Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 24 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہم ایک ہیں

قومی نیوز بدھ 13 فروری 2019
ہم ایک ہیں

اچانک مسجد میں اعلان ہوا۔بھائیوں اور بہنوں دریا میں سیلاب آگیا ہے گاؤں کو سخت خطرہ ہے جتنی جلدی ہوسکے اپنے گھر چھوڑدو پرانے کنویں کے پاس جو مٹی کے اونچے ٹیلے ہیں ان پر جمع ہوجاؤمائی رحمت نے صحن کا دروازہ کھولا اور اپنے بیٹے کی راہ تکنے لگی لوگ گھروں سے نکل کر ٹیلے کی طرف بڑھ رہے تھے وہ سخت پریشان تھے نہ صرف ان کے گھر اور گھر کا سازو سامان بہہ جانے کا خدشہ تھا بلکہ ٹیلے دور ہونے کی وجہ سے ان کی جانیں چلے جانے کا خوف بھی تھا جن کے پاس کوئی بیل گاڑی یا کوئی تانگہ تھا اس نے نہ صرف اپنا کنبہ اس پر بٹھا لیا تھا بلکہ سمٹ سمٹا کر دوسروں کو بھی بیٹھنے کی جگہ دے دی تھی،جلال بھی پریشان ہوگیا اپنی بیٹی اوربیوی کے ساتھ باہر نکل آیا تھا اس کے قریب سے کوئی بیل گاڑی یا تانگہ گزرتا وہ ساتھ لے جانے کی التجا کرتا لیکن کوئی اس کے لئے جگہ نہ بنا سکاجلال کو محسوس ہورہا تھا لوگ نکل جائے گے اور وہ وہی رہ جائے گا سیلاب کا ریلا آئے گا اسے اس کے گھر والوں سمیت بہا کر لے جائے گا اچانک اس کے قرین گدھا گاڑی رکی اس میں جمال اور اس کے بیوی بچے بیٹھے ہوئے تھے ساتھ ضروری سامان تھا آجاؤ لالہ جمال نے پکارا۔اس نے اپنا سامان نیچے پھینک دیا اور جگہ بنادی جلال نے احسان مند نظروں سے بھائی کو دیکھا اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ گدھا گاڑی میں بیٹھ گیا نور محمد کمہار نے اپنے بیٹے کو کندھوں پر بٹھالیا تھا اس نے دیکھا مائی رحمت دروازے میں کھڑی ادھر اْدھر دیکھ رہی ہے اور سخت پریشان ہے نور محمد نے آواز دی ماسی۔آجاؤ دیر کیوں کررہی ہوں ابھی سیلاب آئے گا اور تمہیں بہا کر لے جائے گا مجھے اپنے بیٹے کا انتظار ہے میں اگر یہاں سے چلے گی تو وہ مجھے کہا ڈھونڈے گا۔‘‘پہلے اپنی جان بچاؤنور محمد زور سے بولا۔زندگی ہوتو بچھڑے مل ہی جاتے ہیں رحمت مائی نے کھانا رومال میں باندھ لیا تھا وہ نور محمد کے ساتھ چل پڑی۔جامو نے اپنی ماں کو ایک تانگے میں سوار کردیا تھا اور خود پیدل جارہا تھا،بچاؤ۔بچاؤ جامو کو پیچھے سے آواز سنائی دی اس نے مڑکر دیکھا ممتازلڑ کھڑاکر چل رہا تھا اور پھر وہ بارش کے پانی میں گر گیا جامو نے بھاگ کر اسے پانی میں کھڑاکیا اور بولا میرا کندھا پکڑلو اور میرے سہارے چلو ممتاز کچھ دیر اس کے سہارے چلا لیکن پھر گرنے لگا مجھے بخار ہے مجھ سے چلا نہیں جارہا وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ممتاز دبلا پتلا چھوٹے قد کا آدمی تھا زیادہ بھاری نہ تھا جامو نے اسے کندھوں پر اٹھالیا گوکہ اسے اٹھا کر پانی میں چلنا آسان نہ تھا لیکن جامو نے ہمت نہ ہاری۔گاؤں کے سب لوگ ٹیلے پر بیٹھے تھے اب کوئی چھوٹا بڑا امیر غریب نہ تھاسب کا ایک ہی جیسا حال تھا بھوکے پیاسے بے بس اور مجبور سب روٹی کے چند ٹکڑوں کے لئے محتاج تھے نہ سونے کے لیے بستر تھا نہ سر پر کوئی چھت،،،اللہ کے سوا ان کا کوئی آسرا نہ تھا سب کی زبان اور دل پر اللہ کا نام تھا ایک سرکاری گاڑی آئی انہیں کھانا اور پانی کی بوتلیں دے کر چلی گئی سب مل بانٹ کر کھارہے تھے رحمت مائی بڑی دیر سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ شاید اس کا بیٹا آجائے اس نے بھی رومال کھول کر کھانا نکالا اور سب کے آگے رکھ دیا ممتاز کا جسم بخار کی وجہ سے ٹوٹ رہا تھا وہ نیچے پڑا ہائے ہائے کررہا تھا جامو آگے بڑھا اس نے پانی میں رومال بگھویا نچوڑا اور ممتاز کے ماتھے پر لگاتا رہا۔بخار کچھ کم ہورہا تھا جامو اس کی ٹانگیں دبانے لگا اسے محسوس ہوا ممتاز اسے تشکر بڑی نظروں سے دیکھ رہا ہے گاؤں میں سیلاب آچکا تھا حد نظر تک پانی ہی پانی تھا گھر اور فصلیں ڈوب چکی تھیں امدادی ٹیمیں اپنا کام کررہی تھی خدا خدا کرکے پانی اترا لوگ گاؤں میں واپس لوٹے تو گھروں کے کافی حصے ٹوٹ چکے تھے،جلال الدین کے مکان کے کچھ حصوں میں دراڑیں پڑچکی تھیں اور صحن کی دیواریں گر گئی تھیں مائی رحمت کا بیٹا وسیم بھی شہر سے آچکا تھا وہ سب کو جمع کرکے بولا ہماری اکیلے کوئی زندگی نہیں ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے تو اللہ بھی ہمارے ساتھ دے گا پہلے بھی اپنے گھر خود بنائے تھے اور اب بھی مل کر اپنے گھر دوبارہ بنالیں گے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کریں گے ہماری بستی پھر سے آباد ہوگی سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اپنے گھر تعمیر کرنے لگے جمال بھی کچی مٹی سے اپنا گھر بنانے لگا تو اس کا بھائی جلال آیا اور بولا جمال میرے صحن کی پکی اینٹے لے جاؤ اوراس سے اپنا گھر بناؤ اوروہ آپ کا صحن جما ل حیرت سے بولا فی الحال مٹی کے گارے سے بنالوں گا پھر کبھی پکا بھی کرلوں گاپہلے تمہارا گھر بننا چاہیے آخر میری بیٹی نے اسی گھر میں تمہاری بہو بن کر آنا ہے جمال نے جلال کو گلے لگالیا،جامو بھی اپنے گھر میں اینٹے لگا رہا تھا تو ممتاز آگیا اس کے ساتھ جامو کی بھینس بھی تھی وہ بولا یہ رسہ تڑا کر جانے کہاں بھاگ گئی تھی بڑی مشکل سے ڈھونڈ کر لایا ہوں یہ لو اپنی بھینس مگر وہ تمہارا قرض؟جامو حیران رہ گیا تھوڑا تھوڑا کر کے اتر ہی جائے گا اکٹھے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ممتاز پیار سے جامو کا کندھا تھپتھپا کر بولا خوشی سے جامو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے نور محمد بہت دکھی تھا وہ بولا گھر تو میں بنا ہی لوں گا مگر میرے سارے برتن ٹوٹ گئے اور بہہ گئے ہیں اب میں کیا بیچ کر بیٹے کا علاج کراؤں گا وسیم بولا تمہارا بیٹا ہم سب کا بیٹا ہے ہم سب مل کر پیسے جمع کریں گے اور اس کا علاج کرائیں گے نور محمد نے خوش ہوکر وسیم سے ہاتھ ملایا وسیم نے اپنے دوسرے ہاتھوں سے جامو کا ہاتھ پکڑ لیا اور جامو نے جمال کااور یوں سب ایک دوسرے سے جڑتے گئے سب ایک ہوگئے

(276 بار دیکھا گیا)

تبصرے