Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 06 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

محاذ آرائی چھوڑیں ، کام کریں

عمران اطہر هفته 05 جنوری 2019
محاذ آرائی چھوڑیں ، کام کریں

پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی دعووں اور وعدوں میں کراچی کے سیاسی وسماجی منظرنامے سمیت مجموعی صورتحال کو تبدیل کرنے کا اعلان بھی شامل تھا اور ایسی صورت میں جبکہ کراچی کی بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ بھی حکومت میں اس کی اتحادی ہے

یہ ٹاسک پورا کرنا پی ٹی آئی کے لیے اتنا مشکل نہیں۔ اگرچہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت کراچی سمیت پورے صوبے میں وفاقی اختیارات کے تحت اتنی قوت ضرور رکھتی ہے کہ وہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ایسی بڑی تبدیلی لاسکے جو کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام کی زندگیوں پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن کو بھی مستحکم بنائے

تاہم چار ماہ گذر جانے کے باوجود عمران خان کی حکومت اب تک کراچی کے لیے کوئی ایسا بڑا اقدام نہیں کرسکی جو کراچی کی شہریوں کے لیے خوشگوار تبدیلی کا موجب ثابت ہوسکے حالانکہ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا حکم جاری ہونے کے بعدتحریک انصاف کو یہ موقع بھی ملا تھا کہ وہ اس کارروائی میں اپنا حصہ ڈال کر موثر کردار کے ذریعے کراچی کے شہریوں اور متاثرین کے دلوں میں جگہ بنانے کے ساتھ شہر قائد میں اپنے اثرات مزید مستحکم بناسکے تاہم افسوس کہ پی ٹی آئی نے یہ سنہر اموقع کھو دیا جس کے نتیجے میں ایک طرف تو سپریم کورٹ کے احکامات پر کراچی کی بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی وسائل کی عدم دستیابی اور سندھ حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے شہریوں کے لیے مزید زحمت کا باعث بنی، جس کی وجہ یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں نے جن علاقوں میں اب تک تجاوزات مسما ر کی ہیں وہاں سے ابھی تک ملبہ تک نہیں اٹھایا جاسکا جو مزید مسائل کا باعث بن رہا ہے اور دوسری طرف کراچی کے شہریوں کو بھی وفاقی حکومت کی اس سرد مہری سے بہت زیادہ مایوسی ہوئی اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ کراچی کے مسائل کا حل شاید عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔
2018کے انتخابات کے نتائج تحریک انصاف کے حق میںآ نے سے وزیراعظم عمران خان کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ لسانی جہتوں سے بلند ہو کر کراچی میں حقیقی تبدیلی کے ذریعے اس شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیں ۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی متعدد بار کراچی کی ترقی پر زور دیا ہے اور ان کی بھی خواہش ہوگی کہ وہ کراچی کی اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں اسی طرح بحال کریں جو اس شہر کو ملک کی معاشی شہ رگ بناتی ہیں۔ تاہم ابتدا ہی سے مختلف معاملات پر وفاق کی پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی سے ایسا ممکن نہ ہوسکا اور دونوں حکومتیں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف صف آراء دکھائی دیں۔ اس تناؤ میں منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں پی پی قیادت کے ملوث ہونے کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعدمزید اضافہ ہوا جب دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے درمیان بیان بازی کی جنگ چھڑی اور اس جنگ میں سندھ میں گورنرراج کی گونج بھی سنائی دی اور اس سیاسی جنگ کے نتیجے کراچی کے مسائل کا حل ایک بار پھر سیاست کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کراچی جو سندھ کا دارالخلافہ بھی ہے، نے اکثر وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوںکے درمیان طاقت کے عدم توازن اور کھینچا تانی سمیت اختیارات کے جھگڑوںکو بھگتا ہے جس کی وجہ سے شہر کی ترقی بہت زیادہ متاثر ہوئی۔ایسی صورت میںچھوٹی چھوٹی باریکیوں پر نگاہ رکھنے والے اور مسائل کے حل کو سیاست کی نذر نہ کرنے والے عمران خان سے یہ توقع تھی کہ وہ کراچی میں اپنی پارٹی کو ملنے والی اکثریت کو غنیمت جانتے ہوئے کچھ ایسے اقدامات کرینگے جن کی بدولت نہ صرف وہ کراچی سے ملنے والے اپنے مینڈیٹ کاحق ادا کرپاتے بلکہ آئندہ انتخابات میں کراچی سمیت سندھ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کیلیے ابھی سے اپنی تیاریوں کا آغاز کرلیتے تاہم موجودہ صورتحال میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ انہوں نے بھی سندھ حکومت سے محاذ آرائی کا راستہ چن لیا ہے ، اگرچہ ان کی طرف سے براہ راست تو سندھ حکومت یا پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مورچہ نہیں لگا یا گیا تاہم مرکزی وزرا مسلسل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں گورنر راج کو کراچی سمیت سندھ کے مسائل کا حل قرار دے رہے ہیں جس سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ وفاقی وزرا کو عمران خان کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے سلسلے میں اگرچہ وزیر اعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جو تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے اراکین پر مشتمل ہے جس کے قیام کا مقصد کراچی سمیت صوبے بھر میںوفاقی حکومت کے تحت ہونیوالے ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز تر کرنا ہے ۔ کمیٹی کے قیام پر سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کراچی کی ترقی میں وفاق کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اگرچہ یہ یقین دلایا ہے کہ نہ ہی ان کی پارٹی اور نہ ہی صوبائی حکومت وفاق کے منصوبوںمیں کوئی رکاوٹ پیدا کرے گی تاہم ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کے درپے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں محاذ آرائی شدت اختیار کرنے کے بعد شاید ایسا ممکن نہ ہو۔ کیونکہ سندھ حکومت نے ابھی تک کسی بھی صوبائی امور میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مشورہ لینے کا اہل بھی نہیں سمجھا ، حتیٰ کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی گورنر سندھ کو مدعو نہیں کیا گیاتھا۔ سندھ حکومت کے اس عدم تعاون کے باعث وفاق نے کمیٹی میں سندھ حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا ۔ ایسی صورت میں کسی بھی وفاقی ترقیاتی منصوبے میں سندھ حکومت سے تعاون کی امید رکھنا بیکار ہوگا ۔اس سلسلے میں زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور شہری حکومت مشترکہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دیتے جس میں مرکزی حیثیت وفاقی حکومت کی ہوتی جبکہ سندھ حکومت اس کے ساتھ بطور معاون اور نگراں کام کرتی ۔ موجودہ صورتحال میں جب ایک طرف سندھ حکومت کی وفاق سے محاڈ آرائی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف پیپلزپارٹی تحریک انصاف کو اپنا سب سے بڑا حریف تصور کررہی ہے وہ کیونکر سندھ میں وفاقی حکومت کے منصوبوں میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنے گی؟
وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی اس رسہ کشی سے کراچی سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے کیونکہ تحریک انصاف نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو بھی متاثر کرتے ہوئے اس کی آبائی نشست تک چھین لی جس کے نتیجے میں پی پی کی سندھ حکومت کراچی کے شہریوں کو نظر انداز کررہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں سب سے تکلیف دہ اور پی ٹی آئی کے لیے تشویشناک بات یہ ہے کہ اب تک کے حکومتی اقدامات سے کراچی کے وہ شہری بھی مایوسی کا شکار ہوتے جارہے ہیں جو بڑی امنگ اور ولولے کے ساتھ تبدیلی کے نعرے کے پیچھے چل پڑے تھے بالخصوص گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت کی تمامتر توانائیاں سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں صرف ہوتا دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کو سندھ میں بھی اقتدار حاصل کرنے کی جلدی ہے جس کے لیے کوئی بھی حربہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس کراچی کو فتح کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ1970کے بعد پہلی بار کراچی کے شہریوںنے اس جماعت کوووٹ دیا ہے جس نے مرکز میں حکومت بنائی، اور اب عمران خان کے پاس گولڈن چانس ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی معاشی حب کے منظرنامے کو تبدیل کرکے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھواسکتے ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت مثبت ردعمل میں پہل کرکے سندھ حکومت سے محاڈ آرائی سے گریز کرے اور کراچی کی ترقی میں اسے شریک کار بنائے۔

(357 بار دیکھا گیا)

تبصرے