Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 18  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مہمان کی پولیس نے لے لی جان

ویب ڈیسک جمعه 15 فروری 2019
مہمان کی پولیس نے لے لی جان

سانگھڑشہر شہداد پور جٹیا گائوں بچل باکرانی میں کھپرو سے آئے ہوئے مہمان پیارو خاصخیلی کو پولیس شہداد پور گرفتار کرکے لے گئی‘ مبینہ تشدد ہونے پر پیارو خاصخیلی کی حالت خراب ہونے پر آزاد کردیا گیا‘ رشتہ دار پیارو خاصخیلی کو نوابشاہ اسپتال لے گئے‘ اس کے بعد پیارو خاصخیلی کو شہداد پور اسپتال سے حیدرآباد لے کر جارہے تھے کہ راستے میں تشدد شدہ شخص پیارو ولد موسیٰ خاصخیلی فوت ہوگیا‘ہلاکت کی خبر ملتے ہی گائوں بچل باکرانی میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور علاقے میں بڑا غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی‘ بچل باکرانی کے رہائشیوں سومرو خاصخیلی ‘ لطیف کیریو ‘ مارو‘ گلاب خاصخیلی اور دیگر کی سربراہی میں سینکڑوں دیہاتیوں نے ملک کے دوسرے بڑے پولیس ٹریننگ کالج شہداد پور کے سامنے سڑک پر متوفی پیارو خاصخیلی کی نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا‘ ٹنڈو آدم ‘ سانگھڑ ‘ حیدرآباد روڈ ٹریفک کے لیے مکمل طورپر بند ہوگیااور مظاہرین مسلسل شہداد پور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے اور مطالبہ کرتے رہے کہ ہمارے آئے ہوئے مہمان پیارو خاصخیلی کو پولیس نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ جس کے وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا‘ مظاہرین نے 4 گھنٹے تک روڈ بلاک کرکے سخت نعرے بازی کرتے رہے ‘ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پیارو خاصخیلی کھپرو کا رہائشی گائوں اللہ وسایو ہمارے پاس شہداد پور گائوں بچل باکرانی مہمان بن کر آیا تھا‘ سرمر خاصخیلی نے بتایا کہ وہ ہمارا رشتہ دار تھا‘ اچانک شہداد پور پولیس نے سانگھڑ گھر کے سامنے ہمارے مہمان پیار وخاصخیلی کو گرفتار کرکے گاڑی میں ڈال کر شہداد پور تھانے لے گئی‘ جہاں پر پیارو خاصخیلی پر مبینہ تشددکرکے حالات خراب ہونے پر چھوڑ دیا‘ جس کی حالت خراب ہونے پر شہداد پور اسپتال سے نوابشاہ اسپتال لے گئے ‘ پھرپیارو خاصخیلی کو حیدرآباد اسپتال لے جا رہے تھے کہ راستے میں پیارو خاصخیلی فوت ہوگیا‘ مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ ہمارے مہمان کو تشددکرکے ہلاک کر نے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے‘ ہمارے ساتھ انصاف کیاجائے‘ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی شہداد پور اظہر علی مغل احتجاج کرنے والوں کے پاس پہنچے ‘ جس پر اے ایس آئی اظہر مغل نے مظاہرین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یقین دہانی کرائی کہ واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘ انہوںنے مزید کہا کہ متوفی آزاد ہونے کے بعد فوت ہواہے ‘ مگر ایس ایس پی سانگھڑ ذیشان صدیقی نے ایک ٹیم مقرر کی جس میں اے ایس پی اظہر مغل انکوائری کریں گے‘ اور مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔

(189 بار دیکھا گیا)

تبصرے