Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تاجر قتل...!

سید بلال علی شاہ جمعه 25 جنوری 2019
تاجر قتل...!

روشنیوں کے شہر کراچی میں یوں تو جرائم کی واردات آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن کچھ واردات اس نوعیت کی ہوتی ہیں جو عام طور پر فلموں یا ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں

لیکن درحقیقت شہری اس کا تصور بھی نہیں کرتے لیکن انسان کہیں بھی اور کسی کے سامنے بھی کچھ بھی کر جاتے ہیں اور ذرا بھی نہیں چونکتے ایک ایسا ہی فلمی سین جو کسی کے ذہن وگمان میں بھی نہ تھا

وہ نیوٹاؤن تھانے کی حدود شرف آباد میں پیش آیا‘ جہاں پر کورٹ میں چلنے والے کیس کا مدعی درخشاں تھانے کی موبائل کے ہمراہ ایک شخص سے ملنے کی غرض سے پہنچا ابھی سب کچھ معمول کے مطابق ہی تھا کہ درخشاں تھانے کی موبائل نے نیوٹاؤن تھانے جاکر انٹری کرائی اور نیو ٹاؤن تھانے کی ایک موبائل کے ہمراہ شرف آباد پہنچے جہاں منور علی نامی شخص کے گھر کی تلاشی شروع کردی‘

پولیس موبائل میں پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سہیل مغل نامی شخص بھی موجود تھا جس کے انحصار پر درخشاں تھانے کی موبائل نیوٹاؤن تھانے پہنچ گئی تھی اور انٹری کرانے کے بعد منور نامی شخص کے گھر کی تلاشی لے رہی تھی‘ پولیس موبائل میں سوار ہوکر سہیل مغل نامی شخص اہلکاروں کے ہمراہ گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے علی منور کے گھر جاپہنچا علی منور کے گھر پہنچنے کے بعد درخشاں تھانے کی موبائل میں سوار اہلکار نے اتر کر علی منور کی گھر پر دستک دی جس پر علی منور کا بڑا بھائی باہر آیا

اور اہلکاروں سے بات چیت کی ‘اہلکاروں نے بتایا کہ سہیل مغل نامی شخص ایک کیس کے چکر میں اس کے چھوٹے بھائی علی منور سے ملنے آیا ہے جس پر اس کا بڑا بھائی اندر گیا اور علی منور کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا جس کے بعد علی منور باہر آیا اور اہلکار کو دیکھ کر کچھ چونک سا گیا لیکن گاڑی میں سوار درخشاں تھانے کے اہلکار پولیس موبائل سے نیچے اترے اور سہیل مغل نامی شخص کو بھی پولیس موبائل سے نیچے اتارا سہیل مغل نامی شخص جب موبائل سے نیچے اترا تو وہ شلوار اور کورٹ میں ملبوس تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی

مزید پڑھئیے‎ : آگ لگی۔۔۔۔فائر بر یگیڈ غائب
سہیل مغل نامی شخص علی منور کے پاس آیا اور اس سے ہم کلام ہوا دونوں آپس میں کچھ دیر باتیں بھی کرتے رہے لیکن ان باتوں کے دوران کیا ہونے والا تھا کسی بھی شخص کو اس بات کا علم یا اندازہ نہیں تھا کہ پولیس اہلکار بھی اپنی مستی میں کھڑے ہوئے تھے اور سہیل مغل اور منور علی کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سن رہے تھے اسی دوران سہیل مغل نامی شخص اہلکاروں کے بیچ میں سے نکلا اور کچھ تھوڑے ہی فاصلے پر گیا اسی دوران پولیس اہلکاروں نے علی منور نامی شخص سے گفتگو شروع کردی

اور آپس میں گفتگو ہی کر رہے تھے کہ ان کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے اگلے لمحے ایک فلمی سین ہوا جو کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا سہیل مغل پولیس اہلکاروں کو ہٹاکر منور علی پرفائرنگ کردی ایک گولی منور علی کے ہاتھ پر لگی جس کے بعد اس نے سہیل مغل نامی ملزم کو اشارہ کرکے مزید فائرنگ نہ کرنے کی التجا کی لیکن سہیل مغل نامی شخص نے ایک نہ سنی اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں فائرنگ شروع کردی

ملزم سہیل مغل کی جانب سے منور علی پر 4گولیاں برسائی گئیں ‘جو جان لیوا ثابت ہوئی اور منور علی پولیس اہلکاروں اور اپنے گھر کے باہر ہی دم توڑ گیا یہ دیکھ کر موقع پر موجود پولیس اہلکار بھی ہکا بکا ہو گئے جبکہ فائرنگ کی آواز سن کر منور علی کے اہل خانہ باہر نکلے اور منور علی کو زمین پر پڑا دیکھ کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی منور علی کے گھر سے نکلنے والی خاتون منورعلی کی نعش سے لپٹ کے رونے لگی‘

جبکہ پولیس اہلکاروں نے بدحواسی میں ملزم کو فوری طور پر پکڑ کر اس کے ہاتھ سے پستول لے کر اسے پولیس موبائل میں بٹھایا‘ جبکہ پیچھے کھڑی نیو ٹاؤن تھانے کی پولیس موبائل بھی دوڑی چلی آئی اور زمین پر گرے منور علی کو فوری طور پر اٹھا کر نیو ٹاؤن تھانے کی موبائل میں رکھا‘ جس میں منور علی کے بڑے بھائی بھی بیٹھے اور منور علی کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن کسی کو کیا پتا تھا کہ منورعلی موقع پر ہی جاں بحق ہو چکا ہے‘

قانون کا طالبعلم منورعلی کی ہمدردی اسکی موت ثابت ہوئی۔بہادر آباد کے علاقے شرف آباد میں پولیس کی موجودگی میں قتل کیے جانے والامنور علی کا صرف یہ قصور تھا کہ گرفتار قاتل سہیل مغل کی اہلیہ اور اسکی 3 بیٹیاں اسکے کرائے دار تھی‘مقتول منور علی شادی شدہ اور ڈیڑھ سالہ بیٹے کا باپ تھا۔کلفٹن ڈویژن پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ 2015ء اور2016ء کے درمیان سہیل مغل کی اہلیہ فوزیہ نے عدالت سے رجوع کرکے سہیل مغل سے خلع حاصل کرلی تھی

اور ڈیفنس میں خیابان بدر کمرشل میں ایک فلیٹ میں کرائے پر اپنی 3 بیٹیوں اریبہ ‘ فرزہ اورتانیہ کے ہمراہ رہائش اختیار کرلی تھی‘ انہی دنوں سہیل مذکورہ فلیٹ پہنچ گیا اور سابقہ اہلیہ فوزیہ سے جھگڑا کررہا تھا کہ فلیٹ کا مالک منورعلی صلح صفائی کے غرض سے اس مسئلے میں پہلی بار شامل ہوا تو معلوم ہوا کہ سہیل مغل نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی اپنی بیوی اور بیٹیوں کے نام کی ہوئی تھی

جو وہ واپس مانگ ر ہا تھا تاہم مقتول منور علی کی سہیل مغل سے پہلی ملاقات اس جھگڑے کی وجہ سے ہوئی ،ملزم کی بیوی نے ماضی میں ڈی ایچ اے کے پلاٹ کا کیس ایف آئی اے میں دائر کیا تھا‘ ایف آئی اے کیس کا آئی او انسپکٹر شہباز تھے‘ ملزم بیوی کا نمبر اور پتہ لینے ایف آئی اے دفتر کے چکر بھی کاٹنے لگا تھا‘ ملزم انسپکٹر شہباز پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ بیوی کا نمبر اور ایڈرس بتائے،

انسپکٹر شہباز کے انکار پر ملزم نے اعلیٰ افسران سے جھوٹی شکایتیں بھی کی تھی‘جبکہ ملزم انسپکٹر شہباز پر بھی الزام لگاتا رہا کہ بیوی کے خلع میں اس کا کردار ہے‘ مقتول علی منور نے ملزم کی اہلیہ سے گاڑی خریدی تھی‘ مقتول منور علی نے ملزم کی اہلیہ کو مکان بھی کرائے پر دے رکھا تھا‘

گاڑی خریدنے اور مکان کرائے پر دینے کی وجہ سے ملزم کو مقتول علی منور پر بھی شک تھا۔ فوزیہ نامی خاتون جن کی عمر 55سال سے زائد ہے انہوں نے منور علی کو کچھ ایسا بتایا کہ منورعلی نے انسانی ہمدردی کے طورپر سہیل مغل کی سابقہ اہلیہ کو سپورٹ کرنا شروع کر دی‘ جبکہ اسکی بیٹیاں بھی اپنے والد سے نہیں ملنا چاہتی تھی‘

انہیں شبہ تھا کہ کہیں وہ چہرے پر تیزاب ہی نہ پھینک دے عدالت میں بھی تینوں بیٹیوں نے والد سے ملنے سے انکار کردیا تھا اس طرح یہ معاملات چلتے رہیں اور ہلکے ہلکے سہیل مغل کی تمام جمع پونچی اہلیہ اور بچوںکے نام ہوتی رہی اور سہیل مغل سڑک پر آگیا ‘ذرائع نے بتا یا کہ نجی بینک میں ایک لاکرز کا کوئی مسئلہ تھا وہ بھی منور علی نے اپنے تعلقات سے حل کرادیا تھا اورسہیل مغل نے عدالتوں سے رجوع کرکے پٹیشنیں دائر کرنا شروع کردی

عدالتوں میں یہ مسئلہ چلتا رہا اسی دوران بہادر آباد‘ شرف آباد والا فلیٹ بھی منور علی کا ہے جس میں سہیل کی سابقہ اہلیہ نے رہائش اختیار کرلی اور بعد میں معلوم ہوا کہ فوزیہ نے اپنی بیٹیوں کو والدکے خوف سے کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا بتایا جاتا ہے کہ سہیل کی تینوں بیٹیا ں ملک یا شہر سے باہر ہے‘ جبکہ فوزیہ اپنے گھر کا سامان شرف آباد والے فلیٹ میں رکھ کر خود بھی کہیں چلی گئی‘

پولیس افسر کے مطابق منور علی اس کیس کے حوالے سے پولیس کی بھی کافی مدد کررہا تھا ‘پولیس کا کہنا تھا کہ سہیل مغل کی سابقہ اہلیہ اور اسکی بیٹیوں سے منورعلی کے کوئی غیر اخلاقی تعلقات نہیں تھے‘ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم پر اعلیٰ افسران کا کافی پریشر تھا کہ کسی بھی طرح سے پولیس سہیل مغل کی اہلیہ اوراسکی بیٹیوں کا 17جنوری کو کسی بھی طرح عدالت میں پیش کرائے

اس ہی و جہ سے ایس ایس پی سائوتھ کے حکم پر پولیس پارٹی فوزیہ اسکے بیٹیوں کو پابند کرنے گئی تھی ‘ پولیس پارٹی جب شرف آباد پہنچی تو وہاں پرمنور علی کھڑا ہوا تھا اس لئے منور علی گرائونڈ فلور والے فلیٹ پر رہتا تھا اور فوزیہ نے اسکے اوپر والے فلیٹ میں کرائے پر رہائش رکھی ہوئی تھی

جب سہیل مغل نے منورعلی کو دیکھا تو موقع پاتے ہی منورعلی پر فائرنگ کرکے قتل کردیا پولیس اہلکاروں کی موجوگی میں نوجوان منورعلی کے قتل کا مقدمہ نیو ٹاو ٔن تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمہ نمبر 6 /2019 ء زیردفعہ 302 میں سہیل مغل کوملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق سہیل نے بات چیت کے دوران اچانک پستول نکالااور فائرنگ کردی جس کی وجہ سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔مقدمے میں اس وقت موجود پولیس اہلکاروں کے نام اور بکل نمبر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔منور علی کو پولیس کے سامنے مارنے والے ملزم نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرا دیاہے۔

ملزم نے اعترافی بیان میں کہا کہ میں نے قتل غیرت کے نام پر کیا۔ملزم کا کہنا ہے کہ میں 3 افراد کو قتل کرنا چاہتا تھا جس میں قتل ہونے والا منور بھی شامل تھا‘ منور کے ساتھ ایک وکیل روشن مرتضیٰ ‘ایف آئی اے انسپکٹر شہباز کو بھی قتل کرنا تھا منور علی کو دوسرے نمبر پر قتل کرنے کا ارادہ تھا ‘پہلے نمبر پر وکیل روشن تیسرے نمبر پر ایف آئی اے انسپکٹر شہباز کو قتل کرنا تھا ،

ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ جیسے ہی جیل سے نکلا ان دونوں کو بھی قتل کروں گا‘مجھ سے بیوی بچوں کو الگ کرنے میں ان تینوں کا ہاتھ تھا میں نے غصے میں اپنی بیوی کو 2 طلاق دی وکیل نے اپنے دوستوں سے ملکر زبر دستی میری بیوی کا خلع کرایا وکیل نے ایف آئی اے انسپکٹر اور منور خان کے ساتھ ملکر میرے بچوں کو الگ کرایا

منور وکیل روشن اور ایف آئی اے انسپکٹر نے خلع کے نام ڈھائی کروڑ سے زائد ہتھیالئے‘ تینوں نے12 لاکھ خلع کے نام پر لئے اور میرا فلیٹ بھی بیچ ڈالا میری 17 لاکھ روپے کی گاڑی کا اتھارٹی لیٹر منور کے پاس تھا اگر موقع ملا تو وکیل روشن اور ایف آئی اے انسپکٹر کو بھی قتل کر ڈالوں‘ وہ ایس ایس پی آفس سمیت پولیس کے ہر دفتر میں پستول لگا کر گیا۔ جیل سے نکلتے ہی دونوں کو ماروں گا۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم سہیل کی ذہنی حالت کے باعث ججز اور وکلا درخواست کی سماعت سے انکار کر چکے تھے۔ملزم سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی رہ چکا ہے جس نے بعد میں پراپرٹی کے کام کیلئے ملازمت چھوڑی۔

گھریلو تنازع کے باعث اس کی اہلیہ فوزیہ مئی 2014ء میں خلع لے کر 3 بیٹیوں کے ساتھ کہیں اور منتقل ہو گئی تھی ‘پولیس افسر کے مطابق سہیل مغل نے عدالت میں ایک پٹیشن جواب دہندگان (RESPONDENTS)دائر کی ہوئی ہے جس میں سہیل مغل نے پولیس کے اعلیٰ افسران‘ سرکاری ملازمین ‘ بینک‘ ایف آئی اے ‘شوروم‘منور علی اسکی اہلیہ سمیت31سے زائد افراد کے نام شامل کیے ہوئے ہیں۔

(388 بار دیکھا گیا)

تبصرے