Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قاتل ماں

عارف اقبال جمعه 15 فروری 2019
قاتل ماں

لفظ ’’ماں‘‘ کا نام آتے ہی انسان کی نظر میں ایک ایسا شفیق چہرہ سامنے آجاتا ہے جو اپنے بچوں کی آرام کے لئے دنیا بھر کی مصیبتیں جھیلنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے جو اپنے بچوں کے آرام کی خاطر راتیں جاگ کر گزارنے سے بھی دریغ نہیں کرتی، لیکن گزشتہ دنوں کراچی میں ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس کو سن کر انسانی عقل دنگ رہ گئی۔ واقعہ کے مطابق ایک ماں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ڈھائی سالہ کمسن بیٹی کو سمندر برد کردیا، جب وہ ماں جو کہ اب اپنی پری صورت بچی کے قتل کے الزام میں قید ہے، ہر ذی شعور شخص کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ا یسے کیا حالات ہوگئے تھے کہ ایک ماں جو اپنے بچوں کے جسم پر آنے والی خراش کو دیکھ کر چیخ اُٹھتی یا بچے کے جسم پر لگنے والے زخم سے ہی اس کا دل کٹ جاتا اور آنکھیں نم ہوجاتی ہوں گی تو ایسا کیا ہوگیا کہ جب اسی ماں نے اپنی پھول سی بچی کو تندوتیز لہروں کی نظر کردیا اور اس وقت اس کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی جب وہ اس پر عمل کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکلی ہوگی۔ واقعہ کے بعد یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، لیکن دیکھنے والوں نے جب بچی کی نعش دیکھی تو انہیں حیرت ہوئی کہ بچی کے جسم پر گرم کپڑے اور پائوں میں جوتے، موزے موجود تھے، جسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ماں گھر سے اپنی بچی کو سمندر کی نذر کرنے کے ارادے سے ضرور نکلی لیکن اُس نے اپنی عقل کے مطابق اس بات کا بھی خیال رکھا کہ اس سرد موسم میں سمندر کا یخ پانی کہیں اس کی بچی کے جسم کو نہ چھوئے کہ وہ اس درد ناک واقعہ کا انجام جاننے کے باوجود بھی اپنی بچی کو اس اذیت سے بچانا چاہ رہی تھی، کیونکہ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس واقعہ نے ہر ذی شعور کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایسے کیا حالات ہوگئے تھے کہ دنیا میں اپنے بچوں سے سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ایک ماں ہی اپنی بچی کی قاتلہ ٹھہری لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ ڈھائی سالہ انعم کے قتل میں صرف اس کی ماں شامل ہے یا اس انتہائی اقدام کے محرکات پیدا کرنے میں اس کا باپ، قریبی عزیز و اقارب یا ہمارا تعفن زدہ معاشرہ توشامل نہیں جس نے ماں جیسے مقدس رشتے کو داغدار کیا۔ اس درد ناک واقعہ کی شروعات یکم فروری کو نہیں ہوئی بلکہ اس کی شروعات 2011-12ء سے ہوئی جب گلگت گزدکی رہائشی شکیلہ ولد دلاور خان اپنی تعلیم سے فارغ ہوئی تو اس کی دوستی راشد شاہ نامی شخص سے ہوگئی جس کی دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی اور پھر 2011-12ء میں ہی انہوں نے پسند کی شادی کی اور کراچی کے علاقے گولیمار سلطان آباد تھانے والی گلی میں آکر آباد ہوگئے۔ شکیلہ اور راشدشاہ شادی کے ابتدائی دنوں میں کافی خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے کہ پھر تقریباً 4 سال بعد 2016ء میں شکیلہ امید سے ہوگئی اور پھر اُس کے یہاں ایک چاند سی بچی کی ولادت ہوئی، راشد شاہ جس کے گھر اللہ نے رحمت عطا کی تھی وہ بیٹی کی پیدائش پر خوش نہیں تھا۔ شروع میں تو راشد نے بیٹی کی پیدائش پر زیادہ احتجاج نہیں کیا لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شکیلہ اور راشد میں تلخیاں جنم لینے لگیں اور ایک وقت آیا جب ان دونوں کے درمیان تلخیوں نے شدت اختیار کرلی۔ شکیلہ نے اپنے شوہر کی تلخیوں کے باوجود اس نے ماں کی حیثیت سے اپنی بیٹی کو تمام محبت دینے کی کوشش کی اور اپنی بیٹی کا نام انعم رکھا لیکن یہ بات راشد شاہ کو کسی طور پر بھی ہضم نہیں ہورہی تھی اور وہ انعم کو لے کر بات بے بات پر شکیلہ سے جھگڑتا رہتا جس کی وجہ سے شکیلہ بھی اب ذہنی طور پر خلفشار کا شکار رہنے لگی۔ راشد شاہ کو اب گھر سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی جس کی شکیلہ شکایت کرتی تو راشد اس سے خوامخوا الجھنے لگتا تھا۔ راشد شاہ اور شکیلہ کے درمیان تلخیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے شکیلہ کئی بار راشد شاہ سے ناراض ہوکر اپنے والد دلاور خان کے گھر چلی گئی لیکن والد دلاور خان کی سرد مہری کی وجہ سے مجبوراً وہ دوبارہ اپنے گھر آجاتی جہاں راشد کی تلخ باتیں اُسے برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ انہی تلخ حالات میں انعم تقریباً ڈھائی سال کی عمر تک پہنچ گئی تھی۔ اس دوران کئی بار شکیلہ اپنے شوہر راشد سے ناراض ہوکر اپنے میکے گئی، شکیلہ کے مطابق بار بار میکے آنے پر ایک دن اس کے والد دلاور خان نے اُس سے کہا کہ ہم لوگوں نے تمہاری شادی کروادی ہے، اب یہاں تمہاری کوئی جگہ نہیں جس پر شکیلہ واپس اپنے شوہر کے گھر آگئی، پھر 2 فروری 2018ء کو ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس نے بھی اس واقعے سے متعلق سُنا، اُس کا دل دہل گیا۔ واقعہ کے مطابق ساحل تھانے کی حدود دودریا سمندر کے کنارے سے منگل کی صبح ایک بچی کی نعش ملی جس کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور نعش کو اسپتال منتقل کیا۔ ایس ایچ او ساحل غزالہ کے مطابق معصوم بچی کی شناخت ڈھائی سالہ انعم راشد دختر محمد راشد شاہ کے نام سے کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یکم فروری 2018ء پیر کی سہ پہر 3 بجے کے قریب دودریا کے مقام پر ایک خاتون سمندر میں جاکر خودکشی کی کوشش کررہی تھی کہ وہاں موجود لوگوں نے اُسے پکڑلیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس جب موقع پر پہنچی تو خاتون نے بتایا کہ اُس نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کو پہلے ہی سمندر میں پھینک دیا ہے۔ پولیس نے وہاں موجود ماہی گیروں اور سی بی سی کے تیراکوں کو بلایا اور بچی کی نعش کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، تاہم پانی اُتر جانے کی وجہ سے بچی کی نعش نہ مل سکی۔ منگل کی صبح جب پانی چڑھا تو معصوم انعم کی نعش 15 سے 20 گھنٹے بعد ساحل سے مل گئی۔ ایس ایچ او ساحل نے بتایا کہ ملزمہ شکیلہ گولیمار سلطان آباد کی رہائشی ہے اور 7 سال قبل اس کی شادی ہوئی تھی، ملزمہ پڑھی لکھی اور اس نے بی بی اے کر رکھا ہے۔ شکیلہ نے پولیس کو بیان دیا کہ بچی کی پیدائش کے بعد شوہر نے ہم دونوں کو گھر پر رکھنے سے انکار کردیا تھا، میں والدین کے گھر آتی تو وہ مجھ سے کہتے کہ ہم نے تمہاری شادی کروادی ہے، ہم بھی تمہیں نہیں رکھ سکتے جس کے بعد میں ان کی منتیں کرتی اور کبھی شوہر اور کبھی والدین کے گھر رات رک جاتی تھی۔ مجھے اپنا اور بچی کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا تھا، میری زندگی عذاب بنی ہوئی تھی اس لئے بچی کو سمندر برد کردیا اور خود بھی خودکشی کی کوشش کررہی تھی لیکن پھر سمندر کی لہریں دیکھ کر میں گھبرا سی گئی۔ میری بیٹی کا نصیب تھا اللہ نے اُسے اپنے پاس بلالیا۔ ملزمہ نے بتایا کہ اُس نے پسند کی شادی کی تھی، شوہر بات بات پر لڑائی کرتا تھا، ایک اور اطلاع کے مطابق گولیمار کے علاقے سلطان آباد کالونی کی رہائشی خاتون شکیلہ زوجہ محمد راشد شاہ نے گھریلو حالات سے تنگ آنے کے بعد اپنی ڈھائی سالہ کمسن بچی انعم کو سمندر میں پھینک دیا اور ساحل پر کھڑی ایک اور خاتون کے شور مچانے پر موقع پر موجود شہریوں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس موقع پر پہنچ کر خاتون کو حراست میں لے لیا۔ سمندر میں ڈوبنے والی بچی کی نعش منگل کو سمندر سے نکال لی گئی اور ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کردی گئی‘ بعد ازاں پولیس نے خاتون کوباقاعدہ گرفتارکرکے اس کے خلاف بیٹی کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 9/2019 سرکار کی مدعیت میں درج کرکے تفتیش شروع کردی‘ ایس ایچ او ساحل کے مطابق خاتون ملزمہ کی 2011 ء میں شادی ہوئی تھی اور سال 2016 ء میں اس کے یہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی ‘ جس کے بعد اس کے شوہر نے خاتون کو گھر سے نکال دیا‘ جس کے بعد اپنے والدین کے گھر چلی گئی‘ مگر والدین نے بھی اسے پناہ نہیں دی اور کہا کہ ہم نے تمہاری شادی کروادی ہے‘ اب ہم تم کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں‘ خاتون نے والدین اور شوہر کے گھر میں نہ رکھنے کے بعد دربدر کی ٹھوکریں کھائیں اور آخر میں تنگ آکر اپنی بیٹی کو سمندر میں پھینک دیااورخود ہی خودکشی کرنا چاہی مگر اس میں ہمت نہیں ہوئی‘ جس کے باعث وہ زندہ بچ گئی‘ ملزمہ شکیلہ نے ابتدائی تفتیش میںبتایا کہ شوہر راشد شاہ لیب ٹیکنیشن ہے اور معاشی حالات ابتر ہونے کی وجہ سے گزر بسر کرنا محال ہوگیاتھا‘ خاتون ملزمہ نے مزید بتایا کہ اتنی بڑی دنیا میں اب مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے اور اس کی بچی کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے‘ اس صورتحال سے میں بہت پریشان ہوگئی تھی کہ اب اس کا کیا ہوگا‘ کیونکہ شوہر اسے ذہنی اذیت دیتا اور گھر سے نکال دیتا تھا ایسے میں جب میں اپنے والدین کے گھر آئی تو اسے کہا جاتا کہ تم شادی شدہ ہو ہم نے اپنا فرض ادا کردیااور تمہاری شادی کروادی‘ تم شوہر کے پاس ہی رہو اور اب وہی تمہارا گھر ہے ‘ تم اس کے ساتھ سمجھوتا کرکے رہو‘ یہی وہ تمام صورتحال تھی‘ جس نے اس کے ہوش وحواس سلب کردیئے اور اس سے یہ کام ہوگیا‘ تاہم پولیس نے باقاعدہ تفتیش کے لیے ملزمہ شکیلہ کو مقامی عدالت میں پیش کیا‘ جہاں عدالت نے ملزمہ شکیلہ راشد کو 8 فروری تک ریمانڈ پر ویمن پولیس کے حوالے کردیا‘ سٹی کورٹ میں سی ویو سے بچی کی نعش ملنے کے مقدمہ میں تھانہ ساحل پولیس نے گرفتار بچی کی والدہ شکیلہ راشد کو عدالت میں پیش کردیا‘ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ شکیلہ راشد سے مزید تفتیش اور سی آر او کرانا ہے‘ جبکہ کلفٹن کے ساحل پر ماں کے ہاتھوں ڈھائی سالہ انعم کی لرزہ خیز قتل کے حوالے سے بچی کے باپ اور نانا سے بھی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا‘ مقتولہ بچی کے باپ راشد شاہ سے پوچھا جائے گا کہ پر سکون ازدواجی زندگی کا ماحول یقینی کیوں نہیں بنایا‘ پولیس دیکھے گی کہ کن حالات کے باعث ایک پڑھی لکھی خاتون اپنی پھول سی بیٹی کو قتل کرنے پر مجبور ہوئی‘ ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ طارق رزاق دھاریجو کے مطابق الزام کو قتل بالسبب کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے‘ اگر ملزمہ شوہر کے ہاتھوں تنگ تھی‘ باپ نے تحفظ فراہم کیوں نہیں کیا‘ تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزمہ کا شوہر مہنگائی کے اس دور میں اخراجات کے لیے محض 100 روپے ہفتہ دیتا تھا‘ جو کبھی بچی کی فرمائش پر ساڑھے چار سو روپے ماہانہ تک چلے جاتے تھے‘ جبکہ تفتیشی حکام نے مزید بتایا کہ کمسن کے قتل میں گرفتار ملزمہ ماں کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر اور والد بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘ ملزمہ کے شوہر راشد شاہ سے اس امر کی تفتیش ہوگی کہ شادی کے بعد اس نے اپنی بیوی اور بچی کو ایسا گھریلو ماحول کیوںفراہم نہیں کیا کہ وہ پرسکون زندگی گزارتے ملزمہ اگر اپنے شوہر کے ہاتھوں تنگ تھی تو اس کے باپ نے اسے تحفظ فراہم کیوں نہیں کیا‘ تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ 28 سالہ خاتون کا اپنی بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنا اگر یہ ان کا ذاتی فعل ہے ‘ تاہم وہ جن حالات وواقعات کے تحت یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہوئی‘ اس امر کی بھی تحقیقات کرنا ضروری ہیں‘ ایس ایچ او ساحل کے مطابق خاتون ملزمہ کا شوہر راشد شاہ کراچی کے ایک بڑے نجی اسپتال میں ملازم اور اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر ہے ‘ تاہم مہنگائی کے اس دور میں وہ بیوی اور بچی کو ان کے ذاتی اخراجات کے لیے محض 100 روپے ہفتہ دیتا تھا‘ جو کبھی بچی کی فرمائش پر ساڑھے چار سو روپے ماہانہ تک چلے جاتے تھے‘ پولیس کے مطابق ملزمہ نے بیان دیا ہے کہ وہ کراچی کے چکا چوند ماحول میں ایک بچی کی خواہشات کو اسی تنگدستی میں دبا دبا کر انتہائی پریشان تھی‘ پولیس اس امر کی بھی تحقیقات کررہی ہے‘ ملزمہ شکیلہ بی بی اے پاس ہے اور وہ اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے ملازمت بھی کرنا چاہتی تھی‘ مگر اس کا شوہر اسے ملازمت بھی کرنے نہیں دیتا تھا‘ پولیس کے مطابق تمام حالات میں اس کا اپنی بیوی کے ساتھ رویہ کیا ہوگا‘ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بچی کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد تھانے پہنچ کر راشد شاہ نے زیر حراست بیوی پر تشدد کرنا شروع کردیا اور وہ اسے با ربار کوستا رہا کہ بچی کو ماردیا‘ یہ منحوس خود کیوں نہیں مری ‘ تاہم پولیس اہلکاروں نے اسے روکا ‘ پولیس کے مطابق ملزمہ کے شوہر کے رویے کی بناء پر بچی کی نعش باپ کے بجائے مقتولہ بچی کے تایا کے حوالے کی گئی ہے‘ جبکہ ماں کے ہاتھوں بچی کو سمندر میںڈبو کر قتل کرنے کے مقدمہ کی تفتیش کے دوران مقتولہ کے نانا دلاور خان نے اپنی ملزمہ بیٹی کو نفسیاتی مریضہ قرار دے دیا‘ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ طارق دھاریجو کے مطابق ملزمہ شکیلہ راشد کے والد دلاور خان کئی گھنٹے تک ساحل تھانے کے شعبہ تفتیش میںرہے ‘ والدکے بیان کے مطابق شکیلہ اور راشد شاہ کی سال 2012 ء میں شادی ہوئی ‘ کچھ عرصہ بعد ہی ان کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے‘ میاں بیوی کے درمیان مسلسل تنائو کی وجہ سے شوہر نے کرائے پر الگ فلیٹ لے کر دیاتھا‘ پولیس کے مطابق ملزمہ نے بیان دیا ہے کہ ذہنی دبائو اور ڈپریشن کی وجہ سے شکیلہ سال 2016 ء سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھی‘ دلاور خان نے اپنی ملزمہ بیٹی کے ڈپریشن اور ذہنی دبائو کا شکار رہنے کا ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پولیس کے سامنے پیش کیاہے ‘ دلاور خان کے بیان کے مطابق ان کی بیٹی شکیلہ 5 ماہ سے ان کے پاس رہتی تھی‘ جبکہ اس کی بیٹی انعم اپنے والد کے پاس رہتی تھی‘ ایک ماہ سے دونوں میاں بیوی کی صورتحال زیادہ گھمبیر تھی‘ یہی وجہ تھی کہ والد نے بچی کو ماں سے نہیں ملنے دیا‘ جبکہ شہریوں کا خیال ہے کہ میاں بیوی کا جھگڑا معصوم بچی کے قتل کا سبب بن گیا‘ گولیمار کی رہائشی شکیلہ جب اپنی کمسن بیٹی کو ساحل سمندر پر گھمانے کے بہانے لے گئی تو سمندر دیکھ کر معصوم بچی انعم خوشی سے تالیاں بجارہی ہوگی‘ اس کی خوشی دیدنی ہوگی ‘ لیکن اس کو کیا خبر تھی کہ آج ماں اس کو دیکھ کر مسکرا نہیں رہی ہے‘ بلکہ وہ تو اس کے چہرے کو دیکھ کر بلک رہی ہوگی اور آنکھوں میں آنسو صرف اس لیے روک لیاہوگا کہ کہیں اس کے آنسو بچی نہ دیکھ لے اور ڈھائی سالہ انعم اپنی ماں سے یہ نہ پوچھ لے کہ اس خوشی کے موقع پر اس کی آنکھوں سے آنسو کیوںبہہ رہے ہیں‘ اس کو کیا خبر تھی کہ آج ماں اس کو خوش دیکھ کر مسکرانہیں رہی ہے‘ بلکہ بلک رہی ہے‘ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور وہ بچی کو پانی میں پھینکنے کے لیے اپنا حوصلہ جمع کررہی ہے‘ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اپنی اولاد کے لیے سب کچھ وار دینے والی ہستی نے ہی اپنے ہاتھوں سے اسے پانی میں پھینکا اور منہ پھیر لیا‘ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس قتل کا ذمہ دار کوئی بھی ہو‘ اسے عبرت کا نشانہ بنایا جائے ‘ تاکہ ان جیسے لوگوں کو دیکھ کر اپنے گھروں میں کشیدگی برپا کرنے والے ماں باپ اپنے تمام اختلافات بھلا کر اپنے بچوں اور گھر میں سکون کی فکر کریں۔
معصوم انعم کے قتل کے الزام میں اس کی ماں شکیلہ تو جیل چلی گئی ہے ‘ ویمن جیل کے ذرائع سے معلوم ہے کہ شکیلہ جیل میں بھی اپنی بچی کو یاد کرکے روتی ہے اور اکیلے میں اپنی بچی سے باتیں بھی کرتی ہے ۔ گزشتہ روز ایس پی کلفٹن سہائی عزیز نے شکیلہ سے جونائل جیل میں ملاقات کی ایس پی کلفٹن کے مطابق شکیلہ کے علاج کے سلسلے میں آغا خان اسپتال سے ریکارڈ طلب کیا گیاہے اور نفسیاتی ماہرین سے بھی مدد لی جائے گی‘جونائل جیل میں شکیلہ معصوم بچوں کے ساتھ کھیل کود میں وقت گزارتی ہے ‘اگر کوئی بچہ رو رہا ہوتاہے تو اس کی ماں سے وہ لڑتی بھی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شکیلہ کا شوہر نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کی ذہنی کیفیت درست نہیں تھی‘ وہ اکیلے میں اپنے آپ سے بات کرتی اور مسکراتی رہتی تھی اور اس کو پاگل پن کے دورے بھی پڑتے تھے‘ جس پر اس کا آغاخان اسپتال میں علاج بھی کروایا شکیلہ کے شوہر نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی بچی سے بہت پیار کرتا تھا اور یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ وہ خرچے کے لیے 100 روپے ہفتہ دیتاتھا اپنی بچی کی ہر خواہش پوری کرتا تھا‘ شکیلہ کی ذہنی کیفیت کی وجہ سے بچی کو اس سے دور ہی رکھتا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شکیلہ کو گرفتار کرکے جب تھانے لایا گیا تو اطلاع ملنے پر اس کا شوہر اور گھر والے بھی تھانے پہنچے شکیلہ کے شوہر نے مشتعل ہوکر اس پر تشدد کیاکمرے میں موجود پولیس اہلکاروںنے اس کو کمرے سے باہر نکال دیا۔اس کا شوہر شکیلہ کو ’’جنم جلی‘‘ ’’منحوس‘‘جیسے القابات سے پکار رہا تھا میاں بیوی کی تھانے میں لڑائی دیکھتے ہوئے پولیس نے معصوم انعم کی میت بھی اس کے والد کے حوالے کرنے کے بجائے تایا کے حوالے کی‘ معصوم انعم کو تو سپردخاک کردیا گیا لیکن اس کے قتل کی تفتیش میں 10 سے زائد روز گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو کے مطابق قتل کے مقدمے میں اگر ضرورت پڑی تو اس کے والد یا شوہر کو بھی گرفتار کرسکتے ہیں۔ شکیلہ کے میکے والوں اور شوہر نے یہ بیان دے کر شکیلہ نفسیاتی مریضہ تھی اپنی جان چھڑوا لی ہے ‘ اگر وہ نفسیاتی مریضہ تھی تواس بناء پر اس کو گھر سے نکالنا بھی شوہر کی غیر ذمہ داری ہے اور اپنی معصوم بچی کی دیکھ بھال کرنا بھی اس کے شوہر کی ذمہ داری میں شامل ہے تاہم پولیس نے اس مقدمے میں مزید کوئی گرفتاری نہیں کی‘ پولیس کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے ۔

(313 بار دیکھا گیا)

تبصرے