Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 08 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لاہور میں معصوم بچے ٹارگٹ

رائوعمران اشفاق جمعه 21 دسمبر 2018
لاہور میں معصوم بچے ٹارگٹ

لاہورمیں ایک روز میں 4 بچوںکے سفاکانہ قتل کی واردات کے بعد شہر میں خوف وہراس پایا جاتاہے ‘ قتل کی وارداتیں شیخوپورہ کے رانا ٹائون گوجرہ کے محلہ ندیم پارک اور لوہاری گیٹ کے علاقوں میں ہوئیں‘رانا ٹائون میں لڑکی نے منگنی ٹوٹنے کے انتقام میں اپنے سابق منگیتر کے معصوم بھانجے کو قتل کیا‘ جبکہ لوہاری گیٹ میں معصوم بچی اور گوجرہ میں ثمن کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پھانسی دے کر قتل کیاگیا‘ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیاہے ‘ پنجاب میں معصوم بچوں سے زیادتی ‘ اغواء اور قتل کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہواہے ‘ لیکن 18 دسمبر کو لاہور کے مختلف علاقوںسے 4 بچوں کے قتل کی واردات سے شہر میں خوف وہراس پھیل گیا‘ قصبہ فیروز نواں کے محلے رانا ٹائون سے 3 رو ز قبل 3 سالہ توحید اور 2 سالہ خدیجہ لاپتہ ہوئے تھے‘ جس کے اغواء کا مقدمہ پولیس نے درج کرلیا‘ معصوم بچے جڑانوالا کے رہائشی تھے‘ اپنے والد شکیل اور والد ہ ثمینہ بی بی کے ہمراہ اپنی نانی کے گھر رانا ٹائون آئے تھے‘ جہاں سے بچے لاپتہ ہوئے۔ بچوں کو پولیس تلاش کررہی تھی‘ پولیس کے مطابق ثمینہ کے محلے میں رہنے والی نبیلہ نے ایک بوری میں شراب کی بوتلیں ڈال کر اپنے رشتہ دار احسان عرف شانی کو کہا کہ شراب کی بدبو آرہی ہے‘ بوری نہر میں پھینک دی‘ بوری نہر میں پھیکنے کے بعد نبیلہ کے منہ سے نکل گیا ‘ بوری میں شکیل کے بچوں کی نعشیں تھیں‘ جس پر احسان عرف شانی نے شیخو پورہ پولیس کو اطلاع دی‘ ملزمہ نبیلہ نے کہا کہ بچوں کی والدہ ثمینہ کے سگے بھائی شاہد کی منگنی اس کے ساتھ ہوئی تھی‘ جو بعد میں ٹوٹ گئی تھی‘ منگنی ٹوٹنے کا بدلہ لینے کے انتقام میں اس کے معصوم بچوں کو اپنے موجودہ منگیتر حفیظ، بھائی علی اور شاہد موچی کی مدد سے اغواء کے بعد گلا دبا کر قتل کرکے 2 دن تک نعش گھر کے صحن میں دبا کر رکھیں‘ جس کے بعد احسان عرف شافی کی مدد سے نعش نہر کلاوٹوان میں پھینک دی‘ جس کے بعد پولیس نے واربرتن کے گائوں وکیل والا کے قریب نہر سے دونوں نعشیں برآمد کرلی‘ قتل کی واردات کے بعد ایک اور معصوم بچی کے قتل کی واردات کے لیے لوہاری گیٹ کے علاقہ محلہ شیخاں کی رہائشی عائشہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کچھ دیر زیر علاج رہنے کے بعد اسپتال میں دم توڑ گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی جہاں اہل خانہ نے واقعہ کو دبانے کی کوشش کی۔اس دوران پولیس نے شک پڑنے پر بچی کے ماموں اور ایک رشتہ دار نواب کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی سامنے آگئی جس کے بعد پولیس اور فرانزک اہلکاروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے جن کو فرانزک لیب میں بھجوادیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی معاذ ظفر نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ایس پی سٹی نے بچی کے ایک اور ماموں اور 2 خواتین کو بھی شامل تفتیش کرلیا‘ جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔ بچی کے ماموں کا کہنا ہے کہ مجھے اطلاع ملی کہ عائشہ کی حالت نازک ہے جب میں اسپتال پہنچا تو بچی دم توڑ چکی تھی۔ بچی کے ساتھ کیا ہوا؟ کس نے زیادتی کی؟ مجھے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ بچی کی والدہ فردوس کو کچھ عرصہ قبل طلاق ہوگئی تھی جس کے بعد سے خاتون اپنے بھائیوں کے پاس رہ رہی تھی۔ بچی کی والدہ اس وقت عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب ہے۔ بچی اپنے ماموں کے گھر میں رہائش پذیر ہے۔ ایس پی سٹی معاذ ظفر نے بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچی کو زیادتی کے بعد گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ معصوم عائشہ گھر کے فرسٹ فلور پر جھولا جھول رہی تھی‘ جھولے کی رسی اس کی گردن کے گروں کے گرد کس گئی جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے میں اس کے قریبی رشتے دار شامل ہیں جن کو ہم نے حراست میں لیا ہوا ہے تاہم تفتیش کے بعد اصل حقائق سامنے آجائیں گی۔ تھانہ لوہاری گیٹ میں بچی کے والد جمیل کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزموں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔
جبکہ گوجرہ محلہ ندیم پارک کے اکبر کا 12 سالہ بیٹا رضوان پانچ ماہ قبل لاپتہ ہوگیا جس کے والدین اس کو ڈھونڈتے رہے جو نہ مل سکا۔ گزشتہ روز ان کے گھر پر نامعلوم خط آیا جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ آپ کے بیٹے کو محلے کے سفاک 3 نوجوانوں عثمان‘ رانا یاسر اور غلام غوث نے زیادتی کے بعد قتل کیا تھا‘ اس کی نعش محلہ سراج ٹائون کے ایک خالی پلاٹ میں کوڑے کے ڈھیر میں دفن کردی تھی جس پر رضوان کے گھر والے اور محلہ دار خالی پلاٹ میں پہنچے تو بچے کی نعش کوڑے کے ڈھیر سے برآمد ہوگئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

(324 بار دیکھا گیا)

تبصرے