Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ذوالفقار علی بھٹو کی یوم ولادت

مختار احمد هفته 05 جنوری 2019
ذوالفقار علی بھٹو کی یوم ولادت

سیاسی لحاظ سے سر زمین سندھ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس نے ملک کو بڑے بڑے سیاستداں دئے جنہوں نے اپنی جرات مندی اور بہادری سے نا صرف سندھ بلکہ ملک کی خوشحا لی کے لئے نمایاں کام کئے اور اسی وجہ کر وہ عوام میں آج بھی زندہ ہیں غالبا یہ 70کی دہا ئی کی بات ہے جب ملک کے اندر ایسے سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد مو جود تھی جن کے دانشمندانہ فیصلوں سے نا صرف بے آئین ملک کو ایک متفقہ آئین ملا بلکہ ملک کے اندر خوشحالی کا ایک ایسا سورج طلوع ہواکہ اس کی کر نیں براہ راست غریب عوام کی زندگیوں پر پڑی اور ان کی بد حا لی خوشحا لی میں تبدیل ہو گئی اور غا لبا یہ وہی دور تھا جب ملک کے اندر سنجیدہ ،معتبر سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس میں نواب زادہ نصر اللہ خان ،پروفیسر غفور احمد ،قاضی حسین احمد ،ایئر مارشل لاء اصغر خان ،خان عبدالولی خان سمیت لا تعداد سیاستداں موجود تھے مگر اس وقت انتقام کی سیاست قدر ے کم تھی اور تمام سیاستداں خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت ،کسی بھی لا بی سے ہو تا تھا مل جل کر ملک اور عوام کے مفاد میں اجتماعی فیصلے کر تے تھے اور اگر صاحب اقتدار کہیں پر کو ئی غلطی کر بیٹھتا تھا تو یہی سیاستداںاس کی مخا لفت میں تحریکیں چلا کر اسے اپنا فیصلہ تبدیل کر نے پر مجبور کر دیتے تھے اس وقت کے انہیں سیاسی خاندانوں میں ایک خاندان ایسا ہے جس کے سر پر تاج قیام پاکستان سے قبل سے لے کر اب تک سجا ہوا ہے یہ خاندان سندھ کا بھٹو خاندان ہے جس کے سب سے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز ذوالفقار علی بھٹو کے والد بینظیر بھٹو کے دا دا سر شاہنواز بھٹو کو حاصل ہے جو کہ قیام پاکستان سے قبل گجرات کے دیوان اور وزیر اعظم رہے اور ان کے گھرا نے میں 5 جنوری 1928کو ذوالفقار علی بھٹو کی پیدائش ہو ئی جنہوں نے لنکن سے بیرسٹری کی اور پیشے کے لحاظ سے وکیل اور پروفیسر بھی رہے ملک کے اندر جب ایوب خان کی حکومت قائم ہو ئی تو ان کی ذہانت کو دیکھتے ہو ئے انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا گیا غالبا یہ 1963کا سال تھا پھر تاشقند کے معاہدے کے دوران ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے در میان تنازعہ پیداہوا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان سے جدا ہو کر اپنی سیاست شروع کر دیاور با لا آخر 1967میں عوام میں بے پناہ مقبولیت کی بنیاد پر 1967میں اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور 1970میں ہو نے والے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کر تے ہو ئے وزیر اعظم کا منصب سنبھا لا اور غریب عوام کے حقوق کی جنگ شروع کی جس سے مزدوروں ،کسانوں ،طلبہ کو نا صرف طاقت ملی بلکہ ملک کے اندر خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز کیا 1971میں بھارت سے ہو نے والی جنگ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہو گیا اور ہمارے 93ہزار فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے ان کو واپس لا نا اور بھارت کے قبضے میں چلی جا نے والی 5ہزار اسکوائر میل زمین کو وگذار کرانا ان کا قابل قدر کارنامہ تھا جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا اس کے علاوہ پہلی اسلامی سر براہی کانفرنس ،اسلامی بینک کا قیام ،پاکستان اسٹیل مل ،معاشی پالیسی ،مزدور کسان پالیسی ان کے بہترین کارناموں میں شامل ہیں جس کے سبب انہیں عوام میں مزید مقبولیت حاصل ہو ئی۔ جو کہ عالمی طاقتوں کو برداشت نہ ہوئی اور انہوں نے سازش کر کے نا صرف راتوں رات فوج کے ذریعے جمہوری حکو مت پر شب خون مار کر حکومت ختم کر دی بلکہ منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پابند سلاسل کر دیا جیل اور عدالتوں میں اس کی طرح طرح سے تذلیل کی گئی مگر اس مرد مجاہد نے ہمت نہیں ہاری اور جرات مندی ،بہادری کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹا رہا جس پر بوکھلاہٹ کا شکار امریکی گماشتوں نے اپنے اشاروں پر اسے پھانسی کی سزا دلوادی اور با لا آخر اس عظیم سیاستداں کو 4اپریل1979کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جس کے بعد ملک بھر میں ہنگا مے پھوٹ پڑے اور لوگ شہید بھٹو کے عشق میں خود سوزیا ںکرنے لگے حالا ت فو ج کے کنٹرول سے با ہر ہو گئی جس کے با عث فوج نے بڑے پیمانے پر گرفتا ریاں شروع کردیںاور صرف ایک ہی روز میں ملک کے مختلف حصوں سے 5000 سے زا ئد پیپلز پا رٹی ، سپاف، پیپلز اسٹو ڈنٹس فیڈریشن کے کا رکنوں کو گرفتا ر کر کے ان پر جبر و تشدد کا نہ رکنے کا والا سلسلہ شروع کر دیا مگر چونکہ بھٹو شہید نے اپنے کا رکنا ن کو سر جھکانے کے بجا ئے سر کٹانے کا درس دیا تھالہٰذا کا رکنا ننگی پیٹھوں پر کو ڑے کھا کر جئے بھٹو کے نعرے بلند کرتے رہے جبکہ وہ کا رکنا ن جنہیں ما رشل لا ء کورٹ نے پھا نسی کی سزا ئیں سنا ئی تھیں جئے بھٹو کے نعرے لگا لگا کر تختہ دار پر جھولنے لگے اور اس طر ح شہیدوں کایہ کا روا ں چلتا رہا قا فلہ بنتا رہا کے تحت ملک میں صرف پیپلز پا رٹی کو یہ اعزازحاصل ہوا کہ جمہو ریت کی را ہ میں سب سے زیا دہ اس کے کا رکنا ن نے اپنے جانوں کی قربا نی پیش کیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جب قیا دت بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو نے سنبھالی جب بھی پا رٹی کے قائدین اور کا رکنان کی جانب سے ملک کے غریب عوام اورجمہو ریت کے لئے شہا دت کے نذرا نے پیش کر نے کا سلسلہ جا ری رہا اور اب تک ذوالفقار علی بھٹو شہید ، شاہنواز بھٹو شہید ، میر مر تضیٰ بھٹو شہید ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید ، نا صر بلو چ ، ایاز سموں ،فقیر اقبا ل ہسبا نی ، محمد سلیم بلوچ ، قادر پٹھان،محمد علی جا کھرا نی ، منظور جسکانی ، غلام حیدر کھوسو ، اقبال مدد،سلیم مدد، ارشاد احمد کلوڑ ،لالہ اسد ، علی محمد ہنگورو ،عبدلغفور منگر یو ، اسلم شیخ ، غلام قادر جا کھرو ،الیاس صدیقی، ر حمت اللہ انجم ، پیر غلام علی قریشی ، غلام رسول ہنگورو ،اکبر شاہ عاشق حسین جتوئی، رضوان احمد ، نجیب احمد ،یار محمد بلوچ ، غلام مرتضی میرانی ، عبدالرحیم، بروہی ،وجاہت جو کھیو عبدالستار بلوچ ، احمد علی سومرو ، عبدالقادرراجپر، نیک محمد کھوسو ،مظہر بھٹی ، نواز لا کھو ،ادریس طوطی ،سکندر چا نڈیو ، عثمان غنی ، نیا ز جوکھیو ، ادریس بیگ ثنا ء اللہ شاہ ،منور حسین سہر وردی ، عبداللہ بلوچ ، قمر قا ظمی ، اقبا ل ماما ،عابد ایڈدوکیٹ، دھنی بخش امروٹی ، عزیزاللہ اجن، زبیر جمالی، ایم جا وید ،اعجاز حیدر، ولی ترک محمد ، اعجاز احمد اجی ، غازی صلا ح الدین، اقبال پٹیل ، طفیل بلوچ امیر خان برو فت ، محمد یو سف چا کی ، با سط بلوچ ، انور بلوچ ،زاہد سعید ،عبدالشکور، عبدالخالق بلوچ ، علی محمد،ابراہیم شوکت عرف حاجی ،ساجد بلوچ ، حنیف جٹھ ،عبدالقیوم،نزیر عالم ، اللہ بخش بلوچ،اکرم بلوچ محمد شاہ ،نور حسن جوکھیو زوہیب جمالی ، را ئو کلیم ، انور ایم خان ،نا صر گڈو ، سہیل رشید، محمد نو شا د، محمدندیم ،محمد جا وید ، محمد فضل،اشفاق با پو ،صلاح الدین ،معراج احمد ، مسز آصف خان، رخسانہ فیصل ، چو ہدری شاہد ،علی ایم ملا ح،پیار علی کا کا ،غلام قا در ، احمد حسن ، شا ہد رضا ، احسن ،اللہ ڈنو ، ندیم، مظہر ، نعیم عبا سی ، بھولو خالد ڈالمیا ، کا شف بلوچ ، محمد علی ، محمد حسن ، ہا رون رشید ، محمد سیف الدین، محمد محبوب ، عامر بلوچ لیا قت علی ، محمد شکیل، ابرا ہیم با سط ، انور بلوچ عبدالخالق بلوچ ، علی محمد ، اسحاق شیک عبدالشکور سمیت 20گمنام شہداء اورہزاروں معلوم اور نا معلوم شہداء نے شہید بھٹو کے مشن پر چلتے ہو ئے اپنی جا نوں کے نذرانے پیش کئے اور ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے آج ان اور ان جیسے سیکڑوںشہداء کی بدو لت پیپلز پا رٹی کو شہداء کی سب سے بڑی جما عت کا درجہ دیا جا ئے تو قطعی طو رپر بے جا نہ ہو گا ۔

(251 بار دیکھا گیا)

تبصرے