Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 07 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

زرداری کیا ہیں اب بھی بھاری ؟

عمران اطہر بدھ 19 دسمبر 2018
زرداری کیا ہیں اب بھی بھاری ؟

سابق صدر آصف علی زرداری اپنے لہجے کی گھن گھرج اور زوردار تقاریر سے اگرچہ خود کو اب بھی بھاری ظاہرکرنے کی تگ و دو میں پوری طرح مصروف ہیں لیکن عام پاکستانیوں کی طرح میرا بھی یہی خیال ہے کہ حکو مت سمیت اداروں پر ان کی یہ لفظی گولہ باری ان کے خلاف کھلنے والے کیسز اور متوقع مخالف فیصلوں کی وجہ سے ہے۔مفاہمت کے بادشاہ گر لفظوں کے بھی جادوگر ہیں اورحکومت سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ کبھی مفاہمت تو کبھی مخالفت میں ایسے ایسے بیانات داغتے ہیں کہ اکثر میڈیا پر چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ اگرچہ ان کے حالیہ بیانات بظاہر حکومت مخالف نظر آتے ہیں اور سابق صدرتحریک انصاف کی حکومت کو ناکام قرارد ینے کے ساتھ ساتھ اس کی کوتاہیوں کو بنیاد بناکراسے گرانے کے درپے ہیں تاہم حکومتی ارکان سمیت عوامی رائے یہی ہے کہ وہ ایک ماہ قبل سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹ اسکینڈل میں اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات سے پریشان ہیں اور اسی وجہ سے علی الاعلان حکومت سمیت اداروں سے بھی تصادم کی راہ اختیار کرنے کے درپے ہیں ۔ ان کی شعلہ بیانی کی لپیٹ میں عدلیہ اور فوج بھی آرہی ہے۔ اس حوالے سے محترم آصف زرداری نے پی ٹی آئی حکومت سمیت اداروں پر گزشتہ اتوار کو اس وقت ’بم شیل‘ گرایا جب انھوں نے حیدرآباد میں اپنے ایک عوامی اجتماع میں وزیراعظم عمران خان کی موجودہ حکومت کو گرانے کیلئے تصادم کی راہ اختیار کرتے ہوئے عدلیہ بھی طنز کے نشتر برسائے اس کے اگلے روز بھی ایک عوامی جلسے میںلفظوں کی گولہ باری سے حکومت کا قلعہ مسمار کرنے کی کوشش کی جبکہ میڈیا سے گفتگو میں بھی وہ مسلسل مڈٹرم الیکشن ہونے اور آئندہ حکومت بنانے کا دعویٰ بڑی شدومد سے کررہے ہیں۔
اگرچہ یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کو ایک انٹرویو میںممکنہ از وقت انتخابات کا عندیہ دیا تھا جسے آصف زرداری اب اپنے جلسوںمیں ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے نظر آرہے ہیں اور اپنی تقاریر میں مڈٹرم الیکشن کے نعرے لگانے سمیت آئندہ حکومت بنانے کے دعووں کے ساتھ شہ سرخیوں میں ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر مڈٹرم انتخابات کو اہم طاقتوں کا اشارہ قرار دے رہے ہیں جبکہ عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کا عندیہ مختلف پیرائے میں دیا تھااور اس وقت حکومت کی مدت پوری کرنے سمیت جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سول اور عسکری ادارے وزیراعظم کے ساتھ ایک پیج پرنظرآتے ہیں۔ لہذا اب جب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کھلے عام ’مڈٹرم‘ انتخابات کا اشارہ دیا ہے توسوچنے کی بات یہ ہے کہ اْن کے پاس کون سا ممکنہ کارڈ ہوسکتا ہے، کیونکہ قبل از وقت الیکشن کی اصطلاح خود عمران خان نے مختلف سیاق وسباق میں استعمال کی تھی۔
اپنے خلاف جعلی اکاؤنٹ اسکینڈل کی تحقیقات شروع ہونے سے قبل مفاہمت کے بادشاہ تحریک انصاف کی حکومت کا ساتھ دینے کا بھی کئی بار واضح اعلان کرچکے تھے تاہم ان کے اعلان کا جب عمران خان کی جانب سے کوئی موثر ردعمل سامنے نہ آیاتو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اور بظاہر ایسا نظر آتا تھا کہ وہ سیاست میں کسی فعال کردار سے اس وقت تک گریزاں رہیں گے جب تک تحریک انصاف کی حکومت کمزور نہ پڑجائے اور مڈٹرم انتخابات کی کوئی صورت نہ نکل آئے تاہم منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے اور اپنے خلاف گھیرا تنگ ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر عوامی اجتماعات کے ذریعے فعال ہوچکے ہیں اور اپنی شعلہ بیانی سے حکومت اور اداروں کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آرہے ہیں۔ پی پی پی لیڈرنے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے خلاف سندھ میں پہلے ہی ایک ’منی موومنٹ‘ شروع کر رکھی ہے اوراب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ وہ 27دسمبر کو سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں ہونے والے اجتماع میں ایک اہم اعلان کرنے جارہے ہیں تاہم سیاسی مبصرین کی رائے میں یہ بھی ایک اسٹنٹ سے زیادہ کچھ نہیںکیونکہ چند روز قبل تک نواز شریف کے ساتھ نہ بیٹھنے کا علان کرنے اور مشکل گھڑی میں ن لیگ کا ساتھ نہ دینے والے آصف زرداری اب ایک بار پھر نواز شریف سے ملاقات کو بھی تیار ہوچکے ہیںجس سے ان کی رنگ بدلتی فطرت اور ذہنی انتشار کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
وفاقی حکومت کے خلاف ابھی تک یہ پی پی پی اورآصف زرداری کی سولوفلائٹ ہے اور وہ بھی محض صوبہ سندھ تک محدود ہے کیونکہ باقی تین صوبوں میں پیپلزپارٹی کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پی پی پی کے کئی سینئر رہنما بھی اس محاذآرائی کے حق میں نہیں اور ان کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو کچھ وقت دیا جائے، اس کے علاوہ ان رہنماؤں کو اس امرکا بھی احساس ہے کہ حکومت کے خلاف یہ جنگ پاکستان پیپلز پارٹی کی نہیں بلکہ زرداری خاندان کی ہے جس کے لیے آصف زداری پارٹی پلیٹ فارم کا سہارا لے رہے ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں پی پی پی کی صوبائی حکومت بھی حالیہ سیاسی پیشرفت پر پریشان نظر آتی ہے کیونکہ آصف زرداری سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی منی لانڈرنگ سمیت دیگر کیسز میں نیب کے گھیرے میں آرہے ہیں اور اس کی ایک حالیہ مثال سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاسراج درانی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس اور زمینوں پر قبضے کے کیسز کی تحقیقات کا شروع ہونا ہے اور یہ صورتحال وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ لگ بھگ ایک ماہ قبل سپریم کورٹ کی جانب سے ’جعلی اکائونٹ ا‘ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے حکم پر صوبائی حکومت نے 2008سے2018تک کاریکارڈ جمع کرایا ہے، اس میں نہ صرف زرداری بلکہ ان کی بہن فریال تالپور اور بیٹے بلاول بھٹو کو بھی کئی بار طلب کیاجاچکا ہے اور اسی وجہ سے مراد علی شاہ کے لیے پارٹی کے سربراہ خاندان کو بچانا ماؤنٹ ایورسٹ کو سرکرنے سے کم نہ ہوگا ۔
اس وقت یہ سوال اہم ہے آصٖف زرداری کی اس نئی جنگجوانہ مہم جوئی کا مقصد واقعی حکومت کو گرانا ہے یا محض اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کے شوروغوغا کو کم کرنا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے سیاسی میدان میں نکل کرسندھ میں اپنے ووٹرزاورسپورٹرزکو متحرک کیاہے جبکہ پارٹی تین صوبوں میں مکمل طورپر تنہانظرآرہی ہے اگرچہ اس حوالے سے پی پی پی رہنما کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ 27دسمبرکے بعد پیپلز پارٹی دیگرصوبوں میں بھی عوامی جلسے کر کے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گی اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی تاہم ان کے اس دعوے پر پھر کبھی بات ہوگی ، اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ان کی اس مہم میں کیا مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ساتھ دیں گی،یقینا نہیں کیونکہ ان سب کو علم ہے کہ محترم آصف زرداری کی مہم میں نہ تو دم خم ہے اور نہ ہی وہ اس تحریک کے حوالے سے سنجیدہ ہیں جبکہ ان کی مہم جوئی بھی صرف ان کے خلاف کیسز کے فیصلوں تک جاری رہے گی۔ اگرچہ آصف زرداری اپنی اس محاذ آرائی کو حقیقی طورپر حکومت مخالف رنگ دینے کے لیے پارلیمنٹ میں بھی پی ٹی آئی حکومت کو پریشان کرنے سمیت حکومتی اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لیے انہوں نے حال ہی میں سردار اخترمینگل سے ملاقات کی ہے جن کی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے لیکن چند ایک مطالبات نہ ماننے کی وجہ سے خوش نہیں ہے تاہم یہ بات بھی حتمی نہیں کہ سردار اختر مینگل پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے پر رضامند ہوجائیں۔ اتحادیوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کے حوالے سے آصف زرداری ایم کیوایم (پاکستان) کو بھی ایک بار پھرساتھ ملانے کی کوشش کررہے ہیں جو تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد میں خوش نہیں کیونکہ پی ٹی آئی حکومت نے متحدہ کے ساتھ جس چھ نکاتی معاہدے پر اتحاد کیا تھا اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے ۔ ممکن ہے کہ شریک چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کو حکومت سے الگ کرنے میں کامیاب ہوجائیں تاہم ایم کیو ایم کے بیشتر رہنما گزشتہ دس برسوں میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نالاں ہونے کے باعث پی پی پی کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کرسکتے ہیں۔ آصف زرداری کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ مرکزی اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانا ہے جن کی پْراسرار خاموشی نے مسلم لیگ(ن) کی مستقبل کی منصوبہ بندی پر کئی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دوسری طرف تاحال آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان بداعتمادی کا عنصر موجود ہے اور دونوں کو اپنے اقدامات سے متعلق یقین نہیں ہے۔ نواز شریف دیکھنا چاہتے ہیں کہ زرداری ہاتھ ملانے سے قبل کس حد تک جاتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میںشریک چیئرمین پی پی پی کالہجہ اتنا جارحانہ ہوچکاہے کہ کئی پارٹی رہنما تک ان کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں حیران تھے۔ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پرالفاظوں کے حملوں کے دوران اْن کانام لیے بغیرزرداری نے براہِ را ست بڑاخطرہ مول لیاہے اور اپنے خلاف کیسز کو اور مضبوط کیا ہے۔ ایسی صورت میں پارٹی کے رہنماؤں کی بھی یہی رائے کہ آصٖف زرداری کے پاس زیادہ راستے نہیں کیونکہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوںکے مرکزی رہنماوں کے خلاف مقدمات اورانکوائریاں حتمی مراحل میں ہیں، ان میں آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور کئی دیگر شامل ہیں جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نیب کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں جو رواں ماہ کے اختتام تک متوقع ہے، ’جعلی اکائونٹس‘ کی تحقیقات میں آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی قسمت کا فیصلہ بھی ایک ہفتے میں ہوجائے گا اور ممکنہ طور پریہ ان کے خلاف جا سکتا ہے اور شاید اس کا اندازہ تحریک انصاف کی حکومت سمیت خود پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور آصف زرداری کو بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے سابق صدر کی جانب سے خود کو احمق قرار دیئے جانے پر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی جبکہ آصف زرداری خود کو بھاری ثابت کرنے کی کوشش میںپیپلزپارٹی کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(434 بار دیکھا گیا)

تبصرے