Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کتابوں کا زمانہ

تہمینہ ناز جمعرات 10 جنوری 2019
کتابوں کا زمانہ

تزئین کے نزدیک یہ ایک عجیب واقعہ تھا جو اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھاتاریخ سترہ مئی تھی اس نے لکھاآج معاذ کو ایک ایسی چیز ملی ہے جسے کسی زمانے میں کتاب کہتے تھے وہ ایک بہت ہی پرانی کتاب تھی تزئین کے دادا نے ایک دفعہ اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے دادا کے زمانے میں تمام تحریریں کاغذ پر چھپا کرتی تھیںتزئین اور معاذ نے کتاب کے اوراق کئی دفعہ اْلٹ پلٹ کر دیکھے تمام اوراق پیلے اور بوسیدہ ہو چکے تھے وہ حیرانی سے ورق پلٹ رہے تھے کیوں کہ ان کے لیے یہ بہت حیران کن تھامعاذ بولا اس زمانے میں کاغذ کی کتاب بنانا تونری پیسوں کو ضائع کرنے والی بات ہوگی مجھے لگتا ہے جب کوئی ایک دفعہ اس طرح کی کتاب والی تحریر کو پڑھ لیتا ہوگا تو وہ کتا ب پھینک دیتا ہو گاہمارے کمپیوٹر کی اسکرین میں تو ایسی لاکھوں تحریریں محفوظ ہیں اور کمپیوٹر کی یادداشت اتنی ہی اور کتابی تحریروں کو بھی محفوظ کرسکتی ہے تزئین گیارہ سال کی تھی وہ ابھی کمپیوٹر اسکرین پراتنی کتابی تحریریں نہیں پڑھ سکتی تھی جتنی معاذ پڑھ چکا تھا کیوں کہ وہ تیرہ سال کا تھاتو میں نے پوچھا معاذ تمھیں یہ کتاب کہاں سے ملی ہے؟ معاذ نے دیکھے بغیر اشارہ کرتے ہوئے کہاکباڑیے سے ، شایدعجائب گھر والوں میں سے کسی نے بیچ دی ہووہ بدستور کتاب پڑھنے میں مصروف تھاتزئین نے پوچھا: کس موضوع پر ہے؟ معاذ بولا یہ اسکول کے متعلق ہے تزئین تعجب سے بولی اسکول ؟ وہ اسکول جو دادا کے بچپن میں کسی عمارت میں ہوا کرتے تھے اس کے بارے میں لکھنے والی کیا بات ہوسکتی ہے؟

ہمار امشینی استادتو ہمارے گھر کے اندر ہی ہوتا ہے پچھلے چند دنوں سے اس کا مشینی استاد جغرافیہ کا مضمون پڑھاتے ہوئے اس کے امتحان پر امتحان لے رہا تھا اور ہر امتحان کے بعد اس کا نتیجہ خراب سے خراب تر ہوتا جارہا تھا حتیٰ کہ امی نے ایک دن اسے پکڑ کر جھنجوڑا اور پھر اسے قصبے کے انسپکٹر کے پاس لے گئیں وہ ایک سرخ چہرے والا گول مٹول شخص تھا جس کا کمرا چھوٹے چھوٹے اوزاروں برقی تاروں اور مختلف جسامت کے ڈبوں سے بھرا پڑا تھا وہ تزئین کو دیکھ مسکرایا اور کھانے کے لیے ایک سیب د یاپھر انسپکٹر نے تزئین کے مشینی استاد کوجس کے چہرے کی جگہ ایک بڑی سی کالے رنگ کی اسکر ین لگی ہوئی تھی منٹوں میں اْدھیڑ کررکھ دیا انسپکٹر نے ایک گھنٹے میں ہی روبوٹ استاد کو دو با رہ جوڑ دیا حالانکے تزئیں خواہش تھی کہ کاش انسپکٹرکو بھی اسے جوڑ نا نہ آ تا ہوتالیکن مشینی استاد کے چہرے پرلگی ہوئی اسکرین پر فورا ہی اس کے سبق کے لکھے ے ہوئے آنے لگے اور ساتھ سبق کے متعلقہ ہدایت بھی اس سارے سبق سے تزئین کو اتنی چِڑنہیں جتنی گھر میں بیٹھ کر گھریلو کا م سے جو اسے استاد کے سبق دینے کے بعد کرنا ہوتا تھااسے یہ سارا ہوم ورک اسکرین کے نیچے لگی ہوئی ایک سلیٹ پرمشینی قلم سے لکھنا پڑتا تھاروبوٹ استادا سے فورا نتیجہ بتا دیتا تھاجواب غلط ہوتا تو اتنی زور سے گھنٹی بجتی کہ امی اپنے کمرے سے باہر نکل کر پوچھتیں کون سا جواب غلط ہے انسپکٹر اپنا کام مکمل کر کے دو بار مسکرایا اور پیار سے تزئین کے سر کو تھپتھپایاپھر اس نے تزئین کی امی سے کہا تزئین کا قصور نہیں تھا بلکہ اس مضمون کے اگلی جماعتوں کے اسباق اسکرین پر سے گزرنے لگے تھے۔

کئی دفعہ کمپیوٹر میں اس طرح کی فنی خرابی ہو جاتی ہے میں نے اسباق کو تزئین کی ذہنی سطح کے مطابق کر دیا ہے اب تزئین کو جغرافیہ کے مضمون سے کو ئی مشکل نہیں ہو گی ایک دن معاذ نے تزئین کو پھر اس کتاب کے بارے میں بتایا : جس اسکول کا ذکر اس کتاب میں ہے وہ کئی صدیوں پہلے ہوا کرتے تھے صدیاں پہلے کیاسمجھیں؟ تزئین نے کہاواقعی مجھے صدیوں پہلے کے اسکولوں کے بارے میں مکمل پتا نہیںلیکن یہ بات تو میں بھی سنی تھی کہ تب اسکولوں میں استاد ہوا کرتے تھے، جو پڑھاتے تھے معاذ نے بتایا وہ آج کل کی طرح مشینی استاد نہیں ہوتے تھے بلکہ انسان ہوا کرتے تھے تزئین حیران ہوتے ہوئے بولی انسان؟ انسان استاد کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کی یادداشت کمپیو ٹر جتنی کیسے ہوسکتی ہے؟ معاذ بولا وہ بچوں کو سبق پڑھایا کرتے تھے انھیں گھر میں کرنے کو کام دیتے تھے اور سوالوں کے جواب پوچھتے تھے۔

مزید پڑھئیے‎ : تعلیم کے نام پر لوٹ مار

‘‘ تزئین نے پوچھا: ’’ لیکن انسان تو ذہانت میں مشین کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں یہ ہرگز نہیں کروں گی کہ کوئی اجنبی شخص میر سے گھر آ کر بیٹھ جائے۔ یہ سن کر معاذ ہنسنے لگا ، پھر بولا : ارے ، وہ استاد گھروں میں ہمارے مشینی انسانوں کی طرح رہتے نہیں تھے اسکولوں کے لیے علیحدہ عمارتیں ہوتی تھیں جہاں طالب علم بچے پڑھنے جایا کرتے تھے تزئین نے حیرت سے پوچھا کیا سبھی بچے ایک طرح کے سبق پڑھتے تھے؟

معاذ نے بتایاہاں ایک جماعت کے بچے ایک طرح کا سبق پڑھتے تھے تزئین بولی لیکن امی تو کہتی ہیں کہ ہمیں استادوں کو ایک مخصوص طرح سے سیٹ کرنا پڑتا ہے تا کہ وہ بچوں کو سبق پڑھا سکیں اور ہر بچہ مختلف سبق پڑھتا ہے بچوں کا جو پڑھنے کو دل چاہتا ہے،مشینی استاد کوو یسی ہدایت کر دی جاتی ہے معاذ بولا تم چاہو تو بے شک ان پرانے اسکولوں کے بارے میں بھی نہ پڑھوتزئین جلدی سے بولی میں نے کب کہا کہ مجھے پرانے اسکولوں کے بارے میں پڑھناپسند نہیںمیں ان پرانے عجیب و غریب اسکولوں کے بارے میں ضرور پڑھوں گیابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کی امی کی آواز گونجی تزئین اسکول کاوقت ہو گیا
تزئین کا اسکول اس کے سونے والے کمرے کے برابر تھا۔تزئین کے اسکول کا روز انہ یہی وقت تھا ماسوائے ہفتہ اور اتوار کے وہ بیٹھی تو اسکر ین روشن ہوگئی اور اس سے آواز آئی آج ہم حساب میں کسروں کا سبق پڑھیں گے مہربانی فرماکراپناکل کا کام مجھے دکھاؤ! تزئین کے منہ سے بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس نکلی وہ انہی پرانے اسکولوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جن کے بارے میں اس کے دادا کے دادا با تیں کرتے تھے پاس پڑوس کے سارے بچے جہاں پڑھنے جایا کرتے تھے وہ اسکول کے صحن میں اونچا ہنستے تھے شور مچاتے تھے اپنی اپنی جماعتوں میں اکٹھا بیٹھتے تھے اور پھر چھٹی کے وقت اکٹھا گھروں کو جاتے تھیوہ سب ایک جیسا سبق روز پڑھتے تھے۔ اس لیے اسکول کا کام کرتے ہوئے گھروں پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور آپس میں باتیں بھی اور ہمدردی جیسی خوب صورت صفت لکھنے والے اساتذہ بھی انسان تھے اْدھر روبوٹ استاد کی اسکرین پر لکھا جار ہا تھا جب ہم دوکسروں کو جمع کرتے ہیں تزئین سوچ رہی تھی کہ پہلے سب لوگ ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہوں گے۔

بچوں کو اسکول جانے میں انھیں کتنی خوشی ملتی ہوگی انسان ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ایک دوسرے کی مدد کر تے ہیں اور زندگی کا مزہ لیتے ہیں ایک ہم ہیں کہ مصنوئی مشینی زندگی گزار رہے ہیں لگتا ہے جیسے ہم خود بھی زندہ مشینیں ہیں کاش میں اسی دور میں پیدا ہوئی ہوتی کاش!

(412 بار دیکھا گیا)

تبصرے