Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قومی عجا ئب گھر وفاق کی یا پھر صوبے کی ملکیت

تحریر:مختار احمد جمعه 08 فروری 2019
قومی عجا ئب گھر وفاق کی یا پھر صوبے کی ملکیت

جہاں تک دنیا بھر میں نوادرات جمع کر نے کا تعلق ہے تو یہ کو ئی چند صدیوں پہلے کی روایت نہیں بلکہ اس روایت کا آغاز تو دنیا کے وجود میں آنے کے ساتھ ہو گیا تھا جب لوگوں نے اپنے آبائو اجداد کے زیر استعمال رہنے والی چیزوں کو آئندہ آنے والی نسلوں کو دکھا نے کے لئے جمع کر نا شروع کر دیا تھا لیکن اس کا با قاعدہ آغاز اس وقت تر کی سے ہوا جب لوگوں نے اپنے آبائو اجداد کی تدفین کے لئے ان کی لا شوں کو مصالحہ لگا کر محفوظ کر نا شروع کر دیا اور اسے احرام مصر کا نام دیا اسی زما نے یعنی کے 5000سال قبل لوگوں نے اپنے اجدادکی نعشوں کو دفنا نے کے ساتھ ساتھ ان کے زیر استعمال اشیا کو بھی ان کے ساتھ مدفون کر نا شروع کر دیا تا کہ آنے والی نسلوں کو اپنے آبائو اجدادکی تہذیب و ثقافت سے آگا ہی حاصل ہو سکے

جبکہ جب دنیا بھر میں صنعتی انقلاب بر پا ہوا تو اس وقت یورپین نے افریقہ اور ایشیائی ممالک میں کی جا نے والی لوٹ مار کے دوران ملنے والے نوادرات کو محسوس کر نے کے لئے میوزیم قائم کئے اور انہیں میں سے ایک میوزیم جو کہ آج دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہے کو بر ٹش میوزیم کانام دیا جس کا شمار آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اور قدیم عجا ئب گھروں میں کیا جا تا ہے

اسی طرح جب دین اسلام وجود میں آیا تو مسلمانوں نے بھی اپنے آبائو اجداد کے زیر استعمال اشیا کو محفوظ بنا نے کا کام کیا اور جب نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺکا وسال ہوا تو خلیفہ وقت بھی اسے مقرر کیا گیا جس کے پاس نبی کریم کے زیر استعمال رہنے والی اشیا جن میں عصا ،کپڑے ،کٹورے سمیت نوادرات کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا یہ سلسلہ سلطنت عثما نیہ تک جاری رہا پھر قسطسطنیہ میں توپ کاپی میوزیم میں نبی کریم ﷺ،صحابہ کرام کے زیر استعمال رہنے والی چیزوں کا ذخیرہ کیا گیا جس کی بنیاد پر اسے اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اسلامی میوزیم کا در جہ دیا جا سکتا ہے
اب جہاں تک دنیا بھر میں عجا ئب گھروں کی تعداد کا تعلق ہے تو اس وقت دنیا بھر میں 50ہزار سے زائد عجا ئب گھر موجود ہیں اور جہاں اہم اور قیمتی نوادرات کا قیمتی ذخیرہ موجود ہے اور اسی طرح پاکستان کے اندر وفاقی حکو مت کی سطح پر 13جبکہ صوبائی سطح پر 70سے زائد میوزیم موجود ہیں جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان ،پاکستان ریلوے ،پاکستان نیوی ،پاکستان ایئر فورس ،پاکستان آرمی ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت مختلف اداروں کے میوزیم موجود ہیں


جہاں ان اداروں کے آغاز سے لے کر اب تک کے تمام اہم قیمتی نوادرات جن میں جہاز ،وردیاں ،آتشی اسلحہ ،توپ ،ٹینک تک موجود ہیں لیکن وفاقی حکو مت کی سطح پر جو13میوزیم قائم ہیں ان میں نوادرات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اور انہیں میں سے قومی عجا ئب گھر کراچی بھی شامل ہے ۔جسے بر طانوی دور میں ایک انگریز کمشنر سر بارٹلے فریئر نے 1871 میں اس وقت کے مشہور زمانہ ٹاؤن ہال ’’فریئر ہال‘‘ کی اوپری منزل سے اس کا آغاز کیا۔
ابتدائی طور پر میوزیم اور جنرل لائبریری دونوں ہی فریئر ہال کی اوپری منزل پر قائم کیے گئے جہاں شائقین کی ایک بڑی تعداد نہ صرف مطالعے کا شوق پورا کرتی بلکہ تاریخ سے لگاؤ رکھنے والے لوگ ماضی میں استعمال ہونے والی نادر و نایاب اشیا کا مطالعہ بھی کرتے تھے۔
اس میوزیم کو اس وقت وکٹوریہ میوزیم کا نام دیا گیا تھا، جبکہ لائبریری جنرل لائبریری کے نام سے مشہور تھی۔ پھر اچانک اس میوزیم کو سپریم کورٹ کراچی کے رجسٹری آفس منتقل کر دیا گیا۔ عجائب گھر کی منتقلی کے باوجود اس کے نام میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور اسے وکٹور یہ میوزیم کے نام سے ہی جانا اور مانا جاتا رہا۔


پھر جب بانی پاکستان حضرت محمد علی جناح کی کاوشوں اور کوششوں سے پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تو ایک ایسے عجائب گھر کے بارے میں سوچا جانے لگا جسے قومی عجائب گھر کا در جہ دیا جا سکے۔ اور کیونکہ محکمہ آثار قدیمہ قیام پاکستان سے قبل ہی موجود تھا، لہٰذا برنس گارڈن جو کہ قدامت کے اعتبار سے کراچی کا پہلا باغ تھا، کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا اور باغ کے اندر قومی عجائب گھر قائم کرنے کی منظور ی بھی دے دی گئی۔
جس کے بعد تیزی سے اس کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور جلد ہی ایک 5 منزلہ دیدہ زیب عما رت تعمیر ہو گئی۔اس کے بعد وکٹوریہ میوزیم کے نوادرات جو کہ مختلف وقتوں میں کبھی ڈی جے کا لج اور کبھی سپریم کورٹ کے رجسٹری آفس اور دیگر عمارتوں میں رکھے گئے تھے، سے نوادرات کو اکھٹا کرکے نیشنل میوزیم کراچی کے اندر منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہاں 2 یا 3 گیلریاں شروع کی گئیں جن میں قرآنک گیلری اور گندھارا آرٹ گیلری شامل ہیں۔


بعد ازاں قومی عجائب گھر کے اندر لگ بھگ 8 سے زائد گیلریاں قائم کرلی گئیں جو کہ قیام پاکستان کے بعد سے وفاقی حکو مت کے زیر اثر رہی اور محکمہ آثار قدیمہ اس کی دیکھ بھال کر تا رہا اس میوزیم جہاں سوا لا کھ سے زائد مختلف وقتوں کے اہم نوادرات جن کی ما لیت ایک انشورنس کمپنی نے 43ارب لگا ئی تھی مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں رہا اور قومی عجا ئب گھر کے اندر ماسوائے اس کے انتظامیہ کے دفاتر ،لائبریری کے کسی قسم کی کو ئی تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے اطراف میں قائم قدیم بر نس گارڈن میں چھیڑ چھاڑ کی گئی
مگر جب 18ویں تر میم کے بعد باجو د 1973کے آئین میں جناح ہسپتال ،این آئی سی وی ڈی ،این آئی سی ایچ ،شیخ زید میڈیکل کمپلیکس اور قومی عجا ئب گھرجسے وفاق کی ملکیت قرار دیا گیا تھا ترمیم کے بعد ان تمام اداروں کو صوبائی حکو متوں کے سپرد کردیا گیا جس کے بعد نا صرف عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا تے ہو ئے صوبائی وزیر ،وزیر ثقافت اور سیکریٹری ثقافت نے غیر قانو نی طور پر میوزیم کے 2 فلور کو خا لی کر وا کر اپنے سیکریٹریٹ قائم کر لئے بلکہ اس میوزیم جس کی سیکورٹی کے لئے صرف ایک دروازہ قائم تھا اور جسے ٹھیک 5بجے شام پو لیس کی موجودگی میں سیل کئے جا نے کا قانون موجود ہے کو با لائے طاق رکھتے ہوئے ایک بغلی دروازہ قائم کر دیا گیا
جہاں لوگوں کی آمد و رفت میوزیم بند ہو نے کے بعد بھی جاری رہتی تھی جس سے عجا ئب گھرمیں محفوظ قیمتی نوادرات غیر محفوظ ہو گئے تھے اس کے علاوہ سندھ حکو مت کی سر پرستی میں وہ قدیم ریسٹ ہائوس جس میں چند سال قبل تک محکمہ آثار قدیمہ کے ملک بھر سے آنے والے افسران قیام کر تے تھے جہاں ایک چوکیدار ،ایک خانسامہ کی مدد سے طعام کی سہو لت بھی مہیا ہو تی تھی اسے مسمار کر کے غیر قانو نی طور پر ڈائریکٹر آرکیا لو جی سمیت دیگر دفا تر قائم ہو گئے جبکہ سندھ نے اس کے ساتھ ہی پرا نے قدیم باغ کو اجاڑ کر سندھ بھر سے آنے والے ادیبوں ،شعراء اکرام و فنکاروں کے لئے ایک کلچرل کمپلیکس بھی تعمیر کر نے کی کوشش کی مگر سندھ ہا ئیکورٹ نے اسے روک دیا اس کے بعد سندھ حکو مت کی طرف سے قومی عجا ئب گھر کے مر کزی دروازے کو خوبصورت بنا نے کے لئے شاہجہا نی مسجد ٹھٹھہ سے لا ئے گئے کچھ آیتوں کے کتبوں سے کروڑوں رو پوں کی لا گت سے ایک گیٹ تعمیر کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی سندھ کی ثقافت کو اجاگر کر نے کے لئے سندھی ویلج کے نام سے لگ بھگ 8کروڑروپے کی لا گت سے سندھی گائوں بنا یا گیا جس کی تکمیل سے قبل ہی بنا نے والے من پسند ٹھیکیدار کو سیکورٹی ڈیپازٹ سمیت ٹھیکے کی تمام رقم اداکردی گئی جس کے پیش نظر ٹھیکیدار نے کئی سال کی منت و سماجت کے بعد سندھی ویلج بنایا مگر اس وقت کی صوبائی مشیر شرمیلا فاروقی نے محض کاغذوں پر اس کا افتتاح کر دیا
اور اسے عوام کے لئے سرے سے کھو لے ہی نہیں نہ جا سکا جس کے سبب کروڑوں کی لا گت سے بنا یا جا نے والا شاہجہا نی گیٹ اور سندھی ویلج نا صرف تبا ہی وبر بادی کا شکار ہو گیا بلکہ وہاں میوزیم کے ملازمین نے کوڑا کر کٹ ڈالتے ہو ئے اسے کچرے دان میں تبدیل کر دیا سندھ حکو مت کی غیر قانو نی کاروائیوں کی تفصیلات یہیں ختم نہیں ہو تی بلکہ قومی عجا ئب گھر میں مزید 4 گیلریوں کی توسیع کے لئے بھی صوبا ئی مشیر کے دور میں تعمیرات سے قبل ہی ٹھیکیداروں کو پورے پورے پیسوں کی ادائیگی کر دی گئی جس کی بنیاد پر آج بھی گیلری کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ محکمہ ثقافت کی طرف سے قومی عجا ئب گھر کے احاطے جہاں عجا ئب گھر کی حفاظت کے پیش نظر کسی قسم کی تجارتی سر گر میوں کی اجازت نہیں ہے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر نے آر کیالو جی کے ڈائریکٹر کو با ئی پاس کر تے ہو ئے اس جگہ جہاں پہلے سیر و تفریح کے لئے آنے والے لوگوں کے لئے ایک کینٹین قائم تھی


ایک معاہدے کے مطا بق یہ جگہ کیفے سندھ کو اس شرط پر دی گئی کہ وہ 3ماہ بعد 40ہزار روپے ماہوار کرا یے کے ساتھ ساتھ یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کر ے گا مگر اس کے با وجود اس کیفے کے ما لک نے با اثر افسران سے رابطوں کی بنیاد پر کرا یوں کی ادائیگی تو چھوڑ گیس،بجلی اور پانی کے بلوں کا بوجھ بھی قومی عجا ئب گھر پر ڈال رکھا ہے اور با وجود انتظامیہ کی جا نب سے کرایوں،یوٹیلی بلز کی ادائیگی کے نوٹسز جاری کئے جا نے کے باوجود اس نے کسی قسم کی ادائیگی نہ کر تے ہو ئے کاروبار جاری رکھا ہوا ہے جس کے تحت شہر بھر سے سندھی کھانوں ،مشروبات اورچائے کے شوقین نا صرف اس ریسٹورنٹ کو رونق بخشتے ہیں بلکہ رات گئے تک قومی عجا ئب گھر جہاں سیکورٹی سخت ہو نی چاہئے لوگ آزادانہ طور پر گھوم رہے ہو تے ہیںحالانکہ سندھ ہائیکورٹ نے ایک حکم نا مے کے تحت ریسٹورنٹ جسے شہر کے 17 پارکوں میں قائم تجاوزات کی طرح ختم کر نے کا حکم دیا تھا جس پر اس کے ما لک نے سندھ ہا ئیکورٹ سے ہی ایک حکم امتنا ہی حاصل کر لیا ہے جس کے تحت اسے اس بات کی گارنٹی دی گئی ہے کہ اس کے ریسٹورنٹ کو مسمار نہیں کیا جا ئے گا مگر اس کے بر خلاف وہ کھلے عام محکمہ ثقافت کے افسران کی سر پرستی میں ریسٹورنٹ چلا رہا ہے
اور یہ تمام غیر قانونی اقدامات باوجودسندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے جس میں اس نے قومی عجا ئب گھر کو وفاق کی ملکیت قرار دیا تھا کے با وجود جاری رہا اور سندھ حکو مت نے اپنے ان غیر قانونی ہتھکنڈوں کو جا ری رکھنے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں تقریبا ایک سال قبل ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اس نے دعوی کیا تھا کہ قومی عجا ئب گھر وفاق کی نہیں بلکہ صوبہ سندھ کی ملکیت ہے اور یہ مقدمہ لگ بھگ ایک سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا
اور باوجود پریم کورٹ اس حکم کہ مقدمے کا فیصلہ نہ ہو نے تک قومی عجا ئب گھر یا اس کے احاطے میں کسی قسم کی تعمیرات ،تبدیلیاں نہ کی جا ئیں اور عجا ئب گھر سے نوادرات منتقلی پر بھی پا بندی عائد کی مگر عدالتی احکا مات کو ہوا میں اڑاتے ہو ئے سندھ حکو مت نے کھا نے پکا نے کے سارے غیرقانونی اقدامات بدستور جا ری رکھا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریٹا ئر منٹ سے قبل کئے جا نے والے آخری فیصلے میں قومی عجا ئب گھر سمیت جناح ہسپتال و دیگر کو وفاق کی ملکیت قرار دیااورصوبائی حکومتوں کو 90روزکی مہلت دی ہے کہ وہ ان تمام اداروں کو 90روز میں خا لی کر دیں اور اگر انہیں اس سلسلے میں مزید وقت چا ہئے تو وہ رجوع کر سکتے ہیں
جس کے بعد سندھ حکو مت نے نچلے بیٹھنے کے بجا ئے ایک بار پھر فیصلے پر نظر ثا نی کی اپیل کے لئے قانونی ماہرین سے مشاورت کر لی ہے جس کے تحت ان کی جا نب سے ایک بار پھر اس فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کئے جا نے کا امکان ہے اس سلسلے میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ قومی عجا ئب گھر کو وفاق کا حصہ قرار دے چکی ہے لہذا سندھ حکو مت سے فوری طور پر قومی عجا ئب گھر میں قائم صوبائی وزیر ،سیکریٹری کے دفاتر کو ختم کیا جا ئے اور فوری طور پر نوادرات کے ریکارڈ قبضے میں لے کر نوادرات کی حفاظت کے لئے سیکورٹی تعینات کی جا ئے ورنہ 2حکومتوں کے درمیان ہو نے والی لڑا ئی سے میوزیم کے اندر موجود اہم اور قیمتی نوادرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن اس سلسلے میں وفاقی حکو مت سمیت سیکورٹی کی طرف سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے اور حکو مت سندھ کا قومی عجا ئب گھر اور بر نس گارڈن جو کہ در اصل بلدیہ عظمی کی ملکیت ہے پر قبضہ بدستور برقرار ہے۔

(328 بار دیکھا گیا)

تبصرے