Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 19 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خاتون خانہ کی محبت اورمحنت کا اعتراف ضروری ہے

قومی نیوز بدھ 16 جنوری 2019
خاتون خانہ کی محبت اورمحنت کا اعتراف ضروری ہے

ایک عورت جو گھر کا کام سنبھالتی ہے بچوں کی نگہداشت کرتی ہے اور ان کی پرورش کا فرض سر انجام دیتی ہے ان خدمات کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس کا خاوند اپنی ساری خدمات کو فروخت کرکے بھی اتنی قیمت حاصل نہیں کر سکتا۔

لوگوں نے سوچا کہ اس کے باوجود اس خاتون سے اگر یہ کہا جائے کہ کیا کرتی ہو تم سارا دن ؟آرام سے گھر میں رہتی ہو۔میں تو سارا دن تم لوگوں کے لیے کماتا ہوں اور تم منٹ منٹ پر فضول چیزوں کے لیے پیسے مانگنے کھڑی ہو جاتی ہو تو عورت کو کیا محسوس ہو گا؟وہ تھکن سے چور جسم کے ساتھ یہ بھی نہ کہہ پائے گی

کہ ایک مرتبہ یہ ذمہ داری اٹھا کر تو دیکھو کہ جسے کام ماننے پر تیار نہیں یہ ٹھیک ہے کہ سب جگہ بات برابر نہیں ہوتی بعض جگہ مرد دودو تین تین نوکریاں کرتے اور خواتین ماسی کو کام پر لگا کر شاپنگ یا آرام کرتی رہتی ہیں اور گھر کی طرف توجہ نہیں دیتی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں بہت سی خواتین فل ٹائم نوکریاں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے تمام کام بھی نمٹاتی ہیں جبکہ ان کے شوہر یا بھائی جو ان کے ساتھ کام پر نکلتے ہیںگھر واپس آکر آرام کرتے ہیں یا باہر تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں

بعض مرد یہ شکایت کرتے ہیں کہ گھریلو زندگی تو بالکل بد مزہ ہے بیوی کی وہی شکایتیں بچوں کی وہی چخ چخ تو جناب گھر یلو کا موں کا یہی مسئلہ ہے یہ صبح اٹھنے سے رات گئے تک جاری رہتے ہیں تو بیزاری کیسے نہ پیدا ہوگی ماحول میں ؟یہ مسئلہ صرف میاں بیوی کا ہی نہیں بلکہ گھر کے اور لوگوں کا بھی ہے بہن اور بھائی جن پر پڑھائی کی یکساں ذمہ داری ہوتی ہے تو بھائی صاحب تو یہ ذمہ داری نبھا کر باہر دوستوں میں نکل جاتے ہیں یا کبھی کبھار کوئی بل بھروادیا یا باہر کا کوئی کام کردیاہواخوری الگ اور کا م بھی ہو گیا لیکن بہن کو گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی نبھانا پڑتی ہے اگر زیادہ بہنیں ہوں تو معاملہ پھر بھی سیٹ ہوجاتا ہے مگر اکلوتی بہن ہویا گھر میں ایک دو خواتین ہوں تو معاملہ پیچیدگی اختیار کرتا ہے بار بار پڑھائی سے اُٹھ کر گھر کے کام کرنا اور پڑھائی کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے تفریح یا مشاغل تو دور کی بات ہے بہن تو دن رات بھائیوں کے کپڑے دھو کر پریس کرکے اور دیگر کام سمیٹ کر ادھ موئی ہوجاتی ہیںجبکہ بھائیوں کا حال اکثر یہ ہوتا ہے کہ ذرا کچھ کرنے کو کہا جائے تو جواب ملتا ہے ،کیا ہم لڑکی ہیں ان سب کے باوجود اگر بہن کو باہر کا کوئی کام پڑجائے تو اکثر بھائیوں کے نخرے سہنے پڑتے ہیں.

مزید پڑھئیے‎ : بچوں کو کھانا کھلانا ہوااب بے حد آسان

ایسے میں بد دلی نہ پھیلے گی تو اور کیا ہوگااب آتے ہیں اس مسئلہ کے حل کی طرف یہ تو طے ہے کہ ہر انسان اپنے گھر کے تمام افراد سے محبت کرتا ہے محبت نہ سہی لیکن کم ازکم ایک لگاؤ یا انسیت ضرور رکھتا ہے چونکہ یہ ایک معاشرتی رویہ بن چکا ہے لہٰذا اس پر توجہ نہیں دی جاتی اس میں کافی حد تک قصور گھر کی نانیوں دادیوں کا بھی ہے جو بچوں کے ذہن میں یہ بٹھاتی ہیں کہ! کیا لڑکا ہو کر صفائی یا جھاڑو پو چھا کرے گا؟بعض مائیں تو بڑے فخر سے کہتی ہیں میرا بیٹا تو اپنے آگے کے برتن تک نہیں اُٹھاتالیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ کئی مرد بیوی کے بیمار یا تھکاہوا ہونے کے باوجود کھانا تک خود نہیں نکالتے جب خواتین کمانے میں اور باہر کے کام کرنے میں مرد کے ساتھ ہیں تو مرد کو بھی تو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

یہ دنیا ہی ایک ہاتھ دوایک ہاتھ لو پر قائم ہے چاہے خونی رشتے ہی کیوں نہ ہوں۔ورنہ زندگی مایوسی وعدم توازن میں مبتلا ہوجاتی ہے اگر مرد گھر میں اپنے آگے کے چائے کے کپ دھولیں اپنے کپڑے پریس کرلیںاپنی چیزیں سمیٹ کر رکھیں ضرورت پڑنے پر اپنے کپڑے دھولیں اپنے لیے چائے بنالیں تو یہ چھوٹے چھوٹے کام کسی خاتون خانہ کتنا آرام پہنچائیں گے اور اس کا کتنا بوجھ ہلکا کریں گے باہر کا کوئی بھی کام ہوتو آپ کا فرض ہے کہ خوش دلی کے ساتھ کریںظاہر ہے یہ مردوں ہی کاکام ہے خو ش دلی کے ساتھ کرلیا جائے تو کیا مضائقہ ہے ؟بہنیں بھائیوں کی ذمہ داری ہوتی ہیں

لہٰذا وہ کہیں آنا جانا چاہیں تو انہیں تنگ نہ کریں چونکہ یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے اور ان کا سیر و تفریح کے لیے اکیلے نکلنا بھی ممکن نہیں تو بھائی یہ ذمہ داری بھی خوش اسلوبی سے نبھائیں۔خاتون خانہ کی خدمات کا اعتراف ضرور کریں کیونکہ ایک حرفِ ستائش ایک گلاس دودھ سے زیادہ طاقت دیتا ہے اور ساری تھکن دورکردیتا ہے مثال کے طور پرتم کتنا کام کرتی ہواگر تم نہ ہوتو میرا اور بچوں کا کیا ہوتمہارے ہی دم سے یہ گھر آباد ہے ،آج کو فتے بہت لذیذ بنے ہیںکسٹرڈ بہت مزید کا ہے گھر تو چمک رہا ہے ارے واہ! آج تو سوٹ پر ایک بھی سلوٹ نہیں کپڑے تو بہت صاف دھلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

(431 بار دیکھا گیا)

تبصرے