Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

رنگیلی نادیہ پکڑی گئی

سید حسن رضاشاہ جعفری جمعه 11 جنوری 2019
رنگیلی نادیہ پکڑی گئی

کراچی کے علاقے تھانہ سکھن کی حدود میں سکھن تھانے کی آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس نے نہایت حکمت عملی سے کامیاب کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 30 تاریخ کو قتل ہونے والے 18 سالہ محمد نور کے قتل میں ملوث ملزمہ نادیہ کو گرفتار کرکے واقع کا مقدمہ مقتول کے والد محمد بختیار کی مدعیت میں مقدمہ نمبر00/18 4 بجرم دفعہ 302/34 درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا‘

ملزمہ نے اعتراف جرم بھی کرلیا‘ واقعے کے مطابق تھانہ سکھن کی پولیس کو 30 نومبر کو بذریعہ اطلاع ملی کہ ریڑھی گوٹھ کی بستی کے قریب کچھ فاصلے پر ایک رکشہ میں ایک لڑکے کی نعش پڑی ہوئی ہے‘ جسے نامعلوم ملزمان نے گولیاں مارکر قتل کردیا۔ اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے تھے‘

اطلاع قریب سے گزرتے ہوئے کسی اجنبی راہگیر نے پولیس کو دی ‘ جس کے بعد تھانہ سکھن پولیس فوری طورپر جائے وقوعہ پرپہنچ گئی اور نعش کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس کا رروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا‘ مرنے والے کے شناختی کارڈ سے مقتول کی شناخت 18 سالہ محمد نور کے نام سے ہوگئی‘ جسے ملزمان نے 2 گولیاں ماری تھیں ‘جوایک بازو اور مقتول کی پسلی میں پیوست ہوگئی ‘ جوکہ اس کی موت کا سبب بنی‘

پولیس نے نعش کا پوسٹ مارٹم کیااور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعش کو اسپتال کے سردخانے میں رکھوانے کے بعد مقتول کی ایک نعش لے کر مقتول نور محمدکے ورثاء کی تلاش شروع کردی‘ جس میں پولیس کامیابی سے مقتول کا مکان ڈھونڈتے ہوئے مقتول کے گھر واقع گلشن بونیر وزیرستان چوک پہنچی اور مقتول کے گھر والوں کو مقتول کی نعش کی تصویر دکھائی جسے مقتول کے اہل خانہ نے شناخت کرلیا‘ پولیس نے تمام واقعہ مقتول کے اہل خانہ کو بتانے کے بعد نعش کو تدفین کی غرض سے مقتول محمد نور کے لواحقین کے حوالے کردیا۔ واقعے کے حوالے سے تھانہ سکھن کے ڈیوٹی آفیسر ظفر نے ابتدائی طورپر بتایا کہ ملزم کو پولیس نے حراست میں لے لیا‘ جبکہ مزید ملزمان کی تلاش میں پولیس کو ششیں کررہی ہے‘

مزید پڑھئیے‎ : بیٹی قتل

اس واقعے کے حوالے سے مقدمے کے تفتیشی آفیسر الیاس تنولی نے قومی اخبار کو بتایا کہ مرنے والے شخص کا پولیس نے موبائل نمبر گھر والوں سے حاصل کیا اور تفتیش کی ابتداء کی گئی تو معلوم ہوا کہ ملز م کا مرنے سے پہلے ایک دوسرے نمبر سے رابطہ ہوا تھا‘ بعد ازاں پولیس نے CDR کی مدد سے مزید نمبرز کو ٹریس کیاتو معلوم ہوا کہ دوسرا نمبر ملزمہ کے استعمال میں تھا‘ لیکن چونکہ وہ نمبر بھی مقتول کے اپنے CNICپر نکلواکر ملزمہ کواستعمال کے لیے دیاہواتھا‘ اس لیے اس لڑکے کے نمبرپر مزید لوگوں کے رابطے تھے‘ پولیس نے ان کو بھی شامل تفتیش کیا تومقتول کے علاقے کے ایک دو اشخاص کو پولیس نے حراست میں لے کر تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ مذکورہ نمبر نادیہ نامی لڑکی کے استعمال میں ہے‘ جس کے بعد پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرکے ملز‘مہ کو گرفتار کرلیا‘ جس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ مقتول اس کو فون پر تنگ کیا کرتا تھا‘ ہر وقت فون کرتا ملنے اور گھومنے کا کہتا تھا‘

جس سے تنگ آکر اس نے اپنے ایک دوسرے آشنا عابد خان عرف علی کی مدد سے اسے قتل کروادیا‘ ملزمہ نے بتایا کہ واقعے والے دن اس نے مقتول کو ملنے کے بہانے جائے وقوعہ پر بلایا اور اپنے دوسرے آشنا عابد کو کہا کہ جب وہ اسے لے کر ویرانے میں آجائے گی تووہ اسے قتل کردے‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا جس کے بعد ملزمہ مرکزی ملزم عابد کے ساتھ مو ٹر سائیکل پر بیٹھ کر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئی تھی‘ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عابد کی تلاش جاری ہے‘

وہ عارضی طورپر کراچی میں مقیم تھا‘ قتل کی واردات کے بعد وہ مانسہرہ فرار ہوگیا‘ پولیس جلد اسے بھی گرفتار کرکے کیفر کردارتک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے ‘جبکہ ملزمہ کے رابطے میں جو دوسرے علاقے کے لڑکے تھے‘ انہوںنے بھی پولیس کو بتایا ہے کہ ملزمہ نے محمد نور کو قتل کروانے کے بعد انہیں بھی بتادیاتھا کہ اس نے نور محمد کو راستے سے ہٹا دیاہے ‘ جبکہ واقعے کے حوالے سے مقتول کے والد بختیار خان نے قومی اخبار کو بتایا کہ میں فرنٹیئر کور FCبلوچستان میں ملازمت کرتا ہوںاور میری فیملی کراچی میں رہائش پذیر ہے‘ میرے 3 بچے تھے ‘

نور محمد گزشتہ 3 سال سے رکشہ چلاتا تھا‘ واقع والے دن میں نے گھر میں حال احوال جانچنے کے لیے فون کیاتو مجھے شورشرابے کی آواز سنائی دی ‘ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ شور شرابا کس بات پر ہورہا ہے‘ تو اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے گھر پر پولیس آئی ہے اور ا س نے مجھے محمد نور کی تصویر دکھائی ہے اور کہا ہے کہ اس کو کسی نے گولیاں مار کر قتل کردیاہے ‘ جس نے اس کے شناخت کی تصدیق کردی ہے ‘ چنانچہ واقع کی اطلاع ملتے ہی میں بلوچستان سے فوری طورپر چھٹی لے کر وہاں سے کراچی کے لیے نکل کھڑا ہواا ور دوسرے روز کراچی پہنچ گیا‘

جہاں بچے کی نعش موصول کرنے کے بعد بچے کے غسل وکفن اور نماز جنازہ ادا کی‘ جس کے بعد اسے مظفر آباد قبرستان میں سپرد خا ک کردیاگیا‘ گھر والوں سے پوچھنے پر انہوںنے تمام تر واقع سے مجھے آگاہ کیا‘

پولیس نے واقعے کے حوالے سے ہمارے ساتھ کافی تعاون کیاہے‘ جس سے ہم مطمئن ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ مرکزی ملزم اور واقع میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔

(510 بار دیکھا گیا)

تبصرے