Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 21  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خونی پلاٹ

عارف اقبال هفته 19 جنوری 2019
خونی پلاٹ

6 جنوری 2019ء ماری پور روڈ محمدی کالونی مہربان چوک کے علاقے میں اس وقت سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہربان چوک مریم مسجد کے قریب واقع ایک خالی مکان میں17 سے 18 سالہ لڑکی کی نعش پڑی تھی۔

اس اطلاع پر علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی‘ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا خبر کی حقیقت جاننے کے لئے لوگ دور دور سے آرہے تھے اور اب یہاں ایک اچھا خاصا ہجوم جمع لگ گیا۔ ہر کوئی بس یہ جاننے کی جستجو میں لگا ہوا تھا کہ یہ لڑکی کون تھی اور اُسے کس نے مارا ہے۔ یہ سوال یہاں موجود ہر ایک شخص کی زبان پر تھا لیکن انہیں اس سوال کا جواب بتانے والا کوئی نہیں تھا۔ اس دوران ڈاکس پولیس کو واقعہ کی اطلاع ملی جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور نعش کو تحویل میں لیتے ہوئے قانونی کارروائی کے لئے سول اسپتال منتقل کردیا

اور جائے وقوعہ پر موجود پولیس افسر نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔ اس دوران اسی علاقے کا رہائشی ایک شخص پولیس کے قریب پہنچا اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نام اکمل بتایا اور مزید کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والی نعش اس کی رشتہ دار ہے ‘ ڈاکس تھانے کی حدود مچھر کالونی مریم مسجد والی گلی میں خالی مکان سے لڑکی کی تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی‘ اسپتال میں مقتولہ کی شناخت 18 سالہ شہربانو عرف ثمینہ دختر فضل کریم کے نام سے ہوئی۔

پولیس کے مطابق مذکورہ مکان کئی ماہ سے خالی پڑا ہوا ہے جبکہ قریب ہی مقتولہ کی بہن اور بہنوئی اکمل رہائش پذیر ہیں‘مقتولہ کے والد نے قتل کا شبہ اپنے داماد اکمل پر ظاہر کیا‘ پولیس نے اس کو حراست میں لے لیا‘بعداز تدفین مقتولہ ثمینہ کے والد فضل کریم نے ڈاکس تھانے میں پولیس کو بیان دیا کہ میں مچھر کالونی شمس الدین محلہ میں عرصہ 40 سال سے اپنی فیملی کے ہمراہ رہ رہا ہوں اور فروٹ کا ٹھیلا لگاتا ہوں‘ میرے 8 بچے ہیں‘ وقوعہ سے ایک ہفتہ قبل میری 2 بیٹیاں کلثوم زوجہ اکمل اور رانی کسی کام کے سلسلے میں لاہور گئی تھیں

اور جاتے ہوئے کلثوم نے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے میری چھوٹی بیٹی ثمینہ کو چھوڑ گئی تھی جو کہ ایک ہفتے سے اس کے گھر رہ رہی تھی اور آج میں اپنے گھر بوقت صبح ساڑھے 10 بجے موجود تھا کہ مجھے میرے نواسے اکبر اور نواسی مسکان نے آکر اطلاع دی کہ خالہ ثمینہ کو کسی نے مار دیا ہے جس کی نعش پولیس اسپتال لے کر گئی ہے۔میرا دعویٰ اپنے داماد اکمل ولد رفیق پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر تشدد کرکے ہلاک کرنے کا ہے جس کے بعد پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 06/2019 درج کرکے ملزم اکمل کو باقاعدہ گرفتار کرلیا۔

اس ضمن میں پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ واقعہ کی صبح بھی مقتولہ کے والد فضل کریم نے اپنے داماد اکمل کو ناشتے کے لئے فون کیا تو ملزم اکمل نے کہا کہ آج ناشتہ نہیں بنایا‘ ملزم اکمل کے مطابق وہ پہلے فشری میں مزدوری کیا کرتا تھا لیکن آج کل وہ بے روزگار تھا۔ ملزم اکمل کے سسر فضل کریم کا بلدیہ سیکٹر 12/A میں پلاٹ تھا جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جاتی ہے تاہم ملزم اپنی بیوی کلثوم سے متعدد بار اپنے والدین سے اپنا حصہ لینے کے لئے دبائو ڈالتا رہا ہے‘ اس ضمن میں مقتولہ شہربانو دختر ثمینہ کے والد فضل کریم نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ میرے خاندان میں پہلا قتل نہیں بلکہ اس سے قبل پلاٹ کے تنازعے پر ملزمان نے میری بیوی حاجرہ بانو اور دختر ریما کو بھی قتل کیا ہے لیکن پولیس پہلے 2 قتل کے ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کرسکی۔

نمائندہ قومی اخبار نے بزرگ فضل کریم کے اس انکشاف پر انہیں واقعہ کی تفصیل شروع سے بتانے کا کہا جس پر فضل کریم نے نمائندہ قومی اخبار کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج سے 3 سال قبل جب میں بلدیہ ٹائون سیکٹر 12/A میں رہائش پذیر تھا‘ میرے 4 لڑکے اور 5 لڑکیاں ہیں اور میں فروٹ کی ریڑھی لگاتا تھا‘ میں بلدیہ ٹائون سیکٹر 12/A میں 12 سال سے رہائش پذیر تھا‘ میرے ساتھ میری چھوٹی بیٹی ریما اور میری بیوی اس مکان میں رہتے تھے‘ میرے باقی لڑکے اور لڑکیاں مچھر کالونی میں رہتے ہیں۔ مورخہ 17 مارچ 2016ء میں صبح 8 بجے اپنی بیٹی ریما کے ہمراہ سیکٹر 9 بازار میں فروٹ کی ریڑھی لگانے چلا گیا تھا۔

میری بیوی حاجرہ بیگم گھر پر اکیلی تھی‘ دن 11 بجے میں نے بیٹی ریما کو سبزی دے کر گھر بھیج دیا کہ دن 12 بجے کا وقت تھا کہ ہمارے محلے کے بچوں نے مجھے بلدیہ 9 نمبر کے بازار میں آکر اطلاع دی کہ میری بیوی کو کسی نے قتل کردیا ہے‘ میں اطلاع پاکر فوری گھر آیا‘ دیکھا تو میرے گھر کے باہر عورتیں کھڑی تھیں اور کچھ عورتیں گھر کے اندر بھی تھیں‘ میں نے اندر جاکر دیکھا تو میری بیوی حاجرہ کی نعش کمرے میں سیدھی پڑی تھی‘ میں نے اپنی بیوی کی نعش کو ہاتھ نہیں لگایا‘ کھڑے ہوکر دیکھا‘ میں نے اپنی بیٹی ریما سے پوچھا کہ کیا ہوا جس نے بتایا کہ جب میں سبزی لے کر گھر آرہی تھی تو میں نے دیکھا کہ 4 سے 5 لوگ ہمارے گھر سے نکل کر بھاگ رہے تھے‘ میں نے بیٹی ریما سے پوچھا کہ کون لوگ تھے‘ تم ان کو جانتی ہو؟ تو مجھے بیٹی نے کہا کہ عمران‘ ندیم‘ فرحت‘ نوید اور شہباز جو اسی علاقے کے رہائشی اور ان لوگوں کے ساتھ میرا ایک سال سے پلاٹ کے سلسلے میں جھگڑا چل رہا تھا اور یہ لوگ میرے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ لوگ اس وقت ہمارے گھر سے نکل کر بھاگ رہے تھے‘ ان لوگوں نے ہی میری بیوی کو قتل کیا ہے‘ میری ان کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور یہ ہی لوگ واقعہ سے قبل تین‘ چار مرتبہ عمران نے دن میں آکر میری بیوی کو دھمکی دی تھی ‘ یہ لوگ قبضہ گروپ ہیں اور انہوں نے میرے مکان پر قبضہ کرنے کی خاطر میری بیوی کو قتل کیا۔ عمران نے کئی دفعہ میرے گھر آکر دھمکی دی کہ اس مکان کے 3 لاکھ روپے لے لو جبکہ میری زمین اس سے کہیں زیادہ قیمت کی ہے۔

مزید پڑھئیے‎ : پورٹ قاسم میں الوطن اسکیم کے انڈسڑیل پلانٹس منسوخ

سعید آباد پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 24/2016 درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا اور ان ملزمان میں سے کچھ ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ 2 ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔ ابتدائی طور پر قتل کیس کی عدالت میں رپورٹ جمع کروائی۔جس میں تفتیشی افسر نے بتایا کہ واقعہ کے بعد مدعی کی نشاندہی پر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا جس میں مدعی نے اپنے بیان میں ملزمان بالا پر شبہ ہونا بیان کیا جبکہ اس کی بیٹی ریما نے اپنے بیان میں بتایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔

جبکہ تفتیشی افسر نے میرے بیٹے مقبول‘ اس کی بیٹی ثمینہ اور داماد اکمل کے بیانات بھی قلمبند کئے۔تفتیشی افسر کے مطابق کسی گواہ بشمول چشم دید گواہ رحیمہ عرف ریما نے کسی کو گھر سے نکلتے نہیں دیکھا بیان کیا‘ گواہ ثمینہ نے اپنے بیان میں نوید اور فرحت جس کا نام فرہاد ہے کا شہباز سے 20 ہزار روپے لے کر اُسے شہباز کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کے لئے اُکسایا اور اس کے انکار پر اُسے دھمکیاں دینا اور اس کے والدین کو نقصان پہنچانے کا کہا، تفتیشی افسر نے ملزمان عمران‘ ندیم اور شہباز کو اس مقدمے میں گرفتار کیا اور ریمانڈ کے دوران انٹروگیٹ کیا جنہوں نے واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

تفتیشی افسر کے مطابق مقتولہ کی بیٹی کے بیان کے مطابق دن 12 بجے اُسے سبزی دے کر گھر بھیجا گیا تھا جبکہ تفتیشی افسر نے محلے میں کلینک چلانے والے ڈاکٹر محمد یوسف جس نے مقتولہ کی بیٹی ریما کے کہنے پر مقتولہ کی نعش کو چیک کیا تھا‘ نے اپنے بیان میں بتایا کہ میں نے مقتولہ کی نعش کو چیک کیا تھا اور اس کے فوت ہوجانے کی تصدیق کی تھی۔ ڈاکٹر نے مقتولہ کی گردن پر کوئی نشان نہ دیکھنے کا بتایا۔ جبکہ محلے کے 15 افراد نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ گرفتار شدہ ملزمان بے گناہ ہیں اور اس واقعے میں ملوث نہ ہونے کا بتایا۔

تفتیشی افسر کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس واقعہ سے قبل مورخہ 14 اکتوبر 2015ء کو تھانہ سعید آباد میں مقدمہ الزام نمبر 396/2015 ارباب علی نے فضل کریم کے بیٹے زین العابدین کے خلاف چھ‘ سات سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا کرنے کا مقدمہ درج کروایا تھا جس میں مقتولہ حاجرہ کے قتل میں نامزد ملزمان عمران اور ندیم نے پکڑا تھا اور پولیس کے حوالے کیا تھا اور اس مقدمے میں گواہ بھی ہے جبکہ گرفتار ملزم شہباز کی مدعی کی لڑکی شہربانو عرف ثمینہ کے ساتھ دوستی تھی اور مقدمہ میںنامزد ملزم شہباز کا نوید اور فرہاد جس کا گھر مدعی کے گھر کے سامنے ہے کے پاس آکر بیٹھتا تھا اور اس کا نوید اور فرہاد کو 20 ہزار روپے بھی ثمینہ کے ساتھ شادی کرنے کے لئے اُسے راضی کرنے کے لئے دینے کا پتہ چلا اور اس بات کی تصدیق مدعی فضل کریم کی بیٹی ثمینہ نے بھی اپنے بیان میں کی تھی۔ جبکہ سعید آباد تھانے کے انچارج انویسٹی گیشن محمد سعید نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بالانامزد ملزمان پر شک و شبہ کا ہونا بیان کیا تھا

اور دوبارہ تفتیش کے دوران مورخہ 22-04-2016 جب مدعی کا بیان قلمبند کیا گیا تو اس نے بیان کیا کہ واقعہ والے روز جب اُسے بازار میں بیوی کے مرنے کی اطلاع ملی‘ وہ گھر آیا تو اُس نے اپنی بیٹی ریما سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ جب وہ گھر آرہی تھی تو اُس نے 4 سے 5 افراد کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھا تھا اور مزید سوال پر ریما نے اُسے بتایا کہ وہ لوگ عمران‘ ندیم ‘ شہباز فرہاد اور نوید تھے جبکہ میں ریما جس نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ کس نے کیا ہے جبکہ مزید بیان دیتی 22-04-2016 کے بیان میں بالا ملزمان کو گھر سے نکل کر بھاگتے دیکھا بیان کیا جبکہ عورتیں سب سے پہلے ان کے گھر آئی تھیں جب ان کے نام پوچھے گئے جس نے بتایا کہ اُسے ان کے نام معلوم نہیں ہیں۔

مس ریما نے ایک رٹا ہوا بیان دیا ہے۔ مزید اگر مدعی کو اس کی لڑکی نے ملزمان بالا کو گھر سے نکلتے وقت دیکھنے کابیان کیا تھا تو مدعی نے اس کا ذکر نہ بیان 154 ص ف میں کیا اور نہ مزید بیان میں کیا اور مدعی مقدمے نے نہ ہی اس کا ذکراپنی تحریری درخواست جو اس نے مورخہ 12-04-2016 کو افسران بالا کو دی تھی میں کیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپنی ماں کی موت کی اطلاع اپنے دیگربھائی‘ بہنوں کو دینے کے لئے مدعی کی بیٹی ریما نے گرفتار ملزم عمران کی دکان پر جاکر اس کو اپنے فون سے اس کے بھائی کو اطلاع دینے کا کہا تھا

جو اس وقت اپنی دکان میں ہی موجود تھا اور اُسی نے فون پر مدعی کے لڑکے کو اطلاع بھی کی تھی اگر مدعی کی بیٹی نے اُسے اپنے گھر سے نکلتے دیکھاتھا تو پھر اُسی سے اپنے بھائی کو والدہ کی موت کی اطلاع کیسے کروائی ہے جبکہ یہ بات بھی دوران تفتیش سامنے آئی ہے کہ مدعی کی بیٹی جب گھر آئی تو دروازہ اندر سے بند ہونے کی بناء پر وہ کنڈی اوپر سے کھول کر اندر گئی تھی۔ 4 گواہان مقدمے میں گرفتار شدہ ملزمان عمران‘ ندیم اور شہباز کے بے گناہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں ۔

گرفتار ملزم عمران کا صبح سے اپنی دکان میں موجود ہونے کے گواہان خاز محمد‘ وسیم عباس‘ محمد سعید نے تصدیق کی ہے جبکہ ملزم ندیم کا روز وقوعہ اور وقت رنگ کا کام کررہا ہونا کی تصدیق مسمات ریحانہ نے کی ہے اور ملزم شہباز جن کا مویشیوں کا باڑہ ہے جو رات کو اپنے مویشیوں کی نگرانی کرتا ہے کا دن ایک بجے تک باڑے میں سویا ہونے کی محلے کے افراد شفیع محمد نے تصدیق کی ہے اور کچھ خواتین نے تو مدعی و مقتولہ کے درمیان اکثر جھگڑا ہوتے رہنا اور وقوعہ کے دن سے پہلے کی شب میں بھی مدعی و مقتولہ کے درمیان جھگڑا ہونے کی بھی تصدیق ہے اور مدعی کے پڑوس میں رہنے والی خواتین نے مدعی کی لڑکی شیربانو کا رونے کے دوران بار بار یہ بھی کہتے سنا کہ کالے (فرہاد) نے اس کی امی کو مارا ہوگا بیان کیا ہے۔

اب تک کی تفتیش اور اہل محلے کے غیرجانبدار گواہان کے بیانات سے مقدمہ ہذا میں گرفتار ملزمان عمران‘ ندیم اور شہباز کے خلاف شواہد قابل چالان نہیں پائے گئے ہیں۔ مدعی مقدمہ ملزم عمران جو اس کے بیٹے زین العابدین کے بیٹے کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 396/16 میں گواہ ہے اور ملزم ندیم جس نے اس کے لڑکے کو پکڑا تھا اور ملزم شہباز جس کے اس کی لڑکی ثمینہ سے دوستی تھی کو اسی رنجش کی بناء پرمقدمہ ہذا میں ملوث کررہا ہے۔ محلے کے کسی بھی غیرجانبدار گواہ نے ان ملزمان کے اس مقدمے کے وقوعہ میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مدعی فضل کریم نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ تفتیشی افسران کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں ہماری ساری باتیں تو بیان کردی گئیں لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر یہ لوگ میری اہلیہ حاجرہ کے قتل میں ملوث نہیں تو وہ کون لوگ ہیں جس نے حاجرہ کو قتل کیا۔ پولیس نے اصل ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ تفتیشی افسران نے اپنا سارا ز گرفتار ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے پر لگایا جس کے بعد ملزمان واقعہ کے 8 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوگئے لیکن اس سے قبل میں نے اپنی بیٹی ریما کے ساتھ بلدیہ ٹائون سے مچھر کالونی رہائش اختیار کرلی تھی جہاں میری شادی شدہ 2 بیٹیاں اور بیٹے رہتے تھے۔

ریما اپنی بڑی بہن رانی کے گھر رہنے لگی۔ میری بڑی بیٹی رانی گھر کی کفالت کے لئے کام پر جاتی تھی اور اس دوران وہ باہر سے تالا لگاکر گھر کی چابی ریما کو دے جاتی تھی اور جاتے ہوئے وہ ریما کو سختی سے ہدایت کرجاتی کہ کسی جاننے والے کے علاوہ گھر کی چابی کسی کو نہ دے۔ میری بیوی کے قتل کو اب سال گزر چکا تھا لیکن اس کے بعد ہمارے گھر پر ایک اور واقعہ ہوا جس میں میری بیٹی ریما کو بھی قتل کردیا گیا۔ ہمارے گھر یہ دوسرا واقعہ 9 اکتوبر 2017ء کو پیش آیا۔ فضل کریم کے مطابق 9 اکتوبر کی صبح میری بڑی دونوں بیٹیاں رانی اور کلثوم کام پر گئی تھیں اور کام پر جانے سے قبل گھر کی چابی ریما کو دی اور اُسے حسب عادت تاکید کی کہ گھر کی چابی کسی جاننے والے کے علاوہ کسی کو نہ دے اور یہ کہتی ہوئی میری بیٹی رانی باہر سے تالا لگاکر کام پر چلی گئی۔ شام 6 بجے میری بیٹی رانی جب کام سے واپس آئی تو دیکھا کہ گھر میں تالا لگا ہوا تھا۔

روازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے کوئی آواز نہیں آئی‘سب جگہ تلاش کرنے کے بعد ہم نے تالا کاٹ دیا اور اندر گھس گئے اندر ایک کمرے کو بھی تالا لگا ہوا تھا‘ ہم لوگ گھر کے اندر برآمدے میں ہی بیٹھ گئے اور ریما کے بارے میں سوچناشروع کردیااس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے کہ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور ابھی خیالوں میں گم ‘ میں نے اپنی بیٹی رانی سے کہا کہ تم یہ صحن میں نہیں پانی کی ٹنکی میں دیکھو میرے کہنے پر جب گھر میں موجود لوگوں نے ٹنکی کا ڈھکن ہٹایاتو اس کے اندر پانی میں کپڑا نظر آیا‘ اٹھا کر دیکھا تو بیٹی ریما پانی میں ڈوبی ہوئی مردہ حالت میں تھی اور اس کے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا‘ جبکہ ہاتھ بندھے ہوئے تھے‘

میری ریما جو میری بیوی حاجرہ کے قتل کی چشم دید گواہ تھی‘ ڈاکس تھانے میں پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ الزام 427/2017 درج کیا‘ جس میں میں نے دوبارہ ان ہی ملزمان عمران ‘شہباز ‘ ندیم‘ نوید اور فرہاد کو نامزد کیا کہ انہوںنے ہی پہلا قتل چھپانے کے لیے یہ دوسر اقتل کیا‘ لیکن ڈاکس پولیس نے بھی نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس مقدمے کی تفتیش پر کوئی خاص توجہ نہیں دی‘ جس کے ٹھیک ایک سال 3 مہینے کے بعد ہمارے گھر قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہوگیا‘ جس میں میری بیٹی ثمینہ کو تشدد کے بعد قتل کردیاگیا‘ اس واقعہ سے متعلق فضل کریم نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ واقعہ سے ایک ہفتہ قبل میری بیٹی رانی اور کلثوم کسی کام سے لاہور گئی تھیں اور اس دوران کلثوم نے ثمینہ کو اپنے بچوں کی دیکھ بھا ل کے لئے گھرپر چھوڑا تھا‘

ثمینہ کے جانے پر ہمارے گھر کھانا پکانے کا مسئلہ ہورہا تھا‘جس کی وجہ سے کلثوم نے کہا کہ آپ ثمینہ کو میرے گھر بھیج دیں‘ ثمینہ وہا ںسے ہی سب لوگوں کے لیے ہی کھانا بنا کر بھیج دے گی‘ جس پر میں راضی ہوگیااور ثمینہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے کہنے پر اپنی بہن کے گھر چلی گئی‘ جہاں سے وہ ہمارے لئے کھانا بنا کر بھیج دیتی یا ہم خود کلثوم کے گھر چلے جاتے تھے‘ واقعہ والے روز جب کلثو م کے گھر سے کھانا نہیں آیاتو میں نے اپنے داماد کو فون کیاجس نے فون پر بتایا کہ ثمینہ نے ابھی کھانا نہیں بنایارات کا باسی کھانا رکھا ہواہے‘ جس پر میں نے داماد اکمل سے کہا کہ ثمینہ کہاں گئی ہے‘

جس پر اکمل نے کہا کہ وہ کسی کام سے مجھے بغیر بتائے چلی گئی ہے‘ جس سے مجھے فکر لاحق ہوئی ‘ اس دوران میری اکمل سے 6 سے 7 دفعہ فون پر بات ہوئی‘ لیکن صبح تقریباً 11 بجے مجھے میرے نواسے نے آکر اطلاع دی کہ خالہ کو کسی نے ماردیاہے اور اس کی نعش گھر سے کچھ دور خالی گھر میں پڑی ہے ‘ جس پر میں فوری سول اسپتال پہنچا ‘ اس دوران میں نے گزشتہ تمام واقعات کا اندازہ لگایا جس میں میری بیوی حاجرہ سے لے کر ثمینہ کے قتل تک کا تھا‘ کیونکہ حاجرہ کے قتل کے دوران اگرہم ملزمان کے خلاف کوئی قدم اٹھاتے تو اس کا ان لوگوں کو پتہ پہلے چل جاتا ‘

گھر والوں نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اکمل کی ان لوگوں سے دوستی ہے ‘ جبکہ بیوی کے قتل کے بعد ہم لوگ بلدیہ سے مچھر کالونی رہائش اختیار کرلی‘ جس کا صرف ہمیں پتہ تھا‘ لیکن ا س دوران ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے، تو ان لوگوں کو بھی مچھر کالونی ہمارے گھر کے قریب گھومتے دیکھا گیا‘ ان لوگوں کو ہمارے گھر کا پتہ بتانے والا کون تھا اورمیری بیٹی رانی ریما کو گھر کی چابی دیتے ہوئے سختی سے کہہ کر جاتی کہ گھر کی چابی کسی جاننے والے کے علاوہ کہہ نہ دینا تو ریما کو قتل کس نے کیا‘ کیونکہ ریما نے چابی اسی کو ہی دی ہوگی‘ جس کووہ جانتی ہوگی اور اسی جاننے والے نے گھر میں گھس کر ریما کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہاتھ پائوں باندھ کر پانی کی ٹنکی میں ڈال دیا

کیونکہ جب ہم ریما کو ڈھونڈتے ہوئے رانی کے گھر پہنچے تو اس کے مرکزی دروازے کا تالا کمرے میں لگا تھا اورکمرے کے تالا مرکزی دروازے پر لگا تھااور گھر میں ساری چیزیں اپنی جگہ پر تھی اور کوئی تالا نہیں ٹوٹا ہوا تھا‘اس کا مطلب ہے کہ ریما نے کسی جاننے والے کو ہی چابی دی تھی اور تیسرا واقعے میں اکمل ہم لوگوں کو واقعہ میں ملوث ہونے کا شک یقین میں بدل گیا‘ کیونکہ اکمل نے پولیس کو بیان دیا کہ مقتولہ ثمینہ ایک روز قبل گھر سے لاپتہ تھی تو اس نے ہم لوگوںکو کیوں نہیں بتایا ‘

جبکہ اس دوران میری اکمل سے 6 سے 7 دفعہ فون پر بات ہوئی ‘ لیکن ملزم نے ہمیں مقتولہ کی گمشدگی کا نہیں بتایا‘ مقتولہ کی نعش ملنے والی رات میرے بیٹے کو اکمل ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھادکھائی دیا‘ جس پر میرے بیٹے نے اس سے کہا کہ بھائی کیا ہوگیا‘ جس پر ملزم نے کہا کہ نہیں کوئی ایسی بات نہیں اور یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ کر چلاگیا‘ اس جیسی لاتعداد باتیں ہیں جس کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیاجائے تو اکمل اور دیگر ملزمان میں کوئی نہ کوئی لنک نظر آئے گا‘

بشر طیکہ کہ پولیس سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کرے تو3 خواتین کے قتل کا معمہ حل ہوسکتا ہے‘ جبکہ شیر بانو عرف ثمینہ کے قتل کے مقدمے میں تفتیشی افسر عبدالکریم نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم مدعی فضل کریم کا داماد ہے اور مقدمے میں نامزدگی پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش کا آغاز کیا ‘ ابتدائی طورپر ملزم نے قتل کا اعتراف نہیں کیا‘ لیکن پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کا انتظار کررہی ہے‘ جس کے بعد ملزم سے باقاعدہ اور ٹیکنیکل طریقے سے تفتیش کی جائے گی‘ تفتیشی افسر عبدالکریم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میں اس مقدمے کی تفتیش ادھوری نہیں چھوڑونگا اور واردات میں ملوث ملزم یا ملزمان کو گرفتار کرکے معزز عدالت میں پیش کروں گا ‘ تاکہ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(257 بار دیکھا گیا)

تبصرے