Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سپریم کورٹ بمقابلہ سیاسی قائدین

صابر علی بدھ 30 جنوری 2019
سپریم کورٹ بمقابلہ سیاسی قائدین

سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کو 40 سال پہلے والے کراچی کی بحالی اور شہر میں غیر قانونی تعمیر کو مسمار کرنے کے حکم نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں کھلبلی مچا دی ہے

اور ہر شخص یہ سوچ رہا ہے کہ 40 سال پہلے والا کراچی کیسے بحال ہو سکے گا اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ کراچی کو 40سال پہلے والے کراچی کی طرز پر بحال کیا جائے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کا حکم ہے اب کسی میں ہمت ہے کہ وہ تو ہین عدالت کرے

لیکن عدالت کا حکم ہی کچھ ایسا ہے کہ ہر سیاسی جماعت اس حکم کو ماننے سے گریزاں نظر آتی ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عدالت کے اس حکم کو ماننے سے صاف انکار کردیا ہے دوسری جانب میئر کراچی جو اسی عدالت کے حکم پر شہر میں 10ہزار دکانیں مسمار کر چکے ہیں عدالت کے اس حکم کو ماننے کو تیار نہیں ہیں یہاں تک کہ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی وسیم اختر نے سپریم کورٹ کے حکم پر بلڈنگ گرانے کے بجائے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی ہے بات تو سچ ہے مگر ؟

تاہم عدالت کے حکم پر من وعن عمل درآ مد کیا گیا تو نصف سے زائد شہر ملبے کا ڈھیر بن سکتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہر میں 40سالوں سے جاری خرابی خصوصاً غیر قانونی تعمیرات پر عمل اب 40 سال بعد کیوں اتنا سخت ایکشن لیا جارہا ہے اس سے قبل ادارے کہاں سورہے تھے۔

جب شہر تیز ی سے کنکریٹ کا جنگل بنتا جارہا تھا آج جب ان غیر قانونی عمارتوں میں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں تو انہیں ان کے گھروں سے بے گھر کرنا کہاں کی عقلمندی ہو سکتا ہے کہا جارہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں نظر ثانی نہ کی تو اس کے حکم کے نتیجے میں شہر میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

کراچی کے شہری یہ شکوہ بھی بجا طور پر کررہے ہیں تو آخر اس طرح کے فیصلے صرف کراچی اور کراچی والوں کیلئے ہی کیوں ہوتے ہیں کیا ملک کے دیگر صوبوں ، شہروں میں سب کچھ قانون کے مطابق ہے حکومت سندھ نے شادی ہال اور دیگر رہائشی عمارتوں کو گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ ابھی ایس بی سی اے سپریم کورٹ کے حکم پر بلڈنگ مسمار کرنے کے آپریشن موخر کرے اور اس حوالے سے مالکان بلڈنگ کو جو نوٹس دیئے گئے ہیں وہ بھی واپس لیئے جائیں اب بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران پریشان اور نذبذب میں مبتلا ہیں کہ وہ کس کا حکم مانیں اگر سپریم کورٹ کا حکم مانتے ہیں تو حکومت سندھ کی ہدایت کی خلاف ورزی ہوگی اور ان کی نوکری چلی جائیگی جبکہ سپریم کورٹ کا حکم نہ مانیں تو توہین عدالت کے زمرے میں آجائیں گے اور توہین عدالت کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں غیر قانونی بلڈنگوں کو مسمار کرنے کے حکم کے خلا ف صرف حکومت سندھ یا پیپلز پارٹی ہی نہیں ہے بلکہ میئر کراچی وسیم اختر ان کی جماعت ایم کیو ایم پاکستان سمیت جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاق میں حکمران جماعت ، پی ٹی آئی صرف حکومت سندھ اور میئر کراچی کی مخالفت میں سپریم کورٹ کے حکم کے ساتھ کھڑی ہے تاہم جماعت اسلامی نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے تمام تر مخالفت کے باوجود ان غیر قانونی بلڈنگوں میں رہنے والے شہریوں کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے اس طرح سپریم کورٹ اور سیاسی قائدین کا یہ مقابلہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مقابلے میں اصل فتح کس کی ہونی ہے

تاہم اس مقابلے میں کوئی جیتے یا ہارے اصل نقصان ان غریب شہریوں کا ہے جنہوںنے اپنی عمر بھر کی جمع پونچی ان غیر قانونی بلڈنگوں میں فلیٹ خریدنے میں لگادی ان غریب شہریوں کا کیا قصور ہے ان غریب شہریوں نے چاہے چائنا کٹنگ کے پلاٹوں پر گھر بنائے ہوںیا غیر قانونی بلڈنگوں میں فلیٹ خریدے ہوں ان کا آخر کیا قصور ہے اصل قصور وار جو لوگ بھی ہیں ان کو اب تک کسی نے کچھ کہنے یا ان کے خلاف کارروائی کرنے کی زحمت نہیں کی گئی ہے

یہ خبر بھی پڑھیں
متحدہ قومی فورم کا اعلان جلد کر ونگا، فارو ق ستار

اصل قصور وار چائنا کٹنگ کرنے والوںکے ساتھ ان غیر قانونی بلڈنگوں کو بنوانے والے ہیں گزشتہ 40سالوں یا گزشتہ 15-10سالوں میں شہر میں جو غیر قانونی بلڈنگیں تعمیر ہوئی ہیں ان کی تعمیرات کے ذمہ دار اس وقت کے ڈی جی ایس بی سی اے اور جن علاقوں میں یہ غیر قانونی بلڈنگ تعمیر ہوئی ہیں ان علاقوں میں برسوں تعینات رہنے والے ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنٹرول انسپکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران کیخلاف اب تک کسی قسم کی کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی

سپریم کورٹ ان غیر قانونی بلڈنگوں کو یک جبنش قلم مسما رکرنے کا حکم دینے کے ساتھ پہلے ان علاقوں میں تعینات ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران اور ڈی جی ایس بی سی اے جو چاہے وہ ریٹائرڈ ہوگئے ہوں یا بیرون ملک طویل چھٹیاں گزار رہے ہوں ان کو لٹکانے کا حکم بھی دے غریب شہریوں کو سزا دینے کے بجائے ان متعلقہ افسران کو سزا کا فیصلہ سنائے جنہوں نے لاکھوں نہیں کروڑوں ، اربوں روپے رشوت وصول کرکے یہ غیر قانونی بلڈنگیں بنوائیں،

ان غیر قانونی بلڈنگوںمیں سب سے بڑا قصور وار ملک میں احتساب کا واحد سب سے بڑا ادارہ نیب ہے وہ کہاں سوتا رہا ، اس عرصہ میں نیب نے اب تک ان افسران کیخلاف کیوں نہیں کارروائی کی، چیئرمین نیب جاوید اقبال کی سربراہی میںنیب بہت متحرک ہے اور کہا جارہا ہے کہ نیب بہت اچھا کام کررہا ہے لیکن اس نے سوائے ایک سابق وزیر اعظم کو جیل میں بھیجنے کے اور کیا کیا ہے جاوید اقبال نیب کے چیئرمین بننے اور نواز شریف کیخلاف کارروائی کرنے سے قبل موجودہ وزیر اعظم عمران خان پر بھی نیب پر بہت تنقید کیا کرتے تھے اور نیب کو سابقہ حکومت اور سابقہ اپوزیشن لیڈر کی ملی بھگت قرار دیتے رہے ہیں ،

موجودہ نیب پر بھی اسی طرح کی تنقید کی جارہی ہے جو عمران خان سابقہ نیب کی چیئرمین کے دور پر کرتے رہے ہیں آج بھی یہ کہا جارہا ہے کہ نیب صرف اپوزیشن کے لوگوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے نیب نے وزیر اعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر کیس پر اب تک کچھ نہیں کیا اس کے باجود وزیر اطلاعات فواد چوہدری نیب پرشدید تنقید کرتے ہوئے اس کیس کو وزیر اعظم کی بے عزتی قرار دیتے رہے ہیںجس کے بعد نیب نے بھی اس حوالے سے پر اسرار خاموشی اختیار کرلی ہے

تاہم نیب کے ہوتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق ڈی جی منظور قادر منظور کاکا باآسانی بیرون ملک جانے میں کامیاب کیسے ہوگئے یہ ہی نہیں کے ایم سی کے سابق ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو بھی سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کربیرون ملک فرار ہوگئے اور نیب ان 1,2افسران کو ملک واپس لانے کیلئے اب تک کوئی پیش رفت نہیں کر سکا دلچسپ بات یہ ہے کہ منظور قادر (منظور کاکا) اب بھی ڈیوٹی پر ہیں تاہم 4سال کی طویل رخصت پر ہیں یہی حال ثاقب سومرو بلکہ کئی اور افسران کا ہے لیکن منظور قادر، منظور کاکا، ثاقب سومرو سمیت ایس بی سی اے اور دیگر ان سرکاری افسران کے خلاف جن کے نیب میں کیسز ہیں نیب نے یا عدالت نے اب تک کیا کارروائی کی ہے

سپریم کورٹ کے حالیہ حکم میں غیر قانونی بلڈنگوں کو فوری مسمار کرنے اور 40سال پہلے والے کراچی بحال کرنے کی بات کی گئی ہے اس حکم نے کرپٹ سیاسٹ دانوں کوہیرو بننے کا موقع فراہم کردیا اور ان کرپٹ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ان سیاست دانوں کی طرف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگر اداروں میں بھاری رشوت کے تعینات کیئے جانے والے افسران کو یہ موقع ہاتھ آگیا ہے کہ وہ شہریوں کی ہمدردی میں اپنے ان اقدامات پر جس کے نتیجے میں شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کرائی گئیں ان کا دفاع کرنے میں سیاسی قائدین کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور عدالت کو یہ عذر پیش کرسکیں کہ ہم حکومت کے حکم کے سامنے مجبور ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی قائدین کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم سے بغاوت اور توہین عدالت کا سپریم کورٹ کیا نوٹس لیتا ہے اور سپریم کورٹ کے اس غیر قانونی بلڈنگ گرائے جانے کے حکم سے شہر میںجو انسانی المیہ جنم لینے اور نصف شہر کے ملبے کا ڈھیر بننے کی جو بات کی جارہی ہے اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

(337 بار دیکھا گیا)

تبصرے