Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دوستی کا حق ادا

قومی نیوز جمعرات 21 فروری 2019
دوستی کا حق ادا

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں 20ارب ڈالر کے معاہدے ہونے کے بعد دونوں برادر اسلامی ممالک ایک نئے تاریخی اقتصادی شراکت داری کے دور میں داخل ہورہے ہیں جس سے ان کے باہمی تعلقات میں نہ صرف مزید استحکام آئے گا بلکہ باہمی احترام پر مبنی طویل المدت سرمایہ کاری سے مشترکہ خوش حالی و ترقی علاقائی استحکام ، نئے سماجی تعلقات کی راہ بھی ہموار ہو گی۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اسلام آباد پہنچنے پر فقید المثال اور پرتپاک استقبال عوامی سطح سے لے کر حکومتی ایوانوں تک سعودی عرب سے پاکستان کی لازوال محبت کا مظہر ہے۔ وزیراعظم ہائو س میں عمران خان اور سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال ، دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد پاک سعودی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس ہوا ، جس کی صدارت ولی عہد محمد بن سلمان اوروزیر اعظم عمران خان نے مشترکہ طور پر کی۔
جاری اعلامیے کے مطابق اعلیٰ اختیاراتی کونسل کی تجویزعمران خان کے دورہ سعودی عرب میں دی گئی تھی۔ کونسل کا مقصد دو طرفہ معاہدوں اورفیصلوں پر بروقت عملدرآمد ممکن بنانا ہے۔کونسل میں خارجہ، دفاع، توانائی، دفاعی پیداوار، تجارت، اطلاعات، ثقافت، داخلہ، سرمایہ کاری اورآبی وسائل کے وزرا شریک ہوئے۔ کونسل کے تحت اسٹیرنگ کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے، ورکنگ گروپس کا مقصد متعلقہ شعبوں میں وزرا کے لیے سفارشات تیارکرنا ہے، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کونسل کے معاملات دیکھیں گے۔ سعودی میڈیاکوانٹرویومیں عمران خان نے کہا سعودی ولی عہدکے دورہ پاکستان سے نئے دور کا آغازہوگا۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اورثقافتی کوریڈور قائم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی خود انحصاری کے لیے سعودی عرب کی گوادرمیں سرمایہ کاری سب سے اہم ہوگی۔ گوادرمیں سعودی آئل ریفائنری باہمی تعاون کا محض آغاز ہے اور یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمدبن سلمان نے وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان برادر اور دوست ملک ہیں جو مشکل حالات میں ہمیشہ ساتھ رہے ہیں، ہم یقین رکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں مستقبل میں پاکستان ایک اہم ملک بنکر ابھرے گا، ہمیں شراکت داری اور مل کر بہت کچھ کرنے کے لیے ایسی ہی قیادت کا انتظار تھا،آج سے پہلے مرحلے میں 20 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے گئے ہیں جن میں ہرمہینے اور ہر سال بڑا اضافہ ہوگا، جو دونوں ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا، سیاحت کے شعبے پر بھی میری وزیراعظم عمران خان سے گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے بتایا ہے کہ وہ سیاحت کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں سیاحوں کی موجودہ تعداد 80 ملین ہے جس کو 100 ملین تک توسیع دینا چاہتے ہیں، ہم نہ صرف باہمی ترقی اور استحکام کے لیے کام کریں گے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر علاقائی اور خطے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور ولی عہد بننے کے بعد میں نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمارے برے معاشی حالات میں مدد کی جو قابل تحسین ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں لیکن ہم ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں، پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اورشراکت داری سے ہمارے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوںگے، پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جب کہ سیاحت کے شعبے کے حوالے سے میری سعودی ولی عہدکیساتھ وزیراعظم ہائوس آتے ہوئے گاڑی میں تفصیلی بات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیٹرول کیمیکلز، معدنیات، زراعت اور خوراک کی پراسیسنگ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید وسعت آئے گی، ہم سی پیک کے تحت دنیاکی بڑی مارکیٹ چین سے منسلک ہو رہے ہیں اور میں سعودی عرب کو اس میں شراکت داری کی دعوت دیتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے 20 ارب ڈالر مالیت کے 7 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹینڈرڈائزیشن کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ کھیلوں کے شعبے میں تعاون سعودی اشیا کی درآمد سے متعلق مالیاتی معاہدہ، توانائی کی پیداوار کے فریم ورک کی مفاہمتی یادداشت، دونوں ممالک کے درمیان ریفائنری اور پیٹروکیمیکل پلانٹ کے قیام، معدنی وسائل کی ترقی میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت، قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات سات عشروں پر محیط ہیں۔ روائتی برادرانہ تعلقات اس وقت سٹریٹجک اور گرمجوش تعلقات میں ڈھل گئے جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے مسلم امہ کو متحد کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس اس سمت بڑھنے کا ذریعہ قرار دی گئی۔ بدقسمتی سے عالمی طاقتوں نے اس منصوبے کو سبوتاژ کر دیا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں دونوں برادر ملکوں نے افغانستان میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔ پاکستان کے 16لاکھ سے زائد محنت کش سعودی عرب میں مزدوری کرتے ہیں۔ سعودی عرب ایسا ملک ہے جہاں سے سب سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان آتا ہے۔ جدید دور میں دو ریاستوں کے تعلقات کو جن باہمی مفادات پر استوار کیا جاتا ہے ان میں کچھ مدت کے بعد تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں ہمارے جو باہمی مفادات تھے وہ اسی اور نوے کے عشرے میں تبدیل ہو گئے۔ افغانستان پر امریکی یلغار کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کو دہشت گردی کی اس تعریف نے تشویش زدہ کردیا جس کا مقصد ہر امریکہ مخالف کو شدت پسندی کے اظہار پر دہشت گرد قرار دینا تھا۔ بین الاقوامی ادارے اس نئی صورت حال میں ان ممالک کو مختلف طریقوں سے خوفزدہ کرتے رہے جہاں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے مفادات تھے۔ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات اس وجہ سے بھی سست روی کا شکار ہوئے کہ پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی قیادت نئی صورت حال سے ہم آہنگ منصوبہ بندی تشکیل دینے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ ن ہمیشہ یہ تاثر دیتی رہی کہ پاک سعودیہ تعلقات دراصل نواز سعودیہ تعلقات ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں شریف خاندان کی رہائی اور پھر سعودی عرب میں قیام اس تاثر کو مستحکم کرنے کے لئے کافی تھے۔ میاں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم پاکستان کو بطور تحفہ ارسال کی۔ اس دوران سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا۔ قانون نافذ کرنے والے سعودی اداروں نے پاکستانی محنت کشوں پر سختی بڑھا دی۔ معاوضوں میں کمی یا روکے جانے کی شکایات آنے لگیں مگر سابق حکومت نے اپنے اچھے تعلقات کو زنگ آلود رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور سٹریٹجک تعلقات کے امور پر جس طرح بات کی وہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پاک سعودی تعلقات کو آئندہ ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔ سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں سے صرف سرمایہ پاکستان نہیں آئے گا بلکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کی سہولیات بھی پیدا ہوں گی۔ بلا شبہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 20ارب ڈالر سرمایہ کاری معاہدے دوستی کے رابطوں کو ریاستی مفادات میں ڈھالنے کی ایک قابل ستائش کوشش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سعودی ولی عہد نے اپنے محبت بھرے خیالات سے پاکستانی عوام کو متاثر کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے ان کی جو تصویر بنائی تھی شہزادہ محمد بن سلمان اس سے کافی مختلف ثابت ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر 2107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر تصور کیا جائے۔ کسی دوست ملک کے لئے ایک ولی عہد کا یہ بیان ان کی کشادہ دلی کا مظہر ہے۔ صدر مملکت نے شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان کے اعلی ترین سول اعزاز نشان پاکستان عطا کیا جو سعودی ولی عہد کی پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے محبت کا گویا اعتراف ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دو طرفہ تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ عالمی بساط پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کی صورت حال میں یہ تعاون جنوب مشرقی ایشیا سے مغربی ایشیا اور پھر وسط ایشیا کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ منڈیاں جہاں توانائی کے ذرائع موجود ہیں پاکستان کی رسائی میں آ سکتی ہیں۔ پاکستان سے تجارتی مال دنیا کے بہت بڑے علاقے تک پہنچایا جا سکے گا۔ پاک سعودیہ تعلقات جو اب حج عمرہ اور تارکین وطن محنت کشوں کی حد تک رہ گئے ہیں ان تعلقات کا عمل دخل اقتصادی سیاسی و دفاعی شعبوں تک متحرک دکھائی دے گا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایک خوشگوار تاثر چھوڑ کرسعودی عرب لوٹے ہیں۔ یہ موقع تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں بدلتی ریاستی حکمت عملی کا ساتھ دیں۔
پاکستان کے خارجہ تعلقات میں سعودی عرب اور چین 2 ایسے ملک ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تزویراتی شراکت (اسٹراٹیجک پارٹنر شپ) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ ولی عہد سعود بن عبدالعزیز نے 1940ء میں اپنے پانچوں بھائیوں کے ہمراہ کراچی کا دورہ کیا اور قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی اور انہیں قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ اسی دوران 1946ء سعودی عرب نے قائداعظم کی جانب سے مختلف ممالک اور اقوام متحدہ میں بھیجے جانے والے تحریک پاکستان کے وفود کی بھرپور حمایت کی۔ اقوام متحدہ جانے والے وفد کو اقوام متحدہ کے حکام سے متعارف کروایا اور انہیں مسلم لیگ کی جانب سے پاکستان کے حصول کے لئے کی جانے والی کاوشوں پر بریفنگ دی۔ قائداعظم محمد علی جناح سے ملنے والے ان پانچ میں سے چار بھائی شاہ سعود بن عبدالعزیز، شاہ فیصل بن عبدالعزیز، شاہ فہد بن عبدالعزیز اور شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز، بعدازاں سعودی عرب کے حکمران بنے اور پاکستان کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کے رشتے کو برقرار رکھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب سرگرم قریبی تعلقات کے باوجود عالمی سطح پر مختلف فیصلے کرتے رہے ہیں، شاہ سعود بن عبدالعزیز جو پاکستان کے ساتھ بے پناہ جذباتی وابستگی رکھتے تھے، 1953ء میں جب اقتدار میں آئے تو اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ شروع ہوچکی تھی اور دنیا 2 واضح کیمپوں میں بٹ چکی تھی، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کے باوجود 1955ء میں تنہا امریکہ کے فوجی اتحاد ’’معاہدہ بغداد‘‘ میں شامل ہوگیا تاہم شاہ سعود نے سعودی عرب کو معاہدہ بغداد کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔ 1956ء میں نہرسویز کی جنگ میں بھی شاہ سعود پہلے عرب حکمران تھے جنہوں نے اس جنگ میں مصر کا ساتھ دیا اور مغربی ممالک کے خلاف تیل کا ہتھیار استعمال کیا۔ شاہ سعود بن عبدالعزیز کی معزولی کے بعد اُن کے بھائی شاہ فیصل بادشاہ نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے بھی امریکہ مخالف پالیسیوں کو جاری رکھا تاہم پاکستان نے سعودی عرب کا قریبی دوست ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ اپنا دوستانہ تعلقات قائم رکھے۔ سابق صدر جنرل یحییٰ خان کے دور میں سعودی عرب کی حمایت کی۔ اس دور میں پاکستانی افواج کی سعودی عرب میں تعیناتی کا سلسلہ شروع ہوا، اس کے جواب میں 1971ء کی جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی کھل کر فوجی اور مالی مدد کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے عہد کی شروعات ہوئی، اس دور میں ہی پاکستان کی افرادی قوت کی سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں مانگ پیدا ہوئی۔ شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنے قریبی ذاتی تعلقات کے باعث پاکستانی ہنرمند اور غیر ہنر مندوں کے لئے دروازے کھول دیئے۔ اسی عہد میں ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کی کوششوں کے باعث پاکستان میں اسلامی سربراہوں کی کانفرنس ہوئی جس میں 50 سے زائد مسلم ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے نہ صرف عربوں کا ساتھ دیا تھا بلکہ اس وقت کے پاکستانی فضائیہ کے پائلٹ اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے شام بھی گئے تھے۔
اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ تنظیم آزاد، فلسطین (پی ایل او) کو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اُسے اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دلوانے میں کامیابی ملی۔ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب، لیبیا اور شمالی کوریا نے مالی اور تیکنیکی مدد فراہم کی۔ یہی وہ دور تھا جب سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت کو امریکہ کے مکالف سمجھا جاتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل نے اسلامی ممالک پر مشتمل ’’دولت مشترکہ‘‘ بنانے، اسلامی ممالک کی منڈیوں میں ایک دوسرے کو مکمل اور کھلی رسائی دینے اور سرمایہ کاری کے کئی ایک مشترکہ منصوبوں پر کام شروع ہوا تاہم دونوں اپنے امریکہ مخالف نظریات کا شکار ہوئے۔ شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد سعودی عرب میں شاہ فہد اور پاکستان جنرل (ر) ضیاء الحق کا طویل دور حکمرانی شروع ہوا جس میں دونوں ملک (پاکستان اور سعودی عرب) امریکہ کے نہ صرف قریب ہوئے بلکہ سرد جنگ میں کھل کر امریکی پالیسیوں کی حمایت کی اور سوویت یونین کے خلاف جہاد کے نام پر امریکی جنگ کا حصہ بنے۔ آج اس جنگ میں امریکہ خود پھنسا ہوا ہے۔ جنرل (ر) ضیاء الحق اور شاہ فیصل کے دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اسٹراٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئی تو سعودی عرب میں شاہ فیصل جیسا مغربی بالادستی مزاحمت کرنے والا حکمران موجود نہیں تھا۔

(349 بار دیکھا گیا)

تبصرے