Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 17  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کشمیر بنے گا پاکستان...!!

تحریر:مختار احمد منگل 05 فروری 2019
کشمیر بنے گا پاکستان...!!

ہر سال 5فروی کو کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے دنیا بھر سمیت پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منا یا جا تاہے اورقریہ قریہ گلی گلی مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں جس میں مقررین مقبوضہ کشمیر کے ان مظلوموں جن کے ساتھ بھارتی مظالم کا سلسلہ جو کہ قیام پاکستان سے ہی شروع ہو چکا تھا کے بارے میں نت نئی داستانیں سنا کر محفل لوٹنے کی کوشش کر تے ہیں جبکہ اسی طرح نعرے لگا نے والے بھی منعقد کی گئی

ان تقریبات میں کشمیر بنے گا پاکستان ،کشمیر ہمارا ٹوٹ انگ ہے ،کشمیر ہماری شہ رگ ہے کے نعرے بلند کر تے نظر آتے ہیں مگر شاید کسی کو اس بات کا علم نہیں کہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر نے کے لئے اس دن کا آغاز کب کیسے اور کیوں ہوا

اس دن کا آغاز1990میں 5فروری کے موقع پر جماعت اسلامی کے امیر قاری حسین احمد کی کاوشوں سے شروع ہوا اور حکو مت نے بھی ان کی اس آواز پر لبیک کہتے ہو ئے عام تعطیل کا اعلان کر دیا اور اس طرح 1990سے ہی یوم یکجہتی کشمیر کو جوش و خروش سے منا یا جا تا ہے اور اس دن کی مناسبت سے کشمیری سیاسی ،سماجی ،مذہبی تنظیمیں جلسے ،جلوس اور ریلیاں منعقد کر تے ہیں

اب جہاں تک ریاست جموں کشمیر کا تعلق ہے تو یہ برصغیر کی ایک اہم ریاست تھی اس ریاست کو انگریزوں نے ۱۸۴۶ میں معاہدہ امرتسر کی رو سے ۷۵ لاکھ روپے میں گلاب سنگھ ڈوگرہ کے کے ہاتھ فروخت کر دیا اس کا رقبہ ۸۴۷۴۱ مربع میل تھا یہ ہندوستاں کی اہم ترین ریاست تھی اس کی سرحدیں ہندوستان کے علاوہ چین روس اور افغانستان سے ملتی تھیں اس طرح اسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوئی۔

۱۹۴۱ کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی ۴۰ لاکھ تھی کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی ۹۶ فیصد تھی کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کی بہت زیادہ وجوہات تھیں سب سے بڑھ کر مذہب دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی دونوں علاقوں کے رسم و رواج ایک جیسے تھے اورکشمیر کی دس ہزار کلو میٹر سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے

کشمیر اور پاکستان میں معاشی و اقتصادی تعلقات بھی تھے اور ہیںدریاؤں کا بہاؤ بھی اسکی واضح دلیل ہے پاکستان میں بہنے والے دریا جو پنجاب کو سیراب کرتے ہیں سب کشمیر سے نکلتے ہیں اہم راستوں کی بنا پر بھی کشمیر پاکستان کے قریب تر ہے کشمیر پاکستان کے لئے دفاعی حیثیت کا بھی حامل ہے چوہدری رحمت علی نے لفظ ک سے کشمیر کی پاکستان میں نمائندگی ظاہر کی اور پاکستان بننے پر کشمیریوں نے بھی یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منایا جو کے کشمیر کی عوام کا ریفرینڈم ہے انگریزوں اور ہندؤں کو پاکستان ہر گز نہ بھاتا اور وہ پاکستان کو ترقی کرتا نہ دیکھ سکتے اور وہ کشمیر کو پاکستان سے الگ رکھ کر پاکستان اور کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے اسی لئے ہندؤں نے کوئی بھی موقع ضائع کیے بغیر اپنی سازشیں جاری رکھیں اور انگریز انکا ساتھ دیتے رہے

با لا آخر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف سے مل کر پاکستان کے کچھ علاقے کاٹ کر ہندوستان کو تحفے کے طور پر دے دئے جن میں گورداسپور جوکہ جموں تک جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے کشمیری عوام نے ہمیشہ سے ہندؤں اور انگریزوں کی مخالفت کی اور انکے خلاف سر عام بغاوت کرتے رہے

ہندؤں نے سکھوں کو استعمال کر کے پٹیالہ کپور تھلہ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈوں کی مدد سے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا اور پانچ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو شہید کیا گیا اسی طرح کے متعدد ظلم و ستم کشمیرپر ڈھائے جاتے رہے اور جاری ہیں ہندوستان نے کشمیر کا جعلی الحاق کر کے اپنی فوجیں بھی باقائدہ طور پر کشمیر میں اتار دیں اور قتل و غارت شروع کر دی اور کشمیریوں کی آوازوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی

جب مجاہدین نے اپنی کاروائیاں شروع کیں اور کشمیر میں آزادی کو ممکن بنا دیا تب بھارت روتا ہوا اقوام متحدہ کے پاس جا پہنچا اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور کہا گیا کے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کا انتظام کیا جائے گا اور جنگ بندی کی لائن کھینچ دی گئی تب تک ۳۷ فیصد کشمیر پر پاکستانّ قابض ہو چکا تھا اس علاقے کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا۔

۱۹۵۰ سے ۱۹۵۳ تک اقوام متحدہ نے کوششیں جاری رکھیں۔مگر بھارت کی مکاری اور چا لا کیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ استصواب رائے نہ کرو ا سکا۔ بھارت نے متعددبار نام نہاد الیکشن کروا کر نام نہاد حکومتیں بنائیں مگر کشمیری عوام نے کبھی انہیں تسلیم نہیں کیا۔تب سے لے کر اب تک بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ یا پھر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے آج تک بھارت کی مکاری نمایاں ہے اور بے چارے کشمیری دربدر اپنے حق کی خاطر ٹھوکریں کھا رہے ہیں

اپنا حق مانگنا اچھی بات ہے اور کشمیریوں میں اپنا حق حاصل کرنے کا ولولہ ہے بھارت چاہے اپنی ساری فوجیں بھی کشمیر پر اتار دے تو بھی وہ کشمیریوں کی آواز کو کچل نہیں سکتااور اس طرح تقسیم ہند کے بعد ہندو مہا راجہ ہری سنگھ جس نے مسلمانوں کی مر ضی کیخلاف 26اکتو بر 1947کوبھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا اور جس کے نتیجے میں دونوں مما لک کے درمیان جنگ ہو ئی تھی

1949میں سلامتی کونسل کی مداخلت پرجنگ بندی تو ہو گئی تھی مگر مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سے لے کر آج تک بھارتی افواج کی جا نب سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں مائوں کی گو دیں ،بہنوں کے سہاگ اجڑ چکے ہیںجبکہ کشمیر کی اس جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں نو جوان اپنی جا نوں کی قر بانیاں پیش کر چکے ہیں جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے

ہم ہر سال پا بندی کے ساتھ 5فروری کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یوم یکجہتی کشمیر کا دن تو منا تے ہیں مگر پاکستان میں بننے والی حکو متوں کی جا نب سے عالمی فورم پر کو ئی موثر آواز نہیں اٹھا ئی جا تی جس کی بنیاد پر مظلوم کشمیری آج بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جب بھا رت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا تھا

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اور حکو مت مل جل کر عالمی فورم پر کچھ اس طرح آواز بلند کریں کہ مسئلہ کشمیر حل ہو سکے ور نہ بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ یوں ہی جا ری رہے گا اور نہتے کشمیری اپنے شہیدوں کو قومی پرچم میں لپیٹ کر دفنا تے ہو ئے پاکستان سے محبت کا ثبوت دیتے رہیں گے لہذا پاکستان کی حکو مت کو پاکستان کی محبت کا قرض دینے والے مظلوم کشمیریوں کے لئے کچھ نہ کچھ کر نا پڑے گا اس کا حل صرف یوم یکجہتی کشمیر منا نا یا ہر سال اس موقع پر ہو نے والی تقریبات میں دھواں دار تقریریں اور نعرے ہر گز نہیں ۔

(325 بار دیکھا گیا)

تبصرے