Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کے ڈی اے کا افسر ٹارگٹ

ویب ڈیسک جمعه 01 فروری 2019
کے ڈی اے کا افسر ٹارگٹ

22 جنوری شام تقریباً5 بجے کا وقت تھاکراچی کے علاقے فیروز آباد تھانے کی حدودمیں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے سندھی مسلم سوسائٹی نورانی کباب ہائوس کے پاس گزرنے والی کارپر اندھا دھند فائرنگ کردی‘ کارمیں سوار KDAکے ملازم محمد علی شاہ کو سر میں ایک گولی لگی ‘ جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی‘

ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے‘ پولیس نے واقع کا مقدمہ مقتول کے چچازاد بھائی سید افتخار علی زیدی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 55/19 بجرم دفعہ 302/34/427 درج کرکے واقع کی تفتیش شروع کردی‘ واقع کے مطابق کراچی میں جاری رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل جدوجہد اور جرائم کے خلاف آپریشن نے پہلے کی نسبت امن کی فضاء قائم کردی ہے‘ لیکن گزشتہ دنوں کراچی میں ہر پر در پر مختلف دہشتگردی کے واقعات نے دوبارہ بد امنی کی پیدا ہونے والی لہر کوظاہر کردیا ہے‘

ہم نے دیکھا کہ کراچی میں دہشتگردوں نے چائنیز قونصلیٹ پر حملہ کیا‘ علی رضا عابدی کو قتل کیا‘ جس سے یہ بات واقع ہوگئی کہ دہشتگرد عناصر کو کراچی امن ایک آنکھ نہیں بھارہا‘ کراچی کے پی ای سی ایچ میں ملزمان نے 22 جنوری کو کے ڈی اے کے ملازم محمد علی شاہ کو فائرنگ کا نشانہ بنا ڈالا‘ شام کو 5 بج کر 5 منٹ پر مقتول نورانی کباب کے سامنے سے گزررہا تھا کہ مقتول خود اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا‘

نامعلوم ملزمان نے اس کا تعاقب کررہے تھے کہ اچانک گاڑی آہستہ ہونے پر موقع غنیمت جانتے ہوئے مسلح ملزمان جن کے پاس آتشی اسلحہ موجود تھا‘ انہوںنے قریب آکر کار پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی‘ جس کے نتیجے میں مقتول محمد علی شاہ کے سرپر ایک گولی لگی اور گاڑی بے قابو ہوکر دیوار سے جاٹکرائی ‘ ملزمان فائرنگ کرنے کے بعد جائے وقوعہ سے بآسانی فرارہونے میں کامیاب ہوگئے‘ مقتول محمد علی شاہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں کے ڈی اے اسکیم میں اپنی فیملی کے ساتھ جس میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہے‘ رہائش پذیر تھا‘ مقتول کی بیٹی میڈیکل میں زیر تعلیم ہے‘ جبکہ بیٹا بارہویں کلاس میں پڑ ھ رہا ہے‘ مقتول کا آبائی تعلق محلہ حسینی وارڈ 3 تلہار ضلع بدین سے تھا‘

جبکہ مقتول بطور شعیہ علماء کونسل کے سندھ کے نائب صدر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں‘ واضح رہے کہ مقتول محمد علی شاہ 31 دسمبر 2010 کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونے والے اپنے بہنوئی عسکری رضا کیس کے مدعی بھی تھے‘ جبکہ مقتول مذہبی معاملات میں فلاحی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے‘ مقتول علامہ حسن کراچی شیعہ کے پاس بھی ماضی میں بطور کو آرڈینیٹر اپنے فرائض انجام دے چلے تھے‘ واقعے کے بعد علاقے میں بھگڈر مچ گئی‘ جائے وقوعہ پر لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے‘ جبکہ واقع کی اطلاع جب فیروز آباد پولیس کو ملی تو فوری طورپر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لینے کے بعد وہاں سے لوگوں کو منتشر کرکے ابتدائی تحقیقات شروع کردیں ‘ جبکہ مقتول کو پولیس کارروائی کی غرض سے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سے اسپتال منتقل کردیا‘

پولیس نے واقع کی اطلاع مقتول کے اہل خانہ کو دی تو مقتول کے اہل خانہ کراچی کے جناح اسپتال پہنچ گئے اور پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش کو تدفین کی غرض سے وصول کرکے علاقے میںآخری دیدار کے بعد اپنے گھر منتقل کردیا‘واقع کی اطلاع ملتے ہی مقتول کے رشتہ دار دوست احباب اہل محلہ اور جاننے والے مقتول کے گھر جمع ہونا شروع ہوگئے‘ جہاں دیکھتے ہی دیکھتے منظر رقعت آمیز ہوگیا‘ اس موقع پر ہر چہرہ سوگوار دکھائی دیا‘ مقتول کو غسل وکفن اور نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد وادی حسین قبرستان میں آہو ں اورسسکیوں میں سپرد خاک کردیاگیا‘ مقتول محمد علی شاہ کے چچازاد بھائی اور مذکورہ قتل کیس کے مدعی سید افتخار علی زیدی نے قومی اخبار کو بتایا کہ مقتول محمد علی شاہ نہایت نفیس بااخلاق اور باکردار شخص تھے‘ ان کی کسی سے بھی کسی طرح کی کوئی لڑائی جھگڑا تھااور نہ ہی کسی طرح کا لین دین کا معاملہ تھا‘ مقتول کو شیعہ ہونے کی سزا دی گئی ہے‘

لیکن کچھ قوتیں ہمارے حوصلے کبھی پست نہیں کرسکتا ‘ انہوںنے کہا کہ مقتول نے ایک بیوہ اور2 بچوں کو سوگواران میں چھوڑا ہے‘ مقتول سندھ کے نائب صدر اور تنظیم کے ممبر تھے‘ مقتول اپنے بہنوئی عسکری رضا کیس کے مدعی بھی تھے اور کے ڈی اے میں بطور افسر ملازمت کرتے تھے‘ مقتول کے 2 بھائی جن میں بڑے بھائی کا 2 سال قبل انتقال ہوگیا تھا‘ جو دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور دھڑکن بند ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے‘ مقتول کی دفتر کی کوئی خاص ٹائمنگ نہیں تھی‘ وہ مختلف اوقات میں اپنے دفتر آیا کرتے تھے‘ مقتول کی بھانجی کی گھر میں مہندی کی تیاریاںعروج پر تھیں کہ ہنستا ہنساتا گھر اچانک ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا‘ واقع والے دن شام تقریبا ًمغرب کا وقت ہورہا تھا‘

میں نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کررہا تھا کہ اچانک ٹی وی پر ایک بریکنگ نیوز آئی کہ کراچی کے علاقے نورانی کباب کے پاس نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے محمد علی شاہ نامی شخص کو قتل کردیاہے جوکے ڈی اے میں ملازم تھا‘ خبر سن کر پہلے پہل تو میں نے درگزر کیا‘ لیکن بعد میں مجھے کچھ تشویش سی ہوئی تو میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ فون کرکے ذرا خیر یت معلوم کرو‘ جب ہم نے مقتول کے گھر پر فون کیاتو ہمیں گھرو الوں نے بتایا کہ مقتول محمد علی شاہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ہم جلدی سے جناح اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقتول اسپتال لانے سے پہلے ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیاتھا‘ جس کے بعد میں نے مقتول کے قتل کا مقدمہ درج کروایا‘ مجھے شبہ ہے کہ عسکری رضا قتل کے ملزمان نے ہی محمد علی شاہ کو نشانہ بنایا ہے میری اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پر زور اپیل ہے کہ ملزمان کو جلد سے جلد گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے آخر ہمارا قصور کیاہے ہم نے مدتو ں سے اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھاتے چلے آرہے ہیں‘

ریاست اگر عسکری رضا کے قاتلوں کو اب تک گرفتار کرلیتی تو شاید ہمیں مزید نعشیں نہیں اٹھانی پڑتی‘ جب تک ملزمان آزاد پھرتے رہیں گے‘ اس طرح کے واقعات جنم لیتے رہیں گے‘ واقع کے حوالے سے تھانہ فیروز آباد کے تفتیش آفیسر انسپکٹر محمد شاہد علی نے قومی اخبار کو بتایا کہ واقع کا مقدمہ درج کرلیا ہے‘ تاہم ابھی تک تفتیش آگے نہیں بڑھی ہے پولیس تمام پہلوئوں پر غور کررہی ہے‘ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس تفتیش کررہی ہے‘ بظاہر واقعہ مذہبی دہشتگردی کامعلوم ہوتا ہے‘

جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کو پولیس نے فارنزک لیب بھجوادیا ہے ‘ ملزمان نے اس واقع میں نیا اسلحہ استعمال کیا ہے‘ جو ماضی میں کسی واردات میں استعمال نہیں ہوا‘ ایک سوال کے جواب میں پولیس نے بتایا کہ اطراف میں موجود سی سی ٹی وی کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا‘ واقع والے دن مقتول کلفٹن میں اپنے کسی جاننے والے وکیل کے پاس گئے تھے‘ واپسی میں ملزمان نے تعاقب کے بعد گولیاں برسا کر انہیں قتل کردیا‘ مقتول کے بھائی کے مطابق مقتول اکثر پریشان رہتے تھے‘ واقعے سے 3 دن پہلے مقتول کے اپنے سالے سے شبہ ظاہر کیا تھا کہ میرا دل گھبرا رہا ہے‘ وہ کم گو انسان تھے ‘ واقعے سے کچھ دن پہلے کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے تھے‘ پولیس ہر زاویے سے تحقیقات کررہی ہے‘ انشاء اللہ جلد ملزمان کو گرفتارکرلیں گے۔

(224 بار دیکھا گیا)

تبصرے