Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 21  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

خاندان اُجڑ گیا

عارف اقبال جمعه 11 جنوری 2019
خاندان اُجڑ گیا

20 دسمبر 2018 ء صبح ساڑھے 4 بجے کا وقت تھا‘ سرجانی ٹائون سیفل مری گوٹھ کا رہائشی شان تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے گھر کی جانب آرہا تھا‘

سرجانی ٹائون میں واقع سیفل مری گوٹھ ایک کچی آبادی ہے اور اس علاقے میں لوگ ابھی آبا د ہونا شروع ہورہے ہیں‘ جس کی وجہ سے یہاں زیر تعمیر مکان زیادہ اور آباد گھر کم ہیں‘ آباد ی کم ہونے کی وجہ سے یہاں دن کی روشنی میں بھی سناٹے کا راج ہوتا ہے اور صبح 4 بجے کا وقت تو جیسے یہاں آبادی کا وجود ہی ناپید لگتا ہے‘

دسمبر کا مہینہ اور اس میں جسم کے اندر گھس جانے والی سردی نے تو جیسے اس وقت علاقے میں انسانوں کا وجود ہی ختم کردیاتھا‘ لیکن سیفل مری گوٹھ کا رہائشی شان ان تمام مصائب سے بے فکر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے گھر کی طرف جارہا تھا‘ جہاں اس کے بیوی بچے والدین اور بھائیوں سمیت پورا کنبہ موجود تھا‘ شان پیشے کے اعتبار سے موبائل کمیونیکنیشن ہے اور اس کا م کے لیے اس نے نارتھ کراچی میں واقع موبائل مارکیٹ میں ایک دکان لے رکھی تھی۔ جہاں وہ موبائل ریپئرنگ کے ساتھ نئے اور پرانے موبائل میں خریدو فروخت کیا کرتا ہے اور اس کے رات دیر سے گھر آنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ موبائل کاکام عموماً شام کے بعد ہی شرو ع ہوتا ‘

جو رات گئے تک جاری رہتا ہے‘ جس کی وجہ سے شان کو بھی اکثر اوقات دیر ہوجاتی تھی اور پھر سیفل مری گوٹھ تک کوئی سواری دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے عموماً نارتھ کراچی سے سرجانی سیفل مری گوٹھ پیدل ہی آنا ہوناتھا‘ جس کی شان کو اب عادت سی ہوچکی تھی‘ اس نے یہ احساس کرنا بھی چھوڑ دیا تھا کہ دکانداری کے دوران رات کتنی بیت گئی ہے‘ مورخہ 20 دسمبر کی رات بھی وہ دکان میں گاہکوں کا رش ہونے کی وجہ سے رات گئے اپنی دکان بند کی‘ رش کی وجہ سے اسے اس بات کا بھی احساس نہیں ہوا کہ اس وقت رات کے 3 بج گئے اور اسے سواری کے لیے ا یک بار پھر پریشان ہونا پڑے۔شان دکان بند کرنے کے بعد سواری کے لیے قریبی اسٹاپ میں چلا گیا‘

جہاں اسے کبھی کبھار گھر جانے کے لیے سواری میسر آجاتی تھی‘ لیکن آج سرد رات اور زیادہ دیر ہوجانے کی وجہ سے سڑک سنسان پڑی تھی‘ شان کچھ دیر اسٹاپ پر سواری کے انتظار میں کھڑا رہا‘ لیکن وقت گزرنے کے باوجود اسے دور دور تک سواری کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آرہاتھا‘ شان مزید کچھ دیر اسٹاپ پر کھڑا رہا ‘

پھر اس نے سوچا کہ اسٹاپ پر کھڑے ہوکر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ وہ حسب سابق پیدل ہی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوجائے‘ شان کے دل میں یہ خیال آتے ہی وہ لمحہ ضائع کئے بغیر اس پر عمل کیااور پیدل ہی اپنے گھر کی جانب رواں دواں ہوگیا‘ ابتداء میں دسمبر کے مہینے کی سردی اس کے جسم سے آرپار ہونے لگی‘ وہ سردی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے قدم کو مزید تیز کردیا۔ جس کی وجہ سے اس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی ‘ جس نے سردی کی حدت کو کم کردیا‘ عام دنوں میں جب شان اپنی موبائل کی دکان جلدی بند کردیا کرتا تھا تو اس نے اسٹاپ پر چنگ چی رکشے کی صورت سواری میسر آجاتی تھی‘ لیکن آج رات زیادہ اور سر دہونے کی وجہ سے اسے ا س وقت سواری میسر نہیں آسکی‘ شان خوش تھا کہ آج اس کی دکانداری اچھی ہوئی تھی اور مارکیٹ میں رش ہونے کی وجہ سے آج دیر ہوگئی کہ اسے سواری بھی نہیں مل سکی‘ لیکن یہ پریشانی اسے اس وقت کم محسوس ہو رہی ‘ شان قدم بڑھانا ہوا اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھا‘ اس وقت سڑک پر بلا کا سناٹا چھا یا ہواتھا‘ لیکن اسے اس وقت صرف ایک ہی خیال آرہا تھا کہ جیسے بھی ہو جلدی گھر پہنچ جائے‘ اب وہ تیز تیز چلتا ہوا نارتھ کراچی سے نکل کر سرجانی ٹائون اور پھر سیفل مری گوٹھ کی طرف مڑ گیا‘ شان سیفل مری گوٹھ کی مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا اپنے گھر کے قریب پہنچ گیا‘

گلی میں پہنچ کر اس نے گلی میں طائرانہ نظر دوڑائی‘ جہاں اس وقت ہو کا عالم تھا‘ وہ جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوا اپنے گھر کے دروازے کے قریب پہنچ گیا‘ ابھی وہ گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے ہی والا تھاکہ اسے پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی ‘ جو اسے رکنے کا کہہ رہا تھا‘ ابتداء میں شان اس آواز کو اپنی وہم قرار دے کر اور بغیر دائیں بائیں دیکھے دو چار قدم کے فاصلے پر موجود گھر کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھنے لگاکہ اسی اثناء میں اسے پھر کسی کی آواز سنائی دی جو پہلے سے تیز آواز میں اسے رکنے کا کہہ رہا تھا‘

دوسری بار کی آواز سن کر شان نے اپنے چلنے کی رفتار کر کم کرتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھا اس کا خیال تھاکہ اب اسے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے گھر کا دروازہ صرف 2 قدم کے فاصلے پر ہی تھا‘ ابھی وہ یہ سوچتا ہوا اپنا رفتا آہستہ کرہی رہا تھا‘ کہ اسے پھر تیسری دفعہ رکنے کی آواز آئی یہ آواز پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے آئی تھی‘ جس پر شان یکدم اپنی جگہ پر رک گیا‘ ابھی وہ پیچھے مڑ کر دیکھنا ہی چاہتا تھا کہ اسے پیچھے سے کچھ لوگوںکی قدموں کی آوازیں آئیں اس دوران شان اپنی جگہ سے پلٹا جہاں اسے 6 سے زائد افراد ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ لیے کھڑے تھے ‘ وہ معاملے کو کچھ سمجھ پاتا کہ اس سے قبل ان میں سے ایک شخص شان کے قریب آیا اور اسے اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا کر لوٹنا شروع کیا اور شان اسلحہ کے سامنے اپنی محنت کی کمائی کو لوٹتا دیکھتا رہا‘

مزید پڑھئیے‎ : رنگیلی نادیہ پکڑی گئی

وہ شخص جس نے شان کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا ہوا تھا اور اس کے ساتھیوں نے جب شان سے اسکا تمام چیزیں لے چکا تو اسے وہیں پر کھڑا رہنے کا کہہ کر ایک جانب فرار ہوگے لگے‘ اس دوران شان اپنی دن بھر کی محنت کی کمائی کو لٹیرے کے ہاتھوں جاتا ہوا دیکھ کر جذباتی ہوگیااور ان ڈاکوئوں کو فرار ہوتا دیکھ کر ڈاکوڈاکو کا شور مچانے لگا گھر کے قریب سے شان کو ہیجانی کیفیت میں چیختے سنا تو شان کے والد اور اس کے چاروں بھائی گھر کے اندر سے فوری باہر نکلے اور معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ لوگ ان ڈاکوئوں کے پیچھے دوڑے اور ان لوگوں نے پیچھے رہ جانے والے 2 ڈاکوئوں کو دبوچ لیااور شان کے والد اور بھائی ان دونوں ڈاکوئوں سے گتھم گتھا ہوگئے اسی اثناء میں آگے نکل جانے والے ڈاکو رکے اور بھائیوں کا جوش دیکھ کر ڈاکو آگے بڑھنے کے بجائے دور سے ہی کھڑے ہوکر اندھاد ھند فائرنگ شروع کردی‘ جس کے نتیجے میں شان اس کا بھائی سلمان یشوع اور باپ انور مسیح زخم ہوگئے‘ ان کے زخمی ہونے کے بعد ڈاکو اپنے ساتھیوں کو ان کے نرغے سے چھڑا کر فرار ہوگئے‘ گھر قریب ہونے کی وجہ سے شان کے گھر کی خواتین سمیت تمام افراد جائے وقوعہ پر پہنچ گئے‘ جبکہ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ گہری نیند میں سوتے دور قریب کے لوگ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں اس وقت کہرام برپا تھااور فائرنگ سے زخمی بری طرح کراہ رہے تھے کہ اسی دوران اطلاع دینے پر ریسکیو ادارے کی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچی اور طبی امداد کے لیے زخمیوں کو عباسی اسپتال منتقل کیا‘

جہاں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 55 سالہ انور مسیح اور بھائی سلمان مسیح دم توڑ گیا‘ جبکہ اطلاع ملنے پر سرجانی پولیس فوری کارروائی کرتی ہوئی جائے وقوعہ پر ابتدائی تفتیش کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے 15 سے زائد چھوٹی بڑی ہتھیار خول کو قبضے میں لے لیا‘ پولیس کے مطابق سرجانی ٹائون تھانے کی حدود سیکٹر 8 سیف المری گوٹھ چوہان آباد کچی آبادی میں نقاب پوش ڈاکوئوں کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا‘ واردات کے بعد ڈاکوفائرنگ کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے‘واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ہلاک وزخمی ہونے والوں کو ایمبولینس کی مدد سے عباسی اسپتال منتقل کیا‘

ہلاک ہونے والے کی شناخت 55 سالہ انور مسیح ولد بہادر مسیح اور اس کے بیٹے 22 سالہ سلمان مسیح کے نام سے کی گئی‘ جبکہ زخمی ہونے والا 25 سالہ شان مقتول انور کا بیٹا ہے ‘ مقتول کے چھوٹے بیٹے سفیان کے مطابق انور مسیح بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بطور خاکروب ملزم تھا‘ جبکہ بڑے بھائی شان کی موبائل فون کی دکان ہے ‘ مقتول انور کے 5 بیٹے اور ایک بیٹی ہے ‘ واقعہ میں ہلاک ہونے والے سلمان مسیح کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی‘ جبکہ زخمی ہونے والے شان کے 2 بچے ہیں‘ واقعہ کے وقت شان اپنی دکان بند کرکے گھر آیا تھاکہ نقاب پوش ڈاکوئوںنے اس کا پیدل تعاقب کیا اور عین گھر کے دروازے پر اسے روک کر لوٹنے کی کوشش کی ‘ تاہم اس نے ایک ڈاکو کو پکڑلیا‘

اس کے والد انور مسیح اور بھائی سلمان مسیح گھر سے نکل آئے‘ والد نے بھی ایک ڈاکو کو پکڑ لیا‘ اسی دوران ڈاکوئوں کے دیگر ساتھیوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک گولی والد کی ٹانگ میں لگی جس سے موقع پر موجود بیٹوں نے اپنے باپ سے ڈاکو کو چھوڑنے کا کہا لیکن اس نے ڈاکو کو دبوچ کر رکھا تھا‘ اسی دوران ڈاکوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے انور کے سر میں اور سلمان کے جسم میں 3 گولیاں لگیں جس سے وہ موقع پر جاں بحق اور شان زخمی ہوگیا‘ ڈاکو فرار ہوتے ہوئے شان مسیح سے رقم اور اس کا موبائل فون لے کر فرار ہوگئے جبکہ مقتول کے چھوٹے بیٹے کا کہنا تھا کہ لوٹ مار کی وارداتیں علاقے میں روز کا معمول ہیں‘ ہم لوگوں نے علاقے کے بہت سے لوگوں کو لٹنے سے بچایا اور پولیس علاقے سے شریف محنت کش لوگوں کو پکڑ کر لے جاتی ہے جبکہ چور ڈاکو علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں۔

ایس ایچ او سرجانی ٹائون تھانہ چوہدری محمد افضل نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا کہ مضروب عدنان نے 2 روز قبل لڑکی کو چھیڑنے پر ایک نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور جمعرات کی صبح مقتول سلمان گھر کے قریب ہی واقع درزی کی دکان سے گھر کے لئے آرہا تھا کہ اسی دوران 3 موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے سلمان کو روکا اور اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا تو سلمان نے ملزمان کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر شور شرابہ شروع کردیا جس پر درزی کی دکان پر موجود سلمان کا بھائی عدنان اور گھر سے والد انور آگئے‘

تینوں نے مل کر ایک ملزم کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا جس پر ملزمان نے انور کو نائن ایم ایم پستول اور 30 بورپستول سے 5 گولیاں ماریں جس سے انور موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ ملزمان کو پکڑنے کے لئے دونوں بھائی بھاگے تو ملزمان نے سلمان کو نائن ایم ایم‘ 30 بور اور ایس ایم جی سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سلمان جاں بحق اور شان زخمی ہوگیا اور ملزم کو پکڑنے کے دوران پستول کا پٹ لگنے سے عدنان معمولی زخمی ہوا۔

عدنان نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ گھر کے قریب ہی درزی کی دکان میں کام کرتا ہے اور دونوں بھائی رات دیر تک کام کرتے تھے۔ جمعرات کو علی الصبح سلمان مجھے یہ کہہ کر گیا کہ مجھے نیند آرہی ہے اور وہ سونے کے لئے گھر جارہا ہے، کچھ ہی دیر بعد مجھے سلمان کے شور شرابے کی آواز آئی تو میں کام چھوڑ کر فوراً گلی میں بھاگا تو میرا بھائی سلمان اور والد انور ایک ملزم کو تشدد کا نشانہ بنارہے تھے جبکہ باقی 5 ملزمان اسلحہ کے زور پر میرے بھائی اور والد سے اپنے ساتھی کو چھڑانے کی کوشش کررہے تھے‘ میرے شور مچانے پر ملزمان بھاگ گئے اور ہم تینوں باپ بیٹوں نے پکڑے گئے ملزم کو مارنا شروع کردیا کہ اسی دوران 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان دوبارہ آئے اور انہوں نے میرے والد اور بھائی کو گولیاں مار کر قتل کردیا اور اپنے ساتھی کو لے کر فرار ہوگئے۔

ایس ایچ او کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ پراسرار معلوم ہوتا ہے‘ ملزمان نے کسی قسم کی لوٹ مار نہیں کی کیونکہ مضروب عدنان کے مطابق اس کا بھائی اور والدملزمان سے ایک گھنٹے تک لڑتے رہے اور شور شرابہ ہونے کے باوجود واقعہ کسی علاقہ مکین نے نہیں دیکھا۔ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد نعشیں ورثاء کے حوالے کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔ اس ضمن میں مقتول انور کے بیٹے اور فائرنگ سے زخمی ہونے والے شان نے پولیس کو بیان دیا کہ میں مذکورہ مقام پر رہائش پذیر اور نارتھ کراچی میں واقع مارکیٹ میں موبائل کمیونیکشن کا ذاتی کاروبار کرتا ہوں‘ میری دکان پر رش ہونے کی وجہ سے میں اکثر گھر دیر سے آتا ہوں‘ واقعہ والے روز بھی میں نے اپنی دکان حسب معمول بند کی‘ رات کافی گزر جانے کی وجہ سے کوئی سواری نہیں ملی اور میں دکان سے گھر پیدل آیا۔ جب بوقت تقریباً ساڑھے 4 بجے میں اپنے گھر کے گیٹ کے قریب پہنچا تو اچانک 6 اشخاص جن کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا‘

مجھے روکا اور مجھ سے موبائل فون‘ نقدی اور دیگر سامان چھین کر فرار ہورہے تھے تو میں نے ڈاکو‘ ڈاکو شور شرابہ کرکے ان کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر میرے والد انور اور میرے بھائی سلمان‘ عدنان‘ سفیان اور یشوع بھی آگئے اور ہم نے مل کر 2 ڈاکوئوں کو دبوچ لیا جس پر ان لوگوں نے ہم پر فائرنگ کردی جس سے میں‘ میرے والد انور ‘ بھائی سلمان اور یشوع زخمی ہوگئے‘ اتنے میں میرے محلے دار بھی آگئے اور ہمیں رشتہ دار اور محلہ داروں نے ایمبولینس کے ذریعے علاج و معالجے کے لئے عباسی اسپتال پہنچایا جہاں پر میرے والد انور اور بھائی سلمان دوران علاج دم توڑ گئے اور یشوع کو مرہم پٹی کروائی اور میں عباسی اسپتال کے میڈیکل وارڈ میں زیر علاج رہا ہوں۔

میرا دعویٰ ہے کہ 6 مسلح ملزمان صورت شناس نے مل کر میرے والد اور بھائی کو قتل کیا اور مجھے اور میرے بھائی یشوع کو زخمی کیا ہے۔ شان کے اس بیان کے بعد سرجانی ٹائون پولیس نے شان کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 865/2018 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا۔ اس موقع پر واقعہ میں زخمی ہونے والے شان نے نمائندہ قومی اخبار کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میرے والد انور اور والدہ بلدیہ عظمیٰ میں خاکروب جبکہ فائرنگ میں جاں بحق ہونے والا سلمان مسیح سول اسپتال میں کام کرتا تھا‘ ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں جبکہ مقتول سلمان کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی۔ مدعی شان نے ایس ایچ او سرجانی کے اس بیان پر سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا لڑکی کے معاملے پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا‘

بلکہ حقیقت یہ تھی کہ واقعہ سے 2 روز قبل سموسے بیچنے والا علاقے میں آیا تھا جو علاقے کی بچیوں سے ہنسی مذاق کررہا تھا جس کو دیکھ کر میرے بھائی عدنان نے اس سموسے والے کو ڈانٹا جس پر سموسے والے سے اس کی بحث ہوگئی لیکن پھر بات آئی گئی ہوگئی۔ اس واقعہ پر پولیس اس سموسے والے پر بھی شک کررہی ہے لیکن پھر میں نے تھانے جاکر پولیس سے کہا کہ اس واردات میں اس غریب سموسے والے کا کوئی قصور نہیں کیونکہ جس دن ہمارے گھر سے جنازہ اُٹھ رہا تھا تو اس وقت بھی وہ سموسے والا ہماری گلی میں سموسے بیچنے آیا تھا۔

واقعہ والے روز میں نے رات 3 بجے اپنی دکان بند کی اور تقریباً ساڑھے 4 بجے میں پیدل چلتا ہوا نارتھ کراچی سے اپنے گھر سیفل مری گوٹھ پہنچا تو گھر کے دروازے پر مجھے 6 سے زائد لوگوں نے روکا جن کے ہاتھوں میں چھوٹے بڑے ہتھیار تھے‘ انہوں نے مجھ سے لوٹ مار کرتے ہوئے مجھ سے میرا موبائل فون اور نقدی چھینی اور میرے گھر کا دروازہ توڑ کر گھر میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے کہ اسی اثناء میں شور شرابے کی وجہ سے میرے گھر والے باہر آنا ہی چاہتے تھے کہ ان ملزمان نے ان پر سیدھی فائرنگ کی جو ہمارے گھر کی اندرونی دیوار پر لگی‘ یہ دیکھ کر میرے گھر والوں نے گھر کے اندر سے ہی ان ملزمان پر پتھر برسانا شروع کردیئے جس کی وجہ سے ان لوگوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تو میں ڈاکو‘ ڈاکو شور مچاتے ہوئے ان کے پیچھے بھاگا‘ یہ دیکھ کر میرے والد اورانور اور دیگر بھائی بھی بھاگے تو ان ملزموں نے ہماری جانب سیدھی فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں میرے والد کے سر میں اور بھائی سلمان کو 3 گولیاں لگیں۔

ملزمان نے اس پر بھی بس نہیں کی اور وہ لوگ تقریباً آدھے پون گھنٹے تک اسی مقام پر کھڑے رہے اور تقریباً 40 سے 50 گولیاں فائر کیں‘ ان کی فائرنگ کرنے کے انداز کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لوگ کوئی عام نہیں بلکہ تربیت یافتہ تھے جبکہ ان کے پاس سرکاری ایس ایم جی کی طرح کا بھی اسلحہ تھا۔

واقعہ کے بعد تفتیش سے پتہ چلا کہ اسی پیدل ڈکیت گینگ میں 25 سے زائد ملزمان شامل ہیں جو رات کے وقت ان علاقوں میں ٹولیوں کی شکل میں گھومتے ہیں اور رات گئے گھر آنے والے لوگوں اور فیملی سے لوٹ مار کرتے ہیں۔ مدعی شان نے نمائندہ قومی اخبار کو مزید بتایا کہ ہم لوگ مسیح فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور واقعہ کے 4 روز بعد ہماری بڑی تہوار تھی جس کو ہم لوگ بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں

لیکن اس سانحے کے بعد علاقے کے لوگوں نے کرسمس کا تہوار بڑی سادگی سے منایا اور اس دن بھی ہمارا علاقہ سوگوار ہی رہا جبکہ سرجانی ٹائون تھانے کے تفتیشی افسر انسپکٹر فدا حسین جانوری نے نمائندہ قومی اخبار کو بتایا کہ واقعہ کے بعد پولیس نے بڑی جانفشانی سے کام کرتے ہوئے اس واردات میں ملوث 2 ملزمان معروف اور ایک اور ملزم کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول برآمد کرلی جبکہ جائے وقوعہ سے 9 ایم ایم‘ 30 بور پستول اور کلاشنکوف کی 10 سے 15 گولیوں کے خول قبضے میں لئے۔ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش مقتول انور اور سلمان کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا 10سے 15 لوگوں کا گروہ ہے جو علاقے سے بھینسیں چوری کرتے ہیں اور راستے میں اگر کوئی نہتا شخص مل جائے تو ہم اس سے بھی لوٹ مار کرتے ہیں۔ واقعہ والے روز بھی ملزمان سیفل مری گوٹھ سے گزر کر قریبی علاقے سے بھینسیں چوری کرنے جارہے تھے

کہ انہیں اس وقت شان اپنے دروازے پر کھڑا ہوا نظر آیا جس کو ہم نے لوٹنے کی کوشش کی تو اُس نے شور مچانا شروع کردیا جس کی وجہ سے گھر کے اندر سے دوسرے لوگ بھی باہر آگئے جنہیں دیکھ کر ہم لوگ فرار ہونے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے ہمارے 2 ساتھیوں کو دبوچ لیا جس پر ملزمان نے فائرنگ کی۔

تفتیشی افسر انسپکٹر فدا حسین نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ سپرہائی وے تھانہ اور سرجانی ٹائون تھانہ میں پہلے بھی مقدمہ درج ہے جبکہ تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا کہ یہ لوگ نیو کراچی کے علاقے میں بیٹھ کر واردات کی پلاننگ کرتے ہیں‘ پولیس ان کے گروپ کے دیگر کارندوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مار رہی ہے جو اس واردات میں ملوث ہیں اور پولیس کی کوشش ہے کہ جلد از جلد مقتول انور مسیح اور اس کے بیٹے سلمان مسیح کے قاتلوں کو گرفتار کرکے معزز عدالت کے روبرو پیش کرے تاکہ مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

(443 بار دیکھا گیا)

تبصرے