Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہم زندہ قوم ہیں

تحریروتحقیق:مختار احمد پیر 11 فروری 2019
ہم زندہ قوم ہیں

کم و بیش ہر سال جشن یوم آزادی کے موقع پر یا پھر یوم دفاع کے موقع پر ہم زندہ قوم ہیں کا ملی نغمہ سننے کو ملتا ہے مگر ہم کس قدر زندہ قوم ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگی رہنما شیخ غلام حسین ہدایت اللہ اور ان کی زوجہ صغریٰ بیگم جو کہ لیڈی ہدایت اللہ کے نام سے مشہور تھیں
دونوں نے ہی تحریک پاکستان کی جدو جہد میں نما یاں طور پر حصہ لیا جب آل انڈیا مسلم لیگ کا آخری تاریخی اجلاس جس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا آخری خا کہ پیش کیا تو لیڈی ہدایت اللہ سمیت متعدد رہنمائوں نے پنجاب اور بنگال کے نمائندوں نے اس تقسیم پر سخت بر ہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ انہیں کٹے پھٹے صوبوں پر مشتمل پاکستان نہیں چاہئے جس پر سر غلام حسین ہدایت اللہ اپنی نشست سے اٹھے اور فر ما یاں کہ بنگال اور پنجاب کے جن علاقو ں کو پاکستان سے جدا کیا جا رہا ہے ان تمام میں ہندئوں اور سکھوں کی اکثر یت ہے جو کہ بھا رت کی شہہ رگ پر پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو کسی طور پر کامیاب نہیں ہو نے دیں گے اور اس طرح ان کی اس دلیل پر پاکستان کی تقسیم کا الجھا ہوا مسئلہ حل ہو گیا سر غلام حسین ہدا یت اللہ ہوں یا ان کی اہلیہ دونوں نے ہی جدو جہد پاکستان کے لئے اہم رول ادا کیا اوران کا شمار قائد اعظم محمد علی جناح کے متعمد ساتھیوں میں کیا جا تا تھا
غلام حسین ہدا یت اللہ 1879سندھ کی سر زمین شکار پور میں پیدا ہو ئے انہوں نے سندھ مدرسۃ السلام ،ڈے جے کا لج اور گورنمنٹ لاء کالج بمبئی سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور حیدر آباد میں قانو نی مشک شروع کی 1921میں بمبئی قانون سازی کے رکن منتخب ہو گئے اور کیو نکہ ذہا نت ،شرا فت ،دیا نت کے نام پر وہ اعلی درجے پر فائز تھے لہذا اسی سال انہیں وزیر منتخب کر لیا گیا اور کیونکہ انہوں نے بر طانوی دور میں وزیر کی حیثیت سے اہم اصلاحات کی اور سندھ میں تعمیر ہو نے والے سکھر بیراج کے لئے نما یاں خد مات سر انجام دیں لہذا انہیں انگریز سر کار نے ان کی خد مات کے اعتراف میں خان بہا در کے اعزاز سے نوازااور چونکہ سیاسی اعتبار سے ان کا شمار صف اول کے رہنمائوں میں کیا جا تا تھا

لہذا انہیں آل انڈیا مسلم لیگ میں نما یاں مقام حاصل رہا اور انہیں 1937سے1938تک پہلے وزیر اعلی سندھ اور 1942سے1947تک پانچویں وزیر اعلی سندھ بننے کا اعزاز حاصل ہوا اس دوران انہوں نے نا صرف تعلیمی میدان میں نما یاں خد مات انجام دیں بلکہ اگر انگریزوں کے دور میں سندھ میں ہو نے والی ترقی کے پیچھے بھی ان کا ہا تھ تھا اور جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور زیرک سیاستداں ہو نے پر انہیں قیام پاکستان کے بعد پہلے گو رنر سندھ کا منصب عطا کیا گیا انہوں نے 15اگست 1947کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا یا اور با نی پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے والے نئے ملک کو بنا نے کا کام شروع کر دیا اور وہ اور ان کی اہلیہ دن رات بھارت سے آنے والے وہ مہا جرین جو کہ بے سرو ساماں تھے کو بسا نے کا کام شروع کر دیا اور ان کے گھر سے با قاعدہ طور پر پاکستان آنے والے مہاجرین کے لئے کھا نا بھی بھیجا جا تا تھا حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سر ہدا یت اللہ کوئی سر ما یہ دار نہیں تھے مگر اس کے با وجود انہوں نے کبھی سرکاری خزا نے سے تنخواہ کی مد میں کچھ بھی وصول نہیں کیا مگر اس کے با وجود ان کے گھر سے مہاجرین کے لئے لنگر کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا پھر جب 11 ستمبر 1948کو با نی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس دنیا سے رخصت کر گئے انہوں نے مو لا نا شبیر احمد عثما نی کی اقتدا میںان کی نماز جنازہ پڑھی اور صدمے کے باعث بیمار ہو گئے اور قائد اعظم کی وفات کے ٹھیک 23دن بعد14اکتو بر 1948کو انتقال کر گئے اور کیو نکہ وہ شہر کراچی کی پہلی قدیم عیدگاہ اور مسجدجو کہ مشہور صوفی بزرگ حضرت عالم شاہ بخاری کے مزار سے متصل ہے میں با قاعدگی سے نمازاداکر نے اور ان کی خواہش اور وصیت کے مطا بق تدفین کر دی گئی اور ان کی قبر کو پختہ کر کے اس پر ٹائلیں لگا نے کے ساتھ ساتھ ان کے نام کی تختی آویزاں کر دی گئی جہاں مادر ملت محتر مہ فاطمہ جناح سمیت سر کاری اور غیر سر کاری شخصیات حاضری دیا کر تے تھے اور عید گاہ کے قرب و جوار میں رہنے والے بزرگوں کا دعوی ہے کہ جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح مزار پر حاضری کے لئے تشریف لا تیں تو علاقے کے جمع ہو جا نے والے بچوں کو چار چار آنے دیا کر تی تھیں یہ سلسلہ مادر ملت کے زندہ رہنے تک جاری رہا

اور اس کے بعد ہم زندہ قوم کا سالانہ کورس میںملی نغمہ گا نے والے اپنے اس محسن کو بھول گئے اور پھر جب اوقاف کا محکمہ 1960میں وجود میں آیا تو اس نے سندھ کے پہلے گو رنر کی قبر کے چاروں طرف بغیر کسی دروازے کے اونچی دیواریں تعمیر کر وادیں تا کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ قیام پاکستان میں اہم رول ادا کر نے والے عظیم مرتبت شخص کی قبر ہے اور پھر جب 2016میں نشتر پارک میں ہو نے والے میلاد مصطفی کانفرنس میں دہشت گر دی ہو ئی تو اس کے نتیجے میں شہید ہو نے والے اہم رہنمائوں مو لا نا عباس قادری ،مولاناافتخاربھٹی ،انجینئر عبدالعزیزخان اور دعوت اسلامی کے با نی عبدالقادر باپو کو بھی اسی جگہ سپرد خاک کیا گیا اور اس وقت ان تمام رہنمائوں کی قبریں تو نما یاں نظر آتی ہیں مگر سندھ کے پہلے گورنر کی قبراوقاف کی دیواروں میں قید ہے جس کی بنیاد پر کسی کو اس بات کا علم نہیں کہ یہاں اتنی بڑی عظیم شخصیت مدفون ہیں کچھ بھو لے بھٹکوں کو اگراس کی خبر بھی ہے تو وہ دیواریں ہونے کے سبب صوفی بزرگ عالم شاہ بخاری مزار کی چادر مانگ کر اوپر سے ہی قبر پر ڈال دیتے ہیں اور ملک کی جشن آزادی کے موقع پر دیوار کے اوپر سے ہی جھنڈیاں قبر پر نچھاور کر دیتے ہیں اس حوالے سے محکمہ اوقا ف کے سینئر افسران بھی اس بات سے بے خبر ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں یہ یہاں سندھ کے پہلے گو رنر دفن ہیں ہاں انہیں اس بات کا ضرور علم ہے کہ قدیم عید گاہ میدان کی تمام زمین محکمہ اوقاف کی ہے جس کے 665یونٹ اور دکانوں پر قبضے ہیں اور قابض افراد باوجود مطالبے کے محکمے کو کرایوں کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں جس کی بنیاد پرمحکمہ قبضہ کئے گئے دکانوں اور مکانوں کو خالی کر وانے کی پلا ننگ کر رہا ہے ان کی اس بات سے یہ تاثر جھلکتا ہے کہ وہ سندھ کے پہلے گورنر کی قبر کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے کسی سازش میں مصروف عمل ہیں ایسی صورتحال میں صوبہ سندھ کے 33 ویںگورنرعمران اسماعیل کے ایکشن لینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ سندھ کے پہلے گورنر جوکہ قائد اعظم کے دست راست ہو نے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کی جدو جہد میں نما یاں کر دار ادا کر تے رہے کی قبر کو ان کی جدو جہد ،ان کے منصب کے مطابق بنایا جائے تا کہ آنے والی نسلیں اپنے ہیروز کو فراموش نہ کر سکیں ۔

(315 بار دیکھا گیا)

تبصرے