Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خونی ’’محفل‘‘

قومی نیوز جمعه 01 فروری 2019
خونی ’’محفل‘‘

17 جنوری 2018ء رات 9 بجے کا وقت تھا جب پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹائون سیکٹر 14 اور اس سے ملحق علاقوں کی بجلی معمول کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بند تھی اور اس وجہ سے یہاں رہائش پذیر لوگوں اور کاروبار کرنے والے دکانداروں نے اپنے اپنے انتظامات کے مطابق روشنی کر رکھی تھیں، جبکہ باہر گلیوں میں اس وقت اندھیرے کا راج تھا، اورنگی ٹائون کا علاقہ جوہر چوک اور سیکٹر 14/L کا محل وقوع ایسا ہے کہ شاہراہ قذافی کے اطراف اونچی، اونچی پہاڑیاں ہیں جبکہ مرکزی سڑک اور پہاڑیوں کے درمیان اچھی خاصی آبادی ہے جہاں لوگ پختہ مکانات میں رہائش پذیر ہیں، کچھ جفاکش لوگوں نے ان پہاڑیوں کو کاٹ کر اس پر بھی اپنا مسکن بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے اچھے خاصے لوگ ان پہاڑیوں پر آباد ہیں جبکہ یہاں کے لوگوں نے انہیں پہاڑیوں کو کاٹ کر ایک راستہ بھی بنایا ہوا ہے جو کراچی کی مشہور اجتماع گاہ اور اس سے آگے منگھوپیر تک چلا جاتا ہے، اس وقت رات 9 بجے کا وقت تھا اور سرد موسم کی وجہ سے علاقہ مکین اپنے گھروں پر موجود تھے جبکہ عام دنوں سے کم تعداد میں لوگ قریبی ہوٹلوں اور دکانوں پر موجود تھے کہ اچانک علاقہ فائرنگ سے گونج اُٹھا جس کی آواز رات کے سناٹے میں دور دور تک سنی گئی، اس اچانک فائرنگ کی آواز سے گھروں اور دکانوں میں موجود لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد علاقے کی گلی جس میں اب تک سناٹے کا راج تھا، لوگوں سے بھرگئی اور اس وقت وہاں موجود لوگ خالی خالی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، ان کی آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا کہ یہ کیا ہوا اور کہاں ہوا لیکن کچھ دیر بعد ہی لوگوں کی آنکھوں میں سمائے سوالوں کے جواب ملنا شروع ہوگئے جب پہاڑی کی جانب سے کچھ لوگوں نے آتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ پہاڑ ی پر بنے ایک مکان کے اندر ہوئی اور اس واقعہ میں 3 سے 4 لوگ شدید زخمی ہیں، یہ سن کر محلے میں موجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرف چل پڑی جہاں اس طرف سے آئے لوگوں نے اس کی نشاندہی کی تھی،اس وقت علاقے میں بھگدڑ کی سی صورت تھی اور ہر قدم اسی جانب اُٹھ رہا تھا۔ اس وقت پہاڑی پر بنے ہوئے ایک کمرے کے قریب اچھے خاصے لوگوں کی تعداد موجود تھی جہاں خون میں لت پت 3نوجوان شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑے تھے جبکہ ارد گرد کی دیواروں پر خون کے چھینٹے موجود تھے، یہ دیکھتے ہوئے ہجوم میں ہی موجود لوگوں میں سے کسی نے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی، اطلاع ملنے پر پاکستان بازار پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تینوں زخمیوں کو تحویل میں لے کر طبی امداد کے لئے عباسی اسپتال منتقل کیاجہاں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں زخمی دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق اورنگی ٹائون سیکٹر 14/L اجتماع گاہ کے قریب پہاڑی پر بنے مکان پر مسلح ملزمان نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی بعدازاں دوران علاج جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت 42 سالہ ندیم، 22 سالہ عدنان عرف راجو اور 28 سالہ امتیاز کے نام سے ہوئی۔ مقتول ندیم پراپرٹی ڈیلر جبکہ عدنان اور امتیاز دونوں سگے بھائی تھے جو اس وقت ندیم کے پاس ہی موجود تھے اور پہاڑ ی پر بنا2 کمروں کا مکان ندیم کی ملکیت تھا جہاں وہ عارضی رہائش اختیار کئے ہوئے تھا اور اپنا کاروباری معاملات بھی یہیں طے کیا کرتا تھا جبکہ پولیس نے تینوں مقتولین کو قانونی کارروائی کے لئے اسپتال منتقل کرنے کے بعدجائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے 10 سے زائد 30 بور گولیوں کے خول ملے اور کمرے سے استعمال کی چیزیں ملیں جبکہ پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ لین دین کا تنازع معلوم ہوا جبکہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے دونوں سگے بھائی قریبی علاقے کے رہائشی اور ندیم شادمان ٹائون کا رہائشی بتایا گیا۔ تاہم پولیس مزید تفتیش کررہی ہے۔ اس دوران اطلاع ملنے پر تینوں مقتول کے لواحقین عباسی اسپتال پہنچے جہاں پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد مقتولین کی نعشیں ان کے ورثاء کے حوالے کردیں جہاں سے ورثاء نے نعشیں تدفین سے قبل سرد خانے منتقل کردیں اور جمعرات کی رات پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹائون سیکٹر 14/L اجتماع گاہ پہاڑی بیٹھک میں نامعلوم ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق 2 سگے بھائیوں امتیاز اور عدنان کی نماز جنازہ بعد نماز جمعہ مقتولین کے گھر کے قریب واقع انصاری مسجد جبکہ مقتول ندیم کی نماز جنازہ بعد نماز جمعہ نارتھ ناظم آباد میں واقع فاروق اعظم مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں مقتولین کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ بعدازاں واقعہ میں جاں بحق 2 سگے بھائیوں امتیاز اور عدنان کو اورنگی ٹائون گلشن بہار جبکہ مقتول ندیم کو سخی حسن قبرستان میںآ ہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ اس موقع پر مقتول امتیاز اور عدنان کے والد نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میرے 6 بچیوں اور 4 بیٹوں میں امتیاز چوتھے اور عدنان عرف راجو چھٹے نمبر پر تھا جبکہ دونوں مقتولین کے علاوہ میرے دیگر بچے زری کا کام کرتے تھے لیکن آج کل زری کا کام نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں نے حال ہی میں گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت شرع کی تھی، مقتول امتیاز کی 5 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی اور اخراجات کو پورا کرنے کے لئے امتیاز ندیم کے ساتھ زمین کا کام بھی کیا کرتا تھا اور امتیاز کی ندیم سے 5 سال قبل ہی دوستی ہوئی تھی اور ہماری گھریلو پریشانی کو دیکھتے ہوئے ندیم نے دوستی کے پیش نظر اپنے ساتھ زمینوں کے کام میں لگالیا تھا۔ واقعہ والے روز بھی مقتول امتیاز ندیم کے ساتھ اس کی بیٹھک پر حساب کتاب کررہا تھا اور اس دوران میرا چھوٹا بیٹا عدنان، امتیاز کو اس کی موٹر سائیکل دینے ندیم کی بیٹھک پر گیا تھا کہ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ مقتولین سگے بھائیوں کے والد کے مطابق فائرنگ واقعہ کے وقت علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے وقت پیش آیا۔ میرا ایک بیٹا پہلے سے ندیم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جبکہ دوسرا بیٹا گاڑی دینے گیا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں کیا ہوا، کس نے گولیاں چلائیں، ان کے علم میں نہیں ہے۔ فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو محلے کی ایک خاتون نے بتایا کہ ندیم کے گھر کے پاس سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں اور جب ہم وہاں پہنچے تو ان کے بیٹوں سمیت تینوں نوجوان جاں بحق ہوچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دونوں نے حال ہی میں گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت شروع کی تھی ‘ اس سے قبل وہ درزی کا کام کرتے تھے‘ بیٹوں کی گزشتہ 5 سال سے ندیم سے دوستی تھی‘ انہوںنے بتایا کہ ان کی6 بیٹیاں اور4 بیٹے تھے‘ عدنان عرف راجو کی 5 ماہ قبل شادی ہوئی تھی‘ فائرنگ کے واقعے میں ان کے 2 جوان بیٹے چلے گئے‘ جس کے باعث ان کا پورا گھر بکھر گیا‘ بیٹے بڑھاپے کا سہارا تھے‘ انہوںنے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ میں کس سے پوچھوںکہ یہ کیا ہوا ‘ مقتولین کے والد نے حکومت اورپولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیاہے کہ ان کے بیٹوںکے قتل میں ملوث ملرمان کو جلد از جلد سراغ لگا کہ انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے‘ جبکہ مقتولین کے تیسرے بھائی اشتیاق نے بتایا کہ فائرنگ کی اطلاع اشتہار بذریعہ فون اطلاع دی کہ ان کے 2 بھائیوں امتیاز ‘ عدنان اور دوست ندیم کو کسی نے فائرنگ کرکے قتل کردیااور جب وہ ندیم کی بیٹھک پر پہنچے تو تینوں افراد کی نعشیں پڑی ہوئی تھیں‘ مقتول ندیم کے بھائی عرفان نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ انہیں فائرنگ کے واقعہ کا پتہ ٹی وی چینلز دیکھ کر معلوم ہوا اور ان کا مقتول بھائی پلاٹوں کی خریدو فروخت کا کام کرتا تھا‘ جبکہ واقعہ کی تفتیش کرنے والے پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین قاتل کو پہنچانتے تھے‘ دوران فائرنگ سے قبل مقتولین اور قاتلوں کے درمیان با ت چیت بھی ہوئی ‘ پھر فائرنگ کی گئی اور واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے‘ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ زمین اور رقم کی لین دین کا تنازع معلوم ہوتا ہے موٹر سائیکل پر مسلح حملہ آور کی تعداد ایک تھی ‘ جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے11خول قبضے میں لیے گئے‘ انہوںنے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خول فارنزک لیبارٹری بھجوادیئے گئے ہیں‘ لیکن اب تک فارنزک رپورٹ پولیس کو موصول نہیں ہوئی‘ پاکستان بازار پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 17/2019 درج کرکے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش میں کئی مقام پر چھاپے مارے جارہے ہیںاور واقعہ کے دوسرے دن تیسرے قتل میں ملوث ایک ملزم تنویر کو گرفتار کرلیا‘ اس موقع پر ایس ایس پی ویسٹ شوکت کھٹیانی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے‘ جبکہ عینی شاہدین کے مطابق تینوں افراد کو ایک ملزم نے قتل کیا‘ لیکن جائے وقوعہ سے 4 افراد کی چپلیں ملی ہیں‘ جس سے اندازہ ہورہا ہے کہ چوتھا شخص بھی وہاں موجود تھا‘ پولیس کو اس چوتھے شخص کی تلاش کی جائے ‘ تاکہ حقیقت واضح ہوسکے ۔ تاہم پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹائون سیکٹر نمبر14/Lاجتماع گاہ پہاڑی پر بنی ہوئی بیٹھک میں جمعرات کی شب فائرنگ سے2 سگے بھائیوں سمیت 3 افراد کی ہلاکت کا معمہ حل کرتے ہوئے پولیس نے ایک ملزم تنویر کوگرفتار کرکے اس کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کرلیا‘ ایس ایس پی شوکت کھٹیان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ تیسرے قتل کی واردات کے بعد جائے وقوعہ سے ملنے والے اہم شواہد کی روشنی میں ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی ملزم تنویر پولیس اہلکار اور سمن آباد انویسٹی گیشن پولیس میں تعینات ہے اور پاکستان بازار کے علاقے اورنگی ٹائون محلہ مولا علی چوک کا رہائشی ہے‘ فائرنگ سے قبل تینوں مقتولین امتیاز اس کا بھائی عدنان عرف راجو اور اسٹیٹ بروکر ندیم پہاڑی پر پلاٹ پر بنی ہوئی بیٹھک میں موجود تھے کہ ملزم ایک ساتھی کے ہمراہ موقع پر آیا ‘ جہاں اس کی مقتولین ندیم سے تلخ کلامی اور گالم گلوچ ہوئی ‘ اس کے بعد ملزم نے اندھا دھند فائرنگ کردی‘ پولیس کے مطابق ملزم تنویر نے اسٹیٹ بروکر ندیم سے منگھوپیر خیرآباد گلشن حبیب میں 2 پلاٹ خریدے تھے‘ جس کی بقیہ رقم 50 ہزار روپے بنتی تھی‘ جبکہ پلاٹ کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے ندیم اس سے مزید ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے طلب کررہا تھااور یہی بات تنازع کی وجہ بنی ‘ ایس ایس پی کے مطابق جس وقت فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ملزم پولیس اہلکار شراب کے نشے میں تھا اور اس کا ایک ساتھی موٹر سائیکل پر اس کے ہمراہ آیاتھا‘ پولیس نے حراست میں لے لیا‘ جبکہ واقعہ میں مارے جانے والے دونوں سگے بھائی امتیاز اور عدنان چشم دید گواہ بننے کی وجہ سے مارے گئے ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے عینی شاہدین پر گولیاں چلائیں ‘ ان مقتولین کا پلاٹ کے تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ جبکہ تفتیشی افسر کے مطابق گرفتار ملزم کو پولیس جلد از جلد معزز عدالت کے روبرو پیش کرکے اسے قرار واقعی سزا دلوائے گی‘ تاکہ مقتولین کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(382 بار دیکھا گیا)

تبصرے