Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 16 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

میڈیا اور ہم....

ندیم رضا هفته 22 دسمبر 2018
میڈیا اور ہم....

میڈیا، جرنلزم، صحافت یا ذرائع ابلاغ اس سے تو کسی نہ کسی حد تک آپ سب ہی واقف ہیں۔ جس طرح مختلف ادوار میں اس پروفیشن کے نام بدلتے رہے ہیں اسی طرح اس کے کام کرنے کے طور طریقے بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ تقریبا دو دہائیاں قبل تک لوگ حالات و اقعات سے آگاہی کے لیے اخبارات کا سہارا لیا کرتے تھے۔ یعنی صرف ڈان، جنگ ، نوائے وقت، مشرق اور اسی طرح کے دو چار اور اخبار ہوں گے اور اس کے بعد فل اسٹاپ۔ لیکن پھر صحافت کا دور بدلہ اور 2002 کے وسط میں جنگ گروپ کا نیوز چینل جیونیوز آیا۔ جیو کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے ہی بعد مزید چینلز منظر عام پر آئے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے مشروم کی طرح پاکستان میں ٹی وی چینلز اگنے لگے۔ جب ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی۔ روزگار کے نئے مواقع میسر آئے تو پھر جوق در جوق لوگ اس ابھرتی ہوئی صنعت کا حصہ بنے۔ پھر کچھ افراد پیراشوٹ کے ذریعے اترے۔ بھانت بھانت کے لوگوں کی آمد کے ساتھ صحافت کا انداز بھی بدلہ۔
کچھ رپورٹرز اور اینکرز لوگوں کی خاص توجہ کا مرکز بنے۔ ان کی باتیں پھر معاشرے کے ہر طپقے میں زیر بحث لائی جانے لگیں۔ ان میں عام افراد سے لے کر پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں جو اس بحث کا حصہ بننے لگے۔ اور یہیں سے میڈیا کا کردار زور پکڑتا گیا۔ اس طرح کسی بھی موضوع یا ایشو پر میڈیا کے ذریعے رائے عامہ استوار ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میِڈیا ریاست کا چوتھا ستون مانا جانے لگا۔ حکومت کی عمل داری اور پالیسی میں شفافیت کسی حد تک اسی میڈیا کی بدولت قائم ہے۔ اب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اتنا آسان نہیں رہا اور نا ہی کچھ چھپا کر ہر کام میں من مانی کر لی جائے۔ اگر ایسا کربھی لیا جاتا ہے تو کچھ وقت بعد بدعنوانی کی دستاویزات اسی صنعت سے وابستہ صحافی منظر پر لے آتے ہیں۔ میڈیا کو “گیٹ وے” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہر چیز کو اس سے گزر کر ہی آگے بھڑنا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے تحقیقاتی صحافت یا انویسٹی گیٹیو جرنلزم کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے کرپشن کے خلاف تواتر کے ساتھ اسٹوریز سامنے لائی جارہی ہیں۔ خصوصا پاناما اسکینڈل کے بعد کئی سیاستدانوں کا کیریئر مخدوش ہو چکا ہے۔ دو تین وزائیاعظم بھی تحقیقاتی رپورٹنگ کی وجہ سے ہی وزارت عظمی سے ہٹائے جا چکے ہیں۔جیسا کہ شروع میں کہا گیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا کی شکل بھی بدلتی جارہی ہے۔ اب سوشل میڈیا نے صحافت کے میدان میں
طلاطم بپا کر دیا ہے۔ میں یہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ پاکستان میں میڈیا نے پچھلے سولہ سال میں وہ کام نہیں کیا جو سوشل میڈیا نے مختصر وقت میں کر دیا ہے۔ اسی سوشل میڈیا نے ٹی وی چینلز اور اخبارات کی لائن اور لینتھ یکسر بدل کر رکھ دی ہے۔
اب سے کچھ وقت پہلے تک نیوز چینلز کی خبریں کلپ کی صورت میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی تھیں۔ یعنی خبریں صرف نیوز چینلز ہی جنریٹ کرتے تھے اب صورت حال بدل چکی ہے۔ اب سوشل میڈیا زیادہ خبریں جنریٹ کر رہا ہے۔ نیوز چینلز اکثر و بیشتر سوشل میڈیا کی خبروں کو ہی ایشو بناتے ہیں۔مثال کے طور پر سیالکوٹ میں دو بھائیوں کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت، قصور کا زینب کیس، کوہستان میں بہنوں کی ہلاکت، شامی بچے کی ایمبولینس والی جعلی تصویر جس نے مین اسٹریم میڈیا خواہ وہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ سب ہی میں بھرپور جگہ بنائی۔ اسی طرح ایک اور بچے کی ساحل پر ہلاکت والی تصویر کی میڈیا پر گونج سنائی جس نے عالمی سطح پر پناہ گزینوں کی حمایت حاصل کی۔ قندیل بلوچ قتل کیس، پانامہ لیکس اور اسی طرح بے شمار ایشوز ہیں جو میڈیا پر چھائے رہے۔
سوشل میڈیا نے صحافت کی نئی اصطلاح “سٹیزن جرنلزم” متعارف کرائی۔ اب ہر شخص صحافی بن گیا۔ جس کے بعد اسمارٹ فون ہے وہ بھی خود کو صحافی سمجھنے لگا ہے۔ واٹس ایپ کے گروپس نے اور بھی کام تیز کردیا۔ اب چند سیکنڈز میں خبر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا محض حالات و واقعات عوام تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں رہا۔ یہ مختلف ایشوز پر آگاہی اور شعور پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کا اہم قومی معاملات میں شعور و آگاہی دینے میں اہم کردار رہا ہے۔ میڈیا حکومتی پالیسی کا انتہائی غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لیتا ہے اور عوام تک اصل حقائق پہنچاتا ہے۔ لفظوں کے ہیر پھیرکو کھول کر عوام کیساتھ رکھ دیتا ہے۔ میڈیا کا ایک اور مثبت پہلو وسیع تر قومی مفاد کا تحفظ اور کسی خاص ایشو پر قومی رائے وضع کرنا ہے۔
جہاں میڈیا کا بہت زیادہ مثبت کردار رہا ہے وہیں میڈیا کی آزادی اور طاقت کے بعض اوقات منفی پہلو بھی سامنے آئے۔ کبھی کبھار ٹاک شوز میں خبریت کے بجائے ذاتی خواہشات خبر پر غالب دیکھائی دیتی رہی ہیں۔ اسی میڈیا کی وجہ سے آج کے قاری اور ناظر بھی سمجھدار ہو چکے ہیں۔ وہ فوری سمجھ جاتے ہیں اینکر یا رپورٹر کی خواہش کو دودھ میں سے مکھی کی طرح وہ خود ہی باہر نکال دیتے ہیں۔
آخر میں کچھ بات میڈیا کو درپیش چیلنجز
کی۔ جیسا کہ آپ حضرات بھی کچھ حد تک آگاہ ہوں گے کہ ان دنوں پاکستان کا میڈیا خود مختلف بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے۔ خصوصا الیکٹرانک میڈیا جو ابھی مکمل طور پر میچور بھی نہیں ہوا تھا کہ بھنور میں پھنس چکا ہے۔ اس حال میں میڈیا کو پہنچانے کی ذمہ داری بھی کسی حد تک میڈیا سے وابستہ بعض افراد پر ہی عائد ہوتی ہے۔ لیکن گبھرانے کی ضرورت نہیں شاید میڈیا کے بالغ پن کے لیے یہ ضروری تھا۔ جس طرح اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں تیزی سے اضافے کے بعد کریکشن ناگزیر ہوتی ہے اسی طرح میڈیا میں بھی کریکشن کی ضرورت تھی۔ میڈیا یا اس کا کردار کوئی پہلے ختم کرسکا ہے اور نا ہی اب کوئی اس سازش میں کامیاب ہو سکے گا۔ لیکن ہاں میڈیا سے کچھ صفائی ضرورہو جائے گی۔ میڈیا کی بہتری کے لیے یہ صفائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ اب نام نہاد سینئرکی جگہ نوجوان لے لیں گے۔ صحافت کو بہتر انداز میں نئے آنے والے نوجوان آگے بڑھائیں گے۔ میڈیا میں ہونے والی کریکشن اور اس کی بلوغت کا سب سے زیادہ فائدہ نئی پوت ہی کو ہونا ہے اور شائد یہ سب کچھ انہی کے بہتر مستقبل کے لیے ہو رہاہے۔

(402 بار دیکھا گیا)

تبصرے