Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

حوالہ ہنڈی میں ملوث 20 کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے،مالکان زیر حراست

ویب ڈیسک جمعرات 20 دسمبر 2018
حوالہ ہنڈی میں ملوث 20 کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے،مالکان زیر حراست

کراچی…… ایف آئی اے نے جعلی درآمدات کے نام پر حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اہم سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی۔ کراچی کے 3 سرکلر کی ٹیموں نے رات گئے 20 مختلف کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے مار کر مالکان کو حراست میں لے لیا‘ ان کے دفاتر سے امپورٹ کے ریکارڈ کی دستاویزات بھی قبضے میں لی گئیں‘ جن کا فرانزک آڈٹ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ مذکورہ جعلی کمپنیوں کے نام پر حوالہ ہنڈی میں ملوث اصل ملزم سید عرفان علی کو بھی رات گئے ناظم آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ عرفان علی خانانی اینڈ کالیا سے کئی برس تک منسلک رہا۔ خانانی اینڈ کالیا پر پابندی کے بعد عرفان علی رہائشی علاقوں سے 6 برس سے حوالہ ہمڈی کا کام کررہا تھا۔ امپورٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرون ملک سے سامان نہیں منگوایا بلکہ جعلی امپورٹ دستاویزات کے ذریعے بھاری زرمبادلہ بیرون ملک منتقل کرتے رہے۔ ایف آئی اے نے رات گئے زیر حراست افراد سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا اور ان کی نشاندہی پر کمپنیوں کے دفاتر کے ساتھ گوداموں پر بھی چھاپے مارے تاکہ کاغذات میں ظاہر کردہ امپورٹ کے سامان کی موجودگی یا عدم موجودگی کی بھی تصدیق کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق ایک ہفتہ قبل پکڑے جانے والے حوالہ ہنڈی کے ایجنٹوں سے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن اینڈ کرائم سرکل کراچی کے افسران نے تحقیقات کیں جس پر انکشاف ہوا کہ ٹیکس چوروں‘ کالا دھن کمانے والوں اور بیرون ملک اثاثے بنانے والوں نے قیمتی زرمبادلہ ڈالرز کی صورت میں بیرون ملک منتقل کرنے کے لئے امپورٹ کی آڑ لے رکھی ہے۔ اس حوالے سے بعض جعلی امپورٹرز بھی سرگرم ہیں جو اپنی کمپنیوں کے نام پر بیرون ملک سے کروڑوں روپے کا سامان منگوانے اور اس مد میں ادائیگی کے نام پر قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

(308 بار دیکھا گیا)

تبصرے