Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رنگیلے شوہر کا المناک انجام

سید حسن رضاشاہ جعفری هفته 19 جنوری 2019
رنگیلے شوہر کا المناک انجام

یوں تو کراچی میں اکثر چھینا جھپٹی‘ اسٹریٹ کرائم اور قتل کی وارداتیں معمول بن گئیں ہیں‘ آئے روز نت نئے واقعات رونما ہوتے ہیں‘ یہ ٹھیک بات ہے کہ گئے دور کی نسبت ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ‘ لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہ ہوگا کہ ان جرائم اور قتل وغارت کا بالکل خاتمہ ہوگیاہے ‘

ایسا ہی دل دھلا دینے والا واقعہ جسے سن کر یقین نہیں آتا کہ ایسا ہونا بھی ممکن ہے ‘ رونما ہوا کراچی کے علاقے الفلاح تھانے کی حدود میں جہاں گھریلو جھگڑے میں ماں بیٹی اور چھوٹے دوبچوں نے ڈنڈے بلے ‘ بیلنس مار مار کر تشدد کرکے اپنے سگے باپ 42 سالہ عبدالستار ولد مزمل حسین کو ابدی نیند سلا دیا‘ مقتول چاولوں کا بیوپاری اور مزہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا‘

3 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھااور بیوی بچوں کے ساتھ تھانہ الفلاح کی حدود میں رہائش پذیر تھا‘واقع کے مطابق3 دسمبر کو جناح اسپتال میں صبح قریب ساڑھے 10 بجے ایک شخص جس کا نام عبدالستار تھاکو لے کر کچھ لوگ علاج کے لیے پہنچے ‘ آنے والوں نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ گھر میں سوتے ہوئے مریض گرگیا‘ بیڈ سے نیچے گرجانے کی وجہ سے اس کو چوٹیں لگ گئی ہیں اور اس کی طبیعت بگڑنے پر ہم اسے اسپتال طبی امداد کے لیے لے کر آئے ہیں‘ اسپتال آنے والا شخص مقتول عبدالستار کا دوست کامران خٹک تھا‘ جوکہ مقتول کا دوست بھی تھا اور پیر بھائی بھی تھا۔

ڈاکٹروں نے مقتول کا معائنہ کرنے کے بعد موت کی تصدیق کردی‘ ساتھ ہی بتایا کہ آپ لوگوں نے مریض کو لانے میں دیر کردی‘ چوٹیں زیادہ لگ جانے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے بندہ کافی وقت پہلے ہی فوت ہوچکاہے‘ دوسرسی طرف ڈاکٹروں کو تشویش بھی ہوئی کہ بھلا بیڈ سے نیچے گرجانے پر اتنی ساری چوٹ کیسے لگ سکتی ہے‘ اسے تشدد کرکے قتل کیاگیاہے ‘ اسی بناء پر پولیس نے تھانے الفلاح واقع کی اطلاع پولیس کے گوش گزار کردی اور تمام تر واقعہ پولیس کو بتادیا‘ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ الفلاح کے SHOخالد ندیم اور ڈیوٹی آفیسر بناکسی تاخیر کے جناح اسپتال پہنچ گئے اور ابتدائی پولیس کارروائی کا آغاز شروع کردیا۔

پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعش کو تدفین کے لیے مقتول کے بھائی شاہد حسین کے حوالے کردیا‘ دوسری طرف پولیس نے قتل کے بعد مقتول کے بھائی شاہد حسین کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ 339/18 بجرم دفعہ 302/34 مقتول کی بیوی حمیدہ اور بڑے بیٹے عبدالغفار کے خلاف درج کرکے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے واقع کے دوسرے روز مقتول کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی‘ ابتدائی طورپر تو ملزمہ حمیدہ نے بیان دیا کہ میں گھر ہر سو رہی تھی کہ مجھے شوہر کے گرنے کی آواز آئی تو میںنے اٹھ کر دیکھا کہ وہ زمین پرپڑا ہے اور اس کی طبیعت بہت خراب ہے ‘ جس پر میںنے ان کے دوست کو فون کیا کہ انہیں اسپتال لے جائے‘ جہاں ان کی موت واقع ہوگئی‘ لیکن بعد ازاں ملزمہ نے اعتراف جرم کرلیااور پولیس کو تمام حقیقت بتادی

‘ ملزمہ نے بتایا کہ میرے شوہر سے میرا 2 سے 3 سال سے جھگڑا ہوتا رہتا تھا‘ وہ دوسری عورتوں سے فون پر ٹاک شاک کیا کرتا تھااور میرے منع کرنے پر مجھ سے لڑتا جھگڑتا تھا اورکہتا تھا کہ دوسری شادی کرنا چاہتاہے وہ اسے جلد چھوڑ دے گا‘ جس کی وجہ سے میں بہت زیادہ پریشان رہتی تھی اور بچوں کو بھی میں نے بتادیاتھا‘ کہ تمہارا باپ خراب انسان ہے اور وہ مجھے چھوڑ دینا چاہتاہے ‘ بچے بھی اکثر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول دیکھ دیکھ کر تنگ آگئے تھے اور آہستہ آہستہ اپنے باپ سے منتشر ہوتے جارہے تھے ‘ واقعے والے دن صبح جب میں اٹھی تو میں نے بچوں کو ناشتہ کروایا کہ یہ اسکول جاسکیں‘ اسی دوران مقتول سے میری منہ ماری ہوگئی لفظی گولا باری نے آہستہ آہستہ طول پکڑااور وہ ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی تو میں نے کچن سے بیلن اٹھا کر اس سے مقتول کو مارنا شروع کردیا‘

مجھے دیکھتے ہوئے بچوں نے بھی مختلف چیزیں بیٹ ‘ لکڑی وغیرہ ہاتھوں میں اٹھالی اور مقتول کو مارنا شروع کردیا‘ جس سے وہ زمین پر گرپڑا اور بہت زیادہ تشدد کرنے سے جاں بحق ہوگیا‘ ملزمہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس وقت مجھ پر ایک عجیب شیطانی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائی ‘ اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں‘ پشیمان ہوں‘ واقعے کے حوالے سے مقتول کے بھائی شاہد حسین نے قومی اخبار کو بتایا کہ ہم 3 بہن بھائی ہیں اور میرے بھائی سیکنڈ نمبر پر تھے‘ والدہ میرے ساتھ علیحدہ رہتی ہیں‘ جبکہ بھائی اپنی بیوی حمیدہ اور بچوں کے ہمراہ الگ رہائش پذیر تھے‘ شاہد نے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ میں اس وقت کام پر موجودتھا‘ میں الیکٹریشن کا کام کرتا ہوں کہ اچانک مجھے بذریعہ فون کال میرے بھائی مقتول عبدالستار کے دوست کامران خٹک نے اطلاع دی اور بتایا کہ آپ فوراً جناح اسپتال آجائیں جب میں جناح اسپتال پہنچاتو دیکھا کہ میرے بھائی کی تشدد زدہ نعش مردہ خانے میں پڑی ہے اس وقت اسپتال میں بھابھی بھی موجود نہیں تھیں‘ ان کا بھائی حامد اور سائونڈسسٹم موجود تھے‘

مزید پڑھئیے‎ : رنگیلی نادیہ پکڑی گئی

پوچھنے پر انہوںنے کوئی زیادہ بات نہیں کی‘ بس اتنا بتایا کہ ہم ڈائریکٹ کام سے یہاں آرہے ہیں‘ ہمیں مزید کچھ نہیں معلوم ‘ بعد ازاں پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعشیں ہمارے حوالے کردی‘ جسے ہم نے کالا بورڈ سردخانے منتقل کردیا‘ جسے بعد ازاں غسل وکفن اور نماز جنازہ کے بعد واقعے کے دوسرے روز عظیم پورہ قبرستان میں آہوں اور سسکیوں میں سپر دخاک کردیا‘ جبکہ پولیس نے بتایا کہ تمہارے بھائی پر بے بہا تشدد ہواہے ‘ جس کے بعد میں نے بھائی کے قتل کا مقدمہ درج کروایا‘ مقتول کے بھائی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قومی اخبار کو بتایا کہ ہمیں تو اب تک یقین نہیں آتا کہ اتنا انتہائی قدم کیسے اٹھایا ‘بھابھی اور بچوں نے جبکہ ان کے بھائی نے کبھی بھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘

وہ بچوں کی اچھی سے اچھی تعلیم وتربیت کررہے تھے‘ اپنا 3 منزلہ مکان جو کہ ان کی ذاتی ملکیت تھا‘ کرائے پر دے کر خود بچوں کی تعلیم کی خاطر ان کے اسکول کے قریب کرائے پر رہ رہے تھے‘ 3 دن قبل ہی بچی کی میڈیکل کی فیس کی مد میں 50 ہزار روپے جمع کرواکر آئے تھے‘ والدہ سے ملنے مرنے سے ایک دن قبل آئے تو بتایا تھاکہ میں نے بچی کی میڈیکل کی فیس جمع کروادی ہے‘ پھرآخر ایسا کیا معاملہ تھا کہ انہیں اس طرح بڑی بے دردی سے قتل کردیاگیا‘ ہمارا اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ جو بھی حقائق ہیں ‘

ان کی روشنی میں حقیقی سزا کے مرتکب ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے‘ کسی کے ساتھ ناجائز نہ ہو‘ کیونکہ ہمارا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے ‘ ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی فرد کے ساتھ ظلم وزیادتی ہو‘بھائی کو ماشاء اللہ 3 بار حج کی سعادت بھی ملی‘ جبکہ مقتول انتہائی نرم دل‘ خوش مزاج‘ نرم طبیعت اور با اخلاق شخص تھا‘ ہم نے اپنی تمام زندگی میں بھائی کو کبھی کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔

تھانہ الفلاح کے تفتیشی آفیسر اسلم گوندل نے قومی اخبار کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی سفاک عورت ہے اس نے بچوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو بے دردی سے قتل کیا‘ واقع صبح پونے آٹھ بجے کا تھا‘ پہلے ان چاروں ماں بیٹی اور 2 بچوںنے مل کر مقتول کو تشدد کرکے مارا پیٹا ‘جس کے بعد 2 بچے اسکول چلے گئے‘ ان کے جانے کے بعد ملزمہ نے دوبارہ اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر اس پر تشدد کیا‘ جس سے اس کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوگئی اور وہ جاںبحق ہوگیا‘ پولیس نے اہل علاقہ سے بھی بیان لئے ہیں‘ البتہ اسکول ‘ کالج جانے والے طلبہ عموماً اسی راستے سے روزانہ گزرتے ہیں‘ پولیس نے ان سے بھی بیان لیا ہے ۔

انہوںنے پولیس کو بتایا کہ واقعے والے دن صبح سے ہی گھر سے مقتول کے رونے اور چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھاکہ میری آنکھ پھٹ گئی ہائے میری آنکھ ضائع ہوگئی‘ پولیس واقع کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہے‘ ہر پہلو سے تفتیش کررہی ہے کہ جو ملزمہ سے اعتراف کیا ہے‘ وہی قتل کی اصل وجہ ہے یا کہ اس کے پیچھے کوئی اور کہانی ہے ‘ پولیس نے ملزمہ کو بچوں سمیت گرفتار کرکے 3 روزہ ریمانڈ لیاتھا‘ جبکہ آلہ قتل بھی برآمد کرلئے تھے‘ جس میں ملزمہ اوراس نے بچوں نے تشدد اور قتل کا اعتراف بھی کرلیاتھا‘ بعد ازاں انہیں جیل کسٹڈی کردیاگیاہے ۔

(225 بار دیکھا گیا)

تبصرے