوگ جانتے ہیں، وہ انسان دوست آدمی تھے، ہر کسی کی مدد کیا کرتے تھے۔ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں گزشتہ کئی برسوں سے لیبر یونین کے جنرل سیکریٹری تھے، اگر پولیس والے صحیح تھے تو وہ وہاں سے کیوں فرار ہوگئے؟ ایس ایس پی ویسٹ شوکت علی کھٹیان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اقبال مارکیٹ پولیس حکام کے مطابق 10 فروری کو فائرنگ سے زخمی ہونے والے مدعی شفیق الرحمن ولد محمد عثمان نے بیان دیا تھا کہ عبدالکریم، اس کے بیٹے امین اور دیگر 2 افراد نے اتحاد ٹائون میں اُسے فائرنگ کرکے زخمی کیا ہے جس پر 11 فروری کو واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ دریں اثناء تفتیشی ٹیم نے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ تک حاصل کرلی ہے جس میں 2 پولیس موبائلوں کو آتے اور جاتے ہوئے واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ مزدور رہنما عبدالکریم کی ہلاکت کا مقدمہ سائٹ اے تھانے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔ بیٹے عزیز کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 140/2019 زیر دفعہ 34/109-302 درج کیا گیا، تاہم کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ مرحوم حاجی بابو کریم جان کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ جو کچھ ہوا، اس کا بے حد افسوس ہے، اس افسوسناک واقعہ میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا، اُسے قانونی طور پر سزا دی جائے گی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا، جو کچھ بھی ہوا بہت غلط ہوا، ہمیں لواحقین سے دلی ہمدردی ہے جس طرح سے یہ واقعہ پیش آیا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پولیس نے بزرگ انسان سے اتنا غیر اخلاقی سلوک کیا جس پر افسوس ہوا ہے ہم آپ کے ساتھ مل کر جو اس واقعہ میں ملوث ہیں ان کو گریبان سے پکڑیں گے۔ ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ نے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنائی ہے، اس کے ساتھ ہی ڈی آئی جی ویسٹ اور ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ اس کارروائی کو دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مشکوک ہے، اس معاملے میں اور محرکات ہوتے ہیں تاہم تحقیقات کرکے لواحقین کو انصاف دلائیں گے۔

(237 بار دیکھا گیا)

تبصرے