Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

محافظ یا...."دہشت گرد"

قومی نیوز جمعه 25 جنوری 2019
محافظ یا....

اتوار 20 جنوری کو محکمہ موسمیات کی جانب سے شہر میں بارش کی پیشگوئی کی گئی تھی‘ رات9 بجے سے بجلی چمکنا شروع ہوگئی تھی ‘

سہانے موسم میں کورنگی ساڑھے 5 نمبر سی ایریا ماڈل پارک والی گلی میں مکان نمبر C-753 کا رہائشی عرفان اپنی اہلیہ ثاقبہ کے ہمراہ اپنے مکان C-753 سے رات کا کھانا کھانے کے لیے شاہ فیصل کالونی کے لیے نکل کرگاڑی کی جانب جارہاتھا

کہ گلی میں گولی چلنے کی آواز آئی کہ گولی لگنے سے دونوں میاں بیوی زخمی ہوگئے‘ عدنان کو ایسا لگا کہ اس کے سر میں گولی لگی ہے‘ وہ چکرا کر گرگیا‘ علاقہ مکینوں نے جائے وقوعہ پر 2 پولیس اہلکاروں کو فرار ہوتے دیکھا توتھوڑی دیر میں میڈیا پر خبر نشر ہونے لگی کہ پولیس کی فائرنگ سے میاں بیوی زخمی ہوگئے‘

ایک روزقبل ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ میاں، بیوی اور بیٹی سمیت 4 افراد کی ہلاکت کی خبر سے ملک بھر میں اس واقعے کا چرچا تھااور پولیس کے اس آپریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا‘ قابل پولیس اہلکاروں نے خلاف احتجاج اور مظاہروں کاسلسلہ جاری تھا‘

ایسے میں کورنگی میں پولیس فائرنگ سے میا ں،بیوی کے زخمی ہونے پر افسران میں کھلبلی مچ گئی تھی‘ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی کورنگی علی رضا موقع پر پہنچے تو موقع پر موجود عوامی کالونی کے اہلکاروں ظاہر شاہ اور عبدالمجید نے ایس ایس پی کو بتایا کہ وہ علاقے میں معمول کے گشت پر موٹر سائیکل پر سوار 2 مشکوک افراد کو رکنے کا اشارہ کیاتو موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان نے کانسٹیبل عبدالمجید پر پستول تان لیا

اور اس کی سرکاری ایس ایم جی رائفل چھین کر فرار ہوگئے‘ پولیس والوں نے اس کا تعاقب کیاتو ملزمان قریبی گلی میں وہ رائفل لے کر فرارہوگئے تو پولیس اہلکار یہ بیان دیتے ہوئے گھبرارہے تھے‘ سردی میں ان اہلکاروں کے پسینے چھوٹ رہے تھے‘ تاہم دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا‘

پولیس اہلکار اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے تھے‘ رات کو تیز بارش شروع ہوگئی لیکن کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی ایسٹ ایس ایس پی سے مسلسل رابطے میں تھے‘ اسپتال سے خبریں آئیں کہ عدنان کو گولی سر کو چھوتی ہوئی گزری ہے ‘

دونوں میاں بیوی کی حالت خطرے سے باہرہے ‘ ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ دونوں زخمی میاں بیوی کو اسپیشل وارڈ منتقل کرادیا ہے اور بتایا کہ نجی کمپنی کے ملازم زخمی عدنان اور ا س کی اہلیہ ثاقبہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے‘ زخمی ثاقبہ 8 ماہ کی حاملہ ہے‘ تاہم اس حوالے سے بھی کوئی خطرے کی بات نہیں ‘

ثاقبہ کو کمر میں گولی لگی تھی‘ اس کا اسپتال میں آپریشن کیاتھا‘ تاہم دونوں میاں بیوی کی گولیاں نہیں نکالی تھیں‘ پولیس کے مطابق گولیاں جسم سے نکلیں گی تو پھر ان کا فارنزک ہوگا‘ ایس ایم جی کا ایک چلیدہ خول ملا ہے ‘ پولیس کے مطابق کانسٹیبل ظاہر شاہ اور عبدالمجید کو صبح مال خانے سے 10 ‘ 10 گولیوں کے ساتھ ایس ایم جی دی گئی تھی‘

تاہم ظاہر شاہ کے پاس موجود ایس ایم جی کی 2 گولیاں کم تھیں‘ ظاہر شاہ کے پاس اپنا ذاتی 30 بور کا پستول تھا‘ فائرنگ کے واقعہ کے بعد اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے‘ جس میں دیکھاجاسکتا ہے کہ فائرنگ ہوتے ہی گلی میں کھڑے لوگ محفوظ مقام کی طرف دوڑنے لگے ‘ فوٹیج میں موٹر سائیکل پر 2 اہلکاروں کو گزرتے دیکھا جاسکتا ہے ‘

فوٹیج میں ملزمان فرار ہوتے نظر نہیں آئے‘اہل محلہ کے مطابق واقعے کے وقت گلی میں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آیا‘ پولیس حکام کے مطابق زیر حراست پولیس اہلکار ظاہر شاہ اور عبدالمجید نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انہوںنے موٹر سائیکل سوار 2 مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی ایک ملزم پیدل بھاگا‘

پولیس اہلکار عبدالمجید نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ مجید کی ایس ایم جی رائفل چھین کر فرار ہوگیا‘ پولیس اہلکار ظاہر شاہ نے ملزمان کو روکنے کے لیے گولیاں چلائیں‘فائرنگ ہوتے ہی موٹر سائیکل پر سوار 2 مزید اہلکار پہنچے لیکن ملزم فرار ہوگئے‘ ملزمان پولیس اہلکار کی سرکاری ایس ایم جی کچھ فاصلے پر پھینک کر فرار ہوگئے تھے‘

زخمی خاتون ثاقبہ کے والد زرین خان نے پولیس کے اس دعوے کو مسلح ملزمان پولیس اہلکاروں کی سرکاری ایس ایم جی چھین کر فرار ہوئے تھے کہ جھوٹا قرار دیا‘ زرین خان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس سے بطور سب انسپکٹر ریٹائرڈ ہیں‘ اتوار کی شب ان کی بیٹیاں ‘ بیٹے اور داماد رات کا کھانا کھانے کے لیے شاہ فیصل کالونی جارہے تھے کہ جیسے ہی ان کی بیٹی اور داماد گیٹ سے گاڑی کی جانب بڑھے تو پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے‘

انہوں نے بتایا کہ گلی میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی نہیں تھا‘ جب پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ فائرنگ کیوں کی تو ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ ڈاکوئوں نے کی ہے‘ انہوںنے پولیس اہلکار کی ایس ایم جی چھینے جانے کے دعوے کو بھی جھوٹ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکار روزانہ شراب خانے سے شراب خرید کرنکلنے والے افراد کا تعاقب کرکے رشوت لیتے ہیںتو اتوار کے روز بھی ایسا نہیں ہوا۔

فائرنگ کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار ظاہر شاہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ مارچ2017 ء کو کورنگی نمبر4 جنرل اسٹور کے تالے توڑنے کی کوشش کی تھی‘ دکاندار نے سی سی ٹی وی کیمرے میں پولیس اہلکار کو تالے توڑتا دیکھ کر شور مچادیا‘ جس کی وجہ سے واردات ناکام ہوئی اس واقعہ کا مقدمہ کورنگی تھانے میں 111/2012 درج ہے ‘

پولیس اہلکار اچھی شہرت کے حامل نہیں ہے۔ عوامی کالونی تھانے میں ایس ایچ او انسپکٹر شاہد خان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ایف آئی آر نمبر 33/19 میں دو نامعلوم ملزمان اور دو پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے تحت 2 پولیس اہلکاروں ظاہر شاہ اور کانسٹیبل عبدالمجید کو گرفتار کرلیا گیا ہے

مقدمے میں پولیس مقابلے کی دفعہ 353، واردات میں 5 سے کم افراد کے شامل ہونے کی دفاع 392 عائد ہے آتشی اسلحہ سے زخمی کرنے کی دفعہ 324 اور 337 اور 34 بھی عائد کی گئی ہیں‘ اس حوالے سے ایس ایس پی کورنگی سید علی رضا کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرانے کیلئے زخمی میاں بیوی کا انتظار کیا گیا، وہ خود اسپتال میں میاں بیوی کے پاس گئے اور انہیں مقدمہ درج کرانے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کے خاندان کا کوئی اور فرد بھی مقدمہ درج کرانے نہیں آیا

جس کے بعد تھانے کے روزنامچے میں تمام واقعہ اور اس کے بعد مقدمے کے اندراج کے لیے پولیس کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انٹری درج کی گئی اور سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی، ایف آئی آر کے مطابق چیکنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس اہلکار سے سب مشین گن چھینی‘قریبی کورنگی چڑیا گھر کے قریب اسنیپ چیکنگ کرنے والے 2 سمیع اللہ اور اویس بٹ بھی موقع پر پہنچے ‘ بے گناہ شہریوں کے زخمی ہونے پر اہلکار اپنی رائفل چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے

ذرائع کے مطابق دونوں اہلکاروں نے جھوٹ بولا کہ نامعلوم ملزمان ان کی سرکاری رائفل چھین کر فرار ہو گئے ،واقعے میں ملوث اہلکار ظاہر شاہ اس سے قبل چوری کے کیس میں گرفتار ہوچکا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق اہلکار ظاہر شاہ اور عمران کا تلاشی کے بہانے شہریوں کو تشدد کرنا اور مبینہ طور پر رشوت وصول کرنا معمول ہے‘پولیس نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی اور نہ ہی ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کرکے مقدمے میں ریمانڈ لیاگیا۔

موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکار شہریوں کے لیے خوف کی علامت سمجھے جاتے ہیں‘ وہ لوٹ مار کے لیے ایسے مقامات کا تعین کرتے ہیں‘ جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہ ہوں ‘ شراب خانے ‘منشیات کے اڈوں کے قریب کے علاقے پسندید ہ ہیں‘ اب تو کسی شہری کی جانب سے کنگابھی مل جائے تو پولیس والے بہت خوش ہوتے ہیں‘

جیسے انہوں نے کوئی بم برآمد کرلیا ہو‘ جس شہری کی جیب سے کنگا ملتا ہے‘ اس کو جان چھڑانے کے لیے 500 سے ایک ہزار روپے کی قربانی دینی پڑتی ہے‘ اورنگی ٹائون احتجاج گاہ روڈ سے پانی کا ٹینکر اورنگی ٹائون میں داخل ہوا تو گلشن بہار چڑھائی سے پہلے پاکستان بازار تھانے کی موٹر سائیکل پر سوار گشت کرنے والے اہلکاروںنے واٹر ٹینکر کو رکنے کا اشارہ کیا توٹرک ڈرائیور کے پاس منگھو پیر تھانے کی موبائل تھی‘ اس لیے منگھوپیر کے علاقے میں کسی پولیس والے نے نہیں روکا تھا‘

پاکستان بازار تھانے کی حدود میں داخل ہوتے ہی ٹینکر کے پیچھے پولیس لگ گئی ‘ پولیس والے روکتے کو ٹینکر والے کو 50 روپے دینے پڑتے ‘ ٹینکر ڈرائیور نے پولیس اہلکاروں سے بچانے کے لیے ٹینکر کی اسپیڈ بڑھا دی تھی‘ ڈرائیور کی تمام توجہ سائیڈ گلاس سے موٹر سائیکل سواروں کو دیکھنے میں لگی ہوئی تھی‘

ریمپ سے اترتے ہوئے ٹینکر کی اسپیڈ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا‘ ٹینکر قریبی مارکیٹ میں جا گھسا‘ پھول کی دکان سمیت 2 دکانیں تباہ ہوگئی‘ پھول کی دکان میں بیٹھا 14 سالہ لڑکا شہریار ٹینکر کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا‘ واٹر ٹینکر ڈرائیور ز کو بھی شدید چوٹیں آئیں ‘اس کو اسپتال منتقل کیاگیا‘

مزید پڑھئیے‎ : تاجر قتل…!

جہاں ڈرائیور رحیم بخش دم توڑ گیا‘ ٹینکر کے پیچھے 50 روپے کے حصول کے لیے تعاقب کرنے والے دونوں پولیس اہلکارغائب ہوگئے تھے‘ حادثے کے بعد واقعہ کا ذمہ دار واٹر ٹینکر ڈرائیور کو قرار دیاگیا‘ لیکن کسی کو اس حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو لگی یہ وجہ ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتی‘

لیکن اورنگی ٹائون میں پانی سپلائی کرنے والے واٹر ٹینکر ڈرائیور نے اسپتال میں اس صورتحال سے آگاہ کیا‘ واٹر ٹینکر ڈرائیور نے بتایا کہ اورنگی ٹائون میں پانی کی قلت ہے‘ لیکن یہاں پانی کی سپلائی کرنا بہت مشکل ہے ‘ رات کے وقت واٹر ٹینکر چلاتے ہیں تو ڈاکو لوٹ لیتے ہیں‘ دن کے وقت سڑک پر ٹینکر چلانے کے لیے پولیس سے سیٹنگ ضروری ہے‘

منگھوپیر ‘ اورنگی ٹائون ‘ پاکستان بازار ‘ اقبال مارکیٹ ‘ مومن آباد ‘ پیر آباد اور سائٹ اے ایریا تھانے اورنگی کی حدود میں قائم ہے‘ ان 7 تھانوں کو موئل رشوت دیں تو ہمیں ٹینکر چلانا مشکل ہوجائے گا‘ ہم ایک تھانے سے تو موئل دے دیں گے‘باقی ہمارے لیے مشکل ہوجائے گا‘ ڈسٹرکٹ پولیس کے بعد ٹریفک پولیس والے کو بھی دینا پڑے گا‘ پولیس گردی کا ایک معمولی واقعہ ہے‘

کراچی کے گلی محلو ں میں یہ واقعہ رونما ہوتے رہتے ہیں‘ بنارس پل سے قبل عبداللہ کالج اور پاپوش نگر کے قریب رات کو پولیس اہلکار اس طرح ناکے لگا کر لوٹ مار2018 ء میں کراچی جیل پولیس مقابلوں کی زدمیں رہا‘ ڈیفنس میں ماں باپ کے اکلوتے بیٹے انتظار کو اے سی ایل سی کے اہلکاروںنے گولیوں سے بھون دیا‘ ایک سال گزرنے کے باوجود پولیس اس واقعہ کی گتھی نہ سلجھا سکی‘

اس طرح شاہ لطیف ٹائون میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود انکائونٹر اسپیشلسٹ رائوانوار اور اس کی شوٹر ٹیم کا نشانہ بنا‘ اس واقعے کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ،ہائی پروفائل کیس میں رائو انوار کو چند ماہ بعد گرفتار تو کیا‘ لیکن اسکے گھر کو سب جیل قرار دے کر اس میں رکھا گیا‘

رائوانوار ضمانت پر رہا ہوگئے‘اس کے بعد مقدمے میں نامزد رائو انوار کی شوٹر ٹیم کے تقریباً تمام افسران عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہوگئے‘ شارع فیصل پر لائنز ایریا کا رہائشی نوجوان مقصود بھی گولیوں کا نشانہ بنا‘ پولیس نے اس کیس کو الف لیلیٰ کی کہانی بنادیا اور یہ کیس بھی بے نتیجہ رہا‘

13 اگست 2017 ء کی شب ڈیفنس میں ایک مبینہ مقابلے میں چھٹی جماعت کی طالبہ امل پولیس کی گولی کا نشانہ بنی ‘13 اگست کی رات کا ذکر کرتے ہوئے بینش اور عمر عادل کے چہرے پر دکھ اور غم کے ساتھ ساتھ غصے کے جذبات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں

اس رات پیش آنے والے واقعے نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ یہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کو بہت ہمت اور بہادری سے سنبھال تو رہے ہیں لیکن کاش کسی بھی ماں باپ کو اپنی زندگی میں ایسی بہادری کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے، بینش اور عمر 10 سالہ امل کے والدین ہیں جو گزشتہ ماہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی ایک واردات کے دوران پولیس اور جرائم پیشہ شخص کے مابین فائرنگ کے تبادلے کا شکار ہوئی۔

13 اگست کی رات جب سارا شہر سڑکوں پر نکل کر جشن آزادی کی خوشیاں منا رہا تھا تو 10 سالہ امل اور ان کے والدین ایک کنسرٹ دیکھنے جارہے تھے۔ٹریفک کے رش سے بچنے کے لیے عمر نے کراچی کے علاقے ڈیفنس کے خیابانِ اتحاد سے جانا مناسب سمجھا، لیکن وہاں موجود ایک سگنل پر رکتے ہی اْن کی زندگی بدل گئی۔امل کے والدین کے بقول سگنل پر رکی گاڑیاں لوٹنے والا ایک ڈاکو جب ان سے فون اور پرس چھین کر پلٹا تو پچاس فٹ کے فاصلے پر موجود پولیس اہلکار نے اْس پر فائرنگ کر دی اور ان میں سے ایک گولی گاڑی کی ڈّگی اور سیٹ سے ہوتے ہوئے وِنڈ سکرین کے راستے باہر نکل گئی۔فائرنگ رْکنے پر جب بینش نے پیچھے مْڑ کر اپنی دونوں بیٹیوں، 6 سالہ آنیہ اور 10 سالہ امل کو دیکھا تو آنیہ خوف سے مستقل چیخ رہی تھی

جبکہ امل ساکت تھی۔کچھ ہی لمحوں میں بینش کو پتا چل گیا تھا کہ امل فائرنگ کا نشانہ بن چکی ہے کچھ عرصے بعد بینش عمر نے پاکستانی اخبار ڈان میں اس واقعے کے بارے لکھا اور جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں اپنی کہانی بیان کی، جس کے نتیجے میں اخباروں میں اکثر دو کالم میں چھپنے والی ڈکیتی کی خبر کا ایک چہرہ اور نام اور مل گیا۔واقعے کے بعد پولیس کے3بیان سامنے آئے، جن میں اس علاقے میں موجود پولیس کے عملے پر سے ذمے داری ہٹانے کی پوری کوشش کی گئی۔

لیکن واقعے کے3 دن بعد ہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جنوبی) جاوید اوڈھو نے دوبارہ تحقیقات کروائیں اور ایک پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ 10 سالہ امل کی ہلاکت پولیس کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہے، اس بات کی تصدیق عمر عادل کی گاڑی کی ڈّگی پر موجود گولی کے ایک انچ کے سوراخ سے بھی کی گئی، ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے کہا کہ جس پولیس افسر کی رائفل سے بچی کو گولی لگی اس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو کلاشنکوف دینے کے رواج کو بدلنا پڑے گا کیونکہ اس کا استعمال خطرناک ثابت ہوتا ہے امل کے والدین کو تفتیشی افسران نے بتایا کہ پاکستان میں پولیس کے پاس کلاشنکوف رکھنے کا رجحان 80 کی دہائی میں افغانستان میں رْوسی جنگ کے دوران سامنے آیا جب ایک بڑی تعداد میں اسلحہ افغانستان کے راستے پاکستان میں لایا گیا پولیس کے پاس موجود زیادہ تر اسلحہ دراصل فوج کا استعمال شدہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سڑکوں اور گلیوں کی حفاظت کرنے کے لیے پولیس کے پاس کلاشنکوف جیسے ہتھیار ہونا ضروری ہے اور کیا اس کے کْھلے عام استعمال پر پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

اس واقعے کے بارے میں بینش اور عمر کے سوالات وہی ہیں جو بیشتر پاکستانیوں کے ہیں، لیکن جو عموماً زیادہ تر منظرِ عام پر نہیں آتے ،تاہم اس واقعے کے 5ماہ گزرنے کے بعد بھی امل عمر کے والدین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں کمی نہیں آئی ہے۔ بلکہ بہت سے والدین اپنی آپ بیتی ان سے بانٹنے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں’آواز اٹھانے سے تبدیلی آ جائے تو اچھی بات ہو گی‘ بینش عمر اور عمر عادل پیشے کے لحاظ سے فلمساز ہیں۔

بعض لوگوں کی طرف سے یہ تنقید بھی کی گئی کہ بینش اور عمر امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تبھی پولیس اور میڈیا تک ان کی رسائی ہے اس پر بینش کا کہنا ہے کہ ’ایسا کہنا آسان ہے، لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ ہم دونوں اسپتال کے عملے کو ایمبولینس بلانے کے لیے بھی آمادہ نہیں کر سکے، بینش کہتی ہیں کہ ’ہماری بچی تو واپس نہیں آئے گی لیکن اگر ہمارے آواز اٹھانے سے اگر ان بے حس اداروں میں کام کرنے والے افسروں کے روّیے میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔ اگر ڈاکٹروں اور ان کے عملے کا احتساب ہو تو اچھا ہے۔

اس وقت مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں روز کے شور و غْل میں یہ خبر دب نہ جائے اور جو ہونے والی گفتگو ہے وہ کہیں رْک نہ جائے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے معصوم امل کو فوری طبی امداد فراہم نہ کرنے پر پرائیویٹ اسپتال کے کردار پر برہمی کا اظہار کیا‘ اس واقعہ کے بعد کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے ایک پریس کانفرنس کی امل قتل کیس کے مرکزی ملزم خالد کی گرفتار کا دعویٰ کیا۔ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ امل قتل کیس کے مرکزی ملزم خالد کو پولیس نے گرفتار کرلیا اور ملزم کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروادی گئی‘

12 اور 13 اگست کو مقابلے میں ایک ملزم کو ہلاک کیا تھا‘ جس کی شناخت نہیں کی جاسکی تھی اور اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا گیاتھا‘ جبکہ اس کا ایک ساتھی فرارہونے میں کامیاب ہوگیاتھا‘ انہوںنے مزید بتایا کہ مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولی لگنے سے متاثرہ فیملی کی بچی 10 سالہ امل جاں بحق ہوئی تھی‘ مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی بچی امل چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی‘ انہوںنے کہا کہ فرار ملزم کی مختلف طریقے سے تلاش کی جارہی تھی اور ٹیکنیکل سپورٹ کے ذریعے ملزم کو آرٹلری میدا ن کے علاقے سے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے‘

جس کی شناخت خالد کے نام سے ہوئی اورملزم ہجرت کالونی کا رہائشی ہے‘ اس نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ مقابلے کے وقت اس کا ساتھی شہزاد ہلاک ہوا تھا جو کہ نیول کالونی کا رہائشی تھا اور مقابلے کے بعد رکشہ میں فرار ہوگیاتھا‘ ملزم نے دوران تفتیش کہا کہ اس نے اپنے ساتھی کے ہمراہ 12 اور13 اگست کو 3 وارداتیں ڈیفنس میں کی تھیںاورتیسری واردات کے بعد چوتھی واردات کرنے کے لیے کار سوار فیملی کو لوٹا ‘ تاہم تعاقب میں آنے والی پولیس سے ان کا ٹکرائو ہوگیا‘ جبکہ انہوںنے درجنوں وارداتوں کا اعتراف بھی کیاہے‘ ڈی آئی جی نے کہا کہ دونوں ملزم رکشہ میں وارداتیں کرتے تھے‘ ملزم خالد 7 وارداتوں کا اعتراف کرچکاہے‘ جس پر کرائم ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے‘

تاہم ڈیفنس کی معصوم امل قتل کیس کے واقعے کے بعد حکم نامے میں کہا گیاہے کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اتفاقیہ گولی چلنے سے کئی جانی نقصانات ہوچکے ہیں‘ خود کا اسلحہ نہ صرف شہریوں میں خوف وہراس کا باعث بن رہا ہے‘ بلکہ اس سے شہریوں کی نظر میں پولیس کا بھی منفی تاثر قائم ہورہا ہے‘ لہٰذا گشت اور اسکواڈ ڈیوٹی پر تعینات اہلکار خود کاراسلحے کی نمائش نہ کریں

اور جلد از جلد ان اہلکاروں کا اسلحہ تبدیل کیاجائے کہ موٹر سائیکل اسکواڈ کو سب مشین گن کی جگہ پستول یا ریوالور دیا جائے‘ اسکواڈ ڈیوٹی پر اہلکاروں کوبھی ایک پستول اور صرف ایک خود کار اسلحہ یا سب مشین گن دی جائے اس کے ساتھ ساتھ پولیس گشت پر مامور اہلکاروں کو بھی ایک پستو ل اور صرف ایک خود کار اسلحہ اور ایک پستول فراہم کیا جائے‘ پولیس گشت اور خصوصی مقامات پر تعینات پولیس اہلکاروں کو ایک پستول یا ریوالور کے ساتھ صرف ایک خود کا ر اسلحہ دیاجائے‘

مدد گار15 کے لیے بھی یہی حکم صادر کیا گیاہے حکم نامے میں مزید کہا گیاہے کہ پولیس اہلکارکی گولی لگنے سے اسکول کے گرائونڈ میں کھیلنے والی 7 سالہ اقصیٰ کی ہلاکت کے بعد تو پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ تربیت شروع کردی گئی ۔شہید بے نظیر بھٹو ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں پولیس اہلکاروں کی تربیت کا انعقاد کیاگیا‘

اس تربیت کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں عوامی مقامات اور رش والی جگہوں پر ملزمان سے نمٹنے اور ان سے مقابلے کرنے کے لیے حفاظتی تدابیر سکھائی گئیں‘ تربیت کا مقصد آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہے‘ پہلے مرحلے میں 550 اہلکاروں کو تربیت دی گئی‘ ٹریننگ کے دوران اس بات پر توجہ دی گئی کہ اہلکاروں کو چھوٹے ہتھیار استعمال کرائے جائیں‘ اس ضمن میں نائن ایم ایم اور اسی کیلی برکے ہتھیار وں سے اہلکاروں کو تربیت دی گئی‘

تربیت کے دوران اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ رش والے عوامی مقامات میں اگر ملزمان سے سامنا ہوجائے اور پولیس اہلکار کے پاس بڑے ہتھیار ایس ایم جی یا جی تھری وغیرہ ہوتو اسے بھی کس انداز سے چلایاجائے کہ شہریوں کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو تربیت کے دوران ایم پی فائیو رائفل بھی پولیس اہلکاروں کو استعمال کرائی گئی‘ جبکہ اس بات کی بھی تربیت دی گئی کہ ملزمان کی اطلاع ملنے پر کس طرح عوامی مقامات پر پولیس اہلکار پہنچیں اور وہ ایسی پوزیشن لیں کہ جس میں شہریوں کو خطر ہ محسوس نہ ہو اور وہ ہدف نہ ہوں‘

پولیس اہلکاروں کو ملزمان سے دوبدو مقابلے اور حملے سے بچائو کی تدابیر بھی بتائی گئیں‘ سعید آباد پولیس ٹریننگ کالج ‘ ایس آر پی بیس میں بھی اس طرح کے کورس کروائے گئے ہیں کراچی پولیس کی 40 ہزار سے زائد کی نفری ہے ‘ ریفریش کورس ہونے میں وقت درکار ہے‘ سانحہ ساہیوال کے بعد گارڈن میں سرکاری ایس ایم جی رائفلز کو رنگ کرنے اور بلٹ پروف جیکٹس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

پنجاب پولیس نے ناکو ں پر کھڑے اہلکاروں کو گاڑی نہ رکنے پر فائرنگ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے‘ کراچی میں اہم سڑکوں پر پولیس نے ناکوں میں اضافہ کردیا ‘ ناکوں پر پولیس کمانڈوز اور شوٹرز متعین کردیئے‘ ریڈ زون کے داخلی وخارجی راستوں پر 20 چیک پوسٹیں بنا دی ہیں‘ سڑک پر ناکے شہریوں کے لیے درد سر بن گئے‘ شارع فیصل ‘ آئی آئی چندریگر روڈ ‘ ڈیفنس ‘ کلفٹن اور پی آئی ڈی سی پل پر ناکوں کی وجہ سے ٹریفک جام معمول بن گیا ہے‘

پولیس چیکنگ کے دوران گاڑیوں کے کاغذات چیک کرنے کے علاوہ شہریوں کی جیبیں بھی ٹٹول رہے ہیں‘ 2 روز قبل کورنگی میں میاں، بیوی کو پولیس اہلکاروں نے گولی مار دی تھی‘ اس مقدمے میں بھی پولیس نے دہشت گردی ایکٹ نہیں لگایا‘ شہر کی سڑکوں پر بتدریج پولیس نے ناکوں میں اضافہ کیاجارہا ہے‘

جبکہ گلی محلوں میں موٹر سائیکل سوار گشت کے دوران عام شہریوں کو روک کر شناختی کارڈ طلب کررہے ہیں‘ تاہم اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ رک جائے گا‘ ناکے پر نہ رکنے والی گاڑیوں پر فائرنگ نہیں کی جائے گی‘ دوران ڈیوٹی گاڑیوں کے کاغذات چیک نہ کئے جائیں‘ صرف مشکوک کو روکا جائے‘ شہریوں کو غیر ضروری تنگ نہ کیاجائے۔

(377 بار دیکھا گیا)

تبصرے