Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کھیل میں جان گئی

بلال علی شاہ جمعه 15 فروری 2019
کھیل میں جان گئی

جرائم کی دنیا میں ہونے والے حادثات و واقعات خود بخود جنم نہیں لیتے‘ بلکہ انہیں خود دعوت دی جاتی ہے اور دعوت دینے والے شخص کو اس بات کا ذرا بھی علم نہیں ہوتا کہ جس حادثے کو یہ دعوت دے رہا ہے‘ وہ حادثہ اس کی زندگی بھی نگل سکتا ہے اور جس حادثے کو یہ معمولی سمجھ کر اسے دعوت دے رہا ہوتا ہے وہی حادثہ اس کی موت کا باعث بن جائے گا‘ پاکستان کی معاشی شہرت سمجھے جانے والے شہر کراچی میں بھی آئے دن حادثات واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ان حادثات میں وہ حادثات بھی شامل ہوتے ہیں جو بن بلائے نہیں بلکہ دعوت دیکر بلائے جاتے ہیں‘ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا‘ پاپوش نگر کے علاقے ناظم آباد نمبر 5 میں مورخہ 31 جنوری جمعرات کے روز پاپوش نگر کے رہائشی عامر نامی شخص کے گھر میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا صبح عمر معمول کے مطابق اٹھنے کے بعد گھر سے کام کیلئے نکلا ‘لیکن اسے پتہ نہ تھا کہ جب وہ لوٹے گا تو اس کے پیروں تلے زمین ہی نکل جائے گی اور اس کے گھر میں کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے اس بات سے بالکل واقف نہ تھا ابھی مغرب کی اذان کا وقت ہونے ہی والا تھا کے عامر کی بیوی نے اپنے بیٹے کو گھر بلانے کے لئے گھر کا دروازہ کھولا گھر کے باہر ہی عامر کا ایک بیٹا حسن بیٹھا ہوا تھا‘ جس پر اس کی ماں نے اسے گھر کے اندر آنے کو کہا حسن نے اپنی ماں کو مخاطب ہو کا جواب دیتا ہے جس پر اس کی ماں گھر کے اندر داخل ہو گئی کہ اچانک اسے ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی ‘جس سے اس کا دل دہل گیا اور وہ واپس دروازے کی طرف لپکی ‘ عمر کی بیوی نے دروازہ کھول کر جو مناظر دیکھے وہ قابل برداشت نہ تھے اور یہ مناظر دیکھتے ہیں عمر کی بیوی اپنے حواس کھو بیٹھی‘ وہ منظر کسی ڈراؤنی چیز کا نہیں‘ بلکہ اس کے اپنے ہی بیٹے کا تھا اور اس کے بیٹے پر 800 کلو وزنی مشین جاگری تھی یہ منظر دیکھتے ہی خاتون چلا اٹھی‘ جس کے باعث علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور فوری طور پر مشین کو بچے پر سے ہٹانے کی کوششیں جاری کردی‘ تاہم مشین وزنی ہونے کے باعث لوگوں سے نہ اٹھ سکی‘ جس کے باعث دیگر لوگوں کو جمع کیا اور فوری طور پر مشین کے نیچے دبے ہوئے بچے کو نکال دیا‘ بچے کو فوری طور پر نکال کر علاقہ مکینوں نے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا لیکن مشین کی نیچے دب کر شدید زخمی ہونے والا حسن اسپتال جانے سے قبل ہی زندگی کی بازی ہار گیا تھا اور اس بات کا اب تک کسی کو علم نہ تھا اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے فوری طور پر حسن کا طبی معائنہ کیا اور اس کے ساتھ جانے والے محلے کے کچھ افراد کو اس بات سے آگاہ کیا کہ حسن عباس دنیا میں نہیں ٓرہا ‘جس پر علاقہ مکینوں کو شدید رنج وغم کا سامنا کرنا پڑا اور سب یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اس افسوس ناک واقعے کی اطلاع حسن کے گھر والوں کو کیسے دی جائے‘ تاہم حسن کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی حسن کے والد نے کام چھوڑ کر فوری طور پر عباسی شہید اسپتال کا رخ کیا اور ایمرجنسی میں جا پہنچے جہاں ان کے بیٹے کی نعش رکھی ہوئی تھی‘ تاہم علاقہ مکینوں نے اس کے والد کو دیکھ کر حوصلے سے کام لیتے ہوئے اس کے والد کو بتایا کہ اس کا بیٹا اب اس دنیا میں نہ رہا جس پر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی حسن کی نعش کو جب گھر پہنچایا گیا تو گھر میں کہرام مچ گیا ننھے بیٹے کی نعش پر والدہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ چیخ چیخ کر رونے لگی ‘تاہم محلے والوں نے اس کی والدہ کو دلاسہ دیا‘ جس کے بعد حسن کی نعش کو سردخانے منتقل کر دیا گیا‘ علاقہ مکینوں کے مطابق حسن کی والدہ کی عامر نامی شخص سے دوسری شادی تھی‘ جبکہ حسن اپنی والدہ کے ہمراہ سوتیلے باپ عمر کے ساتھ رہتا تھا حسن کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ حسن معمول کے مطابق واقعے کے روز بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ گھر کے باہر کھیل کود میں مصروف تھا کہ اچانک مشین اس کے اوپر آگری اور اس کی جان لے گئی جبکہ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ مشین لیتھ کارخانے کے مالک کی ہے اور واقع کے روز کارخانہ بند تھاکار خانے کے باہر کئی عرصے سے پڑی خراب مشین حسن کی جان لے گئی ‘جبکہ ذرائع کی جانب سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ عرصہ دراز سے پڑی اس مشین پر روزمرہ کی بنیاد پر بچے کھیلا کرتے تھے جس کے باعث مشین نے جگہ بنالیں اور وہ چند دنوں سے ہل جول بھی کر رہی تھی لیکن اس کی خبر کسی کو نہ تھی اور باقی کے روز بھی حسن اپنے دوست کے ہمراہ مشین پر بیٹھ کر کھیل رہا تھا کہ مشین پھیلی اور اس کے دوست نے اس سے بھاگنے کو کہا لیکن جب تک حسن بھاگنے کی کوشش کرتا مشین اس کے اوپر ہی آ گری‘ تاہم واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ پولیس نے بھی موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کی‘ جس پر حسن کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی سے انکار کردیا اور پولیس نے کارخانے کے مالک کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا‘ تاہم حسن کے اہل خانہ نے چھان بین کے بعد پتہ لگایا کہ واقعی میں کارخانے کے مالک کی کتنی غلطی ہے تو پتہ چلا کہ کارخانے کا مالک بھی اس وقت موجود نہ تھا اور اس حادثے میں کارخانے کے مالک کی کوئی غلطی نہیں جس پر حسن کے اہلخانہ نے تھانے جاکر بیان دیا کہ انہیں کوئی قانونی کارروائی نہیں کرانی اور کارخانے کے مالک کو بھی رہا کردیا جائے ان کے بیٹے کی موت لکھی تھی جو آگئی جس کے بعد پولیس کی جانب سے بھی کارخانے کے مالک کو رہا کردیا گیا‘ تاہم اگلے روز جمعہ کے دن حسن کی نعش کو تدفین کے لیے لایا گیا ‘حسن کی نعش گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا‘ جیسے ان کے گھر پر قیامت ہی ٹوٹ پڑی ہو گھر میں چیخ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں گونجنے لگی‘ جس کے بعد حسن کی نعش کو گھر سے لے جاکر مسجد پہنچایا گیا‘ جہاں علاقے کی مقامی مسجد میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور حسن کی نعش کو پاپوش نگر قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا‘ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والا حسن انتہائی شریف اور اچھا بچہ تھا وہ علاقے کے دیگر دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اور واقع کے روز بھی کھیل رہا تھا ‘حسن کی موت سے علاقہ مکینوں اور اس کے دوستوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے‘ جسے اس کے اہل خانہ بھی بھلا نہیں پائیں گے۔

(467 بار دیکھا گیا)

تبصرے