Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

نیک اندیش

قومی نیوز بدھ 20 فروری 2019
نیک اندیش

میں دفتر سے گھر جانے کے لیے نکلا تو راستے میں اچانک مجھے اپنی بیٹی گڑیا سے کیا ہوا وعدہ یاد آگیااس نے مجھ سے کہا تھاابو آج آپ دفتر سے واپسی پر میرے لیے ایک خوب صورت اور مضبوط اسکول کا بستہ ضرور لے آئیے گامیرا بستہ جگہ جگہ سے پھٹ گیا ہے
بیٹی سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا تو میں نے فوراً اپنی گاڑی کا رْخ مارکیٹ کی جانب موڑ دیامیں نے ایک جگہ گاڑی روکی اور ایک دکان میں داخل ہو گیایہ ایک اچھی او ر بڑی سی دکان تھی دکان دار نے مجھے اچھے اور خوب صورت بستے دکھائے جن میں سے ایک میرے دل کو بھاگیامیں نے قیمت طے کرنے کے بعد دکان دار سے کہاٹھیک ہے بھائی صاحب آپ یہ والا بستہ پیک کردیںدکان دار بستہ پیک کرنے لگا تو اتنے میں ایک بچی کی معصوم سی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی امی مجھے بھی ویساہی بستہ لینا ہے جیسا اِن انکل نے لیا ہے بچی نے میری طرف اْنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہابچی کی یہ فرمائش سن کر اس کی والدہ کے چہرے پر پریشانی کے آثارنمودار ہو گئے۔وہ بولی بیٹا! وہ بستہ تو کافی مہنگا ہے مگر امی! مجھے ویسا ہی بستہ چاہیے بچی نے پھر فرمائش کی
زویا بیٹی تم یہ والا بستہ دیکھو یہ بھی تو اچھا ہے نازویا کی والدہ نے اسے ایک قدرے کم قیمت والا بستہ دکھاتے ہوئے کہامگر زویا تو بچی تھی اب اسے بھلا کیا معلوم تھا کہ مہنگائی کیا ہوتی ہے اس کی بس ایک ہی فرمائش تھی کہ مجھے تو انکل جیسا بستہ ہی چاہیے زویا کی والدہ اپنی بچی کی اس معصوم خواہش پر پریشان دکھائی دے رہی تھیںان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر کس طرح سے اپنی بیٹی کو سمجھائیںمیں چوں کہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور سچ پوچھیں تو میرا دل بھی اس معصوم سی بچی کی خواہش کو پورانہ ہوتے دیکھ کر پگھل رہا تھا۔وہ بچی زویا میری بیٹی گڑیا جتنی ہی تھی میں سوچ رہا تھا کہ میں تو اپنی بیٹی کے لیے بستہ لے جاؤں گا اور یہ زویا بھی تو کسی کی بیٹی ہے اور یہ یوں اس طرح سے خالی ہاتھ چلی جائے محض اس وجہ سے کہ اس کی والدہ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اس کی خواہش کو پورا کرسکیں میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کیا کروں ،کیسے اس بچی کی معوم سی خواہش کوپورا کروںاتفاق سے اس وقت میرے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ میں ایسا ہی ایک اور بستہ خرید کر اس بچی کودے دیتاآخر میں کیا کروں میں کیسے اس بچی کی مدد کروں میں اسی کش مکش میں مبتلا تھا کہ اچانک ایک خیال میرے دماغ میں آیاکیوں نہ میں یہ بستہ اس بچی کودے دوںمیں تو اللہ کے فضل سے صاحبِ حیثیت بھی ہوںمیں تو بعد میں بھی یہ بستہ خرید سکتا ہوں مگر اس بچی کی والدہ کے لیے تو یہ ممکن نہ ہوگالہٰذا اس خیال کے آتے ہی میں ان دونوں کے قریب گیا اور سلام کیا
السلام علیکم،بہن جی وعلیکم السلام جی فرمائیے بھائی صاحب زویا کی والدہ نے مجھے اجنبی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہابہن جی میں اپنی بیٹی کے لیے اسکول کا بستہ خرید نے آیا تھا میری بیٹی بھی لگ بھگ آپ کی زویا کی ہم عمر ہی ہیماشاء اللہ بہت پیاری بچی ہے آپ کی میں نے زویا کے سرپر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہاجی بھائی صاحب زویا کی والدہ نے کہا۔بہن جی! میں نے آپ کی اور زویا بیٹی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جو بستہ میں نے اپنی بیٹی گڑیا کے لیے لیا ہے وہ میں اپنی زویا بیٹی کو بطور تحفہ دے دوںمیں ایسا ہی دوسرا بستہ خرید لوں گازویا کی والدہ قدرے حیران ہوتے ہوئے بولیں بھائی صاحبً یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟دیکھیں بھائی صاحب میں آپ کے نیک جذبات کی قدر کرتی ہوں اور آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری بیٹی کے لیے سوچا لیکن بھائی صاحب مجھے یہ سب اچھا نہیں لگے گا اور پھر جب زویا کے والدکو اس بات کا پتا چلے گا تو وہ بھی بہت خفا ہوں گے لہٰذا میں معذرت چاہتی ہوںمیں آپ سے یہ بستہ نہیں لے سکتی بہن جی درست فرمایا آپ نے۔میں آپ کے خیالات کی قدر کرتا ہوں مگر بہن جی! میں زویا کو اپنی بیٹی سمجھ کر محض اللہ کی رضا اور اپنی خوشی کی خاطر ایسا کر رہا ہوںبس زویا بیٹی خوش ہو جا ئے گی تو مجھے بھی بے حد خوشی ہو گی برائے مہربانی ، آپ میری اس پیش کش کو قبول کر لیجیے میں نے التجائیہ لہجے میں کہاٹھیک ہے بھائی صاحب! آپ جب اصرار کررہے ہیں تو میں قبول کر لیتی ہوں۔اللہ آ پ کو جزاے خیر عطا فر مائے بہت بہت شکریہ بہن جی میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا اور پھر جلدی سے بستہ زویا کے حوالے کردیازویا اپنا من پسند بستہ پا کر بہت خوش ہوئی۔اس کا چہرہ خوشی سے کھِل اْٹھا تھا۔
شکر یہ انکل زویا نے خوش ہوتے ہوئے کہامیں جب گھر پہنچا تو گڑیا کو اپنا منتظر پایامیرے ہاتھ میں کچھ نہ پا کر گڑیا کا چہرہ بْجھ سا گیاابو آج آپ پھر بھول گئے نا آج بھی آپ میرے لیے بستہ لے کر نہیں آئے ؟گڑیا نے رنجیدہ ہوتے ہوئے کہامیں نے گڑیا کو قریب بٹھایا اور کہابیٹی ! میں آج آپ سے کیا گیا وعدہ بالکل نہیں بھولا تھا اور میں نے آپ کے لیے ایک پیارا سا بستہ بھی خرید لیا تھا ،لیکن پھرلیکن کیا ابوگڑیا نے تجسس سے پوچھااور پھر میں نے ساری کہانی سناڈالی میری اہلیہ بھی دل چسپی سے سن رہی تھی میری بات مکمل ہونے کے بعد میری اہلیہ اور گڑیا کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے یہ تو آپ نے بڑی نیکی کا کام کیا ہے اللہ آپ کو اس کا اجر دے میری بیوی خوش ہوتے ہوئی بولی ہاں ابو یہ تو واقعی آپ نے اچھا اور نیک کام کیا ہے مجھے آپ کے اس عمل سے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ابو مجھے فخر ہے آپ پر کہ آپ ایک نیک دل اور شفیق انسان ہیںجو نہ صرف اپنوں کے لیے ،بلکہ دوسروں کی خوشی کے لیے بھی سوچتے ہیںگڑیا کا چہرہ جواب سے کچھ دیر پہلے مْر جھایا ہوا تھا اب خوشی سے کھِل اْٹھا اور پھر گڑیا بے ساختہ میرے گلے سے لگ گئی جب کہ بیوی کے چہرے پر بھی خوشی کے آثار نمایاں تھے اور میں بھی اپنے آپ کو کافی پْر سکون اور ہلکا محسوس کررہا تھا

(490 بار دیکھا گیا)

تبصرے