Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 10 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پرائیویٹ تھانہ … عقوبت خانہ

ارشد انصاری جمعه 04 جنوری 2019
پرائیویٹ تھانہ … عقوبت خانہ

کسی بھی ملک میں شہر یو ں کی جان و ما ل کا تحفظ کر نے کی ذمہ داری مقا می انتظا میہ با لخصوص سیکورٹی اہلکا رو ں جس میں پولیس کی ذمہ داری ز یا دہ عا ئد ہوتی ہے پا کستان میں پو لیس گر دی کے در جنو ں واقعات رو نما ہو تے د کھا ئی دیئے گئے ہیں اور سند ھ میں با لخصوص ایسے کئی واقعات پو لیس گر دی کے رو نما ہو نے کے خلا ف آ ئی جی سند ھ سمیت متعلقہ حکام کی جا نب سے جبکہ عدا لتی ا حکا مات پر پو لیس گر دی میں ملو ث پو لیس افسران واہلکا رو ں کے خلا ف کارروائیاں بھی دیکھنے میں آتی رہی ہے‘ لیکن حیدر آباد کی پو لیس نے گز شتہ ا د وار میں کئی ما ئورائے عدالت کے جرم کر تے ہوئے کئی افراد چاہے وہ ملز م ہی کیو ں نہ ہو‘ انہیں غیر قا نونی سزا سنا تے ہوئے انہیں فل فرائی مو ت کے گھا ٹ ا تار دینے میںبھی ایک مہا ر ت بھی حا صل کیے ہوئے تھے اور مز ید ما ضی کی طر ح مو جو دہ دور میں بھی ایسے وا قعا ت رو نما ہو رہے ہیں جو سامنے یا منظر عام یا وا ئر ل ہونے پر تشہیر ہو جاتے تو ،پو لیس کے خلا ف کا رر وا ئیا ں بھی ہو رہی ہیں حیدر آباد میں کئی ایسے وا قعا ت کی ا طلا عات بھی ملی ہیں جن میں سی آئی اے حیدر آباد کے ڈی ایس پی ا سلم لا نگا ہ اور دیگر پولیس اہلکا ر جو کہ ہا ف فرائی اور فل فرائی کے ما سٹر چیمپئن ما نے جا تے ہیں انہیں ایک ٹاسک نہ جانے کو ن دیتا ہے کہ وہ ملز مان کو چاہے تو فل یا ہا ف فراہی کردیں انہیں انعا م و اکر ام سے نو ا زا جا ر ہاہے اور مائو رائے قتل جیسی وا ر دات کر نے پر ان کے خلاف متعلقہ ادا رو ںکے حکام کو کا ر روائی کر نی چاہیے‘ لیکن ایسا نہیں کیاجا رہا ہے تو اب اند رو ن سند ھ کے بعد حیدر آباد میں بھی شہر یو ں کو پو لیس اغوا ء کرکے نا معلوم مقا م یا پولیس افسران کے بنگلے یا پھر فلیٹو ں اور تو اور ان کی نجی جیل یا ٹا ر چرسیل بھی قا ئم کرکے بے گنا ہ افراد کو قید کیے جانے کی ا طلا عا ت بھی مو صول ہو ئی ہے ایسا ہی ایک وا قعہ 29 د سمبر کو سامنے آیا‘ جس میں دو نو ں جو ا نو ں کو بی سیکشن تھا نے کی پو لیس نے تھا نے کے ایس ایچ او کی پر ائیویٹ رہائشی بنگلے ،پر قائم نجی ٹا ر چر سیل میں دو نو ں جو انوں کوجمیل اور بلا ل کو قید کیا گیا تھا جس کی ا طلا ع پر دونوں نو جو ا نو ںکے اہل خانہ نے ڈسٹر کٹ سیشن کورٹ سے رابطہ کر تے ہوئے تحریر ی در خو است جمع کر ائی‘ جس پر فوری کا ررو ائی کے لیے 5th ایڈ یشنل سیشن جج کے حکم پر ر یڈ کمشنر کے لیے کو ر ٹ افسر ر ئیس احمد کو مقر ر کر تے ہوئے انہیں بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او بھی پر ائیو یٹ ر ہا ئش گاہ سائیٹ کے علاقے میں عدالتی ا حکا مات پر کا ررو ائی کی گئی عدا لتی احکا ما ت پر عدا لت کی جا نب سے مقر ر کیے گئے ریڈ کمشنر ر ئیس ا حمد نے دیگر عدا لتی عملے کے ہمر اہ دو نو ں نو جو ا نو ں کو نجی ٹار چر سیل سے با ز یا ب کر ا لیا گیا بازیاب ہونے والے دو نو ں نو جو ا نو ں نے ر یڈ کمشنر رئیس ا حمد کو بتایاکہ ہمیں 4 رو ز قبل نہ کر دہ گنا ہ کے قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہاہے ہمیں بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او نثار شاہ کے پر ائیو یٹ ر ہا ئش گاہ بنگلے پر اے ایس آئی فیصل نے دیگر پولیس اہلکا رو ں کے ہمراہ ہمیں ٹار چر سیل میں قید کر کے تشدد کر تا ر ہا اور نہ کر دہ گنا ہ کے قبول نہ کرنے پر مز ید تشد د کیا جاتا‘بازیاب کیے گئے دو نو ں نو جو انوں بلا ل اور جمیل کو عدا لت کے سامنے پیش کیا گیا جہا ں معز ز عدالت کے جج نے دو نو ں نو جو ا نو ںکے بیا نا ت کی روشنی میں ایس ایچ او بی سیکشن نثار شاہ اور متعلقہ عملے کو 31 دسمبر کو طلب کر لیا‘ پولیس گر دی کے خلا ف مقا می عدالت کی فوری کا ررو ائی کے ا حکا مات جا ری کر نے اور قید کیے گئے نجی ٹا ر چر سیل سے دو نو ں نو جو ا نو ں کو بازیا ب کر ا نے کے عمل پر شہر یو ںاور با ز یا ب ہو نے والے نو جوا نو ں کے اہل خا نہ نے عدا لتی ا حکا مات پر خو شی کا اظہا ر کیا ہے بحر حا ل پولیس کے خلا ف بھی کارروائی کیے جانے کے ا قدا ما ت کے لیے پو لیس حکام کوبھی سنجید گی سے سو چنے کی ضر ور ت ہے اور عوام کے جا ن و مال کے تحفظ کی فراہمی پر ما مو ر سیکو رٹی اہلکارو ں اور با لخصو ص پولیس کی جانب سے شہر یو ں کو اغواء جیسی وا ر دا تیں اور نامعلوم مقام پر پر ائیو یٹ مقدما ت اورٹا ر چر سیلو ں میں قید کر نے کے عمل کے خاتمے کے لیے حکو متی ا قد ا مات بھی سامنے آنے چاہئے تاکہ کسی کا بیٹا ، بھا ئی وا لد یا کسی کا بھی ر شتے دار کو نا کر دہ گنا ہ کے الزام میں پو لیس کسی کو بھی گر فتار نہ کر سکے اور نہ ہی پو لیس گر دی ہو نی چاہئے فل فرائی‘ ہاف فرائی سے جان چھو ٹی۔ اب تو پو لیس کی نجی ٹارچرسیلو ں کاخا تمہ بھی کر نے کے لیے شہر یو ں نے حکومت سے مطا لبہ کیا ہے۔

(318 بار دیکھا گیا)

تبصرے