Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 18 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حکومت گرانے کا کھیل اور پی ٹی آئی کی پسپائی

صابر علی بدھ 02 جنوری 2019
حکومت گرانے کا کھیل اور پی ٹی آئی کی پسپائی

25جولائی 2018ء کو عام انتخابات کے بعد وفاق اور صوبوں میں حکومتیں قائم ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی نے وفاق میں حکومت کے زور پر سندھ کی حکومت گرانے کا ارداہ کرلیا اور اس کیلئے ہر ممکنہ اقدامات شروع کر دیئے

اس بات کو جانے بغیر کہ ملک میں جمہوریت ہے ایک آئین موجود ہے جس مینڈیٹ سے وفاق اور دیگر صوبوں میں پی ٹی آئی اقتدار میں آئی ہے وہی مینڈیٹ پیپلز پارٹی کو سندھ میں ملا ہے

 

یہ جانتے ہوئے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کلین سوئپ کیا تھا اب وہ کلین سوئپ جیسے بھی کیا ہو یہ ایسا ہی کلین سوئپ تھا جو پی ٹی آئی کو کے پی کے اور کراچی میں ملا لیکن پی ٹی آئی والے اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ انہیں ملنے والا کلین سوئپ اصلی ہے اور پیپلز پارٹی کا نقلی ہے

یہ ہی سمجھ کر پی ٹی آئی نے سندھ حکومت گرانے کیلئے سندھ پر چڑھائی شروع کردی پہلے یہ بات سامنے آئی کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو فارغ کرکے گورنر راج لگایا جاسکتا ہے،

سندھ میںپچھلے دنوں جب امن وامان کی صورت حال خراب ہوئی ایم کیو ایم (پاکستان) کی محفل میلاد میں بم دھماکہ ، پی ایس پی کے 2کارکنوں کی ہلاکت اور تیسرا بڑا واقعہ انتہائی شریف النفس شخصیت سابق ایم این اے علی رضا عابدی کا قتل ہوا تو لوگ کہنے لگے کہ یہ تمام واقعات سندھ میں حالات خراب کرکے گورنر راج نافذ کرنے کی سازش کا حصہ ہیں

 

جب یہ تاثر عام ہونے لگا کہ سندھ میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کے پس منظر میں گورنر راج لگانا ہے تو پی ٹی آئی نے ہمیشہ کی طرح یوٹرن لیا اور یہ موقف اپنایا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی تبدیلی خصوصاً وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تبدیل کرنا ہے وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کا نام جے آئی ٹی میں آیا۔

پی ٹی آئی سمجھ رہی تھی کہ وہ اس موقف کے ساتھ سندھ میں تبدیلی لے آئیگی پھر یہ دعویٰ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی کی بڑی تعداد ان سے رابطے میں ہے یہ دعویٰ کسی اور نے نہیں بلکہ وفاقی وزراء علی زیدی ، فیصل واڈا، یہاں تک کہ شیخ رشید نے بھی مراد علی شاہ کو ہٹانے کی تائید کردی

 

اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سیاسی بونے غیر معمولی طور پر متحرک ہوگئے، گھوٹکی کو مرکز بناتے ہوئے علی محمد مہر جیسی شخصیت سے یہ امید لگائی کہ وہ اس میں بھر پور معاون ثابت ہونگے،

 

واضح رہے کہ علی محمد مہر کی سندھ کی سیاست میں اتنی حیثیت ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں غیر سیاسی قوتوں نے صرف چند ووٹوں کی برتی سے علی محمد مہر کو وزیر اعلیٰ سندھ بنایا تھا وہ کچھ عرصہ بعد بڑی بری طرح ناکام وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے تو ان ہی قوتوں نے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو وزیر اعلیٰ بنایا،

 

لیکن اس وقت سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم تھی جس کے 51ووٹوں کے نتیجے میں غیر سیاسی قوتوں کی پشت پناہی پر سندھ میں پیپلز پارٹی کا راستہ روکا گیا تھا جیسے ماضی میں لیاقت جتوئی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا، سندھ کے سیاسی بونوں نے وفاق میں پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ باور کرایا کہ وہ سندھ میں تبدیلی لاسکتے ہیں

 

وفاقی حکومت میں بھی سیاسی بلوغت سے محروم پی ٹی آئی کے بڑوں نے یہ یقین کرلیا کہ سندھ میں واقعی پیپلز پارٹی کی حکومت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے پھر یقینا کچھ غیر سیاسی عناصر بھی ہمیشہ کی طرح پیٹھ تھتھپانے میں پیش پیش ہوں گے یوں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو یہ مشن سونپ دیا گیا کہ وہ جاکر سندھ فتح کرلیں،

 

وفاق کے حکومتی اور سندھ میں اپوزیشن کے وہ لوگ جو اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے میں شہرت رکھتے ہیں وہ سندھ میں حکومت بننے کے لالچ میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے طور پر سرگرم ہوگئے خوش قسمتی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس صورتحال کا نوٹس لے لیا اور وفاقی حکومت کو شٹ اپ کال کے انداز میں یہ باور کرایا کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں غلط ہے

 

خصوصاً گورنر راج لگانے سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر گورنر راج لگایا گیا تو ایک منٹ میں ختم کردیں گے چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر بھی متعلقہ ادارے کی سرزنش کی ادھر سپریم کورٹ نے ایکشن لیا تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی کھل کر میدان میں آگئے اور کہا کہ سندھ میں تو کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا لیکن اگر آصف زرداری ایک اشارہ کریں تو وفاقی حکومت ایک ہفتے میں تبدیل کرسکتے ہیں

 

لگتا ہے کہ چیف جسٹس کی سرزنش اور بلاول کی دھمکی نے کام دکھادیا اور پی ٹی آئی جو بڑھ چڑھ کر حکومت سندھ کی تبدیلی کی کوششوں میں مصرف تھی اسے ایک دم سے بریک لگا اس طرح پی ٹی آئی کو سندھ حکومت گرانے کے منصوبے میں بری طرح پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور سندھ حکومت کو گھر بھیجنے کا منصوبہ یا سندھ آپریشن اپنے آغاز میںہی ناکام ہوگیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس سندھ آپریشن کی ضرورت کیوں پیش آئی پی ٹی آئی حکومت جو پہلے ہی سیاسی بلوغت کے حوالے سے تنقیدی حملوں کا شکار ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ انہیں حکومت تو مل گئی لیکن حکومت کیسے کی جاتی ہے

 

یہ سمجھ نہیں آرہا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ 25جولائی کے انتخابات میں پاپولر سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت عوام میں تیزی سے اپنی مقبولیت کھورہی ہے خصوصاً اب تک جتنے بھی سیاسی و حکومتی فیصلے پی ٹی آئی نے کیئے ہیں انہیں ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے،اور پی ٹی آئی حکومت کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا گراف بھی تیزی سے گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے

اس طرح پی ٹی آئی نے چند روز قبل سندھ کی حکومت گرانے کیلئے سندھ میں جو سیاسی ماحول گرم کیا تھا اب اس پر خود ٹھنڈا پانی ڈال کر ٹھنڈا کرنے میں لگے ہوئے ہیں،

 

اسی لیئے کہتے ہیں کہ جو کام آپ نہیں کرسکتے اس کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیئے، لیکن پی ٹی آئی کے سیاسی نابالغ اور نادان دوست انہیں ہر بار کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑنے کا مشورہ دیدتے ہیں جس کے نتیجے میںسوائے شرمندگی اور ندامت کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ہے پی ٹی آئی خصوصاً عمران خان نے 25جولائی کے عام انتخابات سے قبل جتنے دعویٰ کیئے تھے ان میں سے ایک دعویٰ بھی پورا ہوتا تو کیا ان کی تکمیل یا پورا ہونا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے جن میں سب سے بڑا دعویٰ ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ گھر بنانا ہے

 

پی ٹی آئی حکومت گزشتہ 5-4ماہ میں جب کوئی وعدہ پورا نہ کرسکی اور عوام کو ریلیف نہیں دے سکی تو اپنی اس ناکامی کو چھپانے کیلئے سندھ حکومت کو گرانے کا شوشہ چھوڑ دیا تاکہ لوگ ان کی کوتاہیاں بھول کر اس نئی سیاسی شعبدہ بازی کی طرف متوجہ ہو جائیں لیکن آخر کب تک کسی بھی مصنوعی کام سے تھوڑے عرصہ کیلئے تو عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ عرصہ ایسی صورتحال کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا

اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے بھی وفاقی حکومت پر سیاسی حملہ کرنے کی ٹھان لی ہے ایک جانب بلاول بھٹو نے اس حوالے سے ایک ہفتے میں وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کی تبدیلی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماء مولا بخش چانڈیو نے اس حوالے سے عندیہ دیدیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تبدیل کرنے کی تیاری کرلی ہے

 

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی تنہا وفاق میں کوئی تبدیلی لاسکتی ہے جواب یہ ہی ہے کہ بالکل نہیں لاسکتی جب تک مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں ساتھ نہ ہوں مسلم لیگ (ن) نے اب تک پیپلز پارٹی کو ایسی کوئی یقین دھانی نہیں کرائی ہے کہ وہ اس عمل میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیگی لیکن پاکستان کی سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے

 

مسلم لیگ (ن) جو پہلے ہی نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ پی ٹی آئی کو حکومت میں لانے والوں سے نالاں ہے وہ پیپلز پارٹی کاساتھ دینے کیلئے تیار ہوسکتی ہے کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ عام انتخابات سے قبل بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے میں پیپلز پارٹی نے مرکزی کردار ادا کیا پھر سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر ان قوتوں کا ساتھ دیا جو پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کا موجب قرار دی جاتی ہیں

 

مسلم لیگ (ن) کا یہ اعتراض بالکل درست ہے اس لیئے کہ مذکورہ بالا دونوں اقدامات کے ذریعے پیپلز پارٹی نے ان غیر سیاسی قوتوں کو خوش کرنے کیلئے ان کے ایماء پر مسلم لیگ(ن) کو نقصان پہنچایا پیپلز پارٹی خصوصاً آصف علی زرداری کو یہ یقین تھا کہ ان کے اس عمل سے خوش ہوکر ان کیخلاف کرپشن کے حوالے سے کارروائی پر زور نہیں دیا جائیگا

 

اور انہیں ریلیف مل جائیگا لیکن جب انہیں ریلیف دینے کے بجائے جے آئی ٹی کے ذریعے ڈرایا گیا اور جے آئی ٹی کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی حکومت نے سندھ حکومت پر چڑھائی کردی تو آصف علی زرداری کو مجبوراً اپنی سابقہ حکمت عملی کے بر خلاف اپنے آپ کو اور اپنی حکومت کو بچانے کیلئے نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر وفاق میں پی ٹی آئی کیخلاف کارروائی کی دھمکی دینا پڑی

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مزید کیا کچھ کرتی ہے اور کیا مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی حکومت کی اتحاد ی ایم کیو ایم (پاکستان) اور اختر مینگل کی جماعت کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں،

 

تاہم یہ ضرور ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ن) او رپیپلز پارٹی کیخلاف کرپشن کا ڈھول بجا کر ملک میں جو سیاسی افراتفری پید اکی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ سیاسی افراتفری اگر مزید بڑھی اور پی ٹی آئی نے اسی طرح غیر سیاسی رویئے کا اظہار جارہی رکھا تو ملک کی سیاست میں کسی وقت بھی کوئی بڑا سیاسی دھماکہ ہوسکتا ہے اور پی ٹی آئی کی یہ خواہش کہ تمام اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر وہ تنہا اطمینان سے حکومت کر سکیں گے کسی دیوانے کا خواب سے کم نہیں ثابت ہوگی۔

(338 بار دیکھا گیا)

تبصرے