Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھابھی ذبح

ویب ڈیسک جمعه 04 جنوری 2019
بھابھی ذبح

23 دسمبر 2018 ء شام 7 بجے کا وقت تھا‘ لیاقت آباد نمبر 3 جھنڈا چوک زبیدہ اسپتال والی گلی میں واقع ایک 4 منزلہ بلڈنگ سے 24 سالہ نوجوان تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے کی جانب آرہا تھا‘ جو بلڈنگ کی مرکزی دروازے سے گزرکر نسبتاً گلی نما سڑک پر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ایک جانب جارہا تھا‘ یہ 24 سالہ نوجوان شکیل تھا‘ جو مذکورہ مقام پر اپنے بھائی بھابھی کے ساتھ رہائش پذیر اور لیاقت آباد ڈاکخانہ کے قریب واقع مارکیٹ میں کاسمیٹکس کا سامان فروخت کیا کرتا تھا‘ جس کی وجہ سے علاقے کے کچھ لوگ اس کی شکل سے بھی واقف تھے‘ شکیل کو اس قدر تیزی سے گزرتے ہوئے دیکھ کر انہیں بھی حیرت ہوئی ‘ لیکن پھر یہ دیکھنے والے یہ سوچ کر خاموش ہوگئے کہ شکیل کی مارکیٹ میں اسٹال ہے اور اس کی کاسمیٹکس کے اسٹال میں کوئی آگیا ہوگا‘ مارکیٹ کی طرف جارہا ہوگا‘ جبکہ شکیل قرب وجوار میں موجود لوگوںکی پروا نہ کرتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ایک جانب جارہا تھا‘ اس کی کوشش تھی کہ وہ جلد از جلد علاقے سے دور چلا جائے‘ شکیل کے جانے کے کچھ دیر بعد علاقے میں شور اٹھا کہ بلڈنگ نمبر 3/326 کی چوتھی منزل پر ایک عورت کا قتل ہوگیااور یہ شور علاقے میںجنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا‘جس کے بعد اطلاع ملنے پر سپر مارکیٹ تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی ‘ جہاں خون میں لت پت خاتون کی گلا کٹی نعش پڑی تھی‘ موقع پر پہنچ کر پولیس نے سب سے پہلے نعش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی اسپتال منتقل کیا‘ ایس ایچ او سپر مارکیٹ حبیب اللہ قریشی کے مطابق مقتولہ کی شناخت 24 سالہ فائزہ زوجہ خلیل کے نام سے ہوئی اور ابتدائی اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھر کے اندر جھگڑے کے دوران دیور شکیل احمد نے اپنی بھابھی کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا اور موقع سے فرا ر ہوگیا ‘ تاہم پولیس نے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا‘ جبکہ ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم رائو نے نمائندہ قومی اخبا ر کو بتایا کہ سپر مارکیٹ کے علاقے جھنڈا چوک لیاقت آباد نمبر 3 سے ایک خاتون کی گلاکٹی ہوئی نعش ملی ‘ جس کی اطلاع پر پولیس نے نعش اپنے قبضے میں لے کر عباسی اسپتال منتقل کی‘ ایس ایس پی کے مطابق مقتولہ کی شناخت 25 سالہ فائزہ زوجہ خلیل کے نام سے ہوئی ‘ اس کے ساتھ رہائش پذیر دیور شکیل نے تیز دھار آلے سے ذبح کیا اور موقع سے فرار ہوگیا‘ جبکہ جائے وقوعہ پر موجود پولیس نے بتایا کہ مقتولہ کادیور شکیل اپنی بھابھی کی چھوٹی بہن سے شادی کا خواہشمند تھااور اس حوالے سے وہ اپنی بھابھی فائزہ کو کئی بار کہہ چکا تھا‘ تاہم اتوار کو ایک بار پھر اس نے شادی سے متعلق بات کی تو دیور اور بھابھی میں تلخ کلامی ہوگئی‘ جس پر ملزم نے تیز دھار آلے سے بھابھی کو قتل کردیا‘ تاہم پولیس نے واقعہ کے دوسرے روز اسپتال میں پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتولہ فائزہ کی نعش تدفین کے لیے ورثاء کے حوالے کردی اور بعد ازتدفین سپر مارکیٹ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 317/2018 مقتولہ کے بھائی عمران کی مدعیت میں درج کیا ‘ مدعی عمران نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ میں لیاقت آباد میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر اور ڈرائیور ی کرتا ہوں‘ جبکہ میری حقیقی بہن فائزۃ زوجہ خلیل احمد لیاقت آباد 3/326 چوتھی منزل پر اپنے شوہر بچوں اور دیور شکیل کے ساتھ رہائش پذیر تھی‘ مورخہ 23 دسمبر 2018 ء کو میں اپنے گھر پر موجود تھاکہ بوقت رات 8 بجے فون پر بتایا کہ ہماری بہن فائزہ کی نعش اس کے مکان کے اندر پڑی ہے ‘ اس اطلاع پر فوری طورپر بہن فائزہ کے گھر پہنچا اور کمرے میں پہنچ کر دیکھا تو فرش پر میری بہن فائزہ کی گلاکٹی نعش خون میں لت پت پڑی تھی‘ یہ منظر دیکھنے کے بعد میں نے اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ اپنی بہن فائزہ کے شوہر خلیل سے واقعہ کے متعلق معلومات کی توپتہ چلا کہ شکیل میری چھوٹی بہن اقراء سے شادی کرنا چاہتا تھا‘ میری بہن فائزہ نے اس رشتے سے انکا ر کیا تو شکیل نے میری بہن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اورپھر میری بہن فائزہ کو آج شام تقریباً 7 بجے تیز دھار آلے سے وار کرکے گلا کاٹ کر فرارہوگیا‘ موقع پر پہنچ کر میں نے پولیس مددگار 15 پر اس واقعہ کی اطلاع دی ‘ جس کے فوری بعد ہی سپر مارکیٹ تھانے کی پولیس آئی‘ جنہوںنے واقعہ کی ضروری کارروائی کے بعد نعش کو عباسی شہید اسپتال لے گئی، لیکن اسپتال میں اس وقت لیڈی ایم ایل او موجود نہ ہونے پر میری بہن کی نعش کو ایدھی سردخانے میں رکھوادیااور آج ہماری موجودگی میں تھانہ سپر مارکیٹ پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد بہن کی نعش کو برائے تجہیز وتدفین کے لیے ہمارے حوالے کیااور بعد از تدفین میں رپورٹ کرتا ہوں کہ میرا دعویٰ ہے کہ شکیل ولد عبدالجبار میری بہن فائزہ کو شادی نہ کرانے پر تیز دھار آلے سے گلاکاٹ کر قتل کرنے اور فرار ہوگیا ‘ میں ملزم کے خلاف قانونی کارروائی چاہتاہوں‘ مدعی عمران کے اس بیان کے بعد سپر مارکیٹ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا‘ ابتداء میں پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ہر اس جگہ چھاپے مارے جہاں سے ملزم کی گرفتاری ممکن ہوسکتی تھی‘ لیکن اس وقت ملزم شکیل کی گرفتاری ممکن نہیں ہوسکی ‘ جس کے بعد سپر مارکیٹ پولیس نے مخبروں کا جال بچھا دیا‘ جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیاگیا‘ گرفتاری کے بعد ملزم شکیل نے تفتیش کے دوران مقتولہ فائزہ کے قتل کا اعتراف کرلیا‘ اس ضمن میں ملز م شکیل نے بتایا کہ میں متعددمواقع پر مختلف کام کئے ہیں‘ کبھی سبزی بیچی‘ کبھی محنت مزدوری کی اور آج کل میں سپر مارکیٹ میں اسٹال لگا کر کاسمیٹکس کاسامان بیچا کرتا تھا‘ 16 ماہ قبل میری شادی ہوئی تھی اور ہم لوگ اپنے بھائی کے ساتھ ہی رہتے تھے‘ لیکن میری بھابھی کی میری بیوی سے نہیں بنتی تھی‘ جس کی وجہ سے ہمارے گھر میں آئے روز لڑائیاں شروع ہوگئیں‘ وقت کے ساتھ میں بھی ان لڑائیوں سے تنگ آگیا تھاکہ ایک دن میری بھابھی نے مجھ سے کہا کہ اگرتو اپنی بیوی کو چھوڑ دے تو میں تیری شادی اپنی چھوٹی بہن اقراء سے کردوں گی‘ چونکہ شادی سے پہلے بھی میں اقراء کو پسند کیا کرتا تھااور اب بھابھی کی زبانی یہ بات سن کر میں دل ہی دل میں خوش ہوگیااور پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ چلو اس سے یہ روز روز کی لڑائی جھگڑوں سے جان چھوٹ جائے گی‘ جس کے بعد میں اپنی بیوی کو اپنے سے بدظن کرنے کے بعد موقع ڈھونڈنے لگا‘ اب لڑائی کے دوران میں اپنی بیوی کے بجائے بھابھی کا ساتھ دینے لگا‘ جس کا اثر یہ ہوا کہ اب میری بیوی مجھ سے بد ظن رہنے لگی‘ وہ کبھی کبھار مجھ سے روٹھ کر اپنے میکے چلی جاتی ‘ جہاں سے کچھ دنوں کے بعد میں لے آتا ‘ لیکن پھر کچھ دنوں بعد یہ عمل دوبارہ ہوتا اور پھر ایک دن لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اپنا معاملہ صاف کرلیا‘ کچھ دن گزرنے کے بعد میں نے اپنی بھابھی سے اس کی بہن اقراء سے شادی کا ذکر چھیڑا اس وقت بھابھی نے کوئی جواب نہیں دیا‘ لیکن کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر بہن سے شادی کا ذکر چھیڑا اس وقت بھابھی نے کوئی جواب نہیں دیا‘ لیکن کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر بہن سے شادی کا ذکر چھیڑا لیکن اس کے بھابھی نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کردیااور اس بات پر میری اور بھابھی کی بحث شروع ہوجاتی جواب لڑائی کی شکل اختیار کر گیا تھا‘ بھابھی سے میری اس بات پر لڑائی ہوئی تھی کہ تمہارے کہنے پر میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ تم نے کہا تھاکہ تو اپنی بیوی سے میر ی جان چھڑا دے تو میں تیر ی شادی اپنی بہن سے کروادوں گی اور تمہارے کہنے پر میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور تمہاری جان چھڑوادی‘ لیکن اب تم اپنی بات پوری نہیں کررہی ہو‘ جس پر بھابھی کا اب کہنا تھا کہ تونے اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو میں بھی اب تیرے بھائی سے طلاق لے لوں گی‘ لیکن میری شادی اپنی بہن سے نہیں کروائوں گی‘ جس پر کئی دفعہ میں طیش میں آگیا‘ واقعہ والے روزبھی جب میں اپنے اسٹال سے واپس گھر آگیا تو اس دن بھی بھابھی کا خوشگوار موڈدیکھ کر میں نے اس کی بہن سے اپنی شادی کا ذکر چھیڑ دیا‘ یہ سننا تھا کہ بھابھی یکدم طیش میں آگئی اورمجھ کو لعن طن کرنے لگی‘ جس پر میں بھی غصے میں آگیااورپھر گھر میں رکھی ہوئی‘ چھری کے ساتھ بھابھی پر حملہ آور ہوا اور اس کو قتل کردیا اور پھر گھر سے فرار ہوگیا ‘ جبکہ اس واقعہ سے متعلق سپر مارکیٹ کے سب انسپکٹر غوث بخش نے نمائندہ قومی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے مقتولہ فائزہ کے قتل کا اعتراف کرلیااور پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل چھری بھی برآمد کرلی‘ سب انسپکٹر غوث بخش کے مطابق دوران تفتیش ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے طیش میں آکر مقتولہ کا قتل کیا‘ لیکن پولیس نے جب مزید تفتیش کیاتو انکشاف ہوا کہ ملزم نے اپنی بھابھی کو قتل کرنے کی پلاننگ کئی دنوں سے کررہا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے ملزم نے واقعہ سے ایک روز قبل مارکیٹ کی ایک دکان سے تیز دھار والی چھری 300 روپے میں خریدی تھی اور چھری کو لاکر اپنے کمرے میں چھپادیا تھااور واقعہ والے روز جب ملزم شام کو کام کے بعد گھر آیاتو اس نے مقتولہ کے دونوں بچوں کو اپنے موبائل میں گیم لگا کر دیااور انہیں دوسرے کمرے میں بھیج دیاجس کے بعد ملزم نے پلاننگ کے تحت اپنے کمرے سے چھری نکال کر لایا اور بھابھی پر حملہ آور ہوگیا‘ اس دوران مقتولہ نے اپنے دفاع کی کوشش کی لیکن چھری انتہائی تیز تھی‘ جس کی وجہ سے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیںاور ملزم نے پھر مقتولہ کے جسم پر پے درپے وار کرنا شروع کردیے اور گلے کو جسم سے تقریبا ً الگ کردیا‘ واقعہ کے بعد مقتولہ کی نعش دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ ملزم نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقتولہ فائزہ کو قتل کیا‘ تاہم مقتولہ کے گھر والے ابھی پولیس سے زیادہ تعاون نہیں کررہے ہیں‘ لیکن پولیس نے ملزم شکیل کو معزز عدالت میں پیش کرے گی‘ تاکہ مقتولہ کے خون کے ساتھ انصاف کیاجائے۔

(457 بار دیکھا گیا)

تبصرے