Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

’’کچھ باتیں حکومتی اداروں سے‘‘

م ش خ پیر 21 جنوری 2019
’’کچھ باتیں حکومتی اداروں سے‘‘

قارئین گرامی دو ماہ سے شدید علیل رہا جس کی وجہ سے کالم نہ لکھا جس کے لیئے میں آپ سے معذرت خواہ ہوں.

کچھ اندرون سندھ سے میری بہنوں اوربھائیوں نے ای میل کیئے ان کا جواب بھی آپ کو ضرور دونگا کیونکہ قومی اخبار میں ای میل کا جب بھی راقم تذکرہ کیا اس خبر پر عمل ضرور ہوا اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم تو غریب نادار اور مفلس جرنلسٹ ہیں آپ حضرات کے دل پر تکلیف کے جو نشان آتے ہیں انہیں قومی اخبار مٹانے کی پوری کوششیں کرتا ہے اور یہ فلسفہ ہمارے محترم اور روح رواں الیاس شاکر مرحوم کا بھی تھا (رب انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے آمین).

آج کل سیاسی شعبدہ بازی نے اپنی پتنگ آسمانوں تک پہنچانے کی کوششیں کی پی پی پی کے مصطفیٰ نواز کہتے ہیں کہ جو بھی باہر سے امداد آرہی ہے یا ملی ہے اس میں حکومت کا کیا کمال ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج اور عمران خان کی ہنگامی بنیادوں پر کوششیں باور ثابت ہوئی آپ نے بھی تسلیم کر لیا تو پھر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے سیاستدانوں کو کیا اعتراض ہے کہ ان کی معیار بڑھانے کیلئے سیاست دان کہتے ہیں کہ اپوزیشن مل بیٹھ کر فیصلہ کریگی،

یہ آپ سیاست دانوں کو سوچنے کی بات ہے عوامی خواہشات کی نگاہ سے دیکھیں تو عوام چاہتی ہے کہ ان کی معیارنہ ختم ہونے والی ہوں جب سے حکومت برسر اقتدار آئی ہے تمام سیاسی جماعتیں جو گزشتہ 30 سال سے اس ملک پر حکومت کررہے تھے اب انہوں نے حکومت کیسے کی اس کا جواب تو عوام دے رہی ہے اور دیگی، مگر اپوزیشن میں دینے والی سیاسی لیڈر ایک ہی بات پر کانوں میں رس گھولتی آواز کا ورد کررہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ جعلی ہے ماضی میں جب نواز شریف الیکشن جیتے تھے تو پی پی پی اور دیگر جماعتیں شور مچاتی تھیں کہ دھاندلی ہوئی ہے ہم اس کو نہیں مانتے

خیر میاں صاحب نے 5 سال پورے کیئے اور پھر اس کے بعد پی پی پی بر سراقتدار آگئی تو نواز شریف نے شور مچایا کہ دھاندلی ہوئی ہے ہم اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز لیگ اور پی پی پی عرصہ دراز سے حکومتیں کرتے رہے اور ظاہر ہے اس ناطے تمام حکومتی اداروں میں ان کے چاہنے والے تشریف فرماتھے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عمران خان الیکشن میں کھڑے ہوئے تو ان کی سیاسی حیثیت تو اس بچے کی تھی جو پہلی مرتبہ سیاسی اسکول میں داخلے کی نیت سے داخل ہوا نہ وہ سیاسی بیورو کریٹ کو جانتے تھے نہ سیاسی لوگوں کو ( عمران کیلئے نہیں غیر جانب دا ہو کر اسے لکھا ہے) تو پھر وہ الیکشن کیسے جیت گئے سیاستدان اداروں کا نام نہیں لیتے بس کہتے ہیں کہ اداروں نے آئین اس منصب پر بیٹھایا ہے ان کی اتنی ہمت نہیں کہ اداروں کا نام لیں مگر تعلیم یافتہ طبقہ نے اس دفعہ شہروں میں عمران خان کا ساتھ دیا وہ سادہ اکثریت سے جیت گئے اس میں کراچی حیدرآباد شامل ہے، ناکام سیاستدان اب تک گیڈر بھبکوں سے کام چلا رہے ہیں، اور اب سیاست آئی سی یو میں ہیں، بد عنوان سیاسی لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں

قوم لطیف احساس کے ساتھ یہ تماشہ دیکھ رہی ہے ماضی کے غلط سیاسی کلچر نے قوم کو اور حکومت کو کرب کی داستان بنا کر رکھ دیا ہے، سیاسی غم والم کی کئی داستانیں رو رو کر دھائی دیتی نظر آرہی ہے اب سیاسی چڑ چڑاپن عروج پر ہے مسائل جوں کے توں ہیں اور سیاسی آتش بیان عروج پر ہے اور اس سیاسی تصادم نے قوم کو ملبا میٹ کرکے رکھ دیا ہے قوم بے رحمی کا تاثر لیئے خاموش ہے ہارے ہوئے سیاستدانوں کو چاہیئے کہ وہ ماضی میں اگر قوم کی بہتری اور توانائی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں تو کرب کی داستانیں بیان نہ کریں بلکہ اپنے عمدہ کارناموں پر وائٹ پیپر شائع کریں (اچھا اصلاحات پر ) تاکہ سچ کی تحقیقات کے تقاضے پورے ہوں اور قوم اس گھمبیر صورتحال سے نکلے

وہ ماضی میں کیئے گئے انتظامی صلاحیتوں کو نمایاں کرے،تاکہ عوام میں ایک احساس کی خوشبو پھیلے اور عمران خان کو بھی چاہیئے کہ اس قوم کو مسائل کے خوف کی سولی سے اتار کر دم لیں اور قوم کیلئے مخلصانہ حکمت عملی اپنائے اپنے وزیروں مشیروں کو ہدایت دے کہ وہ محاز آرائی کا حصہ نہ بنیں لوگوں کے مسائل پر توجہ دیں علاقائی بنیادوں پر بھی کام کرے ، بیان تراشیوں پر اب مٹی ڈالے سپریم کورٹ ، احتساب عدالتیں اور نیب کو اپنے توسطہ سے کام کرنے دیں وزراء عوام کے مسائل پر توجہ دیں مسائل عذاب الٰہی کی طرح اس قوم پر مسلط ہیں ان پر توجہ دے سینئر سٹیزن کیلئے ایک لاکھ پر 1190 روپے پرافٹ کردیا گیا ہے یہ عمران خان کا ایک عظیم کارنامہ ہے مگر پیور ہے برائے مہربانی صرف اور صرف سینئر سٹیزن (عمر رسیدہ افراد) کیلئے اسے اسلامی سرٹیفکیٹ میں تبدیل کردیں جب پرائیویٹ بینک اسلامی سرٹیفکیٹ کا اجرا کرلیتے ہیں تو عمر رسیدہ افراد کیلئے قومی بچت میں 1190 روپے ماہانہ کو اسلامی سرٹیفکیٹ میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتے

یہ کسی المیہ سے کم نہیں کہ اسلامی سرٹیفکیٹ کی پرائیویٹ بینک ایک لاکھ پر 400 روپے ماہانہ دے رہے آپ اسے اسلامی سرٹیفکیٹ میں تبدیل کریں تاکہ ان پرائیویٹ بینکوں نے اسلامی سرٹیفکیٹ کے نام پر جو اود ہم بازی مچا رکھی ہے وہ ختم ہوں راقم کو کئی عمر رسیدہ افراد نے رائے دی جو جنون کی حد تک کئی سیاسی پارٹیوں سے وابستہ تھے وہ کہتے ہیں کہ ووٹ اب عمران خان کا ہے اسحاق ڈار سابق وزیر خزانہ نے ان عمر رسیدہ افراد کو کچل کر رکھ دیا تھا اور ان عمر رسیدہ افراد جو قومی بچت سے وابستہ ہیں ان کی تعداد کروڑوں میں ہیں وہ اب عمران کے ساتھ ہیں وزیر خزانہ اسد عمر اس تحریر پر خصوصی توجہ دیں کہ وہ تحریک انصاف اور عمران حکومت کا حصہ ہیں اب آئیے چلیئے کچھ سندھ کے حالات کی طرف صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور مکیشن کمار سے مودبانہ گزارش ہے کہ اس تحریر کو تنقید کے زمرے میں نہ لیں ،

بلکہ اس کو اصلاح کے طور پر لیں ان کا کہنا ہے کہ نادہندہ گان گاڑیوں کے مالکان اپنے ٹیکسز فوری طور پر جمع کروائیں تاکہ انہیں ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے تو محترم گزشتہ دنوں راقم کو KDA چورنگی پر پولیس نے روک لیا کہ کاغذات اور ٹیکس دیکھائیں خیر راقم کے کاغذات اور ٹیکس مکمل 2019 تک تھا اس معاملے سے آپ اور آپ کی وزارت کا معاملہ صرف ٹیکس کے ذمرے میں آتا ہے لائنس سے آپ کی وزارت کا تعلق نہیں مگر دکھ تو اس بات کا ہے کہ جو شہری شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے گاڑی کا ٹیکس ادا کرتا ہے اسے بلا وجہ پریشان کیا جاتا ہے یہ روڈ پر جو چینچی چل رہے ہیں یہ ٹیکس دیتے ہیں 90فیصد موٹر سائیکلیں سوار کیا ایکسائز اینڈ ٹیکیشن کو ٹیکس دے رہے ہیں کیا روڈ پر چلنے والی ویگن اکثریت آپ کو ٹیکس دے رہی ہے ( اس کے علاوہ ٹریفک کی تباہی کا ذمہ دار آپ کا ادارہ نہیں یہ پولیس کا کام ہے ) اس پر بھر کالم لکھوں گا گزشتہ دنوں میں نے اپنی گاڑی کا ٹیکس دیا آپ نے 15 جنوری تک کا وقت دیا ہے کیا جن امور پر میں نے اوپر لکھا ہے آپ اس پر یا آپ کا محکمہ اس پر عمل کر سکے گا، بہتی گنگا میں سب قانون شکن ہاتھ دھو رہے ہیں اور جو شریف شہری ٹیکس دیتے ہیں ان کو عزت و تکریم دینے والا کوئی نہیں اب قانون کی روایت ان حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔

نیشنل بینک میں آپ کا عملہ دن کے 11بجے تک نہیں آتا جنہیں ٹیکس نہیں دینا ان کی بلا سے ایکسائز اینڈ ٹیکیشن کا عملہ آئے یا نہیں آئے مگر جو ٹیکس دینا چاہتے ہیں وہ جب بینک جاتے ہیں تو اسٹاف کہتا ہے کہ ابھی یہ آئے نہیں ہیں بعد میں آئیے گا اس پر خاص توجہ دیں اور وہاں لائن میں شریف شہری لائن بنائے اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اس مسئلے پر خاص توجہ دیں آپ ملک کی بہتری اور بقاء کیلئے مئوثر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مکیش کمار مگر اپنے عملے کو تو پابند کیجئے کہ خدارا شریف شہریوں کا خیال کریں 9بجے ڈیوٹی پر حاضری کو یقینی بنائیں برائے مہربانی شریف اور تعلیم یافتہ لوگوں کی حرمت کو پامال مت ہونے دیں آپ بھی تعلیم یافتہ ہیں اور اعلیٰ وزارت کے منصب پر ہیں راقم نے خامیوں پر روشنی ڈالی ہے اس تحریر کو خوبصورت لچکدار رویہ سے پڑھیں تاکہ آپ کے محکمے میں ٹیکس کا حدف پورا ہو ذی شعور شہر ی جب دیکھتا ہے کہ 90 فیصد ٹیکس نہیں دیتے تو وہ بھی اپنے فائدے کا جائزہ تو لے گا کہ میں کیوں ٹیکس دے رہا ہوں

اور آپ یقین کریں ان شریف شہریوں کے ٹیکس کی وجہ سے آپکا صوبہ اور آپ کی وزارتیں خوش اسلوبی سے چل رہی ہیں جب سب سے ٹیکس وصول کریں گے تو پھر اس شہر کے حالات بھی بدلیں گے لہٰذا مکیش کمار ہمت سے کام لیں جب آپ اصولی طور پر ٹیکس کے حوالے سے سختی کریں گے تو آپ کو سیاسی تافگہ پارٹیوں سے بھی نمٹنا ہوگا اس بات پر کہ غریب پر ظلم ہورہا ہے۔گزشتہ دنوں مجھے سکھر اور شہداد پور سے ای میل ملی میری بہن سکینہ سومرو لکھتی ہیں کہ میں سکھر میں قومی اخبار لیتی ہوں اور ہمارے علاقے کے بیشتر افراد صرف اور صرف قومی اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں میں قومی اخبار کے توسط سے کہنا چاہتی ہوں کہ سکھر میں پینے کا پانی بالکل نہیں آتا صفائی ستھرائی کی صورتحال تباہی کے کنارے میں ہیں نکاسی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے شاہرائوں کی ٹوٹ پھوٹ نے لوگوں کو مریض بنا دیا ہے لہٰذا قومی اخبار ہماری تکلیف پر روشنی ضرور ڈالے بہن آپ کی بات مکمل قومی اخبار میں دی گئی ہے اور ہم بھی انتظامیہ اور میئر سکھر سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان مسائل پر خاص توجہ دیں

دوسرا ای میل عمر صادق اور فاطمہ بی بی نے کیا لکھتی ہیں کہ ہم بلدیاتی ملازمین کو پنشن نہیں مل رہی جسکی وجہ سے ہم فاقہ کشی کا شکار ہں ہم عمر رسیدہ لوگ ہیں اس عمر میں ہم دھکے کھا رہے ہیں یہاں بھی راقم سکھر کے میئر سے گزارش کریگا کہ آپ ان غریبوں اور عمر رسیدہ افراد کے پنشن کو جلد از جلد یقینی بنائیں تاکہ یہ مجبور اور بے کسی لوگ اپنی زندگی کے کچھ لمحے سکون سے گزار لیں بہن سکینہ سومرو و فاطمہ بی بی اور عمر صادق قومی اخبار کراچی سے لیکر سکھر تک اور سکھر سے لیکر اسلام آباد تک پڑھاجاتا ہے خاص طور پر اندرون سندھ اور کراچی حیدرآباد کا دوپہر کا سب سے بڑا اور معتبر اخبار ہے آپکے مسائل پر روشنی ڈال دی ہے ہمیں امید ہے کہ آپکے مسائل ضرور حل ہونگے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(385 بار دیکھا گیا)

تبصرے